اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف رومانوی اور انقلابی شاعر اسرار الحق مجاز کا یومِ پیدائش ہے۔

اسرا الحق مجاز
(پیدائش: 19 اکتوبر 1911ء – وفات: 5 دسمبر 1955ء)
——
اسرار الحق مجاز 19 اکتوبر 1911ء میں قصبہ رودولی ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ان کی تاریخ وفات 5 دسمبر 1955 ہے۔ان کا حقیقی نام اسرارالحق اور مجازؔ تخلص اختیار کیا۔
تعلیم کے لیے مجازؔ لکھنؤ آئے اور یہاں سے ہائی اسکول پاس کیا۔ لکھنؤ سے اس قدر لگاؤ ہوا کہ مجازؔ نے اپنے تخلص میں لکھنؤ جوڑ لیا اور مجازؔ لکھنوی کے نام سے جانے گئے۔
مجازؔ نے 1935 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کیا تھا۔
1936میں دہلی ریڈیو اسٹیشن سے شائع ’آواز‘ کے پہلے مدیر مجازؔ ہی تھے۔ انہوں نے کچھ وقت بمبئی انفارمیشن میں بھی کام کیا تھا اور پھر لکھنؤ آکر ’نیا ادب‘ اور ’پرچم‘ کی ادارت کی۔ اس کے بعد دہلی میں ہارڈنگ لائبریری سے منسلک ہوئے تھے۔
مجازؔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے رکن تھے۔ مجلس ادارت "نیا اَدب” لکھنؤ اجرا 1939ء کے بھی رکن تھے۔
3دسمبر 1955کو لکھنؤ میں مجازؔ ایک مشاعرے میں شامل ہوئے تھے۔ اس کے دو دن بعد یعنی 5 دسمبر 1955کو وہ انتقال کر گئے تھے۔
2008 میں ایک ڈاک ٹکٹ حکومت ِ ہند کی جانب سے مجاز کی یاد میں جاری ہوا تھا ۔
——
خمریات کا شاعر : اسرار الحق مجاز از محسن مقبول
——
مجھے سنے کوئی مست بادہ عشرت
مجاز ٹوٹے ہوئے دل کی ایک صدا ہوں میں
——
یوں تو دنیا کا ہر ایک شاعر اپنے شاعرانہ موضوعات کی بنا پر چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔ عوام میں شاعروں کی گروہ بندی عام طور پر ان کی فکری جہتوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہئے کہ ایک شاعر خالصتاََ ایک ہی موضوع کو اپنا نصب العین بنانا ہے۔ بلکہ وہ بیک وقت بہت ساری الجھنوں، خیالوں اور حقیقتوں سے نبرد آزما ہوتا ہے۔ اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ وقت کے بہاو کے ساتھ ساتھ اس کی فکر بھی تسلسل کے ساتھ ارتقاء پذیر ہوتی ہے اور بعض اوقات تو ایک شاعر کے ابتدائی اور اختتامی افکار میں زمین و آسمان کا افتراق نظر آتا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
——
اسرار الحق مجاز اردو کی شاعری کے وہ آفتاب ہیں جو افق پر چھاتے چھاتے ڈوب گئے اسرارلحق مجاز کی شاعرانہ بصیرت اور ان کی زندگی کا دیوالیہ پن کو سمجھنے کیلئے ان کے ہم عصر دوست رفقاء اور زمانے کے مزاج کو بھی سمجھنا ہوگا۔ اس سے پہلے ہم براہ راست مجاز کی میخواری کا ذکر کریں۔ ہم مجاز کے ایک دیرینہ ہمدم پرکاش پنڈت کے ان ذریں خیالات پر نظر دوڑائیں جن سے ہم استفادہ کرکے مجاز کی شخصیت اور شاعرانہ بصیرت تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ چنانچہ پرکاش پنڈت مجاز کا تعارف ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں:
مجاز اردو شاعری کا کیٹس ہے
مجاز صیح ترقی پسند شاعر ہے
مجاز اچھا شاعر مگر گھٹیا شرابی ہے
مجاز جمالیات اور خریات کا شاعر تھا
مجاز نیم دیوانہ مگر پرخلوص ہے
مجاز بذلہ سنج اور لطیفہ گو ہے
مجاز لکھنوی اردو کے و ہ شاعر ہیں جنھوں نے بہت ہی قلیل عمر پائی اور یہ کم عرصہ بھی غموں سے پُر تھا۔ ان کی زندگی اور شاعری دونوں شراب خواری کے ارد گرد گھومتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جہاں تک ان کی شاعری کا تعلق ہے تو اردو کا یہ کیٹس بھی اپنی شاعری کا آغاز روایتی انداز سے کرتا ہے۔ چنانچہ ان کی ابتدائی شاعری بھی حسن و عشق، گل و بلبل ، طوطا و مینا اور ہجرو وصال جیسے قصوں سے لبریز ہے۔ لیکن بعد ازان انہوں نے رومانی شاعری کے ساتھ ساتھ انقلابی شاعری بھی کی ان تمام موضوعات سے بڑھ کر ایک موضوع یعنی میخواری ان کی شاعری کا محور و مرکز ہے رومانیت ہو یا انقلاب ، آغاز ہو یا انجام، ابتدا ہو یا اختتام، عروج ہو یا زوال غرض مجاز زندگی کے ہر ایک موڈ پر شراب سے لو لگائے ہوئے بیٹھے ہیں اور مجاز کی شاعری ساغر کی نہروں میں غوطہ زن نظر آتی ہے
——
مے گلفام بھی ہے،ساز عشرت بھی ہے، ساقی بھی
مگر مشکل ہے آشوب حقیقت سے گزر جانا
——
فیض احمد فیض نے جب اسرار الحق مجاز کی اولین ترین اور واحد کتاب’’ آہنگـ’’ کا مقدمہ لکھا تو انھوں نے مجاز کی شاعری کے بارے میں خامہ فرسائی کرتے ہوئے لکھا تھا :’’ مجاز کی شاعری تین چیزوں کا مرکب ہے۔ ساز ، جام اور شمشیر۔ فیض تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ایک شعر کے لئے یہ تینوں چیزیں ہونا ضروری ہے اور اسی لئے مجاز تو دنیا کے ایک کامیاب ترین شاعر ہیں’’۔ مجاز اور میخواری کے رشتے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ طلوع شاعری میں بھی خمیریات کا برملا ذکر کرتے ہیں اور دوران شباب یعنی آمد انقلاب سے ہوتے ہوئے جب ان کی زندگی غروب ہورہی تھی جب بھی یہ اپنی شاعری میں بادہ خواری کا ذکر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
——
میری شب اب میری شب ہے میرا بادہ میرے جام
وہ میرا سرو رواں ماہ تمام آہی گیا
——
میری رائے کے مطابق اسرار الحق مجاز کی شخصیت پہلو دارنہ تھی کیونکہ ان کی پوری زندگی کچھ چیزوں کے ارد گرد گھومتی ہوئی نظر اآتی ہے۔ ان کی شاعری بھی سازو جام، انقلاب اور رومان کے دائیروں میں ہی مقید ہے۔ چنانچہ فیض رقمطراز ہیں :’’مجاز کے شعر کا ارتقا بھی ہمارے بیشتر شعرا سے مختلف ہے ، عام طور پر ہمارے ہاں شعر یا شاعر کا ارتقائی عمل یہ صورت اختیار کرتا ہے، سازو جام۔ سازو جام۔ شمشیر۔ سازو جام۔ شمشیر اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ رجعت نہیں ترقی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ شاعر کی طبیعت خارجی اور انقلابی مضامین کی اینٹ پتھر کو تراشنے اوجوڑنے اور جمانے میں زیادہ لذت محسوس کرنے لگی ہے’’
——
دیکھہ شمشیر ہے یہ ، ساز ہے یہ،، جام ہے یہ
تو جو شمشیر اُٹھالے تو بڑا کام ہے یہ
——
اسرار الحق مجاز ایک درد مند دل رکھتے ہیں۔ یہ غریبوں ، کسانوں اور مظلوموں کے شاعر ہیں۔ انھیں مزدوروں کے ساتھ محبت ہے۔ ایک طرف شاعر اپنے آپ کو مزدوروں اور کسانوں کا شاعر گردانتے ہیں لیکن دوسری طرف انھیں اس بات پر بھی احساس کمتری ہے کہ لوگ اسے میخوار گردانتے ہیں۔
——
بہ ایں رندی مجاز اک شاعر مزدور و دہقاں ہے
اگر شہروں میں وہ بدنام ہے، بدنام رہنے دے
——
اسمیں کوئی دورائے نہیں ہے کہ اسرار الحق مجاز کی شاعری میں ایک ناکام عاشق کی پ دیوالیہ پن کو سمجھنے کیلئے ان کے ہم عصر دوست رفقاءکار ، مزدوروں اور مظلوموں کی چیختی ہوئی روح اور حالات اور زندگی کے ہاتھوں شکست خوردہ شاعر کی میخواری کے سوا کچھ اور نہیں ہے لیکن جہاں تک میرے مطالعے اور تحقیق کا تعلق ہے تو میں بڑے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مجاز شراب کے شاعر ہیں۔
میں کہ میخانہ الفت کا پرانا میخوار
ان کی پوری شاعروں کو دیکھ کر یہی اخذ ہوتا ہے کہ میخواری ان کا محبوب ترین موضوع ہے۔ کلیات مجاز کو پڑھ کر اس بات کے واضح ثبوت سامنے آتے کہ ان کے سب سے زیادہ اشعار خمریات پر ہی ہیں۔
——
اے شاعر آشفتہ و مست و مے سرجوش
کیا کہہ گیا شعروں میں تجھے یہ بھی نہیں ہوش
——
حیران کن بات یہ ہے کی اسرار الحق مجاز جس دور میں اشتراکیت سے وابستہ ہوگئے اس دور کے اکثر اشعار میں بھی شاعر خمریات سے اپنے آپ کو مستثنیٰ نہیں رکھ سکتے ہیں۔ شاعر ہر ایک چیز کو متغیر ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن انقلاب کے گیت گاتے گاتے بھی مدہوشی کی شراب کو اپنے اوپر حائل کرنا چاہتے ہیں۔
——
بھڑکتی جارہی ہے دم بہ دم اک آگ سی دل میں
یہ کیسے جام ہیں ساقی یہ کیسا دور ہے ساقی
——
یہ بھی پڑھیں : ڈاکٹر اسرار احمد کا یوم وفات
——
حالانکہ کچھ ایسے اشعار بھی نظر سے گزرتے ہیں۔ جن میں شاعر اپنے انقلاب کے دنوں میں میکشی سے پرہیز کرکے اپنے آپ کو ظلم و تشدد کے خلاف کھڑا کرتے ہیں شاعر کو اس دور میں قلم کا سپاہی اور سرفروش ہونے پر فخر ہے۔
——
مے کدہ چھوڑ کے میں تیری طرف آیا ہوں
سرفروش میں باندھے ہوئے صف آیا ہوں
لاکھ ہوں میکش آوارہ و آشفتہ مزاج
کم سے کم آج تو شمشیر بکف آیا ہوں
——
جدید تنقیدی نظریات اگر چہ ایک مصنف یا شاعر کو اس کے متن یا شاعری سے مستثنیٰ رکھتے ہیں لیکن جب اسرار الحق مجاز کی بات آتی ہے تو یہ تنقیدی نگارشات مجاز پر صادق نہیں آتے۔ مجاز کی زندگی اور ان کی شاعری آپس میں لازم ملزوم ہیں۔ یہ ایک دوسرے سے بہت حد تک پیوست نظر آتے ہیں۔ مجاز کی شاعری ان کی زبوں حالی ہے۔ دل میں محبت کی ناکامی سے نا امید اور روزگار کی تلاش میں دربدر اور حالات کے تھپیڑے کھاتا ہوا یہ شخص اگر کسی چیز کو ہمدم اور ہمدرد تصور کرتا ہے تو وہ ان کی شراب ہے
——
الجھنوں سے گھبرائے میکدے میں درآئے
کس قدر آساں ہے ذوق رائگاں اپنا
——
یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری شروع سے لیکر آخر تک کبھی شراب کی بوتل میں قید ہے تو کبھی ساغر کی لہروں میں غوطے مار رہی ہے
——
اس محفل کیف و مستی میں اس انجمن عرفانی میں
سب جام بکف بیٹھے ہیں ہم پی بھی گئے چھلکا بھی گئے
——
شاعر کبھی زندگی سے ہار کر رات کی تاریکیوں میں شراب کا سہارا لیتا ہے۔ تو کبھی چمکتی ہوئی سڑکوں پر میخوار ی میں مست و مدہوش نظر آتے ہیں۔
——
رات ہنس ہنس کر کہتی ہے کہ میخانے میں چل
پھر کسی شہناز لالہ رخ کے کاشانے میں چل
——
پر توے ساغر صہبا کیا تھا
رات اک حشر سابرپا کیا تھا
——
نغمہ ومے کا یہ طوفان طرب کیا کہیے
گھرمیرا بن گیا خیام کا گھر آج کی رات
——
اگر چہ شاعر پہلے ہی سے شراب خواری کے عادی تھے اور شاعری کی تمہید ہی شراب کے رنگ سے لکھتے ہیں لیکن دلی میں شاعر نے جو معاشقہ لڑایا اور اسمیں ناکامی کی وجہ سے اسرار الحق مجاز نے اب کثرت سے پینا شروع کردیا تھا اور اکثر و بیشتر اسکا ذکر بھی اپنی شاعری میں بار بار کرتے ہیں
——
دل میں سوز غم کی اک دنیا لئے جاتا ہوں میں
آہ تیرے میکدے سے بے پیے جاتا ہوں میں
——
یاد آئے گی مجھے بے طرح یاد آئے گی تو
عین وقت میکشی آنکھوں میں پھر جائے گی
——
مجاز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ترانہ لکھتے وقت بھی اپنی مے کشی کا تذکرہ کرنے سے احترازنہیں کرتے ہیں۔
——
اس بزم میں گر کر تڑپے ہیں
اس بزم میں پی کر جھومے ہیں
——
جیسا کہ میں اوپر عرض کرچکا ہوں کی اسرار الحق مجاز کی زندگی اور شاعری بادہ خواری سے لبریز نظر آتی ہے۔ انھوں نے تقریباََ اپنی تمام تر غزلوں اور نغموں میں مے کشی کا ذ کر بڑے فخر سے کیا ہے۔ کلیات مجاز کا شاید ہی کوئی ایسا صفحہ ہو جو شراب کے لعل رنگ سے نہ چھلکا ہو۔ حالانکہ احمد جمال پاشانے اسرار الحق مجاز کے جو لطیفے جمع کئے ہیں ان میں بھی بہت ساری جگہوں پر شاعر کے شرابی ہونے کے شواہد ملتے ہیں۔شراب اور شراب سے منسلک شاعر تمام تر تراکیب، استعارے اور لفظیات کا بھر پور استعمال کرتے ہیں۔ خم کدہ ، خم ، خمریات،صراحی، بوتل ، مے خانہ ، میکش، میخوار، پیمانہ ، رند، رندی ،پی گلفام، گل گل۔ بادہ کش، مے ناب، نشہ ، سبو، جام، جام رنگین خمار مینا وغیرہ جیسے الفاظ کا بر محل استعمال کرتے ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : اسرار الحق مجاز کا یومِ وفات
—–
جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں کہ اسرار الحق مجاز کی شاعری سر تاپا خمریات سے بھری پڑی نظر آتی ہے۔ شاہد ہی کوئی ایسا صفحہ، نطم یا غزل ہو جسمیں بادہ خواری کا تذکرہ نہ ہو۔ ستر سے زائد اشعار ایسے ہیں جن میں شراب چھلکتی ہے۔ کچھ اشعار تو ہم نے ملاحظہ کئے۔ باقی ماندہ اشعار جن میں شاعر نے خمریات کا تذکرہ براہ راست یا باالوسطہ کیا ہے کچھ اسطرح سے ہیں۔
——
ہجر میں کیف اضطراب نہ پوچھ
خون دل شراب ہونا تھا
——
آپ کی مخمور آنکھوں کی قسم
میری میخواری ابھی تک راز ہے
——
ابھی رہنے دے کچھ دن لطف نغمہ مستی صہبا
ابھی یہ ساز رہنے دے ابھی یہ جام رہنے دے
——
اے مطرب بیباک کوئی اور بھی نغمہ
اے ساقی فیاض شراب اور زیادہ
——
ہائے وہ وقت کہ جب پئے مد ہوشی تھی
ہائے یہ وقت کہ اب پی کے بھی مخمور نہیں
——
ہر نرگس جمیل نے مخمور کردیا
پی کے اٹھے شراب ہر اک بوستان سے ہم
——
ساقی گلفام باصد اہتمام آہی گیا
نغمہ بہ لب، خم بہ سر، بادہ بہ جام آہی گیا
——
سب ہی ہیں میکدہ ہر میں خرد والے
کوئی خراب نہیں، کوئی خراب نہیں
——
کس کی آنکھوں میں یہ غلطاں ہے جوانی کی شراب
کھول دل آہ یہ کس نے مئی گلگلوں کی سبیل
——
عالم یاس میں کیا چیز ہے اک ساغر مے
دشت ظلمات میں جس طرح خضر کی قندیل
——
و ہ جوانی کہ تھی حریف طرب
آج برباد جام و صہبا ہے
——
تقاضے کیوں نہ کروں پیہم نہ ساقی
کسے یاں فکربیش و کم نہیں ہے
مجاز اک بادہ کش تو ہے یقیناََ
جو ہم سنتے تھے وہ عالم نہیں ہے
——
یہ جوانی ابھی مائل پیکار نہیں
یہ جوانی تو ہے ر سوائے مے جام ابھی
واعظ و شیخ نے سر جوڑ کے بدنام کیا
ورنہ بدنام نہ ہوتی مے گلفام ابھی
——
بن گئی رسم بادہ خواری بھی
یہ نماز اب قضا بھی ہوتی ہے
——
کیوں مجاز آپ نے ساغر توڑا
آج یہ شہر میں چرچا کیا تھا
——
مے کے آگے غموں کا کوہ گراں
ایک پل میں دھواں نہ ہوجائے
——
درد کی دولت بیدار عطا ہو ساقی
ہم بہی خواہ سبھی کے ہیں بھلا ہو ساقی
آندھیاں اٹھی ہیں سنساں ہے مے خانہ شوق
اب تو ایک سجدہ معصوم دوا ہو ساقی
——
صراحیاں نو بہ نو ہیں اب بھی، جام یہاں نو بہ نو ہیں اب بھی
مگر ہو پہلو تہی کی سوگند اب بھی نزدیک آرہے ہیں
——
میں کہ برباد نگاران دل آراہی سہی
میں کہ رسوائے مے و ساغر و میناہی سہی
——
مجھے ساغر دوبارا مل گیا ہے
تلاطم میں کنارا مل گیا ہے
——
یہ اسودی سے جسم پہ سپیدہ غلاف کیوں
کسی خراب میکدہ کی ہر خطا معاف کیوں
——
ادائے ناز غرق کیف صہبا
سیہ مثرگاں شراب آلودہ نشتر
——
موجزن موئے شفق ہے اسطرح زیر سحاب
جسطرح رنگین شیشوں میں چھلکتی ہے شراب
——
کیف صہبائے طرب میں غرق میخانہ ہے آج
ہر شجر ساقی مے ہر پھول پئمانہ ہے آج
——
اہل محفل کی مشکل ہے اب تاب نشاط
آج پیمانوں سے چھلکے گی مے ناب نشاط
——
نشہ صہبا میں کیا لذت ہے میخواروں سے پوچھ
چارہ سازی میں مزا کیا ہے بیماروں سے پوچھ
——
چھوڑ کر آیا ہوں میں کس مشکل سے جام و سبو!
آہ کس دل سے کیا ہے میں نے خون آرزو
——
گر پڑیں گے خوف سے ایوان عشرت کے ستوں
خون بن جائے گی شیشوں میں شراب لالہ گوں
——
چھلکے تری آنکھوں سے شراب اور زیادہ
مہکیں تیرے عارض کے گلاب اور زیادہ
——
شراب محبت کا اک جام رنگین
سبو زار فطرت کا اک جام رنگین
——
محفل ساقی سلامت! بزم انجم برقرار
ناز نینان حرم پر رحمت پروردگار
——
شراب کھینچی ہے سب نے غریب کے خون سے
تو اب امیر کے خون سے شراب پیدا کر
——
مجھے پینے دے پینے دے کہ تیرے جام لعلیں میں
ابھی کچھ اور ہے، کچھ اور ہے، کچھ اور ہے ساقی
——
رند بے کیف کو تھی بادہ و ساغر کی تلاش
ناظر منظر فطرت کو تھی منظر کی تلاش
——
اپنے میخانے کا اک میکش بے حال ہے یہ
ہاں وہی مرد جواں بخت و جواں سال ہے یہ
——
ساقی و رند ترے ہیں، مے گلفام تری
اٹھ کے آسودہ ہے پھر حسرت ناکام تیری
——
دیکھ بدلا نظر آتا ہے گلستاں کا سماں
ساغر و ساز نہ لے، جنگ کے نعرے ہیں یہاں
——
شراب و شبستان کا مارا ہوں لیکن
وہ غرق شبستان نہیں میں
——
موجزن ہے مے عشرت مرے پیمانوں میں
کیوں نہ چاہوں کہ ہر اک ہاتھ میں پیمانہ ہو
یاس و محرومی و مجبوری اک افسانہ ہو
عام فیض اب مے و ساقی و مے خانہ ہو
——
رند ہوں اور جگر گوشئہ رنداں ہوں میں
زلف کی چھاوں میں عارض کی تب و تاب لئے
لب پہ افسوں لئے آنکھوں میں مئے ناب لئے
نشہ ناز جوانی میں شرابورادا
جسم ذوق گہر و اطلس و کمخواب لئے
آج بھی زندگی مری غرق شراب تندوتیز
آج بھی ہاتھ میں میرے جام شراب ارغواں
مطرب بھی ہے شراب بھی ابر بہار بھی
شیراز بن گیا ہے شبستان لکھنؤ
الہ آباد میں ہر سو ہیں چرچے
کہ دلی کا شرابی آگیا ہے
نگاہوں میں خمار بادہ لیکر
نگاہوں کا شرابی آگیا ہے
لرزش میں شراب و شعر کا طوفان ہے
جنبش مژگان میں افسوں غزل خوانی ہے آج
شوخ آنکھیں بادہ گلگلوں کے پیمانے لئے
گیسوئے شب رنگ پیچ و خم میں افسانے لئے
جام ذریں کی کھنک سی قلقل مینا کے ساتھ
قدسیوں کی لے سرودبربط زہرا کے ساتھ
——
ساگر و ساز دور ہی رکھئیے
ورنہ یوں بھی بہار گزری ہے
——
قیامت ہے قیامت سی قیامت
تیرے میکش سنبھلتے جارہے ہیں
——
جب شجر محوخواب ہوتے ہیں
باوم و درمحو خواب ہوتے ہیں
——
ایسا محسوس ہوتا ہے مجھکو
جیسے میں نے شراب پی لی ہو
——
بلا شبہ اسرار الحق مجاز کی زندگی اور شاعری دونوں خمریات سے پر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مجاز اس کثرت بھری شراب نوشی کی وجہ سے زندگی میں تین بار نروس بریک ڈاون کا شکار ہوگئے اور یہ نوجوان شاعر ۵ دسمبر ۱۹۵۵ء کو صرف ۴۰ سال کی عمر میں دار فانی سے کوچ کرگئے اور بقول جوش ملیح آبادی :
یہ کوئی مجھ سے پوچھے کہ مجاز کیا تھا اور کیا ہوسکتا تھا، اگر وہ بڑھاپے کی عمر تک آتا تو اپنے عہد کا سب سے بڑا شاعر ہوتا ، مگر افسوس کہ پینا اسکو کھا گیا”
——
ہم میکدے کی راہ سے ہوکر گزرے
ورنہ سفر حیات کا بے حد طویل تھا
——
کتابیات:
——
۱۔کلیات مجاز
۲۔مجاز اور اسکی شاعری
۳۔نئے ادب کے معمار
۴۔یادوں کی برات
——
منتخب کلام
——
ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
——
دفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو
اور تم چاہو تو افسانہ بنا سکتا ہوں میں
——
کیا کیا ہوا ہے ہم سے جنوں میں نہ پوچھئے
الجھے کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے ہم
——
یہ آنا کوئی آنا ہے کہ بس رسماً چلے آئے
یہ ملنا خاک ملنا ہے کہ دل سے دل نہیں ملتا
——
ہائے وہ وقت کہ جب بے پیے مدہوشی تھی
ہائے یہ وقت کہ اب پی کے بھی مخمور نہیں
——
یا تو کسی کو جرأت دیدار ہی نہ ہو
یا پھر مری نگاہ سے دیکھا کرے کوئی
——
وقت کی سعیٔ مسلسل کارگر ہوتی گئی
زندگی لحظہ بہ لحظہ مختصر ہوتی گئی
——
آوارہ
——
شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارہ پھروں
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں
غیر کی بستی ہے کب تلک دربدر مارا پھروں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی
رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی
میرے سینے پر مگر چلتی ہوئی شمشیر سی
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
یہ رُوپہلی چھاؤں، یہ آکاش پر تاروں کا جال
جیسے صُوفی کا تصوّر، جیسے عاشق کا خیال
آہ! لیکن کون جانے، کون سمجھے جی کا حال
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
پھر وہ ٹُوٹا اِک ستارا، پھر وہ چُھوٹی پُھلجھڑی
جانے کس کی گود میں آئے یہ موتی کی لڑی
ہُوک سی سینے میں اُٹھی چوٹ سی دل پر پڑی
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
رات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ مے خانے میں چل
پھر کسی شہنازِ لالہ رُخ کے کاشانے میں چل
یہ نہیں ممکِن تو پھر اے دوست ویرانے میں چل
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
ہر طرف بکھری ہوئی، رنگینیاں، رعنائیاں
ہر قدم پر عشرتیں لیتی ہوئی انگڑائیاں
بڑھ رہی ہیں گود پھیلائے ہوئے رُسوائیاں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
راستے میں رُک کے دَم لے لوں، میری عادت نہیں
لوٹ کر واپس چلا جاؤں، میری فطرت نہیں
اور کوئی ہمنوا مل جائے، یہ قسمت نہیں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
مُنتظر ہے ایک طُوفانِ بَلا، میرے لئے
اب بھی جانے کتنے دروازے ہیں وَا میرے لئے
پر مصیبت ہے، مرا عہدِ وفا میرے لئے
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
جی میں آتا ہے کہ اب عہدِ وفا بھی توڑ دوں
اُن کو پا سکتا ہوں یہ آسرا بھی چھوڑ دوں
ہاں مناسب ہے یہ زنجیرِ ہوا بھی توڑ دوں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
اِک محل کی آڑ سے نکلا وہ پِیلا ماہتاب
جیسے مُلّا کا عمامہ، جیسے بنئے کی کتاب
جیسے مُفلس کی جوانی، جیسے بیوہ کا شباب
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
دل میں اِک شعلہ بھڑک اُٹھا ہے، آخر کیا کروں
میرا پیمانہ چھلک اُٹھا ہے، آخر کیا کروں
زخم سینے کا مہک اُٹھا ہے، آخر کیا کروں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
مُفلسی اور یہ مظاہر ہیں نظر کے سامنے
سینکڑوں چنگیز و نادر ہیں نظر کے سامنے
سینکڑوں سُلطان و جابر ہیں نظر کے سامنے
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
لے کے ہر چنگیز کے ہاتھوں سے خنجر توڑ دوں
تاج پر اُس کے دَمکتا ہے جو پتھر توڑ دوں
کوئی توڑے یا نہ توڑے، میں ہی بڑھ کر توڑ دوں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
بڑھ کے اِس اِندر سبھا کا ساز و ساماں پُھونک دوں
اِس کا گُلشن پُھونک دوں، اُس کا شبستاں پُھونک دوں
تختِ سُلطاں کیا میں سارا قصرِ سُلطاں پُھونک دوں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
جی میں آتا ہے، یہ مُردہ چاند تارے نوچ لوں
اِس کنارے نوچ لوں اور اُس کنارے نوچ لوں
ایک دو کا ذکر کیا، سارے کے سارے نوچ لوں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
——
یہ بھی پڑھیں : نہ ہے اِدّعائے سخن وری، نہ ہے مجھ کو نام کی آرزو
——
حُسن پھر فِتنہ گر ہے کیا کہیے
دِل کی جانِب نظر ہے کیا کہیے
پھر وہی رہگُزر ہے کیا کہیے
زندگی راہ پر ہے کیا کہیے
حُسن خود پردہ وَر ہے کیا کہیے
یہ ہماری نظر ہے کیا کہیے
آہ تو بے اثر تھی برسوں سے !
نغمہ بھی بے اثر ہے کیا کہیے
حُسن ہے اب نہ حُسن کے جلوے
اب نظر ہی نظر ہے کیا کہیے
آج بھی ہے مجاز خاک نشِیں
اور نظر عرش پر ہے کیا کہیے
——
بربادِ تمنا پہ عتاب اور زیادہ
ہاں! میری محبت کا جواب اور زیادہ
روئیں نہ ابھی اہلِ نظر حال پہ میرے
ہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ
آوارہ و مجنوں ہی پہ موقوف نہیں کچھ
ملنے ہیں ابھی مجھ کو خطاب اور زیادہ
اٹھیں گے ابھی اور بھی طوفاں مرے دل سے
دیکھوں گا ابھی عشق کے خواب اور زیادہ
ٹپکے گا لہو اور مرے دیدۂ تر سے
دھڑکے گا دلِ خانہ خراب اور زیادہ
اے مطربِ بے باک کوئی اور بھی نغمہ
اے ساقیِ فیاض شراب اور زیادہ
——
تسکینِ دلِ محزوں نہ ہوئی، وہ سعئ کرم فرما بھی گئے
اس سعئ کرم کو کیا کہیے، بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئے
ہم عرضِ وفا بھی کر نہ سکے، کچھ کہہ نہ سکے کچھ سن نہ سکے
یاں ہم نے زباں ہی کھولی تھی، واں آنکھ جھکی شرما بھی گئے
آشفتگیِ وحشت کی قسم، حیرت کی قسم، حسرت کی قسم
اب آپ کہیں کچھ یا نہ کہیں، ہم رازِ تبسّم پا بھی گئے
رُودادِ غمِ الفت اُن سے، ہم کیا کہتے، کیوں کر کہتے
اِک حرف نہ نکلا ہونٹوں سے اور آنکھ میں آنسو آ بھی گئے
اربابِ جنوں پر فرقت میں، اب کیا کہیے، کیا کیا گزری
آئے تھے سوادِ الفت میں، کچھ کھو بھی گئے کچھ پا بھی گئے
یہ رنگِ بہارِ عالم ہے، کیوں فکر ہے تجھ کو اے ساقی
محفل تو تری سونی نہ ہوئی، کچھ اُٹھ بھی گئے، کچھ آ بھی گئے
اِس محفلِ کیف و مستی میں، اِس انجمنِ عرفانی میں
سب جام بکف بیٹھے ہی رہے، ہم پی بھی گئے چھلکا بھی گئے
——
حجابِ فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا
خود اپنے حُسن کو پردہ بنا لیتی تو اچھا تھا
تری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہے
تو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھا
تری چینِ جبیں خود اک سزا قانونِ فطرت میں
اسی شمشیر سے کارِ سزا لیتی تو اچھا تھا
یہ تیرا زرد رخ، یہ خشک لب، یہ وہم، یہ وحشت
تو اپنے سر سے یہ بادل ہٹا لیتی تو اچھا تھا
دلِ مجروح کو مجروح تر کرنے سے کیا حاصل؟
تو آنسو پونچھ کر اب مسکرا لیتی تو اچھا تھا
ترے زیرِ نگیں گھر ہو، محل ہو، قصر ہو، کچھ ہو
میں یہ کہتا ہوں تو ارض و سما لیتی تو اچھا تھا
اگر خلوت میں تُو نے سر اٹھایا بھی تو کیا حاصل؟
بھری محفل میں آ کر سر جھکا لیتی تو اچھا تھا
ترے ماتھے کا ٹیکا مرد کی قسمت کا تارا ہے
اگر تو سازِ بیداری اٹھا لیتی تو اچھا تھا
عیاں ہے دشمنوں کے خنجروں پر خون کے دھبے
انہیں تو رنگِ عارض سے ملا لیتی تو اچھا تھا
سنانیں کھینچ لی ہیں سر پھرے باغی جوانوں نے
تو سامانِ جراحت اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا
ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
——
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر ریاضؔ خیر آبادی” شاعر خمریات” کی برسی
——
کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا، اے گردشِ دوراں بھول گئے
وہ زلفِ پریشاں بھول گئے، وہ دیدہء گریاں بھول گئے
اے شوق۔ نظارہ کیا کہیے، نظروں میں کوئی صورت ہی نہیں
اے ذوقِ تصور کیا کیجئے، ہم صورتِ جاناں بھول گئے
اب گُل سے نظر ملتی ہی نہیں، اب دل کی کلی کِھلتی ہی نہیں
اے فصلِ بہاراں رخصت ہو! ہم لطفِ بہاراں بھول گئے
سب کا تو مداوا کر ڈالا، اپنا ہی مداوا کر نہ سکے
سب کے تو گریباں سی ڈالے، اپنا ہی گریباں بھول گئے
یہ اپنی وفا کا عالم ہے، اب ان کی جفا کو کہا کہیے!
اک نشترِ زہر آگیں رکھ کر نزدیکِ رگِ جاں بھول گئے
——
تحریر : محسن مقبول
لیکچرار اردو، گورنمنٹ ڈگری کالج سوگام، کپوارہ کشمیر
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ