اردوئے معلیٰ

آج اردو کے نام ور غزل گو ، مرثیہ گو اور منقبت نگار شاعر جناب استاد قمر جلالوی کا یوم وفات ہے ۔

قمر جلالوی
قمر جلالوی(پیدائش: 1887ء – وفات: 24 اکتوبر 1968ء)
——
سید محمد حسین عابدی، استاد قمر جلالوی کی پیدائش 1887ء میں علی گڑھ کے قریب ایک تہذیبی قصبہ جلال میں ہوئی اور انہوں نے آٹھ سال کی عمر سے ہی اشعار موزوں کرنے شروع کردیے۔ انہوں نے کسی بڑے تعلیمی ادارے سے تعلیم حاصل نہیں کی۔ مگر ان کی آواز میں غضب کا درد اور کرب تھا اور ترنم بھی اچھا تھا جس کی وجہ سے سامعین ان کے کلام سے متاثر ہو تے۔
——
معاشی بدحالی
——
کم عمری میں ہی قمر مشاعروں میں شرکت کرنے لگے ان کی شہرت جلال سے نکل کر علی گڑھ پہنچی اور علی گڑھ سے ملک کے دوسرے حصوں میں۔ وہ جلال سے نکل کر میرٹھ چلے گئے اور ایک سائیکل مرمت کی دکان میں میں کام کرنے لگے۔ 24 سال کی عمر میں ہی انہوں نے بہت سے نوخیز شعرا کو اصلاح دینی شروع کر دی تھی۔ تقسیمِ ملک کے بعد وہ پاکستان چلے گئے لیکن وہاں بھی ان کے معاشی حالات ویسے ہی رہے البتہ جب علامہ رشید ترابی کو پتا چلا کہ قمر جلالوی جیسا باکمال شاعر کراچی کی ایک سائیکل کی دکان پر پنکچر لگاتا ہے تو انہوں نے ان کو بلا کر اپنے پاس رکھا اور پاکستانی حکومت سے ان کا وظیفہ مقرر کروایا۔
——
یہ بھی پڑھیں : اسلم انصاری کا یوم پیدائش
——
استادی
——
اپنی قادر الکلامی کے سبب وہ 30 برس کی عمر میں ہی استاد قمر جلالوی کہے جانے لگے تھے۔ یہاں تک کہ یہ لفظ ان کے نام کا جزو بن گیا۔ انہوں نے بہت سے شعرا کے کلام پر اصلاح دی لیکن اپنے کلام کی اشاعت سے بے نیاز رہے۔ وہ بہت خوددار طبیعت کے مالک تھے اس لیے کبھی انہو ں نے کسی کے سامنے دامنِ طلب دراز نہیں کیا اور شاید یہی وجہ رہی کہ ان کی زندگی میں ان کے مجموعہٴ کلام کی اشاعت تک نہیں ہو سکی۔ بعد میں ان کی صاحبزادی کنیز جلالوی نے جو کلام انہیں مل سکا اسے جمع کر کے شائع کروا دیا۔ جو ’رشک قمر‘، ’اوجِ قمر‘ اور ’تجلیاتِ قمر‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ لیکن یہ مکمل کلام نہیں ہے کیوں کہ استاد قمر جلالوی کی غزلیں ان کے مداحوں اور شاگردوں نے اڑا لی تھیں۔ جو اپنے نام سے مشاعروں میں پڑھتے تھے اور بہت سا کلام دوسرے شعرا کے نام سے شائع بھی ہو گیا۔ استاد قمر جلالوی کو مرثیہ نگاری میں بھی کمال حاصل تھا انہوں نے خاصی تعداد میں نوحے اور مراثی لکھے ہیں۔ جنہیں ”غم جاوداں“ کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے۔ 24 اکتوبر 1968ء کو 91 سال کی عمر میں کراچی ہوا۔
——
گلوکاروں کا شاعر
——
قمرجلالوی کو زبان پر بلا کی دسترس حاصل تھی۔ اسی لیے ان کے یہاں فکر کی شدت کم ہے اور زبان کا ذائقہ بہت زیادہ۔ ان کے اشعار سہل ہیں جن میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں ہے اور سامع کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ اسی سادگی کی وجہ سے قمر کے کلام کو ایسی زبردست مقبولیت حاصل ہوئی کہ ہندو پاک کا شاید ہی کوئی ا یسا نامور گلوکار اور گلوکارہ ہو جس نے ان کے کلام کو اپنی آواز نہ دی ہو۔ بلکہ ان کی کچھ غزلوں کو پاکستان کے کئی گلو کاروں اور قوالوں نے صدا بند کیا ہے۔ قمر جلالوی کی چند گائی جانے والی غزلیں بے حد مشہور ہوئیں:
——
کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں ، حبیب ولی محمد، منی بیگم
مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے ، منی بیگم
میرا خاموش رہ کر بھی انھیں سب کچھ سنا دینا ، عابدہ پروین
کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو ، نورجہاں
آئے ہیں وہ مزار پہ ، صابری برادران
——
یہ بھی پڑھیں : روش صدیقی کا یوم پیدائش
——
کتب
——
ان کی درج ذیل کتابیں شائع ہو چکی ہیں:
رشکِ قمر
اوج ِ قمر
تجلیاتِ قمر
غمِ جاوداں
——
اجمالی خاکہ
——
قمر جلالوی نام سیّد محمد حسین، قمرؔ تخلص 1887ء میں قصبہ جلالی، ضلع علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے بچپن میں سیّد زندہ علی سے باقاعدہ اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ ضلع علی گڑھ میں بائیسکل کی دکان تھی، یہی ان کی روزی کا ذریعہ تھا۔ امیرؔ مینائی ان کے روحانی استاد تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے کراچی میں سکونت اختیار کرلی۔ معاش کے لیے پاکستان کوارٹرز میں سائیکل کی دکان کرلی تھی۔ شاعری کے جملہ اصناف سخن پر قادر تھے۔ ہندوستان اور پاکستان میں آپ کے متعدد شاگرد تھے۔
اردور کے نقاد اور شاعراحمد سہیل نے قمر جلالوی کے متعلق لکھا ہے ،” قمرجلالوی کلاسیکی اردو غزل کے بہتریں کلاسیکل شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے. ان کی غزل شاعری اظہار اور حسیت کے منفرد شاعر ہیں ۔آٹھ سال کی عمر میں اشعار کہنا شروع کئے۔ بیس (٢٠) سال کی عمر میں ان کی شاعری کی دھوم مچ چکی تھی اور وہ ایک مقبول شاعر بن گے۔ 24 سال کی عمر میں ہی انہوں نے بہت سے نوخیز شعرا کو اصلاح دینی شروع کر دی تھی۔ یہیں سے لفظ استاد ان کے نام کا سابقہ بن گیا اور کیا چھوٹے کیا بڑے‘ سبھی انہیں استاد کہنے لگے۔جلالی اور علی گڑھ کے اکثر نوجوان اور شعرا انہیں اپنا کلام دکھانے لگے تھے لیکن وہ خود تشنگی سی محسوس کرتے تھے اور اسی لگن نے انہیں اس وقت کے مشہور استاد اور پختہ کار شاعر امیر مینائی اور سیماب اکبر آبادی سے وابستہ کر دیا۔ قمر جلالوی کا نکاح ۱۹۲۹ء میں محترمہ کنیزہ سیدہ سے ہوا جنکے بطن سے ان کی صرف ایک بیٹی کنیز فاطمہ ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد آپ ۱۱، ستمبر ۱۹۴۷ء کو پاکستان تشریف لے آئے۔بہت جلد ہر مشاعرے کا جزو لازمی بن گئے۔ وہ اپنے مخصوص ترنم اور سلاست کلام کی وجہ سے ہر مشاعرہ لوٹ لیا کرتے تھے۔ ان کے کلام میں دہلی اور لکھنو دونوں مکاتب شاعری کی چاشنی، شوخی اور لطافت نظر آتی تھی۔ غزلیات کے علاوہ وہ مرثیے، سلام، منقبت اور رباعیات بھی کہتے تھے اور ان میں بھی ان کے کلام کے سبھی خوبیاں موجود ہوتی تھیں۔استاد قمرؔ جلالوی اپنے وقت کی عہد آفرین شخصیت رہے ۔ حبِ اہلِ بیت علیہما السلام میں ڈوبی آپ کی اردو شاعری رہتی دنیا تک آ پکا نام زندہ رکھے گی
خطیبِ شامِ غریباں حضرتِ مفتی علامہ نصیر الاجتہادی نے قمر جلالوی کی شاعری پر کیا شاندار تبصرہ کیا کہ
استاد قمر جلالوی کی شاعری "مرگ پسر پر کس طرح صبر ہوتا ہے” اور "محراب خنجر کے نیچے کس طرح شکر ہوتا ہے” کی تفسیر ہے ۔
——
مرتضی’ کو خانہ زاد رب اکبر دیکھ کر
بیاہ دی بیٹی پیمّبرۖ نے بڑا گھر دیکھ کر
جب بھی اٹھے گا نبی کی جانشینی کا سوال
فیصلہ ہوگا شب ہجرت کا بستر دیکھ کر
وہ تو یوں کہیے کہ آپہنچے مدینے سے علی
ورنہ لوٹ آۓ بہت سے باب خیبر دیکھ کر
ہوتے ہوں گے کنج مرقد میں فرشتوں کے سوال
ہم سے تو کچھ بھی نہ پوچھا شکل حیدر دیکھ کر
زوج زہرا کا پتا معلوم تھا ورنہ قمر
عرش سے آتا ستارہ سینکڑوں گھر دیکھ کر
——
یہ بھی پڑھیں : امیر مینائی کا یوم پیدائش
——
وفات
——
24 اکتوبر 1968ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ یہ کلاسیکی روایت کے آخری مقبول شاعر تھے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے قدر دانوں نے ان کی حسب ذیل کتابیں شائع کیں۔ ’عقیدتِ جاوداں‘ (سلام اور مراثی کا مجموعہ)، ’رشکِ قمر‘، ’روحِ قمر‘، ’غمِ جاوداں‘، ’اوجِ قمر‘۔
( ان کی لوحِ مزار پر انہی کا یہ شعر کنندہ ہے )
——
ابھی باقی ہیں پتوں پر جلے تنکوں کی تحریری
یہ وہ تاریخ ہے بجلی گری تھی جب گلستاں پر
——
اگر آ جائے پہلو میں قمرؔ وہ ماہ کامل بھی
دو عالم جگمگا اٹھیں گے دوہری چاندنی ہوگی
——
منتخب کلام
——
قمرؔ افشاں چنی ہے رخ پہ اس نے اس سلیقہ سے
ستارے آسماں سے دیکھنے کو آئے جاتے ہیں
——
نشیمن خاک ہونے سے وہ صدمہ دل کو پہنچا ہے
کہ اب ہم سے کوئی بھی روشنی دیکھی نہیں جاتی
——
اگر آ جائے پہلو میں قمرؔ وہ ماہ کامل بھی
دو عالم جگمگا اٹھیں گے دوہری چاندنی ہوگی
——
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
——
اب آگے اس میں تمہارا بھی نام آئے گا
جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو
——
سرمے کا تل بنا کے رخ لا جواب میں
نقطہ بڑھا رہے ہو خدا کی کتاب میں
——
روئیں گے دیکھ کر سب بستر کی ہر شکن کو
وہ حال لکھ چلا ہوں کروٹ بدل بدل کر
——
سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے
کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو
——
شکریہ اے قبر تک پہنچانے والو شکریہ
اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم
——
کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو
نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو
دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے
کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو
مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے
حضور شمع نہ لایا کریں جلانے کو
سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے
کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو
دبا کے قبر میں سب چل دیئے دعا نہ سلام
ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو
اب آگے اس میں تمہارا بھی نام آئے گا
جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو
قمرؔ ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائی
چلے ہو چاندنی شب میں انہیں بلانے کو
——
کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی واللہ تم اٹھ کے آ نہ سکے
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں
بے وجہ نہ جانے کیوں ضد ہے ان کو شب فرقت والوں سے
وہ رات بڑھا دینے کے لیے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں
پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو
سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں
کچھ حسن و عشق میں فرق نہیں ہے بھی تو فقط رسوائی کا
تم ہو کہ گوارا کر نہ سکے ہم ہیں کہ گوارا کرتے ہیں
تاروں کی بہاروں میں بھی قمرؔ تم افسردہ سے رہتے ہو
پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں
——
ہٹی زلف ان کے چہرے سے مگر آہستہ آہستہ
عیاں سورج ہوا وقت سحر آہستہ آہستہ
چٹک کر دی صدا غنچہ نے شاخ گل کی جنبش پر
یہ گلشن ہے ذرا باد سحر آہستہ آہستہ
قفس میں دیکھ کر بازو اسیر آپس میں کہتے ہیں
بہار گل تک آ جائیں گے پر آہستہ آہستہ
کوئی چھپ جائے گا بیمار شام ہجر کا مرنا
پہنچ جائے گی ان تک بھی خبر آہستہ آہستہ
غم تبدیلی گلشن کہاں تک پھر یہ گلشن ہے
قفس بھی ہو تو بن جاتا ہے گھر آہستہ آہستہ
ہمارے باغباں نے کہہ دیا گلچیں کے شکوے پر
نئے اشجار بھی دیں گے ثمر آہستہ آہستہ
الٰہی کون سا وقت آ گیا بیمار فرقت پر
کہ اٹھ کر چل دیئے سب چارہ گر آہستہ آہستہ
نہ جانے کیوں نہ آیا ورنہ اب تک کب کا آ جاتا
اگر چلتا وہاں سے نامہ بر آہستہ آہستہ
خفا بھی ہیں ارادہ بھی ہے شاید بات کرنے کا
وہ چل نکلے ہیں مجھ کو دیکھ کر آہستہ آہستہ
جوانی آ گئی دل چھیدنے کی بڑھ گئیں مشقیں
چلانا آ گیا تیر نظر آہستہ آہستہ
جسے اب دیکھ کر اک جان پڑتی ہے محبت میں
یہی بن جائے گی قاتل نظر آہستہ آہستہ
ابھی تک یاد ہے کل کی شب غم اور تنہائی
پھر اس پر چاند کا ڈھلنا قمرؔ آہستہ آہستہ
——
دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لئے ہوئے
دل کو ہے درد درد کو ہے دل لئے ہوئے
دیکھا خدا پہ چھوڑ کے کشتی کو ناخدا
جیسے خود آ گیا کوئی ساحل لئے ہوئے
دیکھو ہمارے صبر کی ہمت نہ ٹوٹ جائے
تم رات دن ستاؤ مگر دل لئے ہوئے
وہ شب بھی یاد ہے کہ میں پہنچا تھا بزم میں
اور تم اٹھے تھے رونق محفل لئے ہوئے
اپنی ضروریات ہیں اپنی ضروریات
آنا پڑا تمہیں طلب دل لئے ہوئے
بیٹھا جو دل تو چاند دکھا کر کہا قمرؔ
وہ سامنے چراغ ہے منزل لئے ہوئے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات