اقبال عظیم کا یوم وفات

آج بینائی سے محروم محقق، شاعر اقبال عظیم کا یوم وفات ہے ۔

 پروفیسر اقبال عظیم(پیدائش: 8 جولائی 1913ء – وفات: 22 ستمبر 2000ء)
——
معروف شاعر اقبال عظیم 8 جولائی 1913ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے ۔اُن کے والدسید مقبول عظیم کا تعلق سہارن پور سے تھا۔ خود لکھنؤ اور اودھ میں پروان چڑھے ۔لکھنؤ یونیورسٹی سے 1934ء میں بی اے کی سند حاصل کی۔ پھر آگرہ چلے گئے جہاں سے 1943ء میں آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے کی سند حاصل کی۔اُنہیں ڈھاکا یونیورسٹی سے ریسرچ اسکالر شپ ملی اور ’’ٹیچرز ٹریننگ کالج ، لکھنؤ‘‘ سے تدریسی تربیت بھی حاصل کی۔اقبال عظیم نے باقاعدہ تدریس کا آغاز’’گورنمنٹ جوبل کالج ، لکھنؤ ‘‘ سے کیا۔ساڑھے گیارہ برس یوپی کے سرکاری مدارس میں پڑھاتے رہے ۔جولائی 1950ء میں مشرقی پاکستان آگئے اور تقریباً بیس برس تک یہیں پر سرکاری ڈگری کالجوں میں پروفیسر اور صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے ۔ اپریل 1970ء میں بینائی زائل ہونے کے سبب اپنے عزیز و اقارب کے پاس کراچی تشریف لے آئے ۔اُنہوں نے اپنی بے نگاہی کا ماجرا بھی اپنے ایک شعر میں خود ہی بیان کر دیا ہے :
——
مجھے ملال نہیں اپنی بے نگاہی کا
جو دیدہ ور ہیں اُنہیں بھی نظر نہیں آتا
——
اقبال عظیم کراچی آنے کے بعد 1965ء تا 1970ء سندھ کے صوبائی سیکریٹریٹ میں ایک تحقیقاتی افسر کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے ۔
اردو شاعری کا آغاززمانہ طالب علمی سے ہی کیا ۔نعت نگاری میں آپ نے خصوصی مقام پایا۔ ۔1970ء کے بعد مستقل کراچی ہی میں قیام پذیر رہے یہاں تک کہ 22 ستمبر 2000ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔
——
تصانیف
——
مضراب (1975ء) غزلوں کے مجموعہ
لبَ کشا ۔ نعتیہ مجموعہ
قاب قوسین ،کراچی،ایوانِ اُردو، جون 1977ء، نعتیہ مجموعہ
بوئے گُل شاعری
نثر وحشت
زبور حرم کلیات نعت
محاصل ناشر،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس.دہلی ، 1987ء (شعری کلیات)
مضراب و رباب شاعری
نادیدہ شاعری
چراغ ِآخری شب شاعری
سات ستارے سوانح
——
نعت کے قادرالکلام اور عظیم شاعر ۔ پروفیسر اقبال عظیم
——
پروفیسر اقبال عظیم – قافلے کے پڑاؤ میں
پروفیسر اقبال عظیم اور سید فخرالدین بلے (داستان رفاقت)

نعت کے عظیم شاعر پروفیسر اقبال عظیم کی یادوں کے اجالوں سے میرے گھر کےدرودیوار آج بھی جھلملارہے ہیں ۔ان کا اپنائیت اور محبت کے ساتھ تشریف لانا،ان کی بصیرت افروز نعتوں سے ہمارا لطف اٹھانا،ہر ہر نعت کے ایک ایک شعر میں مخفی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےتابناک پہلووں سےحرم ِ دل کاجگمگانا اورعشق و محبت میں ڈوبے ہوئے آتش ِ شوق کو بھڑکانا اسی وقت کیلئے نہیں تھا۔ لگتا ہے وقت کا سفر ٹھہر کر رہ گیا ہے یا میں اپنے عہد ماضی میں واپس آگیا ہوں ۔میں اب بھی اپنے گھر کی بیٹھک میں انہیں نعت سرا دیکھ رہاہوں ۔ میرے والدِ بزرگوارسید فخرالدین بلے کاانگ انگ انہیں داد دے رہا ہے اور محترم احمد ندیم قاسمی تصویرِ حیرت بنے ہوئے ہیں ۔
——
یہ بھی پڑھیں : علامہ اقبال کا یوم پیدائش
——
پنجاب کےجاڑے ابھی اپنے جوبن پر نہیں پہنچے تھے۔ یوں سمجھ لیجے کہ ہم پنجاب کے رہنے والوں کے لیے تو موسمِ سرما کا آغاز ہی ہوا چاہتا تھا ۔ ایک روز ادب ِ لطیف کی پرچارک محترمہ صدیقہ بیگم آئی ہوئی تھیں اور ہماری والدہ ماجدہ محترمہ مہرافروز بلے کے ساتھ محوِ گفتگو تھیں ۔ ہم اپنی دونوں ماؤںکےبیچگھرےبیٹھےتھےکہاچانکفونکیگھنٹیبجی۔ہم نے دوسری یا تیسری ہی بیل پر فون اٹھایا اور السلام علیکم کہا جوابا“ محترم جناب احمد ندیم قاسمی صاحب کی آواز میں وعلیکم السلام سنائی دیا ۔ انہوں نے والدگرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب اور دیگر اہل خانہ کی خیریت دریافت کی اور مجھ سے تصدیق چاہی کہ آپ گھر پر ہی ہیں۔ ہم نے عرض کیا بالکل شام پانچ بجے تک تو یقینی طور پر ۔ آپ حکم فرمائیے ۔ قاسمی صاحب نے مسکراہٹ بھرے لہجے میں فرمایا ہم نے گزارش یہ کرنی تھی کہ پروفیسر اقبال عظیم صاحب لاہور تشریف لائے ہوئے ہیں ۔آج کسی وقت میرے پاس بھی آنے کا ارادہ تھا لیکن ان کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی ۔ موسم کے چال چلن بدلنے کا احساس تو ہمیں بھی ہورہا ہے۔ کراچی کے رہنے والوں کےلیے یقینا“ یہ موسم سرما ہی ہے ۔ لیکن خیر اقبال عظیم صاحب نے مجلس کے دفتر آنے سے تو معذوری ظاہر فرمادی ہے اور کہا ہے کہ فخرالدین بلے کے ہاں اطلاع بھجوادیں کہ گھنٹہ بھر میں ہم ان کے ہاں پہنچ جائیں گے۔ کیوں کہ گھر جیسا آرام اور سکون تو بےشک یا وقار میاں اور بلےؔ میاں کے ہاں ہی مل سکے گا ۔ ہم نے قاسمی صاحب سے عرض کیا کہ آپ نے تو بہت بڑی خوشخبری سنا دی ۔ قاسمی صاحب نے فرمایا کہ انہوں نے سہہ پہر مجھے بھی آپ کے ہاں طلب فرمایا ہے۔ قصہ مختصر ہم نے قاسمی صاحب سے اپنی بات ختم ہونے کے فورا“ بعد اپنی دونوں والداؤں کومطلع کیا۔دونوں نے ہی ہماری بریکنگ نیوز پر خوشی کا اظہار کیا۔
(یہ وضاحت غیر ضروری سہی لیکن میں کرنا چاہتاہوں کہ میں محترمہ صدیقہ بیگم کااحترام اپنی ماں کی طرح ہی کرتاہوں اور کرتا رہا ہوں ۔اسی لئے میں انہیں پیار اور لاڈ کے ساتھ ہمیشہ امی جان ہی کہتا اور سمجھتا رہاہوں۔) جب ہم نے اپنی امی کو یہ بھی بتایا کہ ان کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔لہٰذا سب سے پہلے ان کے لیے بیڈ روم سیٹ کرتا ہوں تاکہ آتے کے ساتھ ہی اگر وہ آرام کرنا چاہیں تو کوئی دشواری نہ ہو۔ جلدی جلدی ان کیلئے بیڈ روم سیٹ کیا اور ساتھ ساتھ ڈرائنگ روم میں موجود تخت کا کور بھی تبدیل کردیا۔ کیا معلوم ؟ جناب اقبال عظیم صاحب آنے کے بعد کہاں آرام کرنا پسند فرمائیں۔ کچھ ہی دیر میں ہم نے کھڑکی سے دیکھا کہ والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب آگئے اور ان کو دیکھ کر ہم چونک سے گئے کہ ابو جان آج دوپہر کے 12 بجے سے بھی قبل دفتر سے گھر کیسے آگئے ؟۔ اس سے قبل کہ ہم کچھ اور سوچ پاتے ہم نے دیکھا کہ ابو اپنی سیٹ سے اتر کر گاڑی کی دوسری جانب آئے اور دروازہ کھولا اور بہت خیال اور آرام سے ہاتھ سے پکڑ کر اقبال عظیم صاحب کو اتار کر گھر کے اندر لا رہے ہیں ۔ یہ دیکھ کو تو ہم بھاگ کر باہر پہنچے اور اقبال عظیم صاحب کا ہاتھ تھام کر مودبانہ انداز میں سلام عرض کیا اور اندر تک لانے میں ابو کی مدد کی. ابو جان اورمیں نے اقبال عظیم صاحب کو ڈرائنگ میں بچھے تخت پر بٹھوایا۔وہ واقعی کچھ تھکے تھکے سے لگ رہے تھے ۔ میں نے ابو جان سے دریافت کیا کہ آپ کو اقبال صاحب کی آمد کی اطلاع کس نے دی تو انہوں نے بتایا کہ احمدندیم قاسمی صاحب کا دفتر کے نمبرپر ہی فون آیا تھا۔ انہوں نےمجھے بتایا کہ وہ ظفر کو مطلع کرچکے ہیں ۔لیکن اقبال بھائی کون سا روز روز لاہور آتے ہیں، لہذا اپنے دفتری کام آدھے ادھورے چھوڑ کر گھنٹہ ڈیڑھ کےلیے دفتر سے نکل کر خود ہی ان کو لینے چلا گیا ۔
——
یہ بھی پڑھیں : اقبال عظیم کا یوم وفات
——
اقبال عظیم صاحب کےاچانک آنے سے خوشی کی ایک لہرپورے گھر میں دوڑ گئی۔ ادبی موضوعات پر گفتگو بھی ہوئی۔میرا بچپنا کہئے یا معصومیت یا اسے کوئی اور نام دے دیں لیکن میں نے ایک ہی سانس میں ان بہت سی نعتوں کی فرمائش کردی جو میں ٹی وی یاریڈیو پر ان کی زبانی سنتارہایا ادبی اور نعتیہ محفلوں میں مجھے یہ مقبول نعتیں سننے کی سعادت حاصل ہوئی ۔میں نے ایک ہی سانس میں جتنی نعتوں کی فرمائش کی ،ان میں چندایک کے ابتدائی مصرعے میرے لوح ِ دماغ پراس و قت بھی جگمگا اٹھے ہیں۔ آپ بھی سن لیں ۔پھر بتاؤں گا کہ اس فرمائش پر حضرت اقبال عظیم سے پہلے محترم احمد ندیم قاسمی صاحب نے کیا کہا۔ میرا فرمائشی پروگرام ان نعتوں کےحوالے سے تھا۔
مجھ کو بھی کاش جلوۂ خضریٰ دکھائی دے
مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر،ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں
کیا خبر کیا سزا مجھ کو ملتی میرے آقا نے عزت بچا لی
سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں،لیکن آقا کا منصب جدا ہے
میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں اپنے آقا کو میں نذر کیا دوں
یہ واقعی ایسی نعتیں ہیں کہ جب اس کے خالق کی زبان پر آتیں تو فضائیں جھوم اٹھتی تھیں ۔احمد ندیم قاسمی صاحب نے میرا فرمائشی پروگرام سن کرفرمایا کہ میں بھی چاہتا ہوں کہ آپ کی خواہش پوری ہو لیکن اس کیلئے ایک شام بھی ناکافی ہوگی اور ہم تو گھنٹوں کیلئے نہیں ، منٹوں کیلئے آئے ہیں ۔ اقبال عظیم صاحب نے فرمایا ظفرمیاں میں آپ کی فرمائش ضرور پوری کروں گا ، آج نہیں ۔ان شااللہ آئندہ ملاقات پر اور وہ بھی آپ ہی کے گھر پر ہوگی ۔ان کا ردعمل حوصلہ افزا تھا۔ میرے والد بزرگوار سید فخرالدین بلے شاہ صاحب نے اقبال عظیم صاحب کے حوالے سےچند تحسینی کلمات پیش کئے اور کہا کہ اقبال عظیم صاحب کی نعتیہ شاعری گواہی دیتی نظر آتی ہے کہ یہ فنافی الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منزل پر فائز ہیں ۔انہیں ایک بار نہیں زندگی میں دوبار ہجرت کی سعادت حاصل ہوئی۔بھارت کے شہر میرٹھ سےان کی زندگی کاسورج طلوع ہوا تھا۔تقسیم ِ ہند کے بعد یہ ہجرت کرکے مشرقی پاکستان چلے گئے۔مشرقی پاکستان جب مملکت ِ خدادادِ پاکستان سے الگ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا تو یہ وہاں سے ہجرت کر کےکراچی جابسے۔ مشرقی پاکستان میں بھی انہوں نے خوبصورت نعتوں کی بنیاد پردھوم مچائے رکھی اور پھر روشنیوں کے شہر کراچی میں بھی نعتوں کے گلاب مہکا کردنیائے ادب میں مدحیہ شاعری کی بنیاد پر خوب نام کمایا۔
——
یہ بھی پڑھیں : وقار عظیم کا یوم وفات
——
ان کی نعتیں کانوں کے راستے سننے والوں کے دلوں میں اترتی چلی جاتی ہیں ۔بصارت سے محرومی کے باوجود ان کی چشم ِ بصیرت واہے۔بہرحال میں ہی کیا ایک زمانہ ان کی نعتوں کامداح ہے۔کیا کہوں ،ان کے اس شعر پر ہی اپنی گفتگو کوختم کرنا چاہتاہوں ۔
——
بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے
مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ
——
احمد ندیم قاسمی نے بھِی اپنے مخصوص انداز میں اختصار کے ساتھ اقبال عظیم صاحب کوسلامی دی ۔یہ بھی کہا کہ آج کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ مہمان اقبال عظیم اور میزبان سید فخرالدین بلے دونوں کی جنم بھومی میرٹھ ہے ، دونوں نے ہجرت کرکے پاکستان میں بسیراکرلیا اور دونوں حب الوطنی کےجذبے سےسرشار ہیں۔ دونوں پر نعتیہ مضامین اوپر سے اترتے ہیں اور ان دونوں شخصیات کانعتیہ رنگ الگ الگ ہے۔اس گفتگو کے بعد ہماری بیٹھک میں اقبال عظیم کی مترنم نعتوں کی بازگشت تادیر سنائی دیتی رہی ۔طبیعت کی ناسازگاری کے باوجود انہوں نے اپنابہت سے نعتیہ کلام سنا کر یہ محفل لوٹ لی لیکن اس کی خوبصورت یادیں آج بھی میرا سرمایہ ہیں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ انہیں اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
جناب طفیل ہوشیارپوری ۔ جناب حفیظ تائب ۔ محترمہ صدیقہ بیگم ۔ جناب خالد احمد ۔ جناب شہزاد احمد ۔ جناب نجیب احمد ڈاکٹر اجمل نیازی ۔ جناب سلطان ارشدالقادری۔جناب شاہد واسطی ، جناب ظفر علی راجا ۔ بیدار سرمدی ۔ اسلم کولسری صاحب اور سرفراز سید صاحب نے بھی حسب روایت قافلے کے اس پڑاؤ میں بھی بھر انداز میں شرکت فرمائی۔
پروفیسر اقبال عظیم صاحب کے فن نعت گوئی کے حوالے سے تمام شرکائے قافلہ پڑاؤ نے اظہار خیال فرمایا۔
——
یہ بھی پڑھیں : کیف عظیم آبادی کا یومِ پیدائش
——
پروفیسر اقبال عظیم ایک ایسا ادبی ستارہ تھے جو آسمانِ ادب پر قریباً ستر پچھتر برس تک جگمگانے کے بعد 22ستمبر 2000 کو نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔لیکن انہوں نے جویادگار شعری مجموعے چھوڑے ہیں ،ان کی روشنی سے دنیائے ادب اب بھی جگمگارہی ہے ۔چند شعری مجموعوں کے نام بھی ان کی فکر کی وسعت ، خیال کی رفعت ،احساسات کی نظافت اوردل ِ بینا کی بصارت و بصیرت کا پتا دیتے ہیں ۔
——
منتخب کلام
——
حمدِ باری تعالیٰ
——
تیری مدحت اور میں، معذور و سرتاپا قصور
میں کہاں سے لاؤں اتناحوصلہ، اتنا شعور
صرف تیرے آسرے پر لب کشا ہوتا ہوں میں
اس سعادت کی مجھے توفیق دے ربِّ غفور
غنچہ و گل آئنہ تیرے جمالِ قدس کا
ماہ و انجم سے عیاں تیری تجلی، تیرا نور
ہے رواں تیرے اشارے پر نظامِ کائنات
گردشِ افلاک بھی سجدہ کناں تیرے حضور
ذره ذره خاکداں کا تیری عظمت کا نقیب
بوٹا بوٹا گلستاں کا تیری قدرت کا ظہور
سرخرو ہیں تیری رحمت سے ترے سجدہ گزار
سرنگوں ہے تیرے آگے کفر و باطل کا غرور
مل چکا اقبالؔ کو سب کچھ تری سرکار سے
بخش دے اس کی خطائیں بھی مرے ربِّ غفور
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و سلم
——
مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
جبیں افسردہ افسردہ قدم لغزیدہ لغزیدہ
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ
نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ
کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ
کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ
کہاں میں اور کہاں اس روضہ اقدس کا نظارہ
نظر اس سمت اٹھتی ہے مگر دزدیدہ دزدیدہ
غلامانِ محمد دور سے پہچانے جاتے ہیں
دلِ گرویدہ گرویدہ سرِ شوریدہ شوریدہ
مدینے جا کے ہم سمجھے تقدس کس کو کہتے ہیں
ہوا پاکیزہ پاکیزہ فضا سنجیدہ سنجیدہ
بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے
مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ
وہی اقبال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر
فراقِ طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ
مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ
جبیں افسرہ افسردہ قدم لرزیدہ لرزیدہ
——
مجھے ملال نہیں اپنی بے نگاہی کا
جو دیدہ ور ہیں انہیں بھی نظر نہیں آتا
——
میں غزل گو ہوں ، قصیدہ تو نہیں کہہ سکتا
کیا کروں لہجۂ دربار کہاں سے لاؤں ؟
——
اُتر کر قصرِ عالی سے ہمارے رُوبرو آؤ
بلندی سے ہمارے قد کا اندازہ نہیں ہو گا
——
دامانِ توکل کی یہ خوبی ہے کہ اس میں
پیوند توہو سکتے ہیں ، دھبے نہیں ہوتے
——
ہم ماتھے پہ بَل ڈال کے بازار سے گزرے
ہم جیسے فقیروں کو کوئی دے بھی تو کیا دے
——
تم آج ہمیں غیر سمجھتے ہو تو سمجھو
اوروں سے ملو گے تو ہمیں یاد کرو گے
——
صرف رہبر ہی کو ہر بات کا الزام نہ دو
راہ دشوار ہے اور ساتھ ہے نادانوں کا
——
روشنی مجھ سے گریزاں ہے تو شکوہ بھی نہیں
میرے غم خانے میں کچھ ایسا اندھیرا بھی نہیں
پرسشِ حال کی فرصت تمھیں ممکن ہے نہ ہو
پرسشِ حال طبیعت کو گوارا بھی نہیں
یوں سرِ راہ ملاقات ہوئی ہے اکثر
تم نے دیکھا بھی نہیں، ہم نے پکارا بھی نہیں
عرضِ احوال کی عادت بھی نہیں ہے ہم کو
اور حالات کا شاید یہ تقاضا بھی نہیں
بے نیازانہ گزر جائے گزرنے والا
میرے پندار کو اب شوقِ تماشا بھی نہیں
ہاتھ پھیلاؤں میں عیسیٰ نفسوں کے آگے
درد پہلو میں مرے ہے مگر اتنا بھی نہیں
اک شکن ماتھے پہ دیکھی تھی تمھارے ہم نے
پھر کبھی آنکھ اٹھا کر تمھیں دیکھا بھی نہیں
آخری بار ہنسی آئی تھی کب، یاد نہیں
اور پھر آئے ہنسی اس کی تمنا بھی نہیں
میرے حالات نہ بدلے تو نہ بدلیں اقبالؔ
مجھ کو حالات پہ کچھ ایسا بھروسہ بھی نہیں
——
مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا، سرِ بزم رات یہ کیا ہوا
مری آنکھ کیسے چھلک گئی، مجھے رنج ہے یہ برا ہوا
مری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیں
ابھی روشنی ابھی تیرگی، نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا
مجھے جو بھی دشمنِ جاں ملا وہی پختہ کارِ جفا ملا
نہ کسی کی ضرب غلط پڑی، نہ کسی کا تیر خط ہوا
مجھے آپ کیوں نہ سمجھ سکے یہ خود اپنے دل ہی سے پوچھیے
مری داستانِ حیات کا تو ورق ورق ہے کھلا ہوا
جو نظر بچا کے گزر گئے مرے سامنے سے ابھی ابھی
یہ مرے ہی شہر کے لوگ تھے مرے گھر سے گھر ہے ملا ہوا
ہمیں اس کا کوئی بھی حق نہیں کہ شریکِ بزمِ خلوص ہوں
نہ ہمارے پاس نقاب ہے نہ کچھ آستیں میں چھپا ہوا
مرے ایک گوشۂ فکر میں، میری زندگی سے عزیز تر
مرا ایک ایسا بھی دوست ہے جو کبھی ملا نہ جدا ہوا
مجھے ایک گلی میں پڑا ہوا کسی بدنصیب کا خط ملا
کہیں خونِ دل سے لکھا ہوا، کہیں آنسوؤں سے مٹاہوا
مجھے ہم سفر بھی ملا کوئی تو شکستہ حال مری طرح
کئی منزلوں کا تھکا ہوا، کہیں راستے میں لٹا ہوا
ہمیں اپنے گھر سے چلے ہوئے سرِ راہ عمر گزر گئی
کوئی جستجو کا صلہ ملا، نہ سفر کا حق ہی ادا ہوا
——
زہر دے دے نہ کوئی گھول کے پیمانے میں
اب تو جی ڈرتا ہے خود اپنے ہی میخانے میں
جامِ جم سے نگہِ توبہ شکن تک، ساقی
پوری روداد ہے ٹوٹے ہوئے پیمانے میں
سارا ماضی میری آنکھوں میں سمٹ آیا ہے
میں نے کچھ شہر بسا رکھے ہیں ویرانے میں
بے سبب کیسے بدل سکتا ہے رندوں کا مزاج
کچھ غلط لوگ چلے آئے ہیں میخانے میں
اب پرستار نیا طرزِ پرستش سیکھیں
کچھ نئے بت بھی ابھر آئے ہیں بت خانے میں
مجھ پہ تنقید بھی ہوتی ہے تو القاب کے ساتھ
کم سے کم اتنا سلیقہ تو ہے بیگانے میں
میں نے یہ سوچ کے ان سے کبھی شکوہ نہ کیا
بات کچھ اور الجھ جاتی ہے سلجھانے میں
پیاس کانٹوں کی بجھاتا ہے لہو سے اپنے
کتنی بالغ نظری ہے ترے دیوانے میں
اس کو کیا کہتے ہیں اقبالؔ کسی سے پوچھو
دل نہ اب شہر میں لگتا ہے نہ ویرانے میں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ