جس کا مشتاق ہے خود عرش بریں آج کی رات
ام ہانی کے وہ گھر میں ہے مکیں آج کی رات آنکھ میں عرض تمنا کی جھلک لب پہ درود آئے اس شان سے جبریل امیں آج کی رات سارے نبیوں کے ہیں جھرمٹ میں نبیٔ آخر قابل دید ہے اقصیٰ کی زمیں آج کی رات نور کی گرد اڑاتا ہوا پہنچا جو براق رہ […]