اردوئے معلیٰ

آج مشہور افسانہ نگار اور اپنے افسانوں کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں چھاپ چھوڑنے والے شوکت حیات کا کا یومِ پیدائش ہے

شوکت حیات(پیدائش: 1 دسمبر 1950ء – وفات: 21 اپریل 2021ء)
——
دسمبر۱۹۵۰ءمیں پیدا ہونے والے شوکت حیات ۷۰ء کی دہائی میں افسانہ نگاری کے میدان میں نمایاں ہوئے اور بہت جلد اہم افسانہ نگاروں میں شامل ہوگئے۔ ان کے افسانوں میں سماج کی تلخ حقیقت اور سچائیاں ہوتی تھیں۔ انہوں اپنے افسانے کے ذریعہ سماج کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ ’گنبد کے کبوتر‘ شہرہ آفاق حیثیت رکھتا ہے۔ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈسے بھی نوازا تھا اور ساتھ ہی ان کو قومی کتھا ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
شوکت حیات سن ستر سے افسانہ نگاروں کی امامت کرنے والا’گنبد کے کبوتر‘ کا خالق اور انامیت کا اسیر ،فکشن کی آبرو کہلانے والا فکشن کا جادوگر 21 اپریل 2021 کو ہمارے درمیان سے خاموشی سے چلا گیا۔ وہ ایک عرصے سے بیمار تھے، محفلوں سے دور ہوتے جا رہے تھے اور لکھنا پڑھنا بھی بند تھا۔اپنے آپ میں گم رہنے لگے تھے لیکن اس کے قہقہے میں اب بھی جان تھی۔ کسے معلوم تھا کہ قہقہہ بکھیرنے والا اپنے دوستوں کو سسکیوں کے حوالے کر جائے گا۔
——
شوکت حیات کے بارے میں ادباء اور ناقدین کی رائے
——
شوکت حیات ہمارے ان افسانہ نگاروں میں سے ہیں جو تخلیق کار کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں ۔ وہ ادب اور ادبی مسائل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے اور اظہارِ خیال کرتے رہتے ہیں ۔
وہ اپنے افسانوں میں ادبیت اور سماجی احساس و شعور دونوں پر اصرار کرتے ہیں ۔
وہ اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے طے شدہ نتائج اور سیاہ و سفید میں بٹے ہوئے افسانے کی روایت سے گریز کرتے ہوئے سچائی کی تلاش اپنے طور پر جاری رکھی اور نئی کہانی کا رشتہ نئی سماجی حقیقتوں سے جوڑا ۔
گوپی چند نارنگ
——
یہ بھی پڑھیں : شوکت تھانوی کا یوم پیدائش
——
1970 ء کے بعد جن افسانہ نگاروں نے اپنی نمایاں اور منفرد پہچان بنائی ہے ان میں شوکت حیات کئی حیثیتوں سے اہم ہیں ۔
دوسری باتوں کے علاوہ ان کے یہاں جو خاص بات مجھے نظر آئی وہ یہ کہ ان کی کہانیاں صرف سماجی شعور کا ہی پتہ نہیں دیتیں بلکہ ان کے یہاں ” سماجی ضمیر ” کو پوری گہرائی کے ساتھ گرفت میں لینے کا رحجان بھی ملتا ہے ۔
شمس الرحمٰن فاروقی ، آہنگ- اپریل 1985 ء
——
شوکت حیات کے یہاں زندگی کی بنیادی حقیقتوں تک پہنچنے کی جو شدت اور تڑپ ملتی ہے وہ انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتی ہے ۔
قمر رئیس ، آہنگ ۔ اپریل 1985 ء
——
شوکت حیات اس صدی کی آٹھویں دہائی میں ابھرنے والے افسانہ نگار ہیں ۔ انہوں نے اچھے افسانے بھی لکھے ہیں اور افسانے کے مسائل پر سنجیدگی سے غور بھی کیا ہے ۔
ان کے افسانے داخلی انفرادیت اور خارجی عمومیت کے امتزاج سے وجود میں آتے ہیں ۔
وہ نہ خارجی حالات سے نظریں چراتے ہیں اور نہ داخلی کیفیات کو نظر انداز کرتے ہیں ۔
ان کی رائے میں کہانی گڑھی نہیں جاتی بلکہ وہ خود نمو پاتی ہے ۔ زندگی کی بے معنویت اور لاحاصلی ان کے افسانوں کا خاص موضوع ہیں ۔
ڈاکٹر نور الحسن نقوی ، نیا افسانہ ، علی گڑھ ، ہم عصر اردو ادب نمبر 82 -1979 ء
——
شوکت حیات کے پاس کون سی بیساکھی ہے ۔ کون سا بڑا ہاتھ ہے ۔ اس کے باوجود میں سیکڑوں میل کی دوری پر بیٹھا ہوا اس کی آواز پہچانتا ہوں ۔
زبیر رضوی ، قیامت کے یہ نامے ، ایک شمارہ شوکت حیات کے نام ۔ شمارہ 40 اکتوبر 1985 ء
——
شوکت حیات نے قدرے متوازن رویہ اختیار کیا ہے ۔ یہ لوگ افسانے کے روایتی سٹرکچر کے تحت ” کہانی پن ” کو افسانے کی اولین خوبی قرار دیتے ہیں ۔
اگرچہ ان کے ہاں پلاٹ میں ویسا نظم و ضبط اور کرداروں کے اعمال میں وہ منطقی رویہ نہیں ملتا جو مثلاََ پیش رو ترقی پسند افسانے کی بنیادی صفت ہے ۔
تاہم پلاٹ کی مختلف کڑیاں قدرے بے ترتیب اور کہیں کہیں شکستہ حالت میں ضرور ہاتھ لگ جاتی ہیں جن کو جوڑ کر ایک ثابت و سالم نقش بنانے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی ۔
کمار پاشی ، نیا اردو افسانہ ، مارچ اپریل مئی 1980 ء
——
افسانے سے اقتباس
——
تھوڑی دیر کے لئے اسے بڑی راحت اور سکون کا احساس ہوا۔۔۔ ہم کم از کم اتنے مہذب تو ہوگئے ہیں کہ دیکھنے میں کسی مخصوص فرقے کے اسیر نظر نہیں آتے اس نے سوچا، مہذب ہونے کا عمل جاری رہا تو ایک دن ہم اندر اورباہر تمام طرف سے
تخیل کے پرندے نے آسمان کی گہرائیوں میں اڑان بھرنا شروع کیا
نگاہوں کے سامنے تارکول کی سڑک سبزہ زاروں میں تبدیل ہوگئی۔۔۔ ہرنوں اور خرگوشوں نے قلانچیں بھرنا شروع کردیا۔۔۔ چاروں طرف سبک رو ہواؤں کے نازک لمس نے اس کے تن بدن میں ایک تازگی بھر دی۔۔۔ ہری بھری مخملی گھاس پر لیٹے ہوئے اس نے خود کو نیلگوں آسمان میں تحلیل ہونے کی لذت اور سرشاری سے ہم کنار ہوتے دیکھا
’’آپ لوگ سڑک پر کیا کرتے ہیں۔۔۔ اپنے اپنے گھروں کو جائیے‘‘
’’ہم لوگ سواری کے انتظار میں ہیں‘‘
پولیس کے آدمیوں نے غالباً ان کے حلیے اور چہرے کے تاثرات سے اندازہ کرلیا تھا کہ وہ شرپسند اور غنڈہ عناصر نہیں ہیں۔ مطمئن ہوکر انہیں فوراً اپنے گھروں کو روانہ ہونے کی ہدایت کر کے جیپ میں بیٹھ گئے۔ پولیس کی مداخلت اور غیر متوقع استفسار نے ان دونوں کے درمیان کے فاصلے کو تھوڑا کم کردیا تھا۔ حالانکہ ایک دوسرے کے لئے شک و شبہ اور بے یقینی کی کیفیت ابھی بھی کم و بیش دونوں کی آنکھوں سے عیاں ہورہی تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی رسمی سا جملہ دونوں کے منھ سے ادا ہوا۔
’’آپ کو کہاں جانا ہے۔۔۔؟‘‘
——
یہ بھی پڑھیں : شوکت صدیقی کا یوم وفات
——
دبلے آدمی کے ذہن میں یہ بات اچانک آئی کہ شاید اس سوال سے تنومند آدمی کی شناخت اجاگر ہوجائے۔ لیکن سوال سے اس حقیقت کا پتا لگانا آسان نہ تھا۔ چلتے پھرتے ہندوستانی الفاظ تھے جن پر کسی زبان اور مذہب کے سکہ بند مہر نہیں تھی۔ دونوں نے جواب دیا، اس سے بھی کوئی اندازہ نہیں ملتا تھا۔ دونوں نے جو نام لیے وہ دونوں ہی ملی جلی آبادیوں والے علاقے تھے۔ جواب دینے کے بعد دونوں پھر اپنے آپ میں گم ہوگئے ۔ جیسے اس طویل شاہراہ پر وہ تنہا ہوں۔
دبلے پتلے آدمی کے چہرے اور آنکھوں سے صاف جھلک رہا تھا کہ وہ دوسرے آدمی سے بے حد ڈرا ہوا ہے۔
اس پر ایک عجیب غیر معمولی خو ف مسلط تھا۔۔۔ ہر آن شدت سے وہ خطرہ محسوس کر رہا تھا۔۔۔ یقینا وہ دوسرے فرقے کا ہے۔۔۔ اور اس کے فرقے کا راز عیاں ہوتے ہی ظالم بن کر اس پر ٹوٹ پڑے گا۔۔۔ کہ حالیہ واقعات و قرائن اسی شک کی توثیق کرتے تھے۔
سڑک کی دونوں جانب کے کئی مکانوں کی بالکنی، چھت اور کھڑکیوں پر کئی ساری آنکھیں اور کئی سارے کان ان دونوں پر ٹکے ہوئے تھے۔ اگر کسی چھت، کسی بالکنی، کسی کھڑکی سے گولی چل جائے تو۔۔۔ ٹھنڈک کے باوجود اس کے بدن میں حرارت کی ایک لہر دوڑ گئی۔ کاٹو تو لہو نہیں ۔ پیشانی پر خوف کے مارے پسینے کی بوندیں جھلملانے لگیں۔
اس نے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ذرا دور جاکر احتیاط کے طور پر سڑک کے کنارے سے ٹوٹی ہوئی اینٹ کا ایک بڑا سا ٹکڑا اٹھاکر اپنی پاکٹ میں رکھ لیا۔ اس بات کا اس نے خاص خیال رکھا کہ دوسرے موجود کو اس کی حرکت کا پتا نہ چلے۔ جیب میں ہاتھ ڈالے ہوئے مضبوطی سے اپنی ہتھیلیوں کی گرفت اس نے اینٹ کے ٹکڑے پر بنائے رکھی۔
اس کے چہرے سے اب کچھ اطمینان اور بشاشت کی لکیریں عیاں ہورہی تھیں۔ اتنا بھر اسے سہارا مل گیا تھا کہ وہ تنومند آدمی کے حملے کا مقابلہ کئے بغیر جاں بحق نہ ہوگا۔
اینٹ کے ہتھیار سے مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کا درجہ حاصل کرے گا۔
بغیر جدوجہد اور مسابقت کی موت کو وہ حرام سمجھتا تھا۔۔۔ لڑتے ہوئے مرے گا تو یہ ملال تو نہ ہوگا ۔۔۔ اور کیا پتا ادھواڑ کے ایک وار سے وہ اپنے دشمن کا کام غازی کا۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات