اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف ادیب اور شاعر میکش اکبر آبادی کا یومِ پیدائش ہے

میکش اکبر آبادی(پیدائش: 3 مارچ 1902ء – وفات: 25 اپریل 1991ء)
——
جناب میکش اکبر آبادی کی ولادت مارچ/ 1902 عیسوی میں اکبرآباد ( آگرہ) کےمیوہ کٹرہ میں ہوئی۔ ان کے مورث اعلیٰ ’سید ابراہیم قطب مدنی‘ جہانگیر کے عہد میں مدینہ منورہ سے ہندوستان تشریف لائے اور اکبرآباد کو اپنا مسکن بنایا۔ سید محمد علی شاہ نام اور میکشؔ تخلص تھا۔ قادری نیازی سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے داداسید مظفر علی شاہ نے حضرت شاہ نیاز احمد بریلوی کے صاحبزادے حضرت نظام الدین حسین کی بیعت کی اور ان کے خلیفہ ہوئے۔ ان کے والد سید اصغر علی شاہ ان کی کم سنی میں ہی وصال فرما گئے۔ آپ کی تعلیم آپ کی والدہ نے بخوبی نبھائی جو ایک با ہوش و صالحات قدیمہ کی زندہ یادگار ہونے کے علاوہ بزرگان خاندان کے علم و عمل سے بخوبی واقف تھیں۔ اپنے بیٹے کی تعلیم کے لیے شہر و بیرونجات سے بڑے بڑے لایق علما، فضلا جن میں مولوی عبد المجید سر فہرست ہیں ان تمام لوگوں کی علمی خدمات بیش قرار معاوضوں پر حاصل کر کے ابتدائی اور وسطی علوم طے کرائے۔ آپ کو مدرسہ عالیہ، آگرہ میں داخل کرایا جہاں سے آپ نے علوم ظاہری حاصل کی اور نصاب درس نظامیہ کے مطابق آپ نے منقولات کے ساتھ ساتھ جدید و قدیم معقولات کی تعلیم بھی حاصل کی۔ آپ اپنی خاندانی روایت کے مطابق سجادہ نشین بھی ہوئے۔
——
یہ بھی پڑھیں : عارف عبدالمتین کا یوم پیدائش
——
میکش اکبرآبادی کی شادی ان کے سترہ سال کی عمر میں حشمت علی صاحب اکبرآبادی کی صاحبزادی صدیقی بیگم سے ہوئی۔1937 میں صدیقی بیگم کا انتقال ہونے کے بعد انہوں نے عقد ثانی آصف جہاں سے کیا جو نواب مصطفیٰ صاحب کی صاحبزادی تھیں۔ آصف جہاں میکشؔ اکبرآبادی کے خاندانی روایات کو اور ذمہ داریوں کو نہ سنبھال سکیں اور اپنے میکے میں رہنے لگیں لہٰذا انہوں نے آصف جہاں سے قطع تعلق کر لیا اس کے بعد آصف جہاں پاکستان چلی گئیں۔ وہیں ان کا انتقال ہوا۔میکشؔ نے آگرہ میں ہی1991 میں اپنے جسم کو خیر باد کہا اور داعی اجل کو لبیک کہا۔
میکش اکبر آبادی جعفری نسب اور سنی الحنفی صوفی عقیدے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا شمار ہندوستان کے ذی علم بزرگوں میں ہوتا ہے۔ مگر پیشہ ور پیروں سے الگ سوچ رکھتے تھے۔
میکش اکبر آبادی کو موسیقی کا ہمیشہ سے بہت شوق رہا ہے۔ ان کو بچپن سے ستار بجانے کا بہت شوق تھا جب انہیں کوئی غزل کہنی ہوتی وہ ستار لے کر بیٹھ جاتے اور ستار کی دھن پر فوراً غزل تیار کر لیتے۔ اس کے علاوہ ان کو علم منطق میں بھی دسترس تھا لہٰذا بچپن ہی سے بحث و مباحثہ کا بھی شوق تھا۔
ان کے عہد میں اردو غزل ایک نئے مقام کی طرف گامزن تھی میکشؔ کے ہم دور حسرت ؔموہانی، اصغرؔ گونڈوی، فانیؔ بدایونی، جگرؔ مرادآبادی اپنے اپنے منفرد لہجے اور پیرائے میں غزل کو مزون کر رہے تھے اسی وقت آگرہ میں میکشؔ خاموشی سے گیسوئے غزل کی آرائش و زیبائش میں مصروف تھے۔ انہوں نے وحدت الوجود، فنا و بقا، ترک و اختیار، ہستی و نیستی اور حقیقت و مجاز جیسے صوفیانہ نظریات کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار بڑے موثر انداز میں کیا ہے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے تصوف جیسے خشک موضوع کو بھی اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کے ذریعہ تغزل کے رنگ میں پیش کیا ہے اور جمالیاتی حسن کو بھی برقرار رکھا ہے۔
میکش اکبر آبادی نے متعدد صوفیانہ تصنیف تخلیق کی ہیں ۔ جن میں انہوں نے اپنے افکار کو ایک شبیہ دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کی چند تصنیفات حسب ذیل ہیں۔ نقد اقبال، نغمہ اور اسلام، مسائل تصوف، توحید اور شرک، میکدہ، حرف تمنا، حضرت غوث الاعظم، داستان شب وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
——
کلامِ میکش چند مشاہیر کی نظر میں
——
ہاں، میکش اکبر آبادی اپنے دل کا لہو دے دے کر دکن کے بھیانک اور ادبی اندھیرے میں اپنی شاعری کا چھوٹا سا چراغ جلاتا رہا ۔ اس کے چراغ کی روشنی بہت تھوڑی ، بہت مدھم سہی لیکن نہ جانے اس تھوڑی سی روشنی نے کتنے ٹھوکر کھانے والوں کو سنبھالا ہے ۔ اور سنبھلنے والوں کو کیا پتہ کہ یہ روشنی دراصل میکشؔ کے جگر کا لہو ہے جو تقطیر ہو کر روشنی بن گیا ہے۔
ابراہیم جلیس
——
میکش اکبر آبادی کا کلام علامہ اقبالؔ رح نے پہلے ہی سن لیا تھا اور جب لاہور میں ملاقات ہوئی تو پوچھا :
تم میکش ہو ؟ ، تم میکش ہو !!
جی میں میکش حیدرآبادی ہوں ، جامعہ عثمانیہ کا طالب علیم
ہاں بھئی ، حیدر آباد ہی کے ، لیکن تم ہی ہو
جی ، میکش نے لجاتے ہوئے جواب دیا
علامہ اقبالؔ رح کو یقین ہی نہ آتا تھا کہ اس عمر اور علمیت کا شخص اتنا مشہور شاعر ہو سکتا ہے ۔
محمد اکبر الدین صدیقی
——
میکش اکبر آبادی بچپن سے شعر کہتے ، بہت کم افراد کو ان کے شاعر ہونے کا یقین ہوتا تھا ۔ کم عمری کے زمانہ میں بھی بعض ایسے شعر کہے کہ استادانِ سخن بھی حیران رہ گئے اور ان کی فطری صلاحیتوں کا اعتراف کر لیا۔
اس نو عمر شاعر کی بعض غزلیں سن کر حضرت امجدؔ حیدر آبادی نے فرمایا تھا کہ ” کہنے والا کوئی اور ہے ” ۔
ابو ظفر عبد الواحد
——
میکش اکبر آبادی کے مزاج میں اثر قبول کرنے اور قوتِ جذب و کشش کے ساتھ ہر نئی بات ، ہر نئی ادا کو اپنا لینے ، اور اس سے کچھ نہ کچھ پیدا کرنے کی ایک بیتابی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سارے کلام پر مختلف رنگ روپ کے شاعروں اور ان کی اداؤں کے چھینٹے نظر آتے ہیں ۔
یہ افشاں ان کی عروسِ شاعری کے لیے تقلید کا عیب نہیں بلکہ تاثر کا حسن پیدا کرتی ہے
باقیؔ صدیقی
——
میکش اکبر آبادی نے رباعیوں میں ایسے بے تکلفانہ اور بے اختیارانہ انداز میں مضامین باندھے ہیں کہ سر دُھنتے رہنے کو جی چاہتا ہے ۔
وہ ایسی کیفیت نظروں کے سامنے پیش کرتا ہے کہ قاری کو دھوکا ہوتا ہے کہ یہ رباعی اُسی کی تو نہیں یا یہ خیال اُسی کا تو نہیں ۔
فن کار کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہوتی ہے کہ ہمارے دلی جذبات کی ایسی عکاسی کرے جیسے اُسے الہام ہو یا وہ ہمارے تحت الشعور کے تمام رموز سے پوری طرح واقف ہو ۔
یوسف احمد صدیقی
——
منتخب کلام
——
وضع کا پاس کہاں تک کرتے ، ہم تو پھر دیوانے تھے
ان سے بھی یاں نبھ نہ سکی جو عاقل تھے فرزانے تھے
آپ ہی یہ طے کرتے رہیئے کچھ تھا کہ نہ تھا کچھ ہے کہ نہیں
کٹ ہی گئی اپنی تو اُن میں خواب تھے یا افسانے تھے
——
اب جہاں چاہوں بنا لوں میں گھر اپنا میکشؔ
بڑھ گئی اور بھی وسعت مری ویراں ہو کر
——
نہیں خود اپنی ہی ہستی کا اعتبار مجھے
یہ جان کر بھی ترا اعتبار میں نے کیا
——
بڑھا دی دید کی لذت مرے وہمِ جدائی نے
رہے وہ سامنے یوں جیسے کوئی بار بار آئے
——
نہیں ہوتی کسی کو قدر اپنے حال کی میکشؔ
بُرا ہو یا بھلا گزرا زمانہ یاد آتا ہے
——
جو فرشِ گُل پر سو نہ سکا ، جو ہنس نہ سکا جو رو نہ سکا
اِس خاک پہ اُس شوریدہ سر نے آخر آج آرام کیا
——
جدھر دیکھو ادھر اہلِ ہوس کا بول بالا ہے
خدا ہی ہے جو میکشؔ انجمن کی انجمن بدلے
——
اُس کے آئینۂ رخسار کو دیکھا میں نے
اے محبت ترے معیار کو دیکھا میں نے
راستے سے کوئی مطلب تھا نہ منزل سے غرض
ساتھ چل کر تری رفتار کو دیکھا میں نے
——
اس کی آنکھیں ، اس کی آنکھیں ، کیسی ہیں اب کیا کہیے
اچھا ٹھہرئیے ، سوچنے دیجے ، اس کی آنکھیں ، اس کی آنکھیں
——
وضع کا پاس کہاں تک کرتے ، ہم تو پھر دیوانے تھے
ان سے بھی یاں نبھ نہ سکی جو عاقل تھے فرزانے تھے
آپ ہی یہ طے کرتے رہیئے کچھ تھا کہ نہ تھا کچھ ہے کہ نہیں
کٹ ہی گئی اپنی تو اُن میں خواب تھے یا افسانے تھے
موجِ صبا سے اس نے چھیڑا بوئے گُل سے یاد کیا
ہم بدقسمت پھر بھی نہ سمجھے کہنے کو فرزانے تھے
اگلی پچھلی باتوں کا کیا ذکر ہے اب جانے دیجے
آپ کے در پر آ ہی پڑے ہم تھے جب تک بیگانے تھے
رات کو ان کی خلوت میں خود اُن کے سوا کوئی بھی نہ تھا
صبح ہوئی تو سب کے لبوں پر میرے ہی افسانے تھے
مغروروں کو دیکھ کے ہم نے یہ سیکھا ہے اے میکشؔ
جس سے ملے اسطرح ملے جیسے جانے پہچانے تھے
——
مرے غم کے لیے اس بزم میں فرصت کہاں پیدا
یہاں تو ہو رہی ہے داستاں سے داستاں پیدا
وہی ہے ایک مستی سی وہاں نظروں میں یاں دل میں
وہی ہے ایک شورش ہی وہاں پنہاں یہاں پیدا
تو اپنا کارواں لے چل نہ کر غم میرے ذروں کا
انہیں ذروں سے ہو جائے گا پھر سے کارواں پیدا
مری عمریں سمٹ آئی ہیں ان کے ایک لمحے میں
بڑی مدت میں ہوتی ہے یہ عمر جاوداں پیدا
ذرا تم نے نظر پھیری کہ جیسے کچھ نہ تھا دل میں
ذرا تم مسکرائے ہو گیا پھر اک جہاں پیدا
ہماری سخت جانی سے ہوا شل ہاتھ قاتل کا
سر مقتل ہی ہم نے کر لیا دارالاماں پیدا
توقع ہے کہ بدلے گا زمانہ لیکن اے میکشؔ
زمانہ ہے یہی تو ہو چکے انساں یہاں پیدا
——
یہ رنگ و نور بھلا کب کسی کے ہاتھ آئے
کدھر چلے ہیں اندھیرے یہ ہاتھ پھیلائے
خدا کرے کوئی شمعیں لیے چلا آئے
دھڑک رہے ہیں مرے دل میں شام کے سائے
کہاں وہ اور کہاں میری پر خطر راہیں
مگر وہ پھر بھی مرے ساتھ دور تک آئے
میں اپنے عہد میں شمع مزار ہو کے رہا
کبھی نہ دیکھ سکے مجھ کو میرے ہم سایے
چلے چلو کہ بتا دے گی راہ خود رستے
کہاں ہے وقت کہ کوئی کسی کو سمجھائے
حرم کی آبرو ہم نے بہت رکھی پھر بھی
کئی چراغ صنم خانے میں جلا آئے
میں اپنے دل کو تو تسکین دے بھی لوں میکشؔ
وہ مضطرب ہے بہت کون اس کو سمجھائے
——
نظم : کشمیر
——
یہاں خواب سکوں پرور میں بھی بیداریاں دیکھیں
یہاں ہر ہوشیاری میں نئی سرشاریاں دیکھیں
یہاں کی گھاٹیوں میں حسن کے چشمے ابلتے ہیں
یہاں ہر چیز پر جذبات انسانی مچلتے ہیں
پریشاں منظری میں بھی یہاں فطرت سنورتی ہے
خموشی میں بھی اک موج ترنم رقص کرتی ہے
وہ شالیمار کی رنگینیوں میں حسن کا جادو
وہ دنیائے شباب و شعر وہ گلزار رنگ و بو
نشاط روح افزا کی فضاؤں میں وہ رنگینی
وہ فواروں کی نغمہ‌ سازیوں میں کیف خود بینی
وہ جوبن چشمۂ شاہی کی دوشیزہ بہاروں کا
کہ گل پھولے ہیں یا جھرمٹ اتر آیا ستاروں کا
وہ اونچے پربت اور ان پر وہ بل کھاتی ہوئی راہیں
وہ ہر وادئ تمنا‌‌ خیز پھیلائی ہوئی باہیں
صنوبر کی گھنی شاخوں کا وہ کیف آفریں سایہ
کہ جس میں اضطراب زندگی نے بھی سکوں پایا
جدھر دیکھا ادھر اک چشمۂ برفاب ہی دیکھا
نگاہوں نے مری اک منظر سیماب ہی دیکھا
سر غرب وہ اپنی سیر پانی پر شکاروں میں
خزاں کا وہم بھی اک پاپ ہے ایسی بہاروں میں
یہاں پانی کے دھارے پر چراغ زیست جلتے ہیں
یہاں موجوں کی گودی میں کئی ملاح پلتے ہیں
کناروں کے وہ برقی قمقموں کا عکس پانی میں
کہ جیسے بجلیاں تڑپیں تخیل کی روانی میں
جلو خانے ہیں فطرت کے کہ یہ رنگیں فضائیں ہیں
یہ موجیں کوثر و تسنیم کی ہیں یا ہوائیں ہیں
نگاہیں جس طرف اٹھتی ہیں شعرستان ہے منظر
لطافت سے بھرا موسیقیوں کی جان ہے منظر
میں حیراں ہوں کہ اس خطے کو کیوں کر سر زمیں کہئے
صداقت کا تقاضا ہے کہ فردوس بریں کہئے
——
شعری انتخاب بحوالہ کتاب: میخانہ ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ