اردوئے معلیٰ

پروین فنا سید کا یوم پیدائش

آج معروف شاعرہ پروین فنا سید کا یوم پیدائش ہے ۔

پروین فنا سید(پیدائش: 3 ستمبر 1936ء – وفات: 27 اکتوبر 2010ء)
——
پروین فنا سید خواتین شعراء میں منفرد شناخت رکھنے والی معروف شاعرہ تھیں۔
پروین فنا سیّد 3 ستمبر 1936ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ آپ کے والد سید ناصر حسین رضوی سپرنٹنڈنٹ جیل کے عہدے پر فائز تھے۔ والدہ کا نام سیدہ افتخار النساء تھا۔
شاعری کے علاوہ آپ نے موسیقی اور مصوری میں بھی گہرا شغف رکھا ۔ 1951ء میں گوجرانوالہ سے میٹرک کیا ۔ 1958 ء میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے پہلی مرتبہ اپنا کلام نشر کیا ۔ قیامِ پاکستان کے وقت گرداسپور میں مقیم تھیں ، جہاں کے ہندو مسلم فسادات نے آپ کے ذہن کو خاصا متاثر کیا تھا ۔
لاہور کالج فارویمن میں ایف ایس سی میں داخلہ لیا۔ ابتدا سے یہ بات ان کے ذہن نشین کرائی گئی تھی کہ انھیں بڑا ہوکر ڈاکٹر بننا ہے۔ ایف ایس سی میں داخلے کو ابھی دو ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ اچانک فنا شدید بیمار ہوگئیں۔ ڈاکٹروں نے کافی عرصہ دماغی کاموں سے دور رہنے کی ہدایت کی۔ سال بھر کے بعد انھوں نے چوری چھپے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پرائیوٹ اسکالر شپ کے ساتھ پاس کیا۔ اور اسکالر شپ حاصل کی ۔ اس کے بعد آپ کی شادی ہو گئی ، آپ کے شوہر سید احمد پاک فوج میں کرنل تھے ۔ شادی کے بعد پروین فنا سید نے لاہور گرلز کالج لاہور سے بی ۔ اے پاس کیا اور یہیں اپنی تعلیم کا اختتام کر دیا ۔ گھر بار کی مصروفیت کے سبب مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکیں ۔ شاعری میں آپ ادا جعفری سے متاثر تھیں اور ابتدائی شاعری میں اداؔ کا رنگ نہ چاہنے کے باوجود بھی چھلکتا ہے ۔
فیض احمد فیض سے شرف تلمذ رہا اور شاعری میں اصلاح لی۔ پروین فنا سید نے 15 برس کی عمر سے شاعری کا آغاز کیا ۔
——
یہ بھی پڑھیں : عبدالعزیز خالد کا یوم پیدائش
——
آپ نے طویل علالت کے بعد 27 اکتوبر 2010ء کو کراچی میں وفات پائی۔آپ کو 28 اکتوبر کو کراچی کے علی باغ شاہ خراسان قبرستان میں دفن کیا گیا۔
’’ حرفِ وفا آپ کا پہلا مجموعۂ کلام ہے ۔ دیگر تصانیف میں ” تمنا کا دوسرا قدم ” ، ” یقین ” ، ” لہو سرخ رو ہے ” ، ” حیرت ” ، ” کلیاتِ پروین فنا سید جو کہ 2009 ء میں شائع ہوئی ، شامل ہیں
لاہور کے معروف سادات گھرانے کی چشم و چراغ پروین فنا سید اردو غزل کا ایک معتبر نام ہے جنہوں نے ادا جعفری اور کشور ناہید کے اولیں عہد میں اپنے ترنم کا جادو جگایا اور اردو غزل کو متعدد خوبصورت غزلیں ورثہ کیں۔
——
جسکی تعبیر میں اک عمر گزاری دل نے
جاگتی آنکھوں سے وہ خواب بکھرتا دیکھوں
——
پروین فنا سید کا شمار اردو غزل کی ان شاعرات میں ہوتا ہے جنہوں نے نسوانی جزبوں اور تجربات کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا لیکن ان کے ہاں بہت حد تک فہمیدہ ریاض اور کشور ناہید کی شدت کا رنگ نہیں تھا بلکہ وہ بہت بڑی بات کو نہایت دھیمے انداز سے کہہ جاتی تھیں۔
ستر کے عشرے کے اواخر میں پروین فنا سید مشاعروں کی کامیابی کا نام سمجھا جاتی تھیں لیکن پھر یوں ہوا کہ ریڈیو ٹی وی پر اقربا پروروی اور تعلقات عامہ کے فن نے سطحی شعرا کو آگے بڑھایا اور جینوئن شعرا گوشہ نشین ہو گئے
نسائیت، نیناں اور نیلےچراغ کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب میں ڈاکٹر طاہر تونسوی نے لکھا ہے کہ
‘‘ عہدِ موجود میں ایسی شاعرات بھی ہیں جن کی بدولت اردو شاعرات کا بھرم قائم ہےاور آٹےمیں نمک کےبرابر سہی مگر ان کےاظہار کا اپنا ذائقہ ان کے وجود کی واضح نشاندہی کرتا ہے اس حوالےسے ادا جعفری، پروین فنا سید، شبنم شکیل، پروین شاکر، شاہدہ حسن، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض اوراس میں چند اور جینوئین شاعرات کا اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے‘‘۔
——
پروین فنا سید از امجد اسلام امجد
——
پروین فنا سید کی شاعری ، عفت فکر اور پاکیزگی و احساس کی شاعری ہے ۔
غزل کی سی صنف شعر میں بھی ، جس میں بیشتر شاعروں نے علامت اور استعارے کے توسط سے کھل کھیلنے کی آزادی کا مظاہرہ کیا ہے ، فنا کی یہی انفرادیت نہایت سلیقے اور خوبصورتی سے اظہار پاتی ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : پروین شاکر کا یوم وفات
——
لطف کی بات یہ ہے کہ کسی بھی مرحلے پر ان کے کسی بھی شعر نے غزل کی لطافت اور نزاکت کو مجروح نہیں کیا بلکہ غزل کی معینہ سمتوں میں ایک اور سمت کا اضافہ کیا ہے ۔
یہ اس خودداری ، انا اور غیرت مندی کی سمت ہے جسے سپردگی کی لذت نے اردو غزل میں بہت کم نمایاں ہونے دیا ہے ۔
نظم میں پروین فنا سید کا یہ نظریۂ حیات اور یہ معیارِ خیال زیادہ واضح صورت میں قاری کے سامنے آتا ہے ۔
وہ ارتقا کی پرستار ہیں مگر ان کا تصورِ انقلاب قطعی طور پر مثبت ہے ۔
جدت ان کی نظر میں ناگزیر ہے لیکن ان کے لیے ہر جدت کو اپنی قدروں ، اصولوں اور معیاروں کی چھلنی سے گزارنا بھی ناگزیر ہے ۔
ہر جدت کو محض جدیدیت کے نام پر قبول کر لینا انہیں منظور نہیں ہے چنانچہ وہ بدعتیں انہیں بے چین کر دیتی ہیں جو ہمارے معاشرے اور تہذیب میں جدت کے نام پر رواج پانے لگی ہیں ۔
تشنج ، بے یقینی ، بدصورتی اور انسان دشمنی کے اس دور میں پروین فنا سید نے خود اعتمادی ، اعتدال ، حسن و جمال اور انسان دوستی سے لبریز شاعری کی ہے ۔
——
منتخب کلام
——
حمدِ باری تعالیٰ
——
جب تیرے حضور سر جھکایا
ہستی کا تمام راز پایا
جب دل پہ تجھے محیط پاؤں
پھر کیوں سرِ کوہِ طُور جاؤں
تو میری وفا کا امتحاں ہے
تو میری انا کا پاسباں ہے
جب بھی تجھے بے نقاب دیکھوں
ہر ذرے میں آفتاب دیکھوں
یہ میرا قلم یہ میری دولت
شاعر کی حیات کی صداقت
یہ تیری ثنا کے گیت گائے
خود اپنی وفا کو آزمائے
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
——
اے میری حیات کے سہارے
دل تیرے سوا کسے پکارے
تو نورِ ازل کا رازداں ہے
تو مہر و وفا کی داستاں ہے
تو قلبِ گداز میں مکیں ہے
مومن کی حیات کا یقیں ہے
پھر بھٹکے ہوؤں کو روشنی دے
انساں کو شعورِ بندگی دے
پھر تجھ سے عطا کی بھیک مانگوں
اُمت کی شفا کی بھیک مانگوں
آدابِ حیا سکھانے والے
یہ میری ردا تیرے حوالے
——
منزلِ حق کی جستجو تم ہو
ایک عالم کی آبرو تم ہو
گلشنِ صدق و آگہی کے امیں
مردِ مومن کی زندگی کا یقیں
عزم و ایماں کی بولتی تصویر
دینِ کامل کی آخری تحریر
قلبِ یزداں میں نورِ تابندہ
لوحِ ہستی پہ حرفِ رخشندہ
ظلم کی آندھیوں میں ابرِ کرم
جہل کی ظلمتوں میں نورِ حرم
تجھ کو اے شاہِ دیں ، ملا یہ مقام
تجھ سے روحِ ازل ہو ہمکلام
عشق میرا تیری وفا کا غلام
اے بقائے حرم، فناؔ کا سلام
——
سلام بحضور امام حسینؓ
——
حسینؓ حرفِ صداقت کی انتہا تم ہو
خد اکو ناز ہے جس پر ، وہ بے نوا تم ہو
حسینؓ عظمتِ انساں کے خواب کی تعبیر
حسینؓ ہمت و جرأت کی بولتی تصویر
حسینؓ جذبۂ ایمان و آگہی کا امیں
کمالِ صبر و رضا ، منتہائے صدق و یقیں
حسینؓ دشتِ بلا خیز میں تنِ تنہا
بھری بہار لُٹا کر بھی سجدہ ریز رہا
حیات و موت سے بیگانہ ایک فردِ عظیم
ادھر تو ایک مسافر ، اُدھر ہزار غنیم
شہیدِ شوق ترے ریزہ ریزہ تن کی قسم
پلک پلک ہے زمانے کی ، تیرے غم سے نم
تری شہادتِ عظمیٰ پہ آج بھی حیراں
خرد کے نشے میں ڈوبا ہوا جدید انساں
فناؔ کی راہ میں تجھ کو ملی حیاتِ دوام
قبول ہو مرے فن ، میری شاعری کا سلام
——
اب تو راہوں کا تصور ہے نہ منزل کی تلاش
تم مری زیست کو ویرانہ بنا دو بھی تو کیا
——
بھنور میں گھرنے کا احساس کم نہ تھا لیکن
اِسے کچھ اور بڑھایا کنارے والوں نے
——
میں آج اپنا پتہ پوچھتی ہوں اِک اِک سے
مرا وجود ہی شاید بچھڑ گیا مجھ سے
——
جب درد کا ہر روپ عیاں ہوتا ہے
انسان پہ یزداں کا گماں ہوتا ہے
——
جس کو تم جسم سمجھتے ہو ، فقط جسم نہ تھا
روح کی آگ دبی تھی اسی پتھر میں کہیں
——
چیخوں کہ چپ رہوں کہ پکاروں لہو لہو
اے شہر کیا ہوئی ، تری مٹی کی آبرو
——
بھول کر تجھ کو بھرا شہر بھی تنہا دیکھوں
یاد آ جائے تو خود اپنا تماشا دیکھوں
مسکراتی ہوئی ان آنکھوں کی شادابی میں
میں تری روح کا تپتا ہوا صحرا دیکھوں
اتنی یادیں ہیں کہ جمنے نہیں پاتی ہے نظر
بند آنکھوں کے دریچوں سے میں کیا کیا دیکھوں
وقت کی دھول سے اٹھنے لگے قدموں کے نقوش
تو جہاں چھوڑ گیا ہے وہی رستہ دیکھوں
یوں تو بازار میں چہرے ہیں حسیں ایک سے ایک
کوئی چہرہ تو حقیقت میں شناسا دیکھوں
——
جدھر نظریں اٹھائیں تیرگی ہے
ہماری زندگی کیا زندگی ہے
یہ منزل ہے تو اے اصحاب منزل
یہ میری روح میں کیا تشنگی ہے
یہ غم کی انتہا ہے یا وفا کی
نظر میں پیاس ہونٹوں پر ہنسی ہے
یہ دل میں درد چمکا یا کوئی یاد
یہ کیسی آگ کی سی روشنی ہے
خرد کی انتہا مجھ سے نہ پوچھو
جب اس کی ابتدا دیوانگی ہے
اسے خطرہ ہے صرف اک فصل گل کا
خزاں کو کس قدر آسودگی ہے
——
تحریر و شعری انتخاب از حرفِ وفا ، مصنف : پروین فنا سید
شائع شدہ : 1974 ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ