وہ مہربان جھیل فقط بھاپ رہ گئی
پیاسے لبوں کی آنچ بہت ہی شدید تھی پہنچا ہوں اپنی آخری سانسوں کی حد تلک حیرت سرائے دہر کی وسعت مزید تھی فرشِ نظر پہ رقص کناں تھی وہ اپسراء دستِ رساء میں باغِ اِرم کی کلید تھی اُبھری سکوتِ مرگ میں پازیب کی چھنک آواز تھی تری کہ بقاء کی نوید تھی تیرے […]