اردوئے معلیٰ

نبی آخر کی شان میں نعتوں کا پہلا دیوان ، دیوانِ ابی طالب

 

کائنات میں نبی آخر کی شان میں نعتوں کا پہلا دیوان حضرت ابو طالب کا نعتیہ دیوان قرار دیا جاتا ہے۔ شاعری زمانہ نبوت میں ہر شخص کے لیئے باعث سعادت سمجھی جاتی تھی اسی تناظر میں حضرت ابوطالب بھی شاعر بھی تھے اور ان کے بے شمار اشعار تاریخ میں ملتے ہیں۔
دیوانِ ابی طالب امام علیؑ کے والد ماجد اور پیغمبر اکرم کے چچا حضرت ابوطالب کے اشعار کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں لکھی گئی ہے جسے ابوہفّان مہزمی اور علی بن حمزہ بصری نے مرتب کی ہیں۔ ابوہفان مہزمی دوسری صدی ہجری کے اواخر میں بصرہ میں پیدا ہوئے جبکہ علی بن حمزہ چوتھی صدی ہجری کے اوائل میں بصرہ میں پیدا ہوئے
کہا جاتا ہے کہ دیوانِ ابی طالب میں موجود اشعار کی تعداد ابوہفّان اور ابن حمزہ کے مطابق تقریبا 400 ہیں؛ لیکن “الدرۃ الغراء فی شرح شعر شیخ البطحاء” نامی شعری مجموعہ جو باقر قربانی زرین کی تحقیق اور کوشش سے تدوین ہوئی ہے اس میں اشعار کی تعداد 800 ہیں۔
دیوانِ ابی طالب پر تحقیق کرنے والے محقق محمد حسن آل یاسین کے مطابق وہ دیوانی ابوہفّان اور ابن حمزہ سے منقول ہے اس میں حضرت ابو طالب کے تمام اشعار موجود نہیں ہی؛ بلکہ ان دونوں نے ابو طالب کے بعض اشعار کو جمع کئے ہیں۔ اسی طرح کہا گیا ہے کہ ابو طالب کے وہ اشعار جو ان کے مؤمن ہونے پر دلالت کرتے ہیں ان کی تعداد 300 سے زیادہ ہیں۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ابوطالب کے اشعار کی مجموعی تعداد 4000 سے بھی زیادہ بتایا جاتا ہے
——
یہ بھی پڑھیں : شایانِ شان کچھ نہیں نعتوں کے درمیاں
——
حضرت ابو طالب کا مشہور ایک قصیدہ لامیہ ہے جس کی فصاحت و بلاعت پر مختلف ادیبوں نے تعریف و تمجید کی ہے۔
دیوانِ ابی طالب پر مختلف شرحیں لکھی گئی ہیں اسی طرح اس کتاب کا فارسی اور اردو میں ترجمہ بھی ہوا ہے۔
دیوان ابی‌ طالب میں موجود اشعار میں حضرت ابوطالب کے وه اشعار ہیں جنہیں آپ نے پیغمبر اکرم کی تعریف اور حمایت نیز اسلام کی دفاع میں کہے ہیں اسی طرح اس میں وہ اشعار بھی موجود ہیں جنہیں آپ نے حبشہ میں مہاجرین کی قیادت کرنے کے دروان جعفر طیار اور زید بن حارثہ کی تعریف میں کہے ہیں۔ اسی طرح بعض تاریخی واقعات جیسے شعب ابی‌ طالب میں پیغمبر اکرم پر قریش کی جانب سے لگائے گیا اقتصادی اور سماجی پابندی وغیره کے بارے میں بھی ان اشعار میں اشاره ہوا ہے۔
امام علیؑ ان اشعار کو یاد کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ان اشعار کو یاد کرو اور اپنی اولاد کو بھی یاد کراؤ؛ کیونکہ ان اشعار میں علم کا خزانہ چھپا ہوا ہے۔تاریخ اسلام اور تاریخ تشیع کے ماہر سیرت نگار سید جعفر مرتضی عاملی اپنی کتاب “ظُلامۃ ابی‌ طالب” میں دیوان ابی‌ طالب کی تعریف کرتے ہونے اس میں موجود اشعار کو طاغوتوں اور ستمگروں کے مقابلے میں ایک مضبوط قلعہ قرار دیتے ہیں۔ وہ ابو طالب کے اشعار کو چاہے وہ اسلام سے پہلے کہے ہوں یا ظہور اسلام کے بعد، شعر دفاع، شعر جہاد، شعر کرامت و شجاعت، شعر حکمت اور حقیقی احساسات کا مظہر قرار دیتے ہیں
ان کا ایک قصیدہ بہت مشہور ہے جس کا ابن کثیر نے تذکرہ و تعریف کی ہے۔ یہ سو سے زیادہ اشعار پر مشتمل ہے اور تمام حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدح و ثنا میں ہیں۔ ایک شعر کا ترجمہ کچھ یوں ہے : میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا سچا جانثار ہوں۔ اور انہیں اللہ کا سچا رسول مانتا ہوں۔ خدا نے انہیں دنیا کے لیے رحمت قرار دیا ہے۔ کوئی ان کا مثل نہیں ہے۔ ان کا معبود ایسا ہے جو ایک لمحہ کے لیے بھی ان سے غافل نہیں ہوتا۔ وہ ایسا ممتاز ہے کہ ہر بلندی اس کے آگے پست ہے۔ اور اس کی حفاظت کے لیے ہم نے اپنے سینوں کو سپر بنا لیا ہے۔ خدا اس کو اپنی حمایت و حفاظت میں رکھے اور اس کے نہ مٹنے والے دین کو دنیا پر غالب کر دے۔
——
یہ بھی پڑھیں : کاش اول ہی سے دل ان کا ثنا خواں ہوتا
——
تاریخ ابوالفداء میں بھی ان کے اشعار موجود ہیں۔ ابوالفداء کے دیے ہوئے اشعار میں سے ایک کا ترجمہ یہ ہے: بخدا کفارِ قریش اپنی جماعت سمیت تم (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ میں زمین میں دفن نہ ہوجاؤں۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تم کو جو خدا کا حکم ہے اس کا بے خوف اعلان کرو۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تم نے مجھ کو اللہ کی طرف دعوت دی ہے۔ مجھے تمہاری صداقت و امامت کا محکم یقین ہے اور تمہارا دین تمام مذاہبِ عالم سے بہتر اور ان کے مقابلے میں کامل تر ہے۔ سیرت ابن ہشام میں بھی ان کے اشعار موجود ہیں۔
دیوان ابی‌ طالب پرمختلف شرحیں لکھی گئی ہیں جن میں سے چار بہت اہم ہیں
——
الدّرۃ الغراء فی شعر شیخ البطحاء، ترتیب، تحقیق و پیشکش: باقر قربانی زرین۔ یہ عربی شرح ہے
غایۃ المطالب فی شرح دیوان ابی‌ طالب، تحریر: محمد خلیل خطیب مصری۔ یہ بھی عربی شرح ہے
شہاب ثاقب فی شرح دیوان ابی ‌طالب، تحریر: سید سبط حسن ہنسوی، یہ اردو زبان میں ہے
دیوان ابی‌طالب، تحقیق: محمد تونجی جس کا فارسی میں ترجمہ سیدہ رقیہ احمدی نے کیا ہے۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ