اردوئے معلیٰ

آج پاکستان کے معروف شاعر و نغمہ نگار ریاض الرحمان ساغر کا یومِ پیدائش ہے ۔

ریاض الرحمان ساغر
(پیدائش: یکم دسمبر 1941ء – وفات: یکم جون 2013ء)
——
ریاض الرحمان ساغر ( Riaz ur Rehman Saghar)، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی زبان کے شاعر، فلمی نغمہ نگار اور کہانی نویس تھے۔
——
حالات زندگی
——
ریاض الرحمان ساغر یکم دسمبر، 1941ء کو مولوی محمد عظیم اور صدیقاں بی بی کے ہاں بھٹنڈہ، ریاست پٹیالہ، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔1947ء میں تقسیم ہند کے وقت ان کے خاندان نے پاکستان کی طرف ہجرت کی، راستے میں قافلے پر شرپسندوں کے حملے کے دوران ان کے والد جاں بحق ہو گئے۔ مزید برآں ان کا دو سال کا چھوٹا بھائی بھی دورانِ سفر بھوک اور پیاس کی وجہ سے انتقال کر گیا۔ ریاض الرحمان اور ان کی والدہ لٹے پٹے قافلے کے ہمراہ والٹن کیمپ میں پہنچے، یہاں سے ملتان چلے گئے۔ ریاض الرحمان کی والدہ نے محنت مشقت کر کے اپنے بیٹے کو تعلیم دلوائی۔ انہوں نے ملت ہائی اسکول ملتان سے میٹرک اور ایمرسن کالج سے بی اے (فاضل پنجابی) کیا۔ ریاض الرحمان نے نویں کلاس میں ایک انگلش نظم کا بہترین اردو ترجمہ کیا تو ان کے ٹیچر ساغر علی نے ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کی بہت تعریف کی اور پوری کلاس کے سامنے بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ ریاض الرحمان کو داد پانے کا یہ آسان طریقہ بہت اچھا لگا۔ چنانچہ انہوں نے استاد کے نام ہی کو اپنا تخلص رکھ کر شاعری شروع کر دی۔ ساتھ ہی ساتھ استاد شعرأ کے کلام کا مطالعہ بھی شروع کر دیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر ساغر صدیقی کا یوم وفات
——
یوں کالج پہنچنے تک ساغر کو قدیم و جدید شعرأ کے سینکڑوں اشعار زبانی یاد ہو چکے تھے۔ ایمرسن کالج ملتان میں سیکنڈ ائیر میں طالب علموں کو جوش ملیح آبادی اور فیض احمد فیض کی انقلابی شاعری سنانے پر کالج سے نکال دیا گیا جن میں ریاض الرحمان بھی شامل تھے۔ 1956ء میں لاہور آ گئے اور یہاں فیض صاحب سے ملاقات ہوئی، انہیں اپنا احوال زندگی گوش گزار کیا، انہوں نے شفقت فرماتے ہوئے نوکری پر رکھ لیا، لیکن کچھ عرصہ بعد روزنامہ نوائے وقت میں روزگار کا سلسلہ شروع ہو گیا جو آخری دم تک جاری رہا۔
——
فلمی دنیا سے وابستگی
——
نغمہ نگاری
——
ریاض الرحمان کے ایک دوست سلطان عارف نے انہیں فلمی دنیا میں متعارف کرایا۔ ریاض الرحمان ساغر نے سب سے پہلے ماسٹر عنایت حسین کی فلم عالیہ کے لیے نغمات لکھے۔ یہ فلم تو کامیاب نہ ہو سکی لیکن ریاض الرحمان بھرپور طریقے سے فلم انڈسٹری میں داخل ہو گئے۔ معروف شاعر اور نغمہ نگار قتیل شفائی کے ساتھ ان کی دوستی ہو گئی جنہوں نے ریاض الرحمان کا بھرپور ساتھ دیا۔ فلم ‘شریک حیات’ کے لیے لکھا ہوا نغمہ ‘میرے دل کے صنم خانے میں اک تصویر ایسی ہے’ ریاض الرحمان کے لیے کامیابی کا زینہ ثابت ہوا۔ اس کے بعد فلم ‘سماج’ کے نغمے ‘چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں دنیا کے رسم و رواج توڑ دیں’ نے ریاض الرحمان کے لیے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ ریاض الرحمٰن ساغر نے فلم، ریڈیو پاکستان، ٹی وی کے لیے تین ہزار کے قریب نغمے تخلیق کیے جنہیں مہدی حسن، نورجہاں، عدنان سمیع، احمد رشدی، مالا، مسعود رانا، استاد نصرت فتح علی خان، حامد علی خاں، اے نیئر، وارث بیگ، انور رفیع، رونالیلیٰ، حمیرا ارشد، حمیرا چنا، ناہید اختر، تصور خانم، ثریا خانم، نصیبو لال سمیت دیگر نمایاں گلوکاروں نے گایا۔ ان کے تخلیق کردہ مقبول نغموں میں ‘ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریو’، ‘بھیگا ہوا موسم پیارا’، ‘تیری اونچی شان ہے مولا’، ‘کبھی تو نظر ملاؤ’، ‘بھیگی بھیگی راتوں میں’، ‘تیرے سنگ رہنے کی کھائی ہے قسم’، ‘چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں’، ‘کچھ دیر تو رک جاؤ برسات کے بہانے’، ‘دلی لگی میں ایسی دل کو لگی کہ دل کھو گیا’، ‘دیکھا جو چہرہ تیرا موسم بھی پیارا لگا’، ‘کل شب دیکھا میں نے چاند جھروکے میں’، ‘ہو سکے تو میرا ایک کام کرو’، ‘جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم’، ‘ساون کی بھیگی راتوں میں’، ‘مینوں یاداں تیریاں آؤندیاں نیں’، ‘کسی روز ملو ہمیں شام ڈھل’ے شامل ہیں۔
کہانی و مکالمہ نویسی
بطور کہانی کار و مکالمہ نویس ریاض الرحمان ساغر نے 100کے قریب فلمیں لکھیں جن میں ‘شمع’، ‘نوکر’، ‘سسرال’، ‘عورت ایک پہیلی’، ‘سرگم’، ‘نذرانہ’، ‘بھروسا’، ‘نکاح’، ‘محبتاں سچیاں’ جیسی کامیاب فلمیں شامل ہیں۔
——
تصانیف
——
وہ کیا دن تھے (سوانح عمری)
کیمرا، فلم اور دنیا ( سات ملکوں کا سفر نامہ)
لاہور تا بمبئی براستہ دہلی ( بھارت کا سفر نامہ)
سرکاری مہمان خانہ ( جیل یاترا کااحوال)
میں نے جو گیت لکھے (گیت)
چلو چین چلیں (منظوم سفر نامہ)
چاند جھروکے میں (شاعری)
پیارے سارے گیت ہمارے (شاعری)
سر ستارے (شاعری)
آنگن آنگن تارے (بچوں کے گیت)
——
اعزازات
——
ریاض الرحمان ساغر کو نیشنل فلم ایوارڈ، پی ٹی وی ایوارڈ، کلچرل گریجویٹ ایوارڈ، نگار ایوارڈ، بولان ایوارڈ سمیت مختلف سماجی اور ثقافتی اداروں کی طرف سے ڈیڑھ سو سے زائد انعامات ملے۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف نعت گو شاعر ریاض مجید کا یوم پیدائش
——
وفات
——
ریاض الرحمان ساغر یکم جون، 2013ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ کریم بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
——
منتخب کلام
——
کبھی تو نظر ملاؤ، کبھی تو قریب آؤ
جو نہیں کہا ہے، کبھی تو سمجھ بھی جاؤ
ہم بھی تو ہیں تمہارے، دیوانے ہو دیوانے
کبھی تو نظر ملاؤ، کبھی تو قریب آؤ

ہم نے تم کو دیکھتے ہی دل دیا
تم بھی سوچو تم نے ہم سے کیا کیا
میرا دل نہ توڑو، کبھی دل سے دل ملاؤ
ہم بھی تو ہیں تمہارے، دیوانے ہو دیوانے
کبھی تو نظر ملاؤ، کبھی تو قریب آؤ
جو نہیں کہا ہے، کبھی تو سمجھ بھی جاؤ
ہم بھی تو ہیں تمہارے، دیوانے ہو دیوانے
کبھی تو نظر ملاؤ، کبھی تو قریب آؤ

دل یہ چاہے، تیری زلفیں چوم لوں
سوچتا ہوں اور تم سے کیا کہوں
کوئی فیصلہ لو، کبھی تو گلے لگاؤ
ہم بھی تو ہیں تمہارے، دیوانے ہو دیوانے
کبھی تو نظر ملاؤ، کبھی تو قریب آؤ
جو نہیں کہا ہے، کبھی تو سمجھ بھی جاؤ
ہم بھی تو ہیں تمہارے، دیوانے ہو دیوانے
کبھی تو نظر ملاؤ، کبھی تو قریب آؤ
——
یہ زمیں رک جائے
آسماں جھک جائے
تیرا چہرہ جب نظر آئے

تُو اجازت دے اگر
تجھ سے تھوڑا پیار میں کر لوں
جانِ جاں
بیٹھ میرے سامنے
خالی دل، خالی نظر بھر لوں
جانِ جاں
تُو خفا ہو جائے، رات ابھی جائے
دن تیرے آنچل میں چھپ جائے
یہ زمیں رک جائے
آسماں جھک جائے
تیرا چہرہ جب نظر آئے

تُو اگر کہہ دے مجھے
چاند بھی لے آؤں
جانِ جاں
ایک تارا مانگنے
آسماں لے آؤں
جانِ جاں
یاد تُو جب آئے، نیند بھی لے جائے
خوابوں کے جنگل میں چھپ جائے
یہ زمیں رک جائے
آسماں جھک جائے
تیرا چہرہ جب نظر آئے
——
مزار قائد اعظم تُو شیعہ ہے کہ سنی ہے
مرے اس ملک کے پرچم تُو شیعہ ہے کہ سنی ہے
ہم اک دُوجے میں ہیں مدغم تُو شیعہ ہے کہ سنی ہے
یہی نعرہ رہے ہر دم تُو شیعہ ہے کہ سنی ہے
ہمارا پیار نہ ہو کم تُو شیعہ ہے کہ سنی ہے
رہے اپنا سفر پیہم تُو شیعہ ہے کہ سنی ہے
——
لفظ، تلفظ اور معانى
ان كى ادائى ميں نادانى
كم علمى، كم فہمى روكو
جہاں غلط ہوكوئى ٹوکو
يہ نادانى اور نہ پھیلے
خام بيانى اور نہ پھیلے
يہ كہنا كہ "عوام ہمارى”
يا كہنا كہ "عوام بے چارى”
حسن زباں پر ظلم ہے يارو
كہو نہ انہیں "مونث” پيارو
ان كو كہو "عوام ہمارے”
سيدھے سادھے اور "بيچارے”
ٹی وی کے کچھ بانکے اینکر
پڑھے لکھے کچھ اپنے ليڈر
گندُم كو گندَم كہتے ہیں!
مجرِم كو مجرَم كہتے ہیں!
پچھلے دن بھی رہا ميں ہنستا
پڑھ كر "پھولوں كا گل دستہ” !
ہم اكثر سنتے رہتے ہیں
اور اپنے دل ميں کہتے ہیں
طرز بياں رحمن ملك سا
ہو اگر اس نسل نو كا
ملك ميں كيا اردو كا ہو گا؟
حسن زباں كا جادو كيا ہو گا؟
تھوڑا سا لکھ پڑھ لیں لیڈر
اور ٹی وى كے اكثر اينكر
——
جو کہتا ہے اسے بننے سے روکو
اسی صوبے کو ”کالا باغ“ دے دو
وہ ٹھیکے پر اسے خود ہی بنائے
کمائی ڈیم کی بھی خوب کھائے
بنے یہ جیسے تیسے‘ اب یہ سوچو
کہاں سے آئیں پیسے اب یہ سوچو
چلو اک بار پھر سے پیٹ کاٹیں
یہ ساری مشکلیں آپس میں بانٹیں
یہ سیدھی بات سمجھائیں سبھی کو
نہ جو سمجھے اسے سب مل کے ڈانٹیں
مسائل حل ہوں کیسے اب یہ سوچو
نہ پھر جل تھل ہوں ایسے اب یہ سوچو
پھر آئے بن کے رحمت ابر باراں
منائے قوم پھر جشن بہاراں
——
یہ بھی پڑھیں : اُردو کے نامور شاعر رام ریاض کا یومِ وفات
——
حکمراں عید پہ یہ قوم سے پیمان کریں
عید کے بعد بدل جائیں گے، اعلان کریں
عام لوگوں سے گلے مل کے مٹا دیں وہ گِلے
ہو یقیں اُن کو کہ قربانی کے پائیں گے صلے
تاکہ ہر گھر میں بچا جو ہے وہ قربان کریں
اُن وزیروں کے لئے عیش کا سامان کریں
جن کا ہے عزم، تغافل نہ کریں گے لیکن
کریں گے کام وہ، سورج نہ چڑھے گا جس دن
اُن کی مجبوری ہے تنخواہیں وہ پوری لیں گے
لینی پڑتی ہیں مراعات ضروری لیں گے
قرض چڑھتا ہے چڑھے قوم کے سر، اُن کو کیا
پانچ سالوں میں اُنہیں بھرنا ہے گھر، اُن کو کیا
پھر یہ جمہوری حکومت جو چلی جائے گی
فوج مہنگائی سے لڑنے کے لئے آئے گی
بھاگ کر فوجی حکومت سے وزارت لیں گے
یورپی ملک میں یا کوئی سفارت لیں گے
عید اب کے بھی غریبوں کے نہ گھر آئے گی
اسکی یاری ہے امیروں سے وہاں جائے گی
حکمراں جاتے ہوئے ایک تو احسان کریں
پھر نہ آئیں گے کبھی لوٹ کے اعلان کریں
عید کے روز کریں دل سے تہیہ یہ عوام
حکمراں پھر نہ وہ لائیں گے ہوئے جو ناکام
ہے یقیں مجھکو غریبوں کی بھی عید آئے گی
کوئی تبدیلی یہاں قابلِ دید آئے گی
——
ملے گی بھاری جو تنخواہ ضلع ناظم کو
لگے گی ڈی سی او کی آہ ضلع ناظم کو
نہ صرف سیلری ستر ہزار ماہانہ
ضلع کے لوگوں کو دینا پڑے گا جرمانہ
کرایہ گھر کا بھی کیا کم ہے پورے تیس ہزار
ملے گا صاحبو! ہر ماہ ضلع ناظم کو
کرے گا پورا لیکشن میں ، جو بھی خرچ کیا
وہ سب نکالے گا جو ووٹروں نے کھایا پیا
ہے کیا مضائقہ یہ کاروبار ہے آخر
وگرنہ کرسی کی کیا چاہ ضلع ناظم کو
مزے اڑائیگا آدھے توضلع نائب بھی
اٹھانے ہوں گے ہمیں اس کے مصائب بھی
اگرچہ کام فقط اتنا ہی کریگا وہ
کہے گا واہ اجی واہ ضلع ناظم کو
ابھی تو اگے اگر انتخاب ہونا ہے
مزید قوم کا خانہ خراب ہونا ہے
اٹھانے ہونگے بڑے خرچ وزیروں کو
نہیں ہے جس کی پرواہ ضلع ناظم کو
بڑی غریب ہے مقروض قوم اے ساغر
کرے گا کون اب آگاہ ضلع ناظم کو
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات