اردوئے معلیٰ

Search

آج نئی غزل کے اہم شاعروں میں شمار ہونے والے شاعر خورشید احمد جامی کا یومِ وفات ہے ۔

 

خورشید احمد جامی
(پیدائش: 15 مئی 1915ء – وفات: 8 مارچ 1970ء)
——
عہد قدیم ہی سے سرزمین دکن علم و ہنر کا گہوارہ رہی ہے ۔تاریخ شاہد ہے یہاں ہزاروں برسوں سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ کئی خاندان بیرون ملک سے ہجرت کرکے یہاں آتے ہیں اور یہیں کے ہوکر رہ جاتے ہیں۔ عہد عالمگیر میں ایک خاندان افغانستان اور ترکستان سے ہجرت کرکے ہندوستان آیا اور پہلے اورنگ آباد پھر بعد میں حیدرآبادمیں سکونت اختیار کی۔ اس خاندان کے بزرگ شخص قاضی صدیق احمد فہیم تھے۔ صدیق احمد فہیم صاحب اردو اور فارسی کے بہت بڑے عالم اور شاعر تھے۔ ان کی لڑکی کی شادی حیدرآباد کے معزز اور علم پرور خاندان کے چشم و چراغ جناب محمد یعقوب صاحب سے ہوئی۔ ان کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوا، جس کا نام خورشید احمد رکھا گیا جو مستقبل میں خورشید احمد جامی کے نام سے مشہور ہوا۔
خورشید احمد نام اور جامی تخلص استعمال کرتے تھے ۔ 15 مئی ١٩١٥ء کو حیدرآباد میں پیداہوئے ۔چوں کہ یہ ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئے، اس لیے ان کی ابتدائی تعلیم گھر ہی پر ہوئی۔ بعد میں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے منشی فاضل کا امتحان کامیاب کیا اورپھر محکمۂ آبکاری سے منسلک ہوگئے ۔چوں کہ ان کی فطرت میں ایک جدید شاعر چھپا تھا، اسی لیے انہیں آبکاری کا عہدہ راس نہ آیا اور جلد ہی انھوں نے اس پیشے کو خیرباد کہا اور مکمل طور پر شعر و ادب کے پیشے سے خود کو وابستہ کرلیا اور اپنا کلام رسائل، جرائد اور اخباروں میں شائع کروانے لگے۔
——
یہ بھی پڑھیں : رؤف خلش کا یوم پیدائش
——
خورشید احمد جامی سنجیدہ طبعیت کے مالک تھے لیکن اپنے دوست احباب کی خوب خاطر تواضع کرتے تھے اپنا زیادہ تر وقت اورینٹ رسٹورنٹ(حیدرآباد) میں گذارتے تھے اور ہمیشہ ان کے اردگرد ان کے شائقین ودوست احباب کا ہجوم ہوتا تھا ۔ وہ گھنٹوں کسی موضوع پر دلچسپ گفتگو کیا کرتے تھے۔ دبلے پتلے، کھڑا چہرہ، خندہ پیشانی، چھوٹی چھوٹی آنکھیں، لیکن تجربہ کار نگاہیں، پیشانی پر گہری شکنیں اور مزاج میں اتنی سنجیدگی کہ وہ دورانِ گفتگو بہت کم مسکراتے تھے، جس کی وجہ سے اکثر لوگ ان کی اس سنجید گی کو چڑچڑے پن سے تعبیر کرتے تھے۔ ان کے حلیہ اور مزاج سے متعلق نامور ادیب و شاعرجناب اختر حسن رقم طراز ہیں:
”اس (جامی)کی چھوٹی چھوٹی تیز نگاہوں کی مقناطیسی کشش اور اس کے خوبصورت فن نے مجھے اپنی طرف کھینچا۔۔۔ اس کا نحیف لیکن گھٹا ہوا جسم، اس کے کھڑے چہرے کے سخت و درشت خدوخال، بھنچے ہوئے ہونٹ، چوڑی پیشانی پر گہری شکنیں، اس کی کھوکھلی ہنسی اور چھوٹی چھوٹی تیز نگاہوں کے ماہرانہ تیور، غرض کہ اس کا پورا پیکر ایک ہوشیار شکاری کا نقشہ پیش کرتا ہے۔۔۔ اس کی طبعیت میں تلون ہے اور اس کے مزاج میں چڑ چڑا پن لیکن نہ وہ ماضی کا ماتم گسارہے نہ مستقبل کا نوحہ خواں، زندگی سے اسے بڑاپیار ہے۔”
خورشید احمد جامی کو خدانے بے شمار تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ خشک سے خشک موضوع پر منٹوں میں غزل تیار کردیتے تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اپنی شاعری صرف اپنی ذات کے لیے تخلیق نہیں کرتے تھے بلکہ وہ مشاعروں کے لیے غزلیں لکھا کرتے تھے اور اس کی قیمت بھی وصول کرتے تھے۔ وہ اپنی شاعری صرف ان ہی رسالوں کو بھیجتے تھے، جہاں سے انھیں آمدنی حاصل ہوتی تھی۔ چوں کہ جامی ملازمت ترک کر چکے تھے اور ان کا گذر بسر محض شاعری پر ہی تھا یعنی وہ پیشہ ور شاعرتھے۔ نہ وہ دفتروں کی خاک چھانتے تھے اورنہ ہی کسی امیر کے آگے قصیدہ گوئی کرنے جاتے تھے بلکہ وہ اپنے فن سے اپنی زندگی ٹھاٹ باٹ سے گذارنے کا ہنر جانتے تھے۔ عصر حاضر کے مشہور و معتبر شاعر جناب رؤف خیر صاحب اس سلسلہ میں لکھتے ہیں:
”جامی ہمیشہ معاوضتاً لکھا کرتے تھے۔ جن رسالوں سے ان کو آمدنی کی توقع ہوتی ان کے لیے وہ کچھ بھی لکھ سکتے تھے حتیٰ کہ بعض رئیس زادے ان کی غزلوں کے منہ مانگے دام دے کر مشاعرے لوٹتے پھر تے تھے۔ چند ٹکوں کی خاطر جامی نے کھرا سونا مشاعروں کے حوالے کردیا تھا اگر وہ غزلیں جامی کے نام سے شائع ہوتیں تو آج جامی کا نام چمکاتیں جبکہ ان شاعروں کے ساتھ خود بھی مٹی کے حوالے ہوگئیں”۔
خورشید احمد جامی اپنی غزلیں اور شاعری کا قیمتی سرمایہ مشاعروں کے حوالے تو کرتے تھے لیکن انھوں نے خود اپنے لیے بھی اردو شاعری میں ایک نئی اور منفرد راہ بنائی اور ١٩٤٧ء کے بعد ابھرنے والے شاعروں میں جدید غزل گو شاعر کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ جامی یوں تو گھنٹوں شہر حیدربادکے مشہور ہوٹل اورینٹ میں چائے کے کش لگاتے اور اپنے شائقین میں گھرے رہتے لیکن ان کی طبعیت اور مزاج میں شہرت کی لالچ نہ تھی اور نہ ہی معاصرین میں خود کو ممتاز کہلانے کا اشتیاق تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ذوق کی تسکین کرنے کے لیے مشاعروں میں شرکت گوارا نہیں کرتے تھے۔ ١٩٤٧ء کے بعد حیدرآبادمیں ایک ایسا طبقہ ابھر گیا تھا جو شعر و ادب کو فروغ دینے کے لیے مشاعروں کو ضروری سمجھتا تھا اور مشاعروں میں اس وقت شاعری کے معنی یکسر ہی بدل کر رہ گئے تھے۔ عام فہم شاعری مشاعروں کے ذریعہ فروغ پارہی تھی۔ جامی چوں کہ دوراندیش تھے، اس لیے عام شاعری ان کے شایان شان نہ تھی۔ اسی وجہ سے وہ مشاعروں کو ترک کرتے تھے۔ ان کے آگے ایک ایسا عہد تھا ،جہاں جدید شاعری ابھر رہی تھی لوگ محبوب کی زلفوں میں اسیر رہنے کو ترجیح دینا گوارا نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ سماج کے ذمہ دار اور حساس فردبن کر نئے دور کے مسائل کو حل کرنے پر یقین کرنے لگے تھے۔ ایسے عہد میں جامی سستے ذوق اور عام فہم شاعری کو بڑھاوادینے کے بجائے اردو غزل کے لیے نئی راہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔ اسی لیے وہ مشاعروں میں شرکت پسند نہیں کرتے تھے ۔اس سلسلہ میں اردو ادب کے ممتاز شاعر جناب وحید اخترتحریر کرتے ہیں:
——
یہ بھی پڑھیں : خورشید رضوی کا یوم پیدائش
——
”جولوگ جانتے ہیں کہ پچھلے چند برسوں میں حیدرآباد کی ادبی فضاء کو کس طرح غارت کیاگیا ہے اور ادبی ذوق کو کس طرح رسوا کیا جارہا ہے وہ خورشید احمد جامی کی مشاعرہ گریزی کی اہمیت کو پوری طرح سمجھ سکتے ہیں۔ مشاعروں کی عام غیر ادبی اور پست سطح کے خلاف یہ عزلت پسندی بھی ایک خاموش بغاوت ہے۔۔ مشاعرہ اگر ادبی ذوق کی تربیت کرنے کے بجائے اس کی تباہی اور پستی کا ذریعہ بنے تو اس کاختم ہو جانااور شاعروںکا اس سے الگ رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ احساس قومی شعرا کی اکثریت میں مفقود ہے مگر جامی کو شائد اس حقیقت کا عرفان اوروں سے زیادہ ہے۔”
خورشید احمد جامی ادب کی قدروں کو پامال نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ان کو قدرت نے فطری شاعری سے نوازا تھا۔ وہ ایک ایسے عہد کے متمنی تھے جہاں اردو ادب بالخصوص حیدرآباد میں اردو شاعری ایک نئے بام و در کے ساتھ عالم ادب میں متعارف ہو۔ خورشید احمد جامی نے بہت سی کتابیں لکھیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”رخسارِ سحر” کے نام سے سن ١٩٦٤ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوا۔ اس مجموعے میں صرف غزلیں ہیں اور ان غزلوں میں جامیایک روایتی شاعر کا لبادہ اوڑھ کر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ان کی شاعری میں بڑی تبدیلی ١٩٥٨ء میں آئی، ”یاد کی خوشبو” اور ”برگِ آوارہ” میں جامی جدید غزل کے اہم وعظیم شاعر بن کر شاعری کے افق پر نمودار ہوئے۔
خورشید احمد جامی کی شاعری نہ ہی روایتی ہے اور نہ ہی جدیدبلکہ وہ روایتی تجربوں، جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔ وہ روایت سے انحراف نہیں کرتے اور نہ ہی سماج کے جدید حالات سے کنارہ کرتے ہیں بلکہ وہ روایتی موضوعات کو گھسے پٹے انداز میں پیش کرنے کے بجائے نئی لفظیات، استعاروں، کنایوں اور علامتوں کے استعمال سے جدید غزل کا پیرہن تیار کرتے ہیں۔ جامی نے جس عہد میں شاعری شروع کی وہ سیاسی اور سماجی ہی نہیں بلکہ ادبی سطح پر بھی تبدیلی کا زمانہ تھا۔ ترقی پسند تحریک کی چنگاریاںغزل کے دامن میں لگ چکی تھیں۔ جدید ترقی پسند شعرا نظموں کو ترجیح دے رہے تھے لیکن جامی غزل کی اہمیت کو خوب سمجھتے تھے لہٰذا انھوں نے اردو غزل کا دامن تھامے رکھا اور اس میں اپنے اسلوب و رنگین لہجہ سے نئے گل بوٹے کھلائے ۔انھوں نے اپنے شعری سفر کی ابتداء غزل سے کی اور صلیب، زندگی، تنہائی، غم، غم ِحیات، قدم، گردش ِایام، اندھیرا، اجالا، روشنی وغیرہ جیسے الفاظ کا بکثرت استعمال جدید انداز میں کیا۔ شعری مجموعے کے آغاز ہی میں وہ شعر گوئی اور تخلیقیت کی ندرت کو عہدِ جدید کے لیے مشعلِ راہ قرار دیتے ہیں:
——
وقت کی آخری صلیب تلے
دل کا ایک ایک داغ جلتا ہے
رات کے چیختے اندھیروں میں
میرے فن کا چراغ جلتا ہے
——
خود خورشید احمد جامی اپنی شاعری کو نئی نسل کے لیے مدھم سی آہٹ قرار دیتے ہیں۔ انھیں بدلتے ہوئے زمانے کے تقاضوں کا احساس تھا۔ وہ روایت کی اہمیت کو مسلم جانتے تھے لیکن قدیم پیکر میں بیان کرنے سے انھیں اعتراض تھا۔ وہ شاعری کو زندگی اور وقت کے تقاضوں سے آشنا کر نا چاہتے تھے۔ انھیں یہ بھی اندازہ تھا کہ وہ جس عہد میں سانس لے رہے ہیں ،وہ ایک انقلابی زمانہ ہے اور یہاں کا ہر فرد ترقی چاہتا ہے خواہ وہ کسی بھی شعبہ میں ہو۔ وہ اردو شاعری کو محض شعبدہ بازی اور نقالی تک محدود نہیں رکھنا چاہتے تھے بلکہ وہ اسے سمندر کی سی وسعت عطا کرنا چاہتے تھے اور اسے ایک ایسا سمندر بنا نا چاہتے تھے، جس میں علم و ہنر اور تجربوں و مشاہدوں کی جدت آمیز ندیاں آکر ملتی ہوں۔ خود جامی اپنی شاعری کے متعلق لکھتے ہیں:
——
یہ بھی پڑھیں : رؤف خلش کا یوم وفات
——
آج کی غزل نہ میر و مومن کے زمانے کی غزل ہے نہ آج کا محبوب میر و مومن کے زمانے کا محبوب، ان بستیوں کو جہاں ”نالۂ یتیم شبی” اور ”آہِ سحر گاہی” کا جادو چلتا تھا میں نے دیکھا ہی نہیں۔۔۔۔ میرا عہد تو ایک ایسا انقلاب آفریں عہد ہے جس کی پھیلی ہوئی بانہوں میں تاریخ انسانی کے صدیوں پرانے خواب اپنی تعبیروں کے چمکتے ہوئے لب چوم رہے ہیں۔ آج کی زندگی علم و ہنر اور شعر و ادب کی راہوں میں ایک عظیم اور تابناک مستقبل کی آہٹیں سن رہی ہے، کہیں صاف ،کہیں مدھم اور آج تو دل کی ایک ایک دھڑکن میں لاکھوں دھڑکنیں اور ایک آواز میں کر وڑوں آوازیں شامل ہو جاتی ہیں اور زندگی اپنی ساری تلخیوں کو بھلا کر کوششوں کو تیز تر کردیتی ہے ۔نئے ذہن اور نئے شعور کے سویرے میں ایسی ہی ایک حقیرسی کوشش میری غزلوں میں نظر آئے گی۔ میرے فن نے تجربات کی دھوپ میں جو زخم چنے ہیں ان کو پیار کی خوشبو سے مہکاکر نذرِحیات کرتا ہوں۔”١٦
خورشید احمد جامی کو زمانے کے ہنگاموں کا علم ہے۔ وہ ان ہنگاموں میں اپنی شاعری کو مدھم اور سریلا گیت بناکر پیش کرتے ہیں اور اپنے تجربوں کو جدت و ندرت کے ساتھ شعری پیکر عطا کرتے ہیں۔ وہ غم ِحیات کو خوشی کی لڑی میں پرو کر شاعری کا نام دیتے ہیں اور غزل کے موضوعات کو تجربات کی تجلی عطا کرتے ہیں۔ جامی وفا کے ذکر سے اپنی دنیا روشن کرنا چاہتے ہیں۔ وہ رات کے بعد ایک روشن سویرے کا انتظار کرتے ہیں گویا ایک طرح سے اپنے مقدر کی تیرگی کو گردشِ دوراں سے مٹانا چاہتے ہیں:
——
ائے انتظارِ صبحِ تمنا ! یہ کیا ہوا
آتا ہے اب خیال بھی تیرا تھکا ہوا
دیکھو تو صاف کر کے ذرا گردِ روزگار
دل کے ورق پہ نام ہے کس کا لکھا ہوا
زندانِ تیرگی میں ستارے اتر پڑے
جب بھی کسی مقام پہ ذکرِ وفا ہوا
اک لمحۂ فریبِ تبسم کو چھین کر
ہر پھول ہے بہار کا مجرم بنا ہوا
کس دشتِ بیکراں میں اجالے بھٹک گئے
منزل کے پاس تو ہے اندھیرا بڑھا ہوا
جامی فضائے موسمِ گل یوں اداس ہے
جیسے کہیں قریب کوئی حادثہ ہوا
——
جامی ایک صحت مند معاشرے کے خواہاں ہیں۔ وہ گل و بلبل کے ترانے میں کھو کر حسن و عاشقی کے اسیر رہنا پسند نہیں کرتے، وہ اپنے محبوب سے خوش دلی کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ غم کو ہنس کر گلے لگا تے ہیں اور غم میں مضطرب رہ کر اپنی روشن زندگی کو منتشر نہیں کرتے۔ ہر قدم نئے حالات،نئے تقاضوں نئے غموں، نئے حادثوں کو اپنے سینے سے لگانے کے لیے تیار نظر آتے ہیں ۔ان کی شاعری بڑی حد تک ایک نئے اور آنے والے عہد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ان کا لب و لہجہ اکتادینے والا نہیںبلکہ لطافت کا احساس دلانے والا ہے۔ وہ روایت کے طلسم میں قید نہیں بلکہ جدید دور کے نباض ہیں۔
——
جاگتی ہمسفر تمناو!
دو گھڑی کے لیے تو سو جاؤ
نیمِ جاں کو عقل کی ضرورت ہے
غم کا آبِ حیات لے آؤ
دیکھنا ہے خوشی کے چہرے کو
درد کے آئینوں کو چمکاؤ
دوستو ہر طرف اندھیرا ہے
میرے گیتوں کی مشعلیں لاؤ
منزلیں خود تلاش کرلیں گی
بیکراں دشت میں بھٹک جاؤ
زندگانی کی سرد راتوں کا
شعلۂِ مئے سے خون گرماؤ
تم بھی اس رہگزار تک جامی
زندگی سے قریب ہو جاؤ
——
یہ بھی پڑھیں : کہاں میں کہاں مدحِ ذاتِ گرامی
——
جامی کی شاعری کی یہ خاص خوبی ہے کہ وہ خشک سے خشک موضوع کو اپنے اسلوب سے دلکش اور دلفریب بنا دیتے ہیں۔ وہ زندگی کی شکستہ کشتی کو بھنور میں رکھ کر طوفاں کا مزہ لینا چاہتے ہیں اور بڑی سے بڑی بات آسان سے آسان لفظوں کو تراش کر کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کے کلام میں زندگی کی تلخیاں ملتی ہیں۔ وہ نا امیدی سے رشتہ نہیں رکھتے بلکہ وہ اپنی تنہائی کو تمناؤں کے شعلوں سے روشن بنادیتے ہیں۔ وہ کسی ایک رہ گذر پر غم کا ماتم منا نے والے شاعر نہیں بلکہ وہ زندگی کی ہر مشکل کو بلکہ وہ کانٹوں کی چبھن کو محسوس کرکے پھولوں کو اپنے گلے کا ہار بنانا چاہتے ہیں۔ وہ محبوب کی یاد کو غم نہیں بلکہ آوارہ تمنا قرار دیتے ہیں۔
——
تمناؤں کے شعلے ہیں نہ غم کا چاند نکلا ہے
تمہارے شہر سے آگے اندھیرا ہی اندھیرا ہے
بچھڑ کر زندگی سے مدتیں گزریں مگر اب بھی
مہکتا جھومتا سا ایک سایہ ساتھ چلتا ہے
مرا دردِ محبت بھی ہے اک بچھڑا ہوا نغمہ
تمہاری یاد بھی اب ایک آوارہ تمنا ہے
——
جامی زندگی کے کاروان میں غم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ انھیں صرف محبوب کا غم نہیں بلکہ ان کے سینے میں زمانے کے بدلتے ہوئے حالات اور قوم کے جھگڑے بھی غم کا طوفان اٹھاتے ہیں۔ وہ زمانے کے شکستہ حالات، تہذیب کے فقدان، سیاست کی بد حالی، عوام کی بے بسی، سماج کی لاچاری اور گردشِ دوراں کی اضطرابی کو خوب سمجھتے ہیں۔ وہ محض وفا میں سکون نہیں محسوس کرتے بلکہ اگراطراف کا ماحول و قدرتی مناظر بھی اداس ہوںتو بھی انھیں بے چینی ہوتی ہے اور وہ ایک حساس شاعر کی طرح نظم ”زخمی لمحے” میں کہہ اٹھتے ہیں:
——
تو مرے غم کا مداوا ہے یہی سمجھا تھا میں
تجھ کو پاکر مری تقدیر سنور جائے گی
تیرے عارض کی سحر، خوابِ تمنا بن کر
میری دنیائے محبت میں نکھر جائے گی
نور و نکہت کی فضاؤں میں ، جواں بانہوں میں
زندگی دور سے آئی ہے ، ٹھہر جائے گی
دیکھتا یہ ہوں کہ احساس کے آئینے میں
عکس ماحول کے چہرے کا ابھر آیا ہے
زخمی ہے گردشِ دوراں میں امنگوں کا شباب
گردِ آلام نے ہر نقش کو دھندلایا ہے
جیسے تاریک و شکستہ سی عمارت کے قریب
ملگجی صبح نے آنچل کوئی لہرایا ہے
——
جامی شاعری کی زبان پر غیر معمولی قدرت رکھتے ہیں۔ وہ اشاروں کنایوں میں اپنی بات کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ انھوں نے خوبصورت تشبیہوں اور علامتوں کا استعمال کیا ہے لیکن ان کے یہاں گنجلک اور مبہم علامتیں نہیں ملتیں۔ وہ سادہ اور پرگو شاعر ہیں ۔وہ میر کی طرح سادگی و پر کاری سے کام لیتے ہیں۔ نئی شاعری کے تقاضوں کو روایتی تجربوں کی روشنی میں حل کرتے ہیں۔ ان کے شعری سرمائے میںالفاظ میں نرمی، شوخی اور لطافت پائی جاتی ہے۔ انھوں نے اپنی نظموں میں جدید عہد کی تمام ضرورتوں اور بدلتے ہوئے حالات کا بیان اور آنے والے زمانے یعنی مستقبل کی کامیابی و کامرانی کا تذکرہ بڑے دلچسپ اور خوبصورت انداز میں کیا ہے۔ نظم ”منزل کی طرف” اس کی بہترین مثال ہے ۔ چند بند ملاحظہ ہوں:
——
وقت مہکے ہوئے خوابوں کی ردائیں اوڑھے
آج کتنے ہی اجالوں کو صدا دیتا ہے
دل کے اوراق پر لکھی ہوئی تحریروں کو
اک نئے دور کی آواز بنا دیتا ہے
——
کون کہتا ہے ہم عظمتِ فردا کے لیے
آج ایک مطلعِ انوار نہیں بن سکتے
کون کہتا ہے کہ ہم وقت کے بازاروں میں
زندگانی کے خریدار نہیں بن سکتے
——
آؤ! اقرار تو کرلیں کہ ہر اک نغمۂ دل
صبحِ رخسار تمنا سے بدل جائے گا
غم کا فولاد ہو یا تیغِ ستم کا آہن
دستِ محنت کی حرارت سے پگھل جائے گا
——
یہ بھی پڑھیں : نطق میرا سعدی و جامی سے ہم آہنگ ہو
——
جامی کے یہاں نظمیں بھی غزل کے پیراہن میں ملتی ہیں۔ وہ نظموں میں بھی غزل کے عناصر کا استعمال کرکے اپنی نظموں میں عجب سی کشش پیدا کرتے ہیں۔ انھوں نے کئی ایسی نظمیں لکھیں جو انھیں جدید نظم کے شاعروں سے قریب کردیتی ہیں۔ ان نظموں میں قابلِ ذکر ”چراغ جلتے ہیں”، ”تضاد”، ”زندگی کی راہوں میں”، ”سناٹا”، ”سراب”، ”تھکن” ، ”جس آگ میں جل رہا ہوں”،” یاد” ، ”مشورہ” اور ”ہم کو اپنا پتہ نہیں ملتا” وغیرہ شامل ہیں۔
جامی نے اردو ادب کے شعری گلدستے کو اپنی خوبصورت شاعری سے سجایا ہے۔ انھوں نے کئی مجموعے اپنی نشانی کے طور پر اردو ادب کو عطاکیے ہیں،جن میں برگِ آوارہ، شمعِ حیات، رخسارِ سحر، یاد کی خوشبو وغیرہ نمایاں خصوصیت کے حامل ہیں۔ غزل ہو کہ نظم انھوں نے اپنی ایک الگ شاہراہ قائم کی ہے۔ انھوں نے اپنے کلام کو تجربات اور تخیل کو فروغ دے کر اسے جدید اردو غزل میں ایک نئے باب کے طور پر متعارف کروایا ہے۔ انھیں خود اپنی انفرادیت کا احساس ہے۔ وہ خوداپنی شاعری کو دوسروں سے مختلف قرار دیتے ہیں۔
——
مسافرانِ شبِ غم کی راہ میں جامی
نئے چراغ میری فکر نے جلائے ہیں
——
مرے معیار فن کی روشنی کو ، عصر حاضر میں
نہ جانے اور کتنی ظلمتوں کا زہر پینا ہے
——
غرض یہ کہ جامی ١٩٤٧ء کے بعد جدید شعرا کی فہرست میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انھوں نے جذبات و احساسات اور تجربات کی رنگینیوں کو جدید غزل کے پیراہن میں بیان کیاہے ۔ ان کے یہاں روایتی الفاظ جدید انداز میں ملتے ہیں۔ ان کا اندازِ بیاںاور اسلوب اس عہد کے دیگر شعرا سے مختلف ہیں، وہ زندگی کے تجربوں کو پیار کی خوشبو عطا کرکے شعری پیکر میں ڈھالتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ حیدرآباد کے ممتاز شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کا انتقال ٨ مارچ ١٩٧٠ء کو کینسر کی بیماری سے ہوا۔
——
منتخب کلام
——
زندگانی کے حسیں شہر میں آ کر جامیؔ
زندگانی سے کہیں ہاتھ ملائے بھی نہیں
——
یادوں کے درختوں کی حسیں چھاؤں میں جیسے
آتا ہے کوئی شخص بہت دور سے چل کے
——
جلاؤ غم کے دئے پیار کی نگاہوں میں
کہ تیرگی ہے بہت زندگی کی راہوں میں
——
وفا کی پیار کی غم کی کہانیاں لکھ کر
سحر کے ہاتھ میں دل کی کتاب دیتا ہوں
——
پہچان بھی سکی نہ مری زندگی مجھے
اتنی روا روی میں کہیں سامنا ہوا
——
چمکتے خواب ملتے ہیں مہکتے پیار ملتے ہیں
تمہارے شہر میں کتنے حسیں آزار ملتے ہیں
——
کچھ دور آؤ موت کے ہم راہ بھی چلیں
ممکن ہے راستے میں کہیں زندگی ملے
——
بڑے دلچسپ وعدے تھے بڑے رنگین دھوکے تھے
گلوں کی آرزو میں زندگی شعلے اٹھا لائی
——
کوئی ہلچل ہے نہ آہٹ نہ صدا ہے کوئی
دل کی دہلیز پہ چپ چاپ کھڑا ہے کوئی
——
کیوں چاند کو سمجھے کوئی پیغام کسی کا
صحرا کی کڑی دھوپ بھی ہے نام کسی کا
ٹوٹی ہوئی اک قبر کے کتبے پہ لکھا تھا
یہ چین کسی کا ہے یہ آرام کسی کا
خوابوں کے دریچے میں ہو جیسے کوئی چہرہ
یوں درد نکھرتا ہے سر شام کسی کا
غزلوں پہ بھی ہوتا ہے کسی شکل کا دھوکا
تاروں کو بھی دیتا ہوں کبھی نام کسی کا
تاریخ کے پھیلے ہوئے صفحات پہ جیسے
زخموں کی نمائش ہے فقط کام کسی کا
ہاتھوں کی لکیریں ہیں یہ ویران سی راہیں
سوکھے ہوئے پتے ہیں یہ انجام کسی کا
جامیؔ جو اتر جائے اندھیروں کے بدن میں
وہ شعلۂ تخلیق ہے انعام کسی کا
——
گل بہ داماں نہ کوئی شعلہ بجاں ہے اب کے
چار سو وقت کی راہوں میں دھواں ہے اب کے
شام ہجراں جسے ہاتھوں میں لیے پھرتی ہے
کون جانے کہ وہ تصویر کہاں ہے اب کے
زندگی رات کے پھیلے ہوئے سناٹے میں
دور ہٹتے ہوئے قدموں کا نشاں ہے اب کے
تیری پلکوں پہ کوئی خواب لرزتا ہوگا
میرے گیتوں میں کوئی درد جواں ہے اب کے
ایک اک سانس پہ دھوکا ہے کسی آہٹ کا
ایک اک گھاؤ اجالوں کی زباں ہے اب کے
صحن‌ گلشن ہے بہاروں کے لہو سے رنگیں
شاخ گل ہے کہ بس اک تیغ رواں ہے اب کے
جو کبھی حسن کے ہونٹوں پہ نہ آیا جامیؔ
ہائے وہ حرف تسلی بھی گراں ہے اب کے
——
سورج سروں پہ آگ اگلتا دکھائی دے
مجھ کو یہ شہر آج پگھلتا دکھائی دے
وہ سامنے رکھا ہے کوئی خط کھلا ہوا
وہ دور کوئی چاند نکلتا دکھائی دے
کس کے قریب جائیے کس کو پکاریے
ہر شخص اپنا روپ بدلتا دکھائی دے
میں اس ندی کو پار تو کر جاؤں گا مگر
آگے کوئی چراغ تو جلتا دکھائی دے
یہ ریگ زار غم یہ خیالوں کی تیز دھوپ
جو زد میں آ گیا وہ پگھلتا دکھائی دے
گھر ہو کہ راستہ ہو اک آسیب ہر جگہ
تنہائیوں کا زہر اگلتا دکھائی دے
آواز دے کہ رات کے اونچے پہاڑ سے
خوابوں کا پاؤں آج پھسلتا دکھائی دے
جامیؔ مری نظر میں زمانہ ہے اس طرح
پھولوں کو جیسے کوئی مسلتا دکھائی دے
——
معیار سخن ہوں نہ کوئی عظمت فن ہوں
بڑھتے ہوئے پتھراؤ میں شیشے کا بدن ہوں
اس طرح مجھے دیکھ رہا ہے کوئی جیسے
میں دور کے جلتے ہوئے خوابوں کی تھکن ہوں
سو بار اندھیروں نے جسے قتل کیا ہے
تخلیق کے ماتھے کی وہی ایک کرن ہوں
آواز انا الحق کی طرح ساتھ ہی تیرے
اک عمر سے اے سلسلۂ دار و رسن ہوں
زخموں کے جھروکے میں کوئی شمع جلا کر
کہتا ہے میں کچھ اور نہیں درد وطن ہوں
ہیں جس کے لیے آج نئے لفظ و معانی
تاریخ کا وہ نشۂ صہبائے کہن ہوں
صحرا کا سلگتا ہوا احساس ہوں جامیؔ
ذروں کی طرح دہر میں بکھرا ہوا تن ہوں
——
حوالہ جات
——
تحقیق وتنقید : ڈاکٹر ناہیدہ سلطانہ، قباء کالونی، شاہین نگر، حیدرآباد۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ