اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر کیف عظیم آبادی کا یومِ وفات ہے

کیف عظیم آبادی(پیدائش: 8 جون 1937ء – وفات: 24 جنوری 1994ء)
——
کیف عظیم آبادی 8 جون 1937ء کو شہر عظیم آباد ، پٹنہ میں پیدا ہوئے ۔
19 نومبر 1979 ء کو ایک حادثے کے نتیجے میں ان کو داہنی ٹانگ سے محروم ہونا پڑا ۔ بیساکھیوں سے چلنے لگے ۔ اس دوران زندگی سے خاصے مایوس ہو چکے تھے ۔ لیکن ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا کی ادب نوازی اور دوستی کے نتیجے میں دوبارہ ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا ۔
24 جنوری 1994 ء کو ستاون سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔
——
کیف عظیم آبادی: سچے جذبات کا عظیم المرتبت شاعر از کامران غنی صبا، پٹنہ
——
شعر کی تعریف کرتے ہوئے فروسٹ نے کہا تھا کہ جذبات کو تصور اور تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے۔ مذکورہ بیان کی روشنی میں جب ہم کیف عظیم آبادی کے شاعری کا مطالعہ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کیف کی شاعری سیدھے، سچے اور حقیقی جذبات کی شاعری ہے۔ان کے تصورات اور جذبات اتنے فطری ہیں کہ اُن کے کلام میں کہیں کوئی تضاد نظر نہیں آتا۔میں نے کیف صاحب کو نہ کبھی مشاعرہ میں سنا اور نہ کبھی یوں ہی کوئی ملاقات ہوئی۔ ہوئی بھی ہوگی تو مجھے یاد نہیں لیکن جن لوگوں نے کیف صاحب کو قریب سے دیکھا ہے وہ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کیف صاحب جتنے اچھے شاعر تھے اتنے ہی اچھے اور سچے انسان بھی تھے۔ اُن کی شخصیت میں آج کے شعراء کی طرح کوئی تضاد نہیں تھا۔ وہ جس سے ملتے خلوص سے ملتے۔ اپنا دکھ درد بیان کرتے اور دوسروں کے دکھ درد کو سمیٹنے کی کوشش کرتے۔ اُن کی شخصیت کا یہی پہلو ہمیں ان کی شاعری میں بھی نظر آتا ہے۔ وہ آج کے شاعروں کی طرح ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر سماج کے دبے کچلے اور ٹھکرائے ہوئے طبقے سے اظہار ہمدردی نہیں کرتے بلکہ وہ خود اس طبقے سے تعلق رکھتے تھے جسے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر حاشیہ پر رکھنے کی کوشش کی گئی۔کیفؔ کے کلام میں اس استحصال زدہ طبقے کا کرب اور نفسیات دونوں موجود ہیں ۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں ؏
——
راہ چلتے ہوئے شوکیس کو دیکھا نہ کرو
کرب ہی کرب لیے لوٹ کے گھر جاؤ گے
تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسہ نا کرو
تشنگی لب پہ سجائے ہوئے مر جاؤ گے
——
رات ہوتی ہے میری پلکوں پر
کچھ دئیے آنسوؤں کے جلتے ہیں
——
کس کرب سے لکھا ہے پردیس سے خط اُس نے
یہ مفت کا تحفہ ہے، بچوں کو دعا کہنا
——
اس نوعیت کے بے شمار اشعار کیف کے ہاں بآسانی مل سکتے ہیں۔شاعر کبھی جگ بیتی کو آپ بیتی بنا کر پیش کرتا ہے اور کبھی آپ بیتی کو جگ بیتی۔ وہ چاہتا تو اپنے ضمیر کا سودا کر سکتا تھا۔جھوٹ کے بازار میں اپنے قلم اور فن کی حرمت کو بیچ کر ارباب اقتدار کی قربت حاصل کر سکتا تھا۔ لیکن اُس کی خود داری نے یہ گوارا نہ کیاکہ وہ دستِ طلب دراز کرے ؏
——
یہ بھی پڑھیں : اکبر الہ آبادی کا یوم وفات
——
ائے جذبۂ خود داری جھکنے نہ دیا تو نے
لکھنے کے لیے ورنہ سونے کے قلم آتے
——
کہا جاتا ہے کہ شاعر سماج کا سب سے حساس فرد ہوتا ہے۔ اس کی حساسیت کی کئی وجوہ ہو سکتی ہیں۔ شاعر کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی انا کی تسکین کے لیے ’وصل‘ کے بدلے ’ جدائی‘، سکون کے بدلے اضطراب، بادشاہی کے بدلے گدائی ، پیاس کے بدلے تشنگی اورشہرت و ناموری کے بدلے گمنامی کی زندگی کو ترجیح دینے میں بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔ شاعر کی یہی انا اس کے فن کو معراج عطا کرتی ہے۔ کیف عظیم آبادی کے فن کی عظمت کا راز ان کی یہی انا و خود داری ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
——
میں سمندر سے پیاسا لوٹ آیا
جاگ اٹھی تھی مری انا مجھ میں
——
کیف کی شاعری کا اختصاص ان کا سیدھا ساداا نداز ہے۔ کیف کی شاعری کو جس زمانہ میں عروج حاصل ہوا وہ جدیدیت کا دور تھا ۔ جدیدیت کے نام پر ’چائے کی کپ میں تنہائی ڈبونا‘،’درد کی زنجیر چبانا‘،’مرغے کی چونچ میں سورج کا ہونا‘جیسی تراکیب اور علامتوں کا استعمال شعرا کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔کیفؔ نے جدیدیت کے اثرات کو اسی حد تک قبول کیا کہ شاعری کی تفہیم کے لیے قارئین کو در بدر کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔ ان کے ہاں جدید رنگ کے بھی اشعار ملتے ہیںلیکن ان اشعار کو انہوں نے چیستاں ہونے سے بچالیا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
——
ہر شاخ چیخ چیخ کے خاموش ہو گئی
موسم کی سیڑھیوں سے جو پتہ اتر گیا
——
راہ چلتے ہوئے شو کیس کو دیکھا نہ کرو
کرب ہی کرب لیے لوٹ کے گھر جاؤ گے
——
میرے دل کے دروازے پر کون یہ دستک دیتا ہے
چاند بھی چونکا، ہم بھی چونکے، چونک اٹھی تنہائی بھی
——
کیف عظیم آبادی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ ان کی غزلیں کسی خوب صورت دوشیزہ کی طرح اہل نظر کے ذوق جمالیات کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔مشاعروں میں کیف کی مقبولیت کی سب سے اہم وجہ ان کا یہی رنگ تغزل ہے۔ اس نوعیت کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
——
میرے ہونٹوں کو میسر ہے ترے ہونٹ کا لمس
میری سانسیں بھی مہکتی ہیں گلابوں کی طرح
——
تیرا خیال ہم کو جگائے گا آکے جب
زانوئے آرزو پہ سلا دے گی چاندنی
——
وہیں چوڑیوں کی تھیں کرچیاں، وہیں تھا گھروندا بنا ہوا
مرا نام تھا جہاں ریت پر تری انگلیوں سے لکھا ہوا
——
کئی پھول مجھ میں کھلا گیا ، ترا قرب یاد جو آ گیا
مرے گھر میں آج مہک اٹھے وہی پھر گلاب کے سلسلے
——
یہ بھی پڑھیں : سیماب اکبر آبادی کا یوم وفات
——
کیفؔ عظیم آبادی کو ان کی زندگی میں وہ مقام نہ مل سکا جس کے وہ مستحق تھے۔ ان کی پوری زندگی تنگ دستی کے عالم میں گزری۔ زندگی کے آخری چند سالوں میں انہوں نے کئی غیر ملکی سفر کیے۔ کئی بڑے مشاعروں میں شرکت بھی کی لیکن ان کی وفات کے بعد انہیں پھر سے فراموش کر دیا گیا۔ گزشتہ چند برسوں سے کیفؔ مرحوم کی لائق و فائق دختر ڈاکٹر زرنگار یاسمین اور کیف میموریل ٹرسٹ کے چیئرمین آصف نواز کی کوششوں سے اس عظیم شاعر کو یاد کرنے کی روایت شروع ہوئی ہے۔ اردو ڈائرکٹوریٹ محکمہ کابینہ سکرٹیریٹ نے بھی کیف عظیم آبادی پر ہر سال سمینار کرانے کا اعلان کیا ہے۔خدا کرے کہ ان کاوشوں کے مثبت نتائج برآمد ہوں اور بہار کے اس عظیم المرتبت شاعر کو پس مرگ ہی سہی اُس کا جائز حق حاصل ہو۔
——
منتخب کلام
——
اس کے اٹھنے کا اب سوال نہیں
گر پڑا ہے جو آنسوؤں کی طرح
میں ازل سے تلاش میں اپنی
جلتا بجھتا ہوں جگنوؤں کی طرح
——
ہنستے ہنستے آنسو چھلکے
غم آیا ہے بھیس بدل کے
——
نکل آئے تنہا تری رہ گزر پر
بھٹکنے کو ہم کارواں چھوڑ آئے
——
حوصلے شرمسار ہوتے ہیں
جب بھی ساحل کا نام لیتا ہوں
——
نہ شمع اور نہ شرارے فریب دیتے ہیں
سحر کے وقت ستارے فریب دیتے ہیں
——
کس کا لاشہ میں ڈھوئے پھرتا ہوں
کون اے کیفؔ مر گیا مجھ میں
——
جانے کیوں کیفؔ مجھے لوگ بُرا کہتے ہیں
کسی ممتا بھرے ہونٹوں کی دعا ہوں میں بھی
——
یوں ٹوٹ کر بھی خود کو بکھرنے نہیں دیا
اس انتشار میں بھی سلیقہ بنا رہا
——
مری منزل سے آپ کے رستے
کیا برا تھا اگر جدا ہوتے
دکھ اٹھاتے نہ ہمسفر بن کر
کاش کہ آپ بے وفا ہوتے
——
میری ہر چیز ہو قرینے سے
وقت اس میں گزار دیتی ہے
لاابالی کا دے کے طعنہ وہ
میرا کمرہ سنوار دیتی ہے
——
میں کس کو اپنا کہہ کے بلاتا جہاں میں
ہر آئینہ خلوص کا دھندلا ملا مجھے
——
تباہی کا اپنی نشاں چھوڑ آئے
ورق در ورق داستاں چھوڑ آئے
ہر اک اجنبی سے پتہ پوچھتے ہیں
تجھے زندگی ہم کہاں چھوڑ آئے
وہی لوگ جینے کا فن جانتے ہیں
جو احساس سود و زیاں چھوڑ آئے
نکل آئے تنہا تری رہگزر پر
بھٹکنے کو ہم کارواں چھوڑ آئے
——
عیش و غم زندگی کے پھیرے ہیں
شب کی آغوش میں سویرے ہیں
میکدے سے وفا کی منزل تک
ہم فقیروں کے ہیرے پھیرے ہیں
مجھ کو مت دیکھ یوں حقارت سے
میں نے رخ زندگی کے پھیرے ہیں
ان کی زلفوں کی نرم چھاؤں میں
زندگی کے حسیں سویرے ہیں
میں ہوں معمار‌ زندگی اے کیفؔ
دونوں عالم کے حسن میرے ہیں
——
جسم کی قید سے اک روز گزر جاؤ گے
خشک پتوں کی طرح تم بھی بکھر جاؤ گے
تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسہ نہ کرو
تشنگی لب پہ سجائے ہوے مر جاؤ گے
وقت اس طرح بدل دے گا تمہارے خد و خال
اپنی تصویر جو دیکھو گے تو ڈر جاؤ گے
——
شعری انتخاب از صداؤں کے سائے ، انگنائی
اپنے لہو کا رنگ ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات