اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف شاعر اور فلمی نغمہ نگار قمر جلال آبادی کا یوم پیدائش ہے

قمر جلال آبادی(پیدائش 29 فروری 1916ء – وفات 8 جنوری 2003ء )
——
نوٹ : تاریخِ پیدائش قمر جلال آبادی کے مجموعے رشکِ قمر جو کہ دسمبر 1984 میں شائع ہوا ، کے باب قمر جلال آبادی : مختصر سوانح حیات صفحہ نمبر 16 سے لی گئی ہے۔
قمر جلال آبادی کی تاریخ پیدائشقمر جلال آبادی بیسویں صدی کے معروف ہندوستانی شاعر اور بالی وڈ کے مشہور غنائی شاعر اور نغمہ نگار تھے۔
قمر جلال آبادی امرتسر کے قریب واقع ایک قصبہ جلال آباد میں 29 فروری سنہ 1916ء کو پیدا ہوئے، ان کا پیدائشی نام اوم پرکاش بھنداری تھا۔ سات برس کی عمر ہی سے وہ اردو میں شاعری کرنے لگے۔ اس پر گھر سے تو ان کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں ہوئی، البتہ ایک شاعر امر چند امر سے ان کی ملاقات ہوئی تو قمر جلال آبادی کی صلاحیت اور قابلیت دیکھ کر انہوں نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور خوب ترغیب دی۔ انہوں نے ہی اوم پرکاش کا قلمی نام "قمر” رکھا، بعد ازاں قمر نے اپنے وطن کی طرف نسبت کرتے ہوئے "جلال آبادی” کا اضافہ کیا جو اس دور کے شاعروں کا عمومی رجحان تھا۔ امرتسر سے میٹرک مکمل کرنے کے بعد انہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا اور روزنامہ ملاپ، روزنامہ پرتاپ اور نرالا وغیرہ اخبارات میں طبع آزمائی کی۔
سنہ 1940ء کی دہائی کے آغاز میں فلمی صنعت میں پیشہ ورانہ زندگی کے ملنے کے وعدے پر قمر جلال آبادی پونہ پہنچے۔ سنہ 1942ء میں "پنچولی پکچرز پروڈکشن” کی فلم "زمیندار کے لیے نغمے لکھے، یہ ان کی پہلی فلم تھی۔ ان کے تحریر کردہ نغمے بہت مقبول ہوئے، خصوصاً شمشاد بیگم کا گایا ہوا نغمہ "دنیا میں غریبوں کو آرام نہیں ملتا” بہت مشہور ہوا؛ اس نغمے کی ایک یا دو سطریں بہزاد لکھنوی نے لکھی تھیں۔
بعد ازاں قمر جلال آبادی بمبئی منتقل ہو گئے اور وہاں تقریباً چار دہائیوں تک نغمہ نگار کی حیثیت سے کام کیا۔ ان کے ترتیب شدہ نغموں کو متعدد معروف گلوکاروں نے گایا ہے جن میں نور جہاں، جی ایم درانی، زینت بیگم، منجو، امیربائی کرناٹکی، محمد رفیع، طلعت محمود، گیتا رائے، ثریا، مکیش، منا دے، آشا بھونسلے، کشور کمار اور لتا منگیشکر کے نام قابل ذکر ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر اکبر الہ آبادی کا یوم وفات
——
قمر جلال آبادی کے نغموں میں "سنتی نہیں دنیا فریاد کسی کی” (رینوکا، 1947ء) اور غزل "دل کس لیے روتا ہے پیار کی دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے” (جسے 1947ء کی فلم ملاقات میں نسیم بانو نے گایا تھا) بہت مشہور ہوئے۔ معروف رقاصہ ستارا دیوی نے چاند (1944ء) میں قمر جلال آبادی کے کچھ نغموں پر اپنا فن پیش کیا تھا۔ چاند قمر کی چند انتہائی کامیاب فلموں میں سے ایک ہے۔
——
قمر جلال آبادی دھیمے مزاج اور متنوع شعری کیفیات کا فلمی گیت نگار
——
خوبصورت شاعر اور مدھر فلمی گیتوں کا خالق قمر جلال آبادی کا اصل نام اوم پرکاش بھنڈاری تھا۔ان کی مادری زبان پنجابی تھی۔ 1917 میں امرتسر کے ایک گاؤں ” جلال آباد میں پیدا ہوئے جب انھوں نے لکھنا شروع کیا تو "امر” نام کے ایک خانقائی شاعر ان کو اردو شاعری توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ امر نے قمر جلال آبادی کی شاعری کو متاثر ہی نہیں کیا بلکہ امر نے ان کا تخلص "قمر” (چاند) بھی انھوں نے ہی دیا۔ چالیس کی دہائی میں فلموں میں قسمت آزمانے کے لیے پونا چلے گئے۔ اس زمانے میں فلم میں دلچسپی لینے والا شخص پونے کی راہ لیتا تھا۔ قمر جلال آبادی کو 1942 میں پنچولی پروڈکشن کے زیر تحت بنے والی فلم” زمیندار” میں پہلی بار گیت لکھنے کا کا موقعہ ملا۔ اس کے بعد وہ تقریبا چار/4 دہائیوں تک ممبئی کی فلمی دینا پر چھائے رہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر اکبر الہ آبادی کا یوم پیدائش
——
ایک خوب رو شاعر کے گیتوں میں دل لگی، غم و انبساط، رومان اور گہری معاشرتی معنویت ہوتی تھی1947 میں ان کی فلم ” ملاقات” کا گانا ۔۔ ” دل کس لیے روتا ہے، پیار کی دینا میں، ۔۔۔۔ 1953 مین محمد رفیع اور لتا منگیشکر کا گانا جو فلم ” دو آنسو” کے لیے لکھاتھا۔ بہت مقبول ہوا۔۔۔۔ ” دیکھو میرے سجنا دیکھو مجھے بھول نہ جانا”۔۔ فلم ” ہارڈہ برج” کےگانے بھی انھوں نے ہی لکھے۔ اس فلم کا گانا ۔۔” میرا نام چن چن” ۔۔ آج بھی لوگوں کی زبان پر ازبر ہے۔ اس گانے کوگیتا دت نے گایا تھا۔آشا پوسلے کا گایا ہوا ان کا گانا ۔۔” آئیے مہربان بیٹھے جاں جان "۔۔۔ کو بھی بہت شہرت ملی۔ فلم ” آگ” کا ان کا لکھا ہوا ایک گیت ۔۔” زندہ ہوں اس طرح کی غم زندگی نہیں”۔۔۔ کو کون بھول سکتا ہے!! قمر جلال آبادی کے گیتوں کو نورجہاں، جی۔ ایم درانی، زینت بیگم، منجو، امر بائی کرائستگی، محمد رفیع، گیتا رائے، طلعت محمود، ثریا، مکیش، شمشاد بیگم، منادے،آشا پوسلے، لتا منگیشکر اور کشور کمار نے اپنی آوازیں دیں۔ ان کے قریبی دوستوں میں کلیان جی آنند جی،او پی نیر، امین سایانی قتیل شفائی، بھارت بھوشن، دلیپ کمار، اجیت، راج کپور، محمد رفیع، نذیر حسین، ایس ڈی برمن، شیام سندر، پرتھوی راج، مدن موہن، بادرہ، اوشا منگیشکر، لتا منگیشکر، پردیپ کمار، امیتابچن، ناصر کان، دھرمیندر، پریم چوپڑہ، مکیش، مینا کماری، پردیپ کمار، مناڈے، مبارک بیگم ، شمی کپور اور شمشاد بیگم شمار کئے جاتے ہیں۔
قمر جلا آبادی مذھبی انسان تھے۔ انھوں نے مذہبی شاعری بھی کی۔ وہ ہر روز ‘”بھگوت گیتا” پڑھتے تھے۔ ان کے مطالعوں میں قرآن مجید اور انجیل بھی پڑھتے تھے۔ وہ اپنے والدیں کو اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ انکی ایک بہن جس کے سسرال میں خانگی پریشانیاں اور مسئلے مسائل تھے۔ اپنی اس بہن کو قمر جلال آبادی نے اپنے ” جوہو” والے گھر میں رکھا۔ قمرصاحب عموما گھر پر ھی رھتے تھے۔ اور دوستوں احباب کی محفلیں گھر پر ہی سجاتے تھے۔ ان کے گھر پر دوستوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا، انکی بیوی کا نام ” لیلا وتی” تھا۔ ان کی سات/7 اولادیں تھیں۔ قمر جلال آبادی کی صاحبزادی ” شہبانی سوار”نے قمر صاحب کی ویب سائٹ بنائی ہے۔ اس پر انھوں نے لکھا ہے کی قمر جلا آبادی” ہندی” کے شاعر اور گیت نگار تھے۔ حالانکہ وہ تا حیات اردو میں شاعری اور گیت نگاری کرتے رھے۔ ان کی بیٹی ‘شہبانی سوا ر’ کواردو پڑھنا لکھنا نہیں آتی مگر ان کو اردو کے بے شمار اشعار ازبر ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر پرنم الہ آبادی کا یوم وفات
——
قمر جلال آبادی فلم رائٹر ایسوسی ایشن (آئی۔ پی۔ آر۔ ایس) ممبئی کے بنیاد گزاروں میں شامل ہیں۔ ان کے چند مشہور فلمی گیت یہ ہیں:
——
” اے چاند بتا مجھ کو کیا اس کا نام ہے پیار” ( چاند۔ 1944)
"کیا یہی تیرا پیار ہے” ( مرزا صاحباں 1947)
” بدنام نہ ہوجائے محبت کا فسانہ” (شہید، 1948)
"وہ پاس رہیں یا دور رہیں "( بڑی بہن 1949)
” ایک پردیسی میرا دل لے گیا” (پھگن۔ 1958)
” ڈم ڈم ڈیگا ڈیگا” ( چھلیا 1960)
"میں تو ایک خواب ہو، اس خواب سے تو پیار نہ کر” ( ہمالیہ کی گود میں)
——
منتخب کلام
——
کچھ تو ہے بات جو آتی ہے قضا رک رک کے
زندگی قرض ہے قسطوں میں ادا ہوتی ہے
——
مرے خدا مجھے تھوڑی سی زندگی دے دے
اداس میرے جنازے سے جا رہا ہے کوئی
——
راہ میں ان سے ملاقات ہو گئی
جس سے ڈرتے تھے وہی بات ہو گئی
——
چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہے
اور وہ بھی اس لئے کہ محبت کی بات ہے
میں نے کہا کہ آئے ہو کتنے دنوں کے بعد
کہنے لگے حضور یہ فرصت کی بات ہے
میں نے کہا کی مل کے بھی ہم کیوں نہ مل سکے
کہنے لگے حضور یہ قسمت کی بات ہے
میں نے کہا کہ رہتے ہو ہر بات پر خفا
کہنے لگے حضور یہ قربت کی بات ہے
میں نے کہا کہ دیتے ہیں دل تم بھی لاؤ دل
کہنے لگے کہ یہ تو تجارت کی بات ہے
میں نے کہا کبھی ہے ستم اور کبھی کرم
کہنے لگے کہ یہ تو طبیعت کی بات ہے
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر معراج فیض آبادی کا یوم وفات
——
آواز دے رہی ہے یے کس کی نظر مجھے
شاید ملے کنارہ وہیں ڈوب کر مجھے
چاہا تجھے تو خود سے محبت سی ہو گئی
کھونے کے باد مل گئی اپنی خبر مجھے
ہر ہر قدم پے ساتھ ہوں سایہ ہوں میں ترا
اے بے وفا دکھا تو ذرا بھول کر مجھے
دنیا کو بھول کر تری دنیا میں آ گیا
لے جا رہا ہے کون ادھر سے ادھر مجھے
دنیا کا ہر نظارہ نگاہوں سے چھین لے
کچھ دیکھنا نہیں ہے تجھے دیکھ کر مجھے
——
اک حسین لا جواب دیکھا ہے
رات کو آفتاب دیکھا ہے
گورا مکھڑا یے سرخ گال ترے
چاندنی میں گلاب دیکھا ہے
نرگسی آنکھ زلف شب رنگی
بادلوں کا جواب دیکھا ہے
جھومتے جام سا چھلکتا بدن
ایک جام شراب دیکھا ہے
ہم تو مل کر نہ مل سکے تم کو
تم کو دیکھا کہ خواب دیکھا ہے
——
تیرے خوابوں میں محبت کی دہائی دوں گا
جب کوئی اور نہ ہوگا تو دکھائی دوں گا
میری دنیا میں فقط ایک خدا کافی ہے
دوستو کتنے خداؤں کو خدائی دوں گا
دل کو میں قید قفس سے تو بچا لے آیا
کب اسے قید نشیمن سے رہائی دوں گا
کوئی انساں نظر آئے تو بلاؤ اس کو
اسے اس دور میں جینے پہ بدھائی دوں گا
دیکھ لوں اپنے گریباں ہی میں منہ ڈال کے میں
اپنے حالات کی کس کس کی برائی دوں گا
تم اگر چھوڑ گئے مجھ کو تو یوں تڑپوں گا
ساری دنیا کو غم و درد جدائی دوں گا
تیری ہی روح کا نغمہ ہوں اگر مٹ بھی گیا
میں تجھے دوسری دنیا سے سنائی دوں گا
——
یا رب ترے کرم سے یہ سودا کریں گے ہم
دنیا میں پی کے خلد میں توبہ کریں گے ہم
یوں رسم حسن و عشق کو رسوا کریں گے ہم
تم منتظر رہو گے نہ آیہ کریں گے ہم
آئینے میں خود اپنا تماشا کریں گے ہم
یوں بھی شب فراق گزارہ کریں گے ہم
جب تک نہ نظر آؤ گے ایسا کریں گے ہم
ہر روز اک خدا کو تراشا کریں گے ہم
تجھ کو بٹھا کے دور سے دیکھا کریں گے ہم
یوں بھی ترے غرور سے کھیلا کریں گے ہم
جا تجھ سے بے نیاز ہوئے بھولے تیرا ذکر
تو چاہے گا تو تیری تمنا کریں گے ہم
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ