اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف شاعر ماجد صدیقی کا یوم پیدائش ہے

ماجد صدیقی (پیدائش: جون 1، 1938ء – وفات: مارچ 19، 2015ء)
——
ماجد صدیقی قلمی نام ماجد صدیقی اور پیدائشی نام عاشق حسین سیال۔ اردو ۔ پنجابی اور انگریزی کے ممتاز شاعر جن کا شمار منفرد لب و لہجے کے جدیدیت پسند اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ان کی شناخت بطور مترجم بھی ہے۔ صحافت سے بھی وابستگی رہی۔
وہ یکم جون 1938ء کو ضلع چکوال کے گاؤں نور پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد خان سیال اور والدہ کا نام اللہ رکھی تھا جو خود بھی شاعرہ تھیں۔ ابتدائی تعلیم علاقائی سکولوں میں پائی اور انٹرمیڈیٹ گورنمنٹ کالج چکوال سے کیا۔ ماجد صدیقی نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے پہلے بی اے اور پھر ایم اے اردو کی ڈگری 1962ء میں حاصل کی۔ ضلع چکوال کے دیہی علاقوں ڈھڈیال، دھرابی اور کریالہ میں تدریسی فرائض ادا کرنے کے بعد اکتوبر 1964ء میں گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں بطور لیکچرار ان کا تقرر ہو گیا۔ ستمبر 1966ء میں ان کا تبادلہ اٹک کالج (اس وقت کیمبل پور کالج) میں اور دو سال کے بعد تلہ گنگ میں ہو گیا۔ ستمبر 1973ء میں ان کی تقرری اصغر مال کالج راولپنڈی میں ہوئی جہاں وہ بائیس سال تک شعبۂِ اردو میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے اور 1995ء میں ریٹائر ہوئے۔
ماجد صدیقی ایک زود گو شاعر تھے انہوں نے اردو، پنجابی اور انگریزی میں نظم، غزل اور نثر کے 49 مجموعے شائع کیے۔ علاوہ ازیں ان کے 13 مجموعے شائع ہوئے جن میں انہوں نے دوسرے شعرا کا کلام اردو، پنجابی اور انگریزی میں ترجمہ کیا۔ ماجد صدیقی کی شاعری کو کسی خاص ادبی تحریک سے وابستہ نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ وہ ترقی پسندانہ رجحانات رکھتے تھے مگر وہ اپنی طرز کے تخلیق کار رہے، ان کا ادبی حلقوں میں آنا جانا نہیں تھا اور ان کا حلقۂِ احباب تقریباً تمام عمر بہت محدود رہا۔ ان کے قریبی دوستوں میں ساجد علوی، اختر امام رضوی، عابد جعفری، خاقان خاور، آفتاب اقبال شمیم، سید عارف اور جمیل آذر شامل تھے، اپنے دوستوں میں وہ خاقان خاور اور اختر امام رضوی کو بہت عزیز گردانتے تھے۔ ماجد صدیقی کے فرزند یاور ماجد بھی ادب کی دنیا سے وابستہ ہیں اور نظم اور غزل کے ساتھ ساتھ بچوں کی شاعری کے حوالے سے اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری حقیقت سے قریب تر رہی اور انہوں نے اپنے آپ کو اردو ادب کے روایتی موضوعات اور طرزِ اظہار سے شعوری طور پر دور رکھا۔
——
یہ بھی پڑھیں : پروفیسر شفقت رضوی کا یوم پیدائش
——
1978ء میں انہوں نے پنجابی میں نثری نظموں کا ایک مجموعہ ’’گُنگے دیاں رمزاں‘‘ کے نام سے شائع کیا جو پنجابی میں نثری نظم کا سب سے پہلا مجموعہ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 80 کی دہائی میں اردو زبان میں پنجابی کی طرز پر بولیوں کی صنف بھی متعارف کروائی
——
اعزازات
——
پاکستان رائٹرز گلڈ نے پنجابی شاعری کی کتاب ’’میں کنّے پانی وچ آں‘‘ پر بہترین کتاب کا ایوارڈ دیا۔ اس کے علاوہ ان کو نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن، پاکستان کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔
——
وفات
——
لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب سے چار دن پہلے وہ بعمر 77 سال، 19 مارچ 2015ء کو حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انہیں بعد از نماز جمعہ ریس کورس قبرستان، راولپنڈی میں سپرد خاک کیا گیا۔
——
تحقیقی مقالات
——
این یو ایم ایل (نمل) یونیورسٹی اسلام آباد کی طالبہ زوبیہ خان نے ایم اے اردو کے لیے ان کے دو مجموعوں ’’آغاز ‘‘ اور ’’آنگن آنگن رات ‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھا، جب کہ شازیہ خان نے علامہ اقبال یونیورسٹی میں ان کی غزل پر ایم فل کے پروگرام کے تحت مقالہ لکھا۔ مسعود عباسی تیسرے طالبِ علم ہیں جنہوں نے بہاولپور یونیورسٹی سے ایم فل کرتے ہوئے ان کی اردو نظم پر مقالہ تحریر کیا۔ اس کے علاوہ لاہور کالج برائے خواتین سے ہادیہ اسلم نے ان کی پنجابی شاعری پر ماجد صدیقی دی پنجابی شاعری دا تحقیقی تے تنقیدی ویروا کے عنوان سے مقالہ لکھا۔
——
فہرست کتب
——
اردو غزل
——
آغاز۔ 1971ء
ہوا کا تخت۔ 1978ء
تمازتیں۔ 1978ء
سُخناب۔ 1984ء
غزل سرا۔ 1987ء
آنگن آنگن رات۔ 1988ء
مکر کا جال اور شہر۔ 2000ء
سُرخ لبوں کی آگ۔ 2002ء
اکھیاں بِیچ الاؤ۔ 2002ء
دِل دِل کرب کمان۔ 2002ء
شہر پناہ۔ 2002ء
ٹوٹتے خمار کے دن۔ 2015ء
چاند رات۔ 2015ء
——
اردو نثر
——
جب ہم نے سفرآغازکیا (صورت احوال آنکہ)۔ خود نوشت۔ 1981ء
رُونمائیاں۔ خاکے۔ 2003ء
پُرسانِ حال۔ اخباری کالم ۔
——
اردو نظم
——
شادبادمنزلِ مراد۔ قومی نظمیں۔ 1975ء
سروِ نور۔ مجموعۂِ نعت۔ 1977ء
یہ انسان۔ 1978ء
دونیم تیرا بدن۔ نوحے بنام وامق منیر یاسر۔ 1981ء
عورت ایک مقدس ہستی عورت ایک کھلونا۔ 1988ء
بنتِ مشرق۔ 1989ء
خواب تتلیوں جیسے۔ 1989ء
دیوارِ گریہ۔ کشمیروفلسطین پر نظمیں۔ 1991ء
مرقّعِ بقائے وطن۔ 1993ء
سانجھ سبھاؤ۔ 2002ء
دہرآشوب۔ 2002ء
دشتِ انتظار۔ 2002ء
ماجد نشان۔ 2007 ء
انگناں اُترا چاند۔ 2008ء
برسبیل قہقہہ۔ مزاحیہ شاعری۔ 2008ء
قطرے میں دجلہ۔ اردوبولیاں۔ 2008ء
کنگلی زرد خزاں۔ ہائیکوز۔ 2008ء
بچوں کی شاعری
منّے تُو سچ بولا کر۔ بچوں کی نظمیں۔ 1989ء
منظوم لوری قاعدہ۔ 1996 ء
منظوم بچہ کہانیاں۔ بچوں کی نظمیں۔ 2003ء
——
پنجابی نظم
——
سوُنہاں لیندی اکھ۔ 1964ء
وتھاں ناپدے ہتھ۔ 1963ء
رتینجناں۔ 1978ء
میں کنّے پانی وچ آں۔ 1978ء
گنگے دیاں رمزاں (پنجابی زبان میں نثری نظموں کا پہلا مجموعہ)۔ 1978ء
ہاسے دا سبھا۔ 1978ء
ادھ اسمان۔ 1983ء
سچ سہاگ۔ 1980ء
اچیچ۔ 1980ء
ڈھلدی شام دا رُکھ۔ 2000ء
جُھوٹے مائیاں گُڈیاں کِھڈائیاں(بال شاعری تے پہلا منظوم پنجابی قاعدہ)۔ 2000ء
——
پنجابی نثر
——
اگوں دیاں خبراں(کالم)۔ 1985ء
——
تراجم
——
کلامِ شاہ مراد۔ 1976ء
دوہڑے شاہ شرفؒ۔ 1979ء
دوسرا ورق:ترجمہ کلامِ فخرزمان۔ 1980ء
دوآتشہ (ترجمہ پنجابی کلام ِشعرائے جدید)۔ 1976ء
رات دی رات (ترجمہ کلامِ فیض)۔ 1974ء
پرتاں(ترجمہ کلامِ فراز)۔ 1979ء
ت رہیائی سدھر(ترجمہ کلامِ میر)۔ 1982ء
سُون سنگھار(ترجمہ منتخبہ کلامِ ندیم)۔ 1982ء
——
انگریزی شاعری
——
The Soul of Wit – 1986
——
انگریزی تراجم
——
THE FLAVOUR – Selected verses of Faiz Ahmad Faiz – 1986
THE JUNGLE NIGHT – Rendering of short urdu poems by Khaqan Khawar – 1989
SELECTED VERSES OF MODERN URDU POETS – 1987
OUR SWEETESTSONGS – Rendering of own selected verses – 1983
DRY LEAVES – Rendering of punjabi poems by Safi Safdar – 1984
——
صحافت
——
عمر کے آخری عشرے میں وہ ایک ادبی مجلہ بنام ’’ماہنامہ انتظار‘‘ بھی شائع کرتے رہے۔
——
پوچھتا ہے میں کتنے پانی میں ہوں از انور مسعود
——
عاشق حسین ولد محمد خان عرف ماجد صدیقی آج کل ادب کے میدان میں بڑی حیرت ناک بیٹنگ کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ۱۹۶۴ سے ۱۹۶۶ء تک اس نے پنجابی شاعری کی بڑے طمطراق کے ساتھ صرف دو رنزیں بنائی تھیں ’’وِتھاں ناپدے ہتھ‘‘ اور ’’سُونہاں لیندی اکھ‘‘ اس کے فوراً بعد اس نے اردو اور پنجابی کا ملا جلا چوکا دے مارا۔ ’’چار کتابیں‘‘ …… یہ چوکا مار کے …… ’’یہ انسان‘‘ …… کچھ ایسا Warm up ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک اور لہر میں ’’ہوا کے تخت‘‘ پر سوار ہو گیا اور ’’صورت احوال آنکہ‘‘ کی صورت میں کرنل محمد خان سٹائل میں اپنی آپ بیتی سنانے لگ پڑا۔
لوگ باگ یہ سوچ کراپنے اپنے دھیان میں مگن ہو بیٹھے کہ اب یہ اپنی آپ بیتی سنا بیٹھا ہے خاموش ہو رہے گا مگر اس بات کا علم کسی کو بھی نہیں تھا کہ اسی تاؤ میں وہ پنجابی کا چھکا بھی دے مارے گا۔ پوری چھ کتابیں بلکہ بقول ضمیر جعفری کتابوں کی والدہ ماجد …… ۸۷۹۱ء میں اس کا سکور دیکھ کر اس دعا کے ساتھ کہ رب سائیں اس کی عمر دراز کرے بڑے وثوق سے یہ پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ یہ ادبی کرکٹر حالیہ صدی کے اختتام سے پہلے پہلے اپنی سنچری مکمل کر کے رہے گا۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ چھکا مارنے کے بعد اب پوچھتا یہ ہے…… ’’میں کتنے پانی میں ہوں‘‘
ماجِد صدیقی نے جب مجھے یہ کتاب بطور تحفہ دی تو میں نے اسے ہنستے ہنستے کہا :
I shall see in how much water you are
اور میں اتنا سا اقرار کر کے اس کے قابو میں آ گیا۔
ماجد کی یہ کتاب پڑھتے پڑھتے میں ایک عجیب سی بات کے کھوج میں لگ گیا میں سوچنے یہ لگ پڑا کہ ماجد بچپن میں کھیل کون کون سے کھیلتا رہا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا کہ بچپنے کے دنوں میں اس نے وہ کھیل ضرور کھیلا ہو گا جو اس گیت سے شروع ہوتا ہے۔
——
ہرا سمندر ‘ گوپی چندر
بول میری مچھلی کتنا پانی
——
ویسے ماجِد صدیقی کی جانب سے یہ سوال ہے بڑا مشکل اس لئے کہ میں نے اس میں ایک عجیب عادت دیکھتی ہے وہ بھول بھلیوں میں بہت ڈالتا ہے مگر پلے کچھ نہیں پڑنے دیتا۔ اپنی باتوں کو… گونگے دیاں رمزاں… کہتا ہے… آنسو بھی روکے رکھتا ہے اور ہنسی بھی ہونٹوں سے اترنے نہیں دیتا آدمی اندر کی بات سوچتا ہی رہ جاتا ہے یہیں سے مجھے یہ شک ہوتا ہے کہ وہ آنکھ مچولی جیسا کھیل بھی بہت زیادہ کھیلتا رہا ہے شاید اسی وجہ سے چھپ چھپ جانے کا رسیا ہو چلا ہے یہ بات میں اپنی جانب سے نہیں کہہ رہا ہوں یہ بات اسی سے پوچھئے؏
——
پیڑ نوں منیے پیڑ نہ اکا منکر بنیے دُکھاں دے
ماجد ہے ایہو اِک رستہ سُکھ دے گھر نوں جاون دا
——
اسی سلسلے میں اور سنیئے؏
——
دُکھ وی میرے سُکھ وی میرے رونواں بھاویں ہساں
لکھ سیئاں دی اکو گل اے دل دا بھید نہ دساں
——
عادت کی بات اور ہے ویسے اسے کپاس کے پھولوں کی طرح کھلنے کی بے حد امنگ رہتی ہے؏
——
کدے تے شاید سوچاں دی ایہہ وڈکی پِچّھا چھڈے
الہڑ کڑیاں وانگر شاید کدے تے کُھل کے ہساں
——
ماجد کے اس شرمیلے پن سے مجھے یہ خیال آتا ہے کہ وہ جو پوچھتا ہے میں کتنے پانی میں ہوں کہیں کوئی اور بات تو نہیں کہیں وہ آگ ہی کو تو پانی نہیں کہہ رہا ہے لیجئے پکڑا گیا؏
——
قصے نئیں ایہہ چھیڑن جوگے گلاں نئیں ایہہ کہن دیاں
آپوں جگ وچ کھنڈسن ساڈیاں گلاں اگ اچ ڈیہن دیاں
——
اور اندر کی بات بھی یہی ہے وہ تو اپنے جلتے زخموں کو بجھانے کے لئے پانی میں اترا دکھائی دیتا ہے۔
میں جب ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا تو ہمارے سائنس ماسٹر جی نے بتایا کہ مادہ ہمیشہ تین حالتوں میں دیکھا جا سکتا ہے ٹھوس مائع یا گیس۔ اور ان تینوں کی مکمل مثال انہوں نے وہ دی جو کبھی بھولنے والی نہیں ہے انہوں نے کہا آپ لوگوں نے حقہ دیکھا ہے حقہ بجائے خود ٹھوس ہے اس میں پڑا ہوا پانی مائع اور اس کی نَے سے نکلتا ہوا دھواں گیس ہے یہ حقہ بھی عجیب چیز ہے آگ ہی آگ ، پانی ہی پانی، دھواں ہی دھواں۔
——
یہ بھی پڑھیں : شبنم شکیل کا یومِ پیدائش
——
ماجد کی شاعری میں یہ تینوں چیزیں تھوک کے حساب سے پائیجاتی ہیںآہیں بھی آنسو بھی اور وہ جلن بھی جو آس پاس کے مناظر اسے بخشتے ہیں۔ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کے بادل رکے کھڑے ہیں سانسوں میں دھوئیں کی آلائش اور دل کی جھولی میں کسی شہاب کے جلتے دہکتے ٹکڑے وہ اپنی ایک نظم شاعر میں کہتا ہے۔
——
ایہو نئیں
لکھاں نیں کڑھانے میری سوچ دے
نال جیہڑے کالکاں دے متھا میرا پوچدے
اگاں مینوں لاوندے
تے نت مینوں ساڑ دے
سوچ دیاں سولیاں تے نت مینوں چاہڑ دے
——
اسی آگ کا کھوج لگاتے لگاتے مجھ پر ایک اور انکشاف ہوا اور وہ یہ کہ ماجد کسی زمانے میں پتنگ بھی اڑاتا رہا ہے اس نے کسی سے پیچا لڑایا اور اس کی پتنگ آدھے آسمان تک پہنچ کر اسکے پیروں میں آ پڑی اور پھر تنہائی کے گرم ہیولوں میں وہ اسی بسنت بہار کو یاد کرتا رہ گیا۔ جس طرح کوئی ایک ہی آنسو میں دل کا سارا حال کہہ جاتا ہے ماجد نے بالکل اسی طرح ایک ہی مصرعے میں اس پوری ٹریجڈی کو مصور کر دیا ہے اور تصویر بھی کچے دھاگے ہی سے بنائی ہے۔
——
پیار دی دیوی ستی سوں گئی چرخے رہ گئی تند
——
اور اس کے بعد ماجد نے وہ بسنتی حاشیے والی تصویر مینٹل پیس سے اتار لی اور اس کی جگہ اپنی تصویر سجا دی اور اسی دُکھی تصویر کی انلارج مینٹ Enlargement سے اسکے اس ایک درد کے ساتھ اور بھی کئی درد جاگ اُٹھے اور پھر اس نے دل کا دروازہ کھول کرساری دنیا کے غموں سے کہا ’’آ جائیے یہاں داخلہ فری ہے ‘‘ اور پھر ماجد کی ذات کی اکائی بڑے دردناک نالوں کی صورت میں پھیلتی چلی گئی۔
’‘’یہ قسمت کا چکر بھی کیا ہے…… جو سوتیلی ماؤں کی طرح کسی کے لئے تو گھی میں گندھی ہوئی روٹیاں ڈھانپ کر رکھتی ہے اور کسی کسی کو توے کی کھرچن پر ہی ٹرخا دیتی ہے۔‘‘
’’لمبی بانہوں والے دودھ پر سے بالائیاں اتار لے جاتے ہیں مگر کوتاہ دست لسی تک کو ترستے رہ جاتے ہیں۔‘‘
’’اگر آشاؤں کو پورا نہیں ہونا ہوتا تو وہ پیدا ہی کیوں ہوتی ہیں۔‘‘
’’آدمی پر وہ کچھ کیوں بیت جاتی ہے جسے وہ اپنی زبان تک پہ نہیں لا سکتا۔‘‘
——
لمی سڑک تے آل دولے بھرے بھراتے رکھ
بس دے اندر اکرے ہوئے کئی قسماں دے مکھ
بس دے شیشے اندر لشکے دوں اکھیاں دا سکھ
بس دے ٹکٹ تے لکھیا ہو یا مونہوں گنگا دکھ
——
ماجد کی شاعری کا ایک اور بڑا موضوع وہ ملازمت پیشہ لوگ ہیں جن بے چاروں نے محکمہ تعلیم کا دامن تھام رکھا ہے اور جنہیں جابجا قوم کا معمار کہا جاتا ہے اور جن کے پارچات کی مرمت کرتے ہوئے رفوگر اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ وہ بخیہ کہاں لگائے اور ٹکڑا ٹاکی کہاں لگائے۔ جن سے چاند کی تاریخ پوچھی جائے تو جواب یہی ملتی ہے کہ چاند کی رات چودھویں اور فاقوں کی رات پندرھویں ہے۔
ماجد صدیقی نے ہم ایسے کوتاہ دستوں کی کوتاہ نصیبوں کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کرب کے اس پودے سے اس نظم کی شاخ بھی پھوٹ پڑی ہے جس میں وہ منڈیر پر بیٹھے کوے کی آواز سن کر سہم جاتا ہے اور یہ سوچنے لگ پڑتا ہے۔
اسی طرح کی سوچوں کی تان ماجد نے خاص طور پر اس نظم سے اٹھائی ہے جس کا عنوان ہے ’’رکھاں دے تھلے‘‘ پروفیسر ماجد صدیقی کی اس نظم سے پروفیسر مرہن سنگھ کی نظم ’’امبی دا بوٹا‘‘ یاد آنے لگتی ہے اور جس چیز کے حوالے سے کوئی اچھی چیز یاد آئے اسکے اچھا ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے اس نظم میں ماجد نے اسی مضمون کو بڑے خلوص سے پالا پوسا ہے ۔ مراد یہ کہ ’’جب زندگی کی چلچلاتی دھوپ امید کے چشموں کو چوستے چوستے ریت بنا دے اور آدمی کا کوئی بس نہ چلے تو وہ ماسوا اس کے کیا کر سکتا ہے کہ وہ خود ہی اپنا دل جلائے اس سے حرارت حاصل کرے۔ اور سانسوں کی آسودگی کی خاطر اپنے زخموں سے اپنی نظریں ہٹا لے۔ کالج کے ایک افسر کے پلے بندھی ہوئی سماجی مسابقت کی رسوائیوں سے دو چار ایک خاتون کی طویل سوچ کا مقطع ملاحظہ ہو۔
——
دُھر سوچ نکمی نوں
کس ویہنے وَیہہ گئی اے
میں کڑی ندانی نوں
ایہہ کیہہ کجھ کہہ گئی اے
بیتیاں ہوئاں رُتاں دا
رونا وی کیہ رونا
پیٹھی ہوئی چکی دا
جھونا وی کیہ جھونا
انی وچ رڑ کے دا
چھونا وی کیہ چھونا
میں رُڑھ پَڑھ جانی نوں۔ خورے کیہ ہویا اے
تک مڑ ھکا متھے توں۔ کھاڈی تک چویا اے
جُگ جیوے سوہنا اوہ
جس ٹور لیا ندا اے
اگ لگے جیوڑے نوں
کیہ او نسیاں پاندا اے
دُھر سوچ نکمی نوںکس وَیہنے ویہہ گئی اے
میں کُڑی ندانی نوں
ایہہ کیہ کجھ کہہ گئی اے
——
زمانہ جیسے جیسے اپنے کیلنڈر کے ورق الٹتا گیا ماجد کے دکھ درد اسی قدر تہہ دار ہوتے گئے خاص طور پر مادرِ وطن کی‘ دیہاتی معاشرت کی دیواروں میں جو جو دراڑیں پڑی ہیں ماجد سے وہ دراڑیں ایک آنکھ بھی دیکھی نہیں جاتیں ایک ہی خاندان میں یا تو لڑکے زیادہ پڑھ گئے ہیں یا پھر لڑکیاں اور ان یک طرفہ ڈگریوں نے دلوں کے درمیان جو فاصلے بڑھا دئیے ہیں ماجد ان ہی پر کڑھتا رہتا ہے۔ اس نے کہانی کے انداز میں جو بہت ساری نظمیں لکھی ہیں ان کا حقیقی اور بڑا موضوع یہی ہے کہ کسی بھی سطح پر انسانوں کے باہمی تعلقات کی بنیاد اخلاقی نہیں رہی۔ تجارتی بن گئی ہے اور اس طرح کے سردمہری اور بے قدری کے موسموں میں آدمی کی شخصیت کس قدر سکڑنے لگی ہے اس کا احوال بھی ماجد ہی سے پوچھئے۔
——
کل دے ساہ اج گروی رکھ کے
پچھلے بھار چکا واں
اتوں تن تے پوچے پھیراں
وچوں کُھر دا جاوں
اکیہڑے کم دا
کس دے کم دا
میں کُب نکلی کچی کندھ دا
بے تھانواں پرچھا نواں
——
مشینی اور مصنوعی معاشرے سے ماجد بے حد بیزار دکھائی دیتا ہے وہ ٹکُر ٹُکر دیکھ رہا ہے زمانے کو کیا ہو گیا ہے مائیں روتے بسورتے بچوں کے منہ میں چُوسنیاں ڈال کر میک اپ کرنے میں لگی ہیں۔ خلق خدا کو جانے کیا ہو گیا ہے چاہے کوئی تڑپ ہی کیوں نہ رہا ہو اگر پوچھا جائے تو یہی کہے گا All is O.K مشاعروں میں بھی ماجد اس خوش گمانی سے شرکت کرتا ہے کہ
——
یہ بھی پڑھیں : آغا شاعر قزلباش کا یوم وفات
——
ایتکی تے پُترا کرایہ وی نئیں لبھناں
نئے فیشنوں سے بھی اس کی بن نہیں آتی تاہم خود نثری نظمیں لکھنے لگا ہے میں اس بارے میں اس لئے کچھ نہیں کہہ سکتا کہ ذاتی طور پر نثری نظم سے میرا کبھی سمجھوتہ نہیںہو سکتا۔ اس سلسلے میں اپنے تاثر کو غالب کے ایک مصرعے کی تضمین کرتے ہوئے صرف اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ؏
——
اب نہیں فکر ِ ردیف و بحرو وزن و قافیہ
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
——
میرا خیال یہ ہے کہ موسیقی کا وجود شاعری کے حق میں ایک آفاقی نصر ہے یہ ایک ایسا Shade ہے جسے ساری دنیا سمجھ لیتی ہے اور اگر یہی Shade پھیکا پڑ جائے تو شعر دوسروں کو اتنا متاثر نہیں کرتا جتنا متاثر وہ خود ہو جاتا ہے۔ بات سے بات نکل آتی ہے ابھی نثری نظم اس قدر نہیں لکھی گئی جس قدر اس پر تنقید لکھی گئی ہے۔ اوراس تنقید کا حال بھی اس حکایت جیسا ہے۔
’’کہتے ہیں کسی کے گھر میں چور گھس آیا گھر والا جاگ پڑا چور بھاگا تو گھر والا بھی اس کے پیچھے پیچھے اتنی تیزی سے دوڑا کہ اس سے آگے نکل گیا اور چور سے کہنے لگا مجھ سے شرطیں بدتا ہے جا اب چلا جا میرا مقصد یہی تھا کہ میں تجھے ہرا ڈالوں‘‘ ایسی ہی صورت اس تنقید کی ہے جو تخلیق سے بھی چار قدم آگے نکل چکی ہے۔ بہرحال اس صنفِ سخن کے بارے میں چونکہ میں جانبدارانہ خیالات نہیں رکھتا لہٰذا مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ میں ماجد صدیقی کی نثری نظموں کے بارے میں کسی رائے کا اظہار کروں ویسے بھی ماجد کے فکر و خیال کا پھیلاؤ کچھ ایسا ہے کہ اکیلے دم مجھ سے سنبھالا نہیں جا رہا۔
اس مجموعے میں ایک بڑی توجہ طلب بات یہ ہے کہ ’’میں کنے پانی وچ آں‘‘ ماجد صدیقی کی ایک چھوٹی سی نظم کا عنوان ہے اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ ماجد نے اس نظم کے عنوان کو اپنے پورے پنجابی کلام کا عنوان کیوں ٹھہرا دیا ہے مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے اس نظم میں اس نے اپنی کمٹمینٹ کا اظہار کیا ہو۔ نظم کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’آدمی کتنے پانی میں ہو سکتا ہے جب وہ جگہ جگہ ٹکریں مارتا ہے تھک جاتا ہے اور اسے کوئی بھی مقام پناہ نہیں دیتا تو خدا ہی کا ایک دروازہ اس کا سہارا بنتا ہے‘‘
یہ نظم اگر کچھ طویل ہوتی تو شاید یہ بھی پتہ چلتا کہ ماجد کن الٹی سیدھی راہوں میں کھویا رہا ہے کون کون سے دروازے کھٹکھٹاتا رہا ہے اگر وہ اپنے پانی کے درجے کو ناپ نہ لیتا تو ماجد صدیقی اپنے امراض کی تشخیص کر کے اپنے لئے کوئی فیشن ایبل دوا بھی تجویز کر سکتا تھا جس کے Effects تھوڑے اور Side effects یا After effects زیادہ ہوتے ہیں۔ مگر اسے سینے کی جلن اور آنکھوں کی چبھن کے لئے جو اکسیر نسخہ ملا ہے وہ ایکسرے کی شعاعیں نہیں غار ِحرا کی روشنی ہے۔
——
غار حرا دی
ایس دھرتی دا ہتھ دعا دا
جیہڑا اٹھیا تے فیر کدی نہ نیواں ہو یا
غار حرا دی
نور پھہاراں لے کے آئی
جیو دیاں ٹھنڈ کاں
روح دیاں ٹھاراں لے کے آئی
——
ماجد صدیقی نے اپنی طنزیہ و مزاحیہ نظموں کا انتساب میرے نام کر رکھا ہے آپ ہی کہیں میں اس باب میں کیا کہہ سکتا ہوں ویسے بھی مجھے نقاد ہونے کا ہرگز کوئی دعویٰ نہیں اسی لئے تو میں اسے ایک ایسے نقاد کے سپرد کر رہا ہوں جو سب سب بڑا نقاد ہے اور اس کا نام ہے۔ ’’زمانہ‘‘
——
منتخب کلام
——
تاب کیا کیا دے گیا ابلیس کو
اک ذرا سا حوصلہ انکار کا
——
اپنے لفظ ہی ٹھہریں پھُونک مسیحا کی
ایسا کون ہے ماجِد جو سہلائے مجھے
——
جب سے کھویا ہے وُہ مہتاب سا پیکر ماؔجد
سخت سُونے ہیں نگاہوں کے ٹھکانے میرے
——
کسے فراز ملا، کون تخت پر نہ رہا
یہ اور بات! کہ جاری تھا جو سفر، نہ رہا
——
بگولہ پوچھنے آیا ہے پھر بعد خزاں مجھ سے
مرے ذمے ابھی قرضِ گلستاں اور کیا کیا ہے
——
دیکھا ہمیں قفس میں تو پوچھی نہ خیر بھی
جھونکے مہک کے آئے اور آ کر پلٹ گئے
——
کٹی جو ڈور تو پھر حرص اوج کیا معنی
کہاں سے ڈھونڈتے پہلو کوئی سنبھلنے کا
——
یہ بھی عجیب کیفیت غم ہے اپنے آپ میں گم ہو کر
سر تا پا دل بن جاتا ہوں پہروں بیٹھا دھڑکوں میں
——
پا بہ زنجیر کرے، طوق بنے، دار بنے
حرفِ حق جب بھی کہو جان کا آزار بنے
مسکراتا ہے اُسے دیکھ کے ہر اہلِ ہوس
جب کوئی لفظ گریباں کا مرے، تار بنے
تھا نہ یاروں پہ کچھ ایسا بھی بھروسہ لیکن
اَب تو یہ لوگ سرِ بزم ہی اغیار بنے
کیا توقّع ہو بھلا لطفِ مناظر سے کہ آنکھ
کربِ آشوب سے ہی دیدۂ بیدار بنے
ہاں مرے جُرم کی کچھ اور بھی تشہیر کرو
کیا خبر، جشن مری موت کا تہوار بنے
کیا کہُوں جس کے سبب لائقِ تعزیز ہُوں مَیں
حرفِ بے نام وہی چشمۂ انوار بنے
ہم کہ محسُود ہیں اِس فکر کی ضَو سے ماجدؔ
جانے کب نورُ یہی اپنے لئے نار بنے
——
پھول کچھ لمحے تو کچھ تھے سنگ برساتے رہے
کیسے کیسے وقت آئے اور گزر جاتے رہے
تھپکیوں سے بھی رہے تھے رس اُنہی کا چوستے
مہرباں جھونکے تھے جن پتّوں کو سہلاتے رہے
تھا اُنہی کے جسم میں وقتِ سحر خوں جم گیا
جو فصیلِ شب سے ساری رات ٹکراتے رہے
خوب تھا وہ آتے جاتے موسموں کا سا ملاپ
تم ملا کرتے تو تھے گرچہ بچھڑ جاتے رہے
خاک تھی وہ لذّتِ خواب سکوں جس کے عوض
آنے والے دن بھی گروی رکھ دئیے جاتے رہے
شاخچوں کے پھول پھل پڑنے سے پہلے توڑنا
ایسی رسمیں بھی یہاں کچھ لوگ دُہراتے رہے
یاد سے ہو محو ماجدؔ کیسے اُن چہروں کا عکس
شدّتِ خواہش سے جو دل میں اُتر آتے رہے
——
پیشانی پر دل کے درد سجا لیتا ہوں
میں ایسے اظہار سے جانے کیا لیتا ہوں
اپنے کاج سنوار بھی لوں تو اِس سے کیا ہے
میں آخر کس ٹوٹے دل کی دُعا لیتا ہوں
رکھ کر عذر پرانا وہی مشقّت والا
میں بچّوں سے چُھپ کر کیا کچھ کھا لیتا ہوں
جس سے عیاں ہو میری کوئی اپنی نادانی
کس عیّاری سے وہ بات چھپا لیتا ہوں
یہ نسبت تو باعثِ رسوائی ہے ماجدؔ
شاخ سے جھڑکے موجِ صبا سے کیا لیتا ہوں
——
پاس نہ تھا جب توڑ ہی کچھ صرصر کے وار کا
ہوتا بھی کیا حوصلہ جھڑنے سے انکار کا
پھٹا پڑے ہے آنکھ سے موسم بھری بہار کا
اور تمہیں کیا چاہئے پیرایہ اظہار کا
چھَن کر جن سے آ سکا کبھی نہ ریزہ دھوپ کا
چھلنی چھلنی ہو گیا سایہ اُن اشجار کا
باقی سب اطراف میں شیروں کی اِک دھاڑ تھی
کھُلا دہانہ سامنے تھا اَن جانے غار کا
قصّہ مری شکست کا کل جس میں مطبوع تھا
گھر گھر سجا فریم میں ٹُکڑا وہ اخبار کا
دُور نہ ہو گا درد تو شبنم سے اِس آنکھ کی
اور تدارک ڈھونڈئیے ماجدؔ اِس آزار کا
——
برسے دِل پر تیر جو تیر تھے کڑی کمان کے
کرتے بھی کیا اور کہ سہہ گئے سینہ تان کے
جُڑتے ہیں کب دوستو جھڑتے پتّے شاخ سے
کیا کر لیں گے آپ بھی حال ہمارا جان کے
پھیلے دام نہ دیکھ کر آہو ہوئے اسیر جو
نکلے ہونگے دشت میں جی میں کیا کچھ ٹھان کے
لب پر ڈیرے آہ کے بکھرے تار نگاہ کے
کیسے ہوئے ملول ہیں ہم بھی دیکھو آن کے
دل سے اٹُھے درد کو ممکن تھا کب روکنا
ٹپکے آخر آنکھ سے چھالے مری زبان کے
نرم خرامی ابر سی، دریاؤں سا زور بھی
کیا کیا کچھ انداز ہیں ماجدؔ ترے بیان کے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ