اردوئے معلیٰ

ناظم علی خان ہجر کا یومِ وفات

آج ممتاز شاعر ناظم علی خان ہجر ، نواب یوسف علی خاں کا یومِ وفات ہے

ناظم علی خان ہجر(پیدائش: 10 جولائی 1880ء – وفات: 20 جون 1914ء)
——
ناظم علی خان ہجر، 10 جولائی 1880ء کو رام پور میں پیدا ہوئے۔ نواب محمد سعید خاں والئ رام پور کے فرزند تھے۔ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے۔ شاعری میں داغ دہلوی سے اصلاح لی۔
منطق اور فلسفے کے ماہر تھے۔ مولانا فضل حق خیرآبادی، مرزا غالب، میر حسین تسکین مظفر علی اسیر اور دوسرے علما اور شعرا ان کے دامن دولت سے وابستہ تھے۔
ناظم علی خان ہجر 20 جون 1914ء کو رام پور میں بعارضہ سرطان انتقال کرگئے۔ صاحب دیوان تھے۔
——
ناظم علی خان ہجر از نوح ناروی ، کلامِ ہجر
——
تم اپنے بڑے بھائی نواب کاظم علی خان کے کئی سال بعد 12 شعبان المعظم سن 1298 ھ کو شاہ جہاں پور میں پیدا ہوئے ۔ تم نے فارسی اور عربی جو کچھ بھی پڑھی اپنے مکاں سے پڑھی ، اپنے شوق سے پڑھی اور خوب پڑھی ۔
تمہاری شاعری کا آغاز سن 1317 ھ میں ہوا ۔ اس وقت تمہاری عمر 19 برس تھی ۔ کچھ دنوں تمہاری شاعری علم سینہ تک ہی محدود رہی ، علم سفینہ کے معراج تک نہیں پہنچی ۔ جو کچھ کہا چھپا لیا ۔ جو اشعار لکھے اس سے کسی کو آگاہی نہیں ہونے پائی ۔
آخر کار پھول کی خوشبو کب تک پھول میں ہی رہنی تھی نکل پڑی اور پوری دنیا میں پھیل گئی ۔
——
یہ بھی پڑھیں : یوسف ناظم کا یوم پیدائش
——
منشی احسان علی خان صاحب احسان شاہ جہان پوری اپنے وقت کے ایک مشہور اور کہنہ مشق شاعر اس زمانے میں سمجھے جاتے تھے ، چنانچہ ایک غزل تم نے انہیں دکھائی لیکن اُن کی اصلاح پسند نہ آنے پر تم فصیح المک حضرت داغ دہلوی کے باقاعدہ شاگرد ہو گئے ۔
داغ دہلوی نے اصلاح میں خاص توجہ فرمائی اور بعض اشعار کی تعریف بھی کی ۔
اردو زبان کی خدمت کے خیال سے تم نے ایک رسالہ ( زبان اردو ) بھی نکالا ۔ کوئی شاعر ایسا نہ تھا جو تمہیں وقعت کی نگاہ سے دیکھتا نہ رہا ہو۔
مشاعروں میں تمہاری اور تمہاری غزل کی جو عزت ہوتی تھی اس کا اندازہ کوئی میرے دل سے پوچھے ۔
کلام کے لیے لوگ تمہاری خوشامدیں کیا کرتے تھے ۔ تم نے بھی حتی الامکان کسی کی دل شکنی نہیں کی ۔
جو غزل لکھی لاجواب لکھی ۔ جو شعر کہا دل میں اتر گیا ۔ آج تک تمہارے اکثر اشعار لوگوں کی زبان پہ چڑھے ہوئے ہیں ۔
اب تک لوگ تعریف کرتے ہیں ۔
دنیا میں جو آیا ہے وہ جائے گا ۔ جو پیدا ہوا ہے وہ ایک دن مرے گا ۔ لوگ کہتے ہیں موت کے لیے بھی موت ہے ۔
تم بوڑھے ہو کر مرتے تو اس قدر افسوس نہ ہوتا ۔ کوئی اولاد ہوتی تو لوگ اسی کو تمہارا جانشین مانتے ۔
یہ سب سہی مگر تمہارا نام رہتی دنیا تک شاعری کی دنیا میں رہے گا ۔ نہ اس کو کوئی مٹا سکتا ہے اور نہ یہ مٹ سکتا ہے ۔
20 جون 1914ء کو دفعتاََ یہ قیامت ٹوٹ پڑی ۔
جو شعر مرنے سے کچھ دیر پہلے تم نے کہا وہ دل دہلائے دیتا ہے ۔
——
اے ہجرؔ وقت ٹل نہیں سکتا ہے موت کا
لیکن یہ دیکھنا ہے کہ مٹی کہاں کی ہے
——
اللہ غفور الرحیم تمہاری مغفرت کرے اور جنت میں تمہاری روح کو جگہ دے ۔ تمہارے مرنے سے اردو شاعری کو جو نقصان پہنچا ہے اسے محسوس کرنے ہی محسوس کرتے ہیں ۔
——
یہ بھی پڑھیں : ریاض الرحمان ساغر کا یومِ پیدائش
——
منتخب کلام
——
جاتے ہیں مدینے کو یہ کہتے ہوئے دل میں
دیدار محمد کا ہے دیدار خدا کا
——
تمنا تھی کہ یوں ہوتا مرا جانا مدینے کو
وہاں جا کر یہاں آنا مجھے دشوار ہو جاتا
اُڑا کر ساتھ لے جاتی مدینے کی ہوا مجھ کو
الہٰی کاش میں اتنا نحیف و زار ہو جاتا
——
قاصد کو قتل کر کے وہاں کوئی مطمئن
ہے منتظر یہاں کوئی خط کے جواب کا
——
حشر میں ڈھونڈ رہے ہیں مرے غمخوار مجھے
اور میں ڈھونڈ رہا ہوں دلِ مضطر اپنا
——
جب دل میں کسی شوخ کا جلوا نظر آیا
اللہ کی قدرت کا تماشا نظر آیا
سب جلوہ گہِ یار میں بے ہوش پڑے ہیں
کس سے کوئے پوچھے کہ تمہیں کیا نظر آیا
——
اُس بزم کی جانب ہمیں دل لے کے چلا ہے
سنتے ہیں جہاں کوئی کسی کا نہیں ہوتا
——
دل سے کرتے ہیں گفتگو اُن کی
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
کہہ رہی ہے امیدِ وصل اے ہجرؔ
صبر تم سے ذرا نہیں ہوتا
——
تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہے
دنیا ہمارے دیدۂ حسرت نگر میں ہے
ہاں جانتے ہیں جان کا خواہاں تمہیں کو ہم
معلوم ہے کہ تیغ تمہاری کمر میں ہے
کیا رشک ہے کہ ایک کا ہے ایک مدعی
تم دل میں ہو تو درد ہمارے جگر میں ہے
گو غیر کی بغل میں سہی وہ پری جمال
میں تو یہی کہوں گا کہ میری نظر میں ہے
دونوں نے درد عشق کو تقسیم کر لیا
تھوڑا سا دل میں ہے تو ذرا سا جگر میں ہے
میں بھی ہوں آج میں کہ بر آئی مراد دل
دل بھی ہے آج دل کہ وہ مہمان گھر میں ہے
ممنون ہوں خیال کا اپنے شب فراق
جو سامنے نظر کے نہیں وہ نظر میں ہے
دلبر ہو ایک تم کہ ہماری نظر میں ہو
دل ہے ہمارا دل کہ تمہاری نظر میں ہے
کہتے ہیں جس کو دل مرے پہلو میں اب کہاں
ہے بھی تو پائمال کسی رہ گزر میں ہے
دیکھو تو دیکھتے ہیں تمہیں کس نگاہ سے
حسرت ہے جس کا نام ہماری نظر میں ہے
جس پر پڑی پسیج گیا موم ہو گیا
ڈوبی ہوئی نگاہ ہماری اثر میں ہے
جچتا نہیں نگاہ میں کوئی حسیں بھی ہجرؔ
جب سے کسی کی چاند سی صورت نظر میں ہے
——
وہ یہ کہتے ہیں زمانے کی تمنا میں ہوں
کیا کوئی اور بھی ایسا ہے کہ جیسا میں ہوں
اپنے بیمار محبت کا مداوا نہ ہوا
اور پھر اس پہ یہ دعویٰ کہ مسیحا میں ہوں
عکس سے اپنے وہ یوں کہتے ہیں آئینہ میں
آپ اچھے ہیں مگر آپ سے اچھا میں ہوں
کہتے ہیں وصل میں سینے سے لپٹ کر میرے
سچ کہو دل تمہیں پیارا ہے کہ پیارا میں ہوں
وہ ستاتا ہے الگ چرخ ستم گار الگ
سیکڑوں دشمن جاں ہیں مرے تنہا میں ہوں
بخت برگشتہ وہ ناراض زمانہ دشمن
کوئی میرا ہے نہ اے ہجرؔ کسی کا میں ہوں
——
وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گا
تو ماہتاب فلک کو حجاب آئے گا
خبر نہ تھی کہ مٹیں گے جوان ہوتے ہی
اجل کا بھیس بدل کر شباب آئے گا
پڑے گا عکس جو ساقی کی چشم میگوں کا
نظر شراب میں جام شراب آئے گا
ہزار حیف کہ سر نامہ بر کا آیا ہے
سمجھ رہے تھے کہ خط کا جواب آئے گا
کلیم ہاں دل بیتاب کو سنبھالے ہوئے
سنا ہے طور پہ وہ بے نقاب آئے گا
جو آرزو ہے ہماری وہ کہہ تو دیں لیکن
خیال یہ ہے کہ تم کو حجاب آئے گا
یہ شوخیاں تری اس کم سنی میں اے ظالم
قیامت آئے گی جس دن شباب آئے گا
کبھی یہ فکر کہ وہ یاد کیوں کریں گے ہمیں
کبھی خیال کہ خط کا جواب آئے گا
چلا ہے ہجرؔ سیہ کار بزم جاناں کو
ذلیل ہو کے یہ خانہ خراب آئے گا
——
شب فراق کچھ ایسا خیال یار رہا
کہ رات بھر دل غم دیدہ بے قرار رہا
کہے گی حشر کے دن اس کی رحمت بے حد
کہ بے گناہ سے اچھا گناہگار رہا
ترا خیال بھی کس درجہ شوخ ہے اے شوخ
کہ جتنی دیر رہا دل میں بے قرار رہا
شراب عشق فقط اک ذرا سی چکھی تھی
بڑا سرور گھٹا مدتوں خمار رہا
انہیں غرض انہیں مطلب وہ حال کیوں پوچھیں
بلا سے ان کی اگر کوئی بے قرار رہا
تمہیں کبھی نہ کبھی مر کے بھی دکھا دوں گا
جو زندگی نے وفا کی جو برقرار رہا
ادائیں دیکھ چکے آئینے میں آپ اپنی
بتائیے تو سہی دل پر اختیار رہا
شب وصال بڑے لطف سے کٹی اے ہجرؔ
تمام رات کسی کے گلے کا ہار رہا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ