اردوئے معلیٰ

منصورہ احمد ، نظم کی خوبصورت شاعرہ

منصورہ احمد(پیدائش: یکم جون 1958ء – وفات: 8 جون 2011ء)
——
جن دنوں میں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج میں شعبہ فارسی کی طالبہ تھی ، ھمارا معمول تھا کہ روزانہ انارکلی میں بانو بازار کی چاٹ کھانے جاتے ۔ کلاس میں کل چار لڑکیاں تھیں ۔ عطیہ، ذاھدہ، کوثر زیبا اور میں ۔ ۔مگر انارکلی صرف میں کوثر زیبا اور ذاہدہ ھی جایا کرتے تھے ۔ ایک دن بانو بازار سے متصل بابر مارکیٹ میں ھم نے احمد ندیم قاسمی صاحب کو دیکھا۔ ان کے ھمراہ ایک موٹی آنکھوں والی خوش شکل لڑکی بھی تھی اور وہ کپڑوں کی دکان پر شاپنگ کر رہے تھے ۔ احمد ندیم قاسمی صاحب کو دیکھ کر ھم رک گئے۔ ان کی شاعری، ان کے افسانوں سے تو ھم سکول کے زمانے سے ہی آشنا تھے۔ مگر اس وقت وہ شاپنگ میں مصروف تھے لہذا ھم نے مناسب نا سمجھا کہ انھیں روک کر بتائیں کہ ھم ان کی شاعری اور افسانوں کے مداح ھیں۔
کچھ عرصے بعد جب میں نے پولیس میں شمولیت اختیار کی تو میری ایک ھم کار فرناز ملک جو خود بھی اچھی شاعرہ تھی نے خواھش ظاھر کی کہ احمد ندیم قاسمی صاحب سے ملنے جاتے ھیں۔ ھم دونوں جی او آر میں واقع مجلس ترقی ادب کے دفتر پہنچے۔ قاسمی صاحب دفتر میں موجود نہیں تھے۔ ھم کچھ دیر ان کے دفتر میں رکے۔ اور پھر واپس چلے آئے۔ فرناز ملک بار بار ایک ہی بات کا ذکر کیے جا رھی تھی۔ کہ اتنے بڑے شاعر ادیب اور مدیر کی میز پر کتابوں کے ساتھ پیاز ٹماٹر اور چھری کیوں پڑی تھی۔ کیا قاسمی صاحب دفتر میں بیٹھ کر پیاز اور ٹماٹر کاٹتے ھیں؟
جب میری پہلی کتاب چھپی تو  میں اپنی کتاب” جب تک آنکھیں زندہ ھیں” قاسمی صاحب کو دینے گئی۔ وھاں منصورہ احمد سے بھی ملاقات ھوئی
تب پتہ چلا کہ یہ بڑی بڑی آنکھوں والی لڑکی قاسمی صاحب کی منہ بولی بیٹی ھے۔ جو خود بھی بہت اچھی نظمیں لکھتی ھے۔”۔فنون ” میں بھی قاسمی صاحب کا ھاتھ بٹاتی ھے اور  ان کے لیے کھانا بھی بناتی ھے
——
یہ بھی پڑھیں : منصورہ احمد کا یومِ پیدائش
——
ادبی دنیا میں احمد ندیم قاسمی نے دو شاعرات کو بیٹی کا درجہ دیا۔ پروین شاکر اور منصورہ احمد
منصورہ احمد ھر سال قاسمی صاحب کی سالگرہ کا اھتمام بھی کرتی اور بڑے خلوص سے مجھے مدعو کرتی۔ اس نے پبلشنگ بھی کی۔ اور بھارت میں رھنے والے اردو کے باکمال شاعر ” گلزار” کی کتاب شائع کی۔ ۔منصورہ کی اپنی نظموں کا مجموعہ ” طلوع” کے نام سے شائع ھوا۔
قاسمی صاحب کو پروین شاکر اور اپنی حقیقی بیٹی نشاط کی موت کے صدمے سے بھی گزرنا پڑا۔ غم کے ان لمحات میں منصورہ احمد ان کا سہارا بنیں۔ لیکن اس کی ھر وقت دفتر میں موجودگی اور ھر کام میں مداخلت سے احمد ندیم قاسمی صاحب کے قریبی احباب ان سے نالاں ھو گئے۔ ۔یہ اختلافات کچھ تو ڈھکے چھپے رہے اور کچھ کھل کر بھی سامنے آئے
قاسمی صاحب کی وفات کے بعد منصورہ احمد بلکل اکیلی ھو گئی۔ اس نے شادی بھی نہیں کی تھی۔ ایک روز اس کا فون آیا۔ اس کی گاڑی چوری ھو گئی ھے۔ ۔بہت پریشان تھی۔ ۔مگر کچھ دن بعد گاڑی واپس مل گئی۔ ۔منصورہ نے فنون کے چند پرچے نکالے مگر جب فنون قاسمی صاحب کے حقیقی وارثان، ناھید قاسمی اور نیر قاسمی نے لے لیا تو اس نے اپنا ادبی پرچہ ” مونتاج ” شروع کیا۔
وارث روڈ پر اس کا دفتر بنایا۔ ۔مجھے مونتاج کے پرچے ڈاک کے ذریعہ بھجوائے۔ ۔دفتر آنے کا بھی کئی بار کہا۔ مگر میں اپنی دفتری اور گھریلو ذمہ داریوں سے وقت نا نکال سکی۔ اور پھر ایک دن پتہ چلا کہ وہ دنیا سے اکیلے لڑتے لڑتے ابدی نیند سو گئی ھے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ