اردوئے معلیٰ

پیران ِ پیر دستگیر غو ث ِ اعظم شاہ ِ بغداد محبوب ِ سبحانی ، قندیل ِ نورانی حضرت سید محی الدین عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کاعرس ِ مبارک ربیع الثانی میں انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتاہے۔دیس دیس میں بڑی گیارہویں شریف پر محفلیں سجتی ہیں ۔بڑے پیمانے پر نذر نیاز کااہتمام کیا جاتا ہے اور ختم ِ غوثیہ میں قصیدہ ء غوثیہ پڑھا، سنا اور سنایا جاتا ہے ۔ یہ قصیدہ ء غوثیہ ہے کیا؟ یہ ہے محبوب ِ سبحانی ، غوث ِصمدانی حضرت محی الدین عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا ایمان افروز قصیدہ جو انہوں نے اپنے حوالے سے عربی زبان میں اشعار کی صورت میں تخلیق کیا ہے۔ بڑی گیارہویں شریف پر ختم ِ غوثیہ کی محفلیں سجنے کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے۔یہ قصیدہ ء غوثیہ عربی زبان میں ہے ۔اس لئے پاک و ہند کے عقیدت گزاروں کو یہ پتا نہیں چلتاکہ اس قصیدے میں کیا کیا مضامین ہیں ؟۔ غوث ِ اعظم نے قصیدہ ء غوثیہ میں کیا کچھ کہا ہے؟ سلطان الہند خواجہ ء خواجگاں حضرت سید معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان کے سپوت اور قادراکلام شاعر سید عارف معین بلے نے عقیدت گزاروں کی مشکل آسان کردی ہے اور۔ قصیدہ ء غوثیہ ،اب اردو زبان میں ۔ کے زیرعنوان غوث ِ اعظم کےقصیدہ ء غوثیہ کا بڑا رواں دواں اور آسان زبان میں منظوم اردو ترجمہ کردیا ہے۔اب قصیدہء غوثیہ کو پڑھنا، اور سمجھنا مشکل نہیں رہا۔اولیائے کرام اور صوفیائے عظام کی محبت اور عقیدت سید عارف معین بلے کو اپنے والد ِ بزرگوار مایہ ء ناز اسکالر، ادیب، شاعر، ماہر تعلقات ِ عامہ ، ڈیڑھ سو سے زیادہ مطبوعات کے مولف اور محقق سید فخرالدین بلے سے ورثے میں ملی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : قصیدۂ بردہ شریف کا قصیدہ
——
سید فخرالدین بلے نے ایک انتہائی مبسوط کتاب۔ ولایت پناہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالی ٰ وجہہ الکریم ۔ بڑی تدقیق اور تحقیق کے ساتھ لکھی تھی اور اس میں یہ واضح کیا تھا کہ روحانیت کے تمام سلاسل اور مسالک ِ صوفیا ء ولایت پناہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالی ٰ وجہہ الکریم پر جاکر ختم ہوتے ہیں ، سوائے نقشبندیہ مجددیہ سلسلےکے۔ قادریہ سلسلہ عالیہ کے بانی غوث ِ اعظم حضرت سید محی الدین عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ۔بلاشبہ غوث ِ اعظم کے عقیدت گزار پاکستان اور بھارت کے شہر شہر میں ہیں اور جن جن ملکوں میں اردو بولی ، پڑھی یا سمجھی جاتی ہے ،وہاں کے مکینوں کیلئے قصیدہ ء غوثیہ کو سمجھنا اور اس کے مفاہیم و معانی سے فیض یاب ہونا آسان ہوجائے گا۔ عقیدت گزاروں کی اسی سہولت کے پیش نظر معروف شاعر سید عارف معین بلے کی جانب سے کیا جانے والا "قصیدہء غوثیہ اب اردو زبان میں "اہتمام کے ساتھ شریک ِ اشاعت کیاجارہاہے تاکہ قارئین ِ کرام غوث ِ اعظم کے عرس ِ مبارک کے حوالے سے سجنے والی محفلوں میں بھی قصیدہ ء غوثیہ اب اردو زبان میں پڑھ اور سن سکیں ۔اور ان میں معانی کے جو جہان پوشیدہ ہیں ، ان کی سیرو سیاحت سے لطف اندوز ہوسکیں ۔ اب آپ ملاحطہ فرمائیے ، قصیدہ ء غوثیہ اب اردو زبان میں ۔ جس کا منظوم ترجمہ کیا ہے سید عارف معین بلے نے ۔ اس سے پہلےبھی منظوم ترجمہ نگاری کے حوالے سے سیدعارف معین بلے کاکام اور کلام انہی صفحات میں قارئین ِ کرام کی نظروں سے گزرتا رہا ہے۔
اب ملاحظہ کیجیے قصیدہ شریف
——
مجھے پِلائے محبت نے وَصل کے ساغر
کہاشراب سے میں نے کہ لوٹ آ، چل کر
——
شراب دوڑی مِری سمت اپنے جام کے ساتھ
میں مست ہوگیا ، احباب ِ تشنہ کام کے ساتھ
——
کہا یہ میں نے سب احباب سے اِرادہ کرو
مِرے شریک بنو، تم بھی شغل ِبادہ کرو
——
رکھا ہے ساقی نے میرے لئے ،یہ بھر کے جام
ارادہ باندھ لو اور کرلوتُم بھی اپنے نام
——
نشہ چڑھا مجھے ،تُم نے بچی ہوئی پی لی
مِرے مقام کو لیکن نہ پاسکا کوئی
——
اگرچہ آپ سبھی کا مقام اونچا ہے
بلند تر ہے مِری مرتبت ، یہ سوچا ہے؟
——
بلند ہے مِری منزل ، بلند رہنی ہے
یہ حیثیت تو سدا ارجمند رہنی ہے
——
میں یکتا قرب ِ الہیٰ کی بارگاہ میں ہوں
مجھے اُٹھاتاہے وہ، جس کی میں پناہ میں ہوں
——
عطا جو ہوتا ہے پَل پَل کمال کافی ہے
مِرے لئے تو مِرا ذوالجلال کافی ہے
——
پرندہ کوئی نہیں جیسے باز ِ اشہب سا
اِسی طرح ہے مشائخ میں مرتبہ میرا
——
مِرے مقام کی عظمت بھی تُم نے جانی ہے ؟
بتاؤ کیا مِرا ہم سر ہے ،کوئی ثانی ہے ؟
——
مِرے خُدا نے وہ خلعت ، مجھے عطا کی ہے
کہ جس پہ عزم کی اِک بیل بھی سجادی ہے
——
رکھے ہیں تاج کمالات کے مِرے سر پر
خُدا نے کھولا ہے ، راز ِ قدیم بھی یکسر
——
خود اپنے ہاتھ سے عزت کا ہار پہنایا
جو کچھ بھی مانگا ہے ، اُس نے عطا وہ فرمایا
——
بنایا ہے سبھی اقطاب کا مجھے سردار
کسے مجال کہ اِس حُکم سے کرے اِنکار
——
جو جان لیں مِری ہستی کاراز سب قُلزم
زمیں میں پانی چلاجائے اور نشان ہو گُم
——
پہاڑ جان لے تو ریزہ ریزہ ہوجائے
اور اُس میں ریت میں کچھ فرق کب نظر آئے؟
——
کُھلوں میں آگ پہ جس وقت ،وہ بھی سَرد پڑے
نظر ہومُردے پہ،ہوجائیں ، وہ بھی اُٹھ کے کھڑے
——
ہے دوش و فردا و امروز پہ بھی میری نظر
سبھی زمانوں کی دیتے ہیں آپ مجھ کو خبر
——
تَو باز آجاتُو، کس بات سے ہے انکاری
ہے میرا فیض زمانے میں جاری و ساری
——
مِرے مرید ، تُو اب ہوجا عشق سے سرشار
تُو گیت خوشیوں کے گا، چھیڑ اپنے دِل کے تار
——
اُڑا تُو موج بھی اور کر جو تجھ کو آئے پسند
خبر ہے مجھ کو کہ میرا ہے نام سب سے بلند
——
مِرے مرید ، کسی کا بھی تجھ کو ڈَر کیسا ؟
کسی کاخوف بھلا کیوں؟کوئی خطر کیسا
——
مِرے مُرید ، ہے اللہ ہی تو رَب میرا
اُسی نے کی ہیں مجھے رفعتیں بھی ایسی عطا
——
کہ اس سے میں نے ہر اِک اپنی آرزو پالی
کہ اُس سے میری تمنّا ہر ایک بَر آئی
——
اب آسمان و زمیں پر بھی ہے مِرا چرچا
کہ میرے نام کا ہردو طرف بجا ڈنکا
——
مِرے لئے ہوئے ظاہر سعادتوں کے نقیب
یہ نیک بختی کے ہیں پاسبان میرا نصیب
——
خُدا کے شہر سبھی اَصل میں دِیار مِرا
اوراُس پہ میری حکومت ہے ، اِقتدار مِرا
——
یہ دِل کے بننے سے پہلے تھا ،صاف وقت مِرا
بدن سے پہلے مصفّا تھی روح ، بخت مِرا
——
نظر جو ڈالی تو اللہ کے یہ سارے نَگر
ملا کے دیکھ لیا، رائی سے نہ تھے بڑھ کر
——
میں پڑھتے پڑھتے ہوا قطب اور ملی نصرت
اُسی کے صدقے سعادت ہوئی مِری قسمت
——
مِرے مُرید جو گرمی میں روزے دار ہوئے
چمک اُٹھے وہ اندھیروں میں لالہ زار ہوئے
——
ہے ایک رُتبہ یقیناً ہر اِک ولی کیلئے
مگر وجود تو میرا ہے بس نبی کے لئے
——
تمام ولیوں کا اپنا مقام ، اپنا اَدب
نبی کے پائے مبارک پہ ہے مِرا منصب
——
کمال و اوج کا بے شک جو بدر ِ کامل ہیں
میں ہوں انہی کا،میں اُن سے،وہ میراحاصل ہیں
——
وہی نبی کہ جو ہیں ہاشمی بھی، مکّی بھی
وہی نبی مِرے جدّ ہیں، جوہیں حجازی بھی
——
اُنہی کے در سے ہواہے عطا، مقدّر ہے
اُنہی کے صدقے بزرگی مِرا مقدّر ہے
——
تُو اب کسی بھی چُغل خور سے نہ ڈر، اے مُرید
تجھے گزند نہ پہنچا سکے گا شر ، اے مُرید
——
کہ شر پسندوں سے لڑنے میں، میں بھی کامل ہوں
ہے عزم پختہ مِرا، دشمنوں کا قاتل ہوں
——
لڑا ئی میں اوالوالعزمی کا بھی حوالہ ہوں
کہ دشمنوں کو میں اب قتل کرنے والا ہوں
——
میں شہر ِ جیلاں کاباسی ہوں،میں ہوں جیلانی
محی الدین مِرا نام ، فیض لا ثانی
——
ہے چوٹیوں پہ پہاڑوں کی بھی عَلَم میرا
کہ فیض بخش زمانے میں ہے قَدَم میرا
——
مِرے نَسَب کا جوہے، سلسلہ حَسَن سے ہے
[کہ رُتبہ مخدع ہے ، وابستہ پنجتن سے ہے]
——
{سبحان اللہ ، یہ عظمت ، یہ عز و جاہ و حَشَم]
ہیں گردنوں پہ سبھی اولیاء کی میرا قدَم
——
ہے مجھ سے سلسلہ ء قادری عبدالقادر
ایک مشہور مِرا نام ہے عبد القادر
——
جوہیں کمال کا منبع، وہی توجَد ہیں مِرے
ہے خو ش نصیبی مِری ، نانا محمد ہیں مِرے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات