اردوئے معلیٰ

Search

آج مشہور ملی نغمے دل دل پاکستان کے خالق نثار ناسک کا یوم پیدائش ہے ۔

نثار ناسک(پیدائش: 15 فروری، 1939ء- وفات: 3 جولائی، 2019ء)
——
وہ قول ہی نہیں قلم کے بھی پکے نکلے، ایک بار جب کہہ دیا کہ ’ایسی زمیں اور آسماں، ان کے سوا جانا کہاں‘ تو عمر بھر کہیں نہیں گئے، جیے تو اسی آسمان کے نیچے اور مرے تو یہی زمین اوڑھ لی۔ یہ اور بات کہ ان کو سسٹم سے کچھ گلے بھی رہے جس پر یہ تک کہہ دیا
——
’ہم کو آزادی ملی تو کچھ ایسے ناسک
جیسے کمرے سے کوئی صحن میں پنجرہ رکھ دے‘
——
نثار وہ ناسک تھے جن پر ناسکیت بھی نثار تھی۔
نثار ناسک 15 فروری 1943 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ساری زندگی قلم کاغذ کے ساتھ بندھے رہے۔ ان کی کُل متاع ایک چرمی بیگ تھا جو ہر وقت ان کی بغل میں ہوتا۔ جس میں ان کے فن پارے بھرے ہوتے، وہ ترقی پسند تھے۔
آزاد منش نثار ناسک کے قلم سے وہ وہ انمول موتی جھڑے کہ تادیر چمکتے رہیں گے تاہم ان کا قلم ہمیشہ محروم طبقات کے حق میں چلتا رہا اور کبھی طاقتوروں کی مدح سرائی کے لیے نہیں اٹھا۔ وہ آمرانہ ادوار کے زبردست ناقد تھے۔ ایسے ہی ایک دور میں انہوں نے دل کو چھو لینے والے اشعار کہے
——
فاختہ تو پاگل تھی
موسموں کی سازش میں
پھر فریب کھا بیٹھی
توپ کے دہانے میں
گھونسلہ بنا بیٹھی
——
ساٹھ کی دہائی میں جب آمریت کے خلاف احتجاج پر ایک نوجوان کو قتل کیا گیا تو اس کا نوحہ کچھ یوں لکھا
——
ماں مجھے صورت موسیٰ بہا دے نہر میں
قتل طفلاں کی منادی ہو چکی ہے شہر میں
——
سنہ 1987 میں اگست کے مہینے کا آغاز ہو چکا تھا، ضیا کا دور تھا۔ پی ٹی وی پر ایک اشتہار چلتا تھا جس میں کہا جاتا کہ پی ٹی وی کے تمام مراکز یوم آزادی کے لیے خصوصی نغمہ تیار کریں گے جو ایک قسم کا مقابلہ بھی ہو گا، کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ سٹیشنز نے نغمے تیار کیے لیکن آج کسی کو دوسرے شہروں کے نغمے یاد نہیں جبکہ دل دل پاکستان ایسا چلا کہ قومی ترانے کے قریب پہنچ گیا۔
تب سے اب تک جہاں بھی پاکستان کی بات ہوتی ہے اس کی دھن ذہن میں بجنے لگتی ہے۔ اس کی وجہ سے جنید جمشید اور شعیب منصور جیسے لیجنڈ سامنے آئے۔ اس نغمے سے جڑا چھوٹے سے چھوٹا ذرہ تک ستارہ بن گیا لیکن جانے اس کو کیا کہا جائے کہ جس ذہن سے یہ الفاظ کشید ہو کر آئے اس کو سرے سے ہی نظرانداز کر دیا گیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : ادیب اور شاعر ڈاکٹر وحید قریشی کا یوم پیدائش
——
ادبی حلقوں میں تو نثار ناسک کی پہچان تھی لیکن عوامی سطح پر جو پذیرائی ان کا حق تھی وہ انہیں نہیں ملی۔ بہت کم لوگ جانتے تھے کہ ’دل دل پاکستان‘ لکھنے والے شاعر کون تھے۔ نثار ناسک اس حد تک سادہ طبعیت کے مالک تھے کہ انہوں نے کبھی خود بھی اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی۔
معروف ادیب انوار فطرت نے ’اردو نیوز‘ کو بتایا کہ ایک بار شعیب منصور نثار ناسک سے ملے تو زبانی ایک دھن کے چند ٹکڑے سنائے اور کہا کہ اس پر ملی نغمہ بنانا چاہتا ہوں، وہیں بیٹھے بیٹھے نثار ناسک نے قلم نکالا اور چائے کا کپ خالی ہونے تک دل دل پاکستان نغمہ لکھا جا چکا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ نثار ناسک افسانہ نگار بھی تھے تاہم ان کے بیشتر افسانے دوسروں کے نام سے شائع ہوئے جو خود وہ فراخ دلی سے ساتھ بیٹھنے والوں کو دے دیا کرتے تھے۔
راولپنڈی کی گلیوں میں چلتے پھرتے زندگی گزار دینے والے نثار ناسک کبھی کسی سے اپنا تعارف تک نہیں کرواتے تھے۔ چند سال قبل وہ شدید بیمار ہوئے۔ نثار ناسک کے آخری ایام بہت کسمپرسی میں گزرے۔ وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے جبکہ کچھ صحافت بھی کی لیکن ان ’دور رس‘ میدانوں سے وابستہ ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی اپنے اصولوں سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کیا، قلندروں کی سی زندگی گزاری۔
پیرانہ سالی میں ان کی علالت کی خبریں سامنے آتی رہیں، ٹی وی چینلز نے ان پر پیکیجز بھی بنائے، سوشل میڈیا پر بھی شیئر ہوتے رہے، خوب ریٹنگ بھی ملی لیکن نہیں ملا تو وہ جو نثار ناسک کا حق تھا۔ دو ہزار سترہ میں اسلام آباد پریس کلب میں ان کے اعزاز میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جس کے مہمان خصوصی سینٹ چیئرمین رضا ربانی تھے اور ایک انعام سے بھی نوازا گیا۔ اپنے خطاب میں رضا ربانی نے کہا تھا کہ ’ہمارے مسائل کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے نثار ناسک جیسے لوگوں کو بھلا دیا ہے‘ لیکن اس تقریب کے بعد وہ پھر فہرست فراموشاں میں چلے گئے۔
پی ٹی وی کی جانب سے ان کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیا گیا۔ وہ دو کتابوں ’دل دل پاکستان، اور ’چھوٹی سمت کا مسافر‘ کے مصنف تھے۔
راولپنڈی کے علاقے ڈھوک رتہ کی تنگ و تاریک گلیوں میں 3 جولائی 2019 کو یہ ستارہ ڈوب گیا
——
دل دل پاکستان …نغماتِ وطن کا ایک عہد تمام ہوا از ابصار احمد
——
یہ 1967 کا ذکر ہے ، یومِ دفاعِ پاکستان کی دوسری سالگرہ منائی جارہی تھی ، ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں بچوں کا ایک خصوصی پروگرام جاری تھا ، تمام بچے سٹوڈیو میں پہنچ کر ایک نغمے کی ریہرسل کررہے تھے کیونکہ اُنہیں یہ نغمہ براہِ راست ہی پیش کرنا تھا ۔ اُن بچوں میں ایک چار سالہ بچہ بھی موجود تھا جو اپنے والد سکواڈرن لیڈر جمشید انور کے ساتھ آیا تھا۔ کیونکہ وہ بچوں کے ا س پروگرام میں مہمان خصوصی تھے اور اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ اس لئے لائے تھے کہ وہ بچہ صبح سے ہی ضد کررہا تھا ۔سٹوڈیو میں ابھی پروگرام شروع نہیں ہوا تھا کہ پروگرام کے اسکرپٹ رائٹر بھی پہنچ گئے اور جمشید انور صاحب سے ملنے کے بعد ان کے بیٹے کو گود میں بٹھا کر ایک طرف بیٹھ گئے ۔ جمشید صاحب کا بیٹا بھی اطمینان سے بیٹھا رہا اور پھر پروگرام شروع ہوگیا ۔ پروگرام کے اختتام پر جمشید انور صاحب کی گفتگو سے قبل سکرپٹ رائٹر اور شاعر نے مائیکروفون سنبھالا اور بچوں کے لئے لکھی ہوئی اپنی تازہ نظم سنائی ۔ پورا اسٹوڈیو’دل دل پاکستان ‘ جاں جاں پاکستان ” سے گونج اٹھا ۔ پروگرام ختم ہوا تو ہر بچہ قومی نظم کے یہ سادہ سے اشعار گنگنارہا تھا ۔کیونکہ سہل مگر پُر عزم الفاظ ہر بچے کے دل پر نقش ہوچکے تھے۔ پروگرام کے اختتام پر پروڈیوسر نے سکواڈرن لیڈر جمشید انور سے نوجوان شاعر و ادیب کا تعارف کرواتے ہوئے کہا:
” یہ ہیں ہمارے بہترین سکرپٹ رائٹر اور شاعر جناب نثار ناسک صاحب ! آج کل ریڈیو راولپنڈی پر انہی کا چرچا ہے ”
پاک فضائیہ کے ہیرو جمشید انور بھی اُن سے مل کر بے حد خوش ہوئے اور اُن کا بیٹا جنید بھی اُن سے کچھ مانوس ہوگیا ۔ راولپنڈی ریڈیو کا یہ پروگرام شاندار انداز میں اختتام پذیر تو ہوگیا لیکن تین سالہ جنید کے دل اور ذہن میں وہ الفاظ ہمیشہ گونجتے رہے ۔ یہاں تک کہ بیس برس کا عرصہ گزر گیا ۔ جنید کی نثار ناسک صاحب سے ملاقاتیں بھی رہیں لیکن وہ بچپن میں جذبۂ حب الوطنی سے سنے گئے الفاظ کو ایسا رنگ دینا چاہتا تھا جو امر ہوجائے۔جنید اب جنید جمشیدبن کر اپنے میوزیکل بینڈ’ وائٹل سائنز’ کے ساتھ دنیائے موسیقی کا نیا ستارہ بننے کے لئے تیار تھا۔ بس کیا ہوا … 14اگست 1987ء کو پاکستان ٹیلی ویژن اسلام آباد مرکز سے رات جنید جمشید کی آواز میں پاپ میوزک سے سجا وہی نغمہ گونجا تو بیس سال پہلے ریڈیو راولپنڈی سٹوڈیو کی طرح پورا پاکستان ” دل دل پاکستان ‘ جان جان پاکستان ” گارہا تھا ۔ یہ قومی نغمہ تھا یا ایک سحر… ہر فرد اس میں گرفتار تھا … اور ٹی وی پر ناظرین بھی حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ پینٹ شرٹ میں ملبوس جدید دور کے یہ ماڈرن لڑکے قومی نغمہ گارہے ہیں … یہ قومی نغمہ صرف قومی نغمہ ہی نہ بنا بلکہ قومی ترانے کے بعد پاکستان کا دوسرا غیر سرکاری قومی ترانہ بھی بن گیا !! اور عالی جی مرحوم کے نغمے ” جیوے جیوے پاکستان” کی طرح اس کے الفاظ بھی قلب و اذہان پر نقش ہوگئے ۔ بس فرق یہ تھا کہ ”جیوے جیوے پاکستان ” ایک دعا تھی تو ” دل دل پاکستان ” ایک عزم !۔ اور یہ نغمہ لکھنے والی شخصیت نثار ناسک صاحب تھے۔ جو گزشتہ ماہ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہم سے جدا ہوگئے ۔ اللہ تعالیٰ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔ آمین
نثار ناسک جن کااصل نام محمد نثار تھا 15 فروری 1943ء کو ڈسکہ سیالکوٹ کے گاؤں آدم کے چیمہ میں پیدا ہوئے ۔اُن میں لڑکپن ہی سے شاعری کے جرثومے موجود تھے۔ 1964 میں انہوں نے راولپنڈی ریڈیو کے لئے پہلی غزل لکھی جسے نذیر بیگم پنڈی والی نے گایا،وہ بطورِسکرپٹ رائٹر ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے وابستہ ہوگئے، جہاں وہ بچوں کے پروگرام بھی تحریر کرتے تھے۔ پاکستان کے دوسرے یومِ دفاع کے موقع پر یعنی 1967 میں انہوں نے اپنی نظم دل دل پاکستان لکھی جو بچوں کی نظموں میں بھی آنے لگی۔ پھر انہوں نے بچوں کے لئے نظموں کا مجموعہ لکھا تو اس کا عنوان بھی دل دل پاکستان ہی رکھا۔جنید جمشید شہید کہتے ہیں کہ انہوں نے میوزک انڈسٹری میں آتے ہی یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ بچپن میں سنے گئے دو قومی نغمات ضرور گائیں گے۔ جن میں سے پہلا ” دل دل پاکستان ” ہی تھا ۔ وہ اُس کی اکثر نئی نئی طرزیں بنانے کی کوششیں کرتے۔ پھر جب گٹار تھاما تو اُسے دو ماہ کی مسلسل محنت کے بعد مغربی طرزِ موسیقی میں ایسا ڈھالا کہ وہ زندہ نغمہ بن گیا ۔ جس نے گلوکار اور پروڈیوسر شعیب منصور کی شہرت کو راتوں رات آسمان پر پہنچادیا۔لیکن شاعر کو وہ مرتبہ نہ مل سکا جس کے وہ حق دار تھے بلکہ اکثر لوگ اسے شعیب منصور کا شاہکار ہی سمجھتے رہے۔
”دل دل پاکستان ” پہلا قومی نغمہ ہے جس کے مختلف وقتوں میں تین Versions بنے۔ یعنی یہ نغمہ تین بارایک ہی گلوکار کی آوازمیں مختلف Remix موسیقی کے ساتھ تیار ہوا۔ جس میں اس کا ایک ورلڈ کپ ورژن بھی شامل ہے جسے جنید جمشید مرحوم نے 1996 کے کرکٹ عالمی کپ کے موقع پرریکارڈ کروایا تھا ۔اور ساتھ ساتھ ” دل دل پاکستان ”کو یہ تاریخی اور سبقتی اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہ پاکستان کا پہلا قومی نغمہ ہے جو کسی اشتہار کا حصہ بنا !۔
یہی دل دل پاکستان ہے جسے پہلی بار سُن کر جنید جمشید نے گلوکار بننے کا سوچا تو یہی قومی نغمہ راقم الحروف کے قومی نغمات کے شوق ِ سفر کا اولین نقش ثابت ہوا۔ کیونکہ راقم الحروف بھی تین برس کا تھا تو جنید جمشید کی آواز میں یہی نغمہ سن کر قومی نغمات سے والہانہ عقیدت رکھنے لگا اور پھر قومی نغموں کو جمع کرنے اور اُن کی معلومات اکٹھی کرنے کا آغاز کیا ۔ اور ا س وقت الحمداللہ راقم الحروف کا نام اسی ضمن میں ایک حوالہ ضرور ہے جس کا پیش خیمہ نثار ناسک کے یہی الفاظ بنے !!
نثار ناسک صاحب نے قومی نغمات کا سفر دل دل پاکستان پر ہی ختم نہیں کیا بلکہ وہ ریڈیو اور پاکستان ٹیلی ویژن کے لئے قومی نغمات لکھتے رہے ۔ اُن کے تحریر کردہ قومی نغمات سادہ مگر جذبۂ حب الوطنی پر مبنی گہرے خیالات پر مشتمل ہوتے تھے ۔
علاقائی موسیقی کے رنگوں سے سجا یہ نغمہ بھی سامعین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے جس کے الفاظ کچھ یوں ہیں
——
” سبز پرچم وطن ‘ چاند تارہ وطن
دل کی قندیل ‘ آنکھوں کا تارہ وطن
روح کا جگمگاتا ستارہ وطن ”
——
جسے موسیقی میں وزیر افضل نے ڈھالا تھا
اس نغمے کا مرکزی خیال بھی تقریباََ دل دل پاکستان جیسا ہی ہے جس کی مثال اس کے بند میں موجود یہ مصرعے ہیں :
——
” اس کے آکاش تاروں سے معمور ہیں
اس کے گلشن بہاروں سے بھرپور ہیں
کس کی تقدیر ہے ایسا پیارا وطن
سبز پرچم وطن چاند تارہ وطن ”
——
نثار ناسک مرحوم مناظر میں ڈوب کر انہیں محسوس کرنے والے شاعر تھے اسی لئے اُن کے قومی نغمات میں جابجا ایسے ہی احساسات ملتے ہیں ۔
اسی طرح انہوں نے 1994ء میںپاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز کے لئے ایک” میرا وطن ” بھی تحریر کیا جسے اے نیّر نے محسن رضا کی موسیقی میں ریکارڈ کیا تھا ۔ جس کے ابتدائی الفاظ کچھ اس طرح ہیں :
——
” بلند ہے عظیم ہے میرا حسین وطن
یہ سرزمیں ‘ یہ وادیاں ‘ یہ رنگ بھرے چمن”
——
انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور کے لئے ستّر کی دہائی میں ایک زرعی قومی نغمہ ” دیس اپنا سرسبز بناؤ” بھی تحریر کیا جسے منیرحسین اور ساتھیوں نے گایا تھا ،اور یہ نغمہ اب بھی کسان بھائیوں کے پروگرام میں نشر ہوتا ہے ۔
نثار ناسک کے دل میں ” دل دل پاکستان ” کی جو روشنی تھی اسی کی بدولت وہ سارے جہاں سے حسین اپنے پاکستان کو گردانتے تھے۔ اسی لئے وہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا نام لے کر بھی پاکستان کو اُن سے برتر ماننے کا درس دیتے جیسا کہ اُن کے تحریر کردہ ایک قومی نغمے میں واضح الفاظ ملتے ہیں :
” امریکا ‘ جرمن’ رشیا یا چاہے ہو جاپان
سب سے اچھا سب سے پیارا دیس ہے پاکستان ”
( یہ نغمہ 1998ء میں پاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز پر نعیم الحسن نے ریکارڈ کروایا تھا )
نثار ناسک نے پاکستان ٹیلی ویژن لاہور اور اسلام آباد مراکز کے لئے پنجابی قومی نغمات بھی تحریر کئے جن میں وہی جذبات اور خیالات ہیں جو اُن کے اردو قومی نغمات میں موجود ہیں جن میں سے شاہدہ پروین کی آواز میں متعدد پنجابی نغمے مقبول ہوئے۔:
نثار ناسک کو آزادی نہایت عزیز تھی۔ اسی لئے وہ مُلک کومکمل طورپر آزاد دیکھنا چاہتے تھے۔ اسی لئے وہ اپنے ایک پنجابی قومی گیت جسے انور رفیع اور ساتھیوں نے پاکستان ٹیلی وٰژن پر ریکارڈ کروایا تھا ‘میں کہتے ہیں :
——
” اسیں دیوانے آزادی دے
اسیں پروانے آزادی دے
اے دھرتی جھولی ماواں دی
ماواں، ٹھنڈیاں چھاواں دی
گھر اپنا جنت راہواں دی
ہُن مستانے آزادی دے ”
——
نثار ناسک نے ریڈیو اور پاکستان ٹیلی ویژن کے لئے بے شمار قومی نغمات لکھے۔ جن میں زیادہ تر بچوں کے پروگرامز میں بھی شامل ہوئے ۔ انہیں قومی نغمات لکھنے کے صلے میں کئی ایوارڈ ز بھی ملے۔ لیکن افسوس کہ دل دل پاکستان جیسا لازوال نغمہ لکھنے کے باوجود بھی وہ کسی سرکاری اعزاز سے محروم رہے اور اُسی نغمے کو یاد کرتے ہوئے راہیٔ ملکِ عدم ہوگئے ۔ اب بھی اُن پر نگاہِ التفات ڈال کر اُن کی قومی خدمات کو سراہا جاسکتا ہے ۔ انہیں کوئی سرکاری صلہ ملے یا نہ ملے لیکن ہر پاکستانی کے دل پر دل دل پاکستان مثلِ تمغہ بن کر ہمیشہ اُن کی یاد دلاتا رہے گا ۔
——
منتخب کلام
——
جال کے اندر بھی میں تڑپوں گا چیخوں گا ضرور
مجھ سے خائف ہیں تو میری سوچ کے پر کاٹیے
——
ہم کو آزادی ملی بھی تو کچھ ایسے ناسکؔ
جیسے کمرے سے کوئی صحن میں پنجرہ رکھ دے
——
وہ میرا ہو کے بھی ظاہر نہیں ہوا مجھ پر
یہ اختلاف رہا اس سے عمر بھر میرا
——
اب اس سے آگے ہر اک موڑ پر اندھیرا ہے
تو اپنے ساتھ مرے پیار کی سحر لے جا
——
میں سازشوں میں گِھرا ایک یتیم شہزادہ
یہی کہیں کوئی خنجر میری تلاش میں ہے
——
ایسی زمین اور آسماں
ان کے سوا جانا کہاں
بڑھتی رہے یہ روشنی
چلتا رہے یہ کارواں
دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان
دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان
دل دل سے ملتے ہیں تو پیار کا چہرا بنتا ہے
چہرہ بنتا ہے
پھول اک لڑی میں پروئیں تو پھر سہرا بنتا ہے
چہرہ بنتا ہے
دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان
دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان
گھر اپنا تو سب کو جی جان سے پیارا لگتا ہے
تارہ لگتا ہے
ہم کو بھی اپنے ہر ارمان سے پیارا لگتا ہے
تارہ لگتا ہے
دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان
دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان
——
میں کس کی کھوج میں اس کرب سے گزرتا رہا
کہ شاخ شاخ پہ کھلتا رہا ، بکھرتا رہا !
مجھے تو اتنی خبر ہے کہ مشت خاک تھا میں
جو چاک مہلت گریہ پہ رقص کرتا رہا !
یہ سانس بھر مرے حصے کا خواب کیسا تھا
کہ جس میں اپنے لہو سے میں رنگ بھرتا رہا
عجیب جنگ رہی میری میرے عہد کے ساتھ
میں اس کے جال کو ، وہ میرے پر کترتا رہا !
انہوں نے مجھ کو سمندر ہی دیکھنے نہ دیا
کہ گھر کا گھر ہی مرے ڈوبنے سے ڈرتا رہا
——
مجھ کو بے خوابی کی ٹہنی پر سسکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
اپنی ہی بے دردیوں کو یوں مہکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
صورت مہتاب رہتا ہے مرے سر پر سفر کے ساتھ ساتھ
مجھ کو صحرا کی اداسی میں بھٹکتے رہتا ہے وہ
پیڑ کی صورت کھڑا رہتا ہے میری موج کی سرحد کے پاس
میرے سر پر دھوپ کے نیزے چمکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
رات تھک کر آن گرتا ہے مرے جلتے بدن کی آنچ پر
اپنے آنسو میرے گالوں پر ڈھلکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
میں وہ بوسیدہ سا پیراہن ہوں جو پہنا گیا تھا ایک بار
مجھ کو محرومی کی کھونٹی پر لٹکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
میری ہی مجبوریوں کے ذکر سے ناسک رلاتا ہے مجھے
سامنے اپنے نئے جگنو دمکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
——
وہ ایک سایہ سا چھت پر میری تلاش میں ہے
میرے ہراس کا پیکر میری تلاش میں ہے
میرا مرا ہوا انسان میری شکست کا راز
میرا ہی بھیس بدل کر میری تلاش میں ہے
میں جس کے سایئے سے اٹھا تھا تری یاد کیساتھ
وہ شاخ ِ سایہِ صنوبر میری تلاش میں ہے
میں سازشوں میں گِھرا ایک یتیم شہزادہ
یہی کہیں کوئی خنجر میری تلاش میں ہے
گروہِ بردہ فروشاں میں قید ہوں میں ناسک
بہت دنوں سے میرا گھر میری تلاش میں ہے
——
ماں زمینیں کیوں
خلاؤں کے کفن اوڑھے ہوئے ہیں
کس لئے ماتم میں ڈوبے شہر
سر جوڑے ہوئے ہیں
میرے اندر اور باہر کی زمیں پر
بازوؤں ٹانگوں سروں چہروں
لبوں کے ان گنت انبار ہیں
اور دو آنکھیں مری ان سب کی پہرے دار ہیں
آنکھیں جو اب
بے خوابوں کی ریت سے بھر جائیں گی
آنکھیں جو اب مر جائیں گی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ