حرف نادم ہوئے بیاں ہوکر
راز حیران ہیں عیاں ہو کر دھند آنکھوں میں آن اتری ہے دید اڑنے لگی دھواں ہو کر میں تری ذات سے نہیں نکل پایا تو نہیں چھپ سکا نہاں ہو کر میں نہیں اب کسی گمان میں بھی میں کہ اب رہ گیا گماں ہو کر میرا ہم عمر اک بڑھاپا بھی میرے ہمراہ […]