وہ میری نعت میں ہے، میری کائنات میں ہے
حیات محوِ سفر اُس کے التفات میں ہے بس ایک لمحے کو سوچا تھا اُس کا اسمِ کریم وہ روشنی ہے کہ تا حدِ ممکنات میں ہے اِسے مدینے کی آب و ہَوا میں لوٹا دے سخی یہ طائرِ جاں سخت مشکلات میں ہے جو تیری مدح کی دہلیز جا کے چھو آئے کمال ایسا […]