اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر راجیش ریڈی کا یومِ پیدائش ہے ۔

راجیش ریڈی( پیدائش: 22 جولائی 1952ء )
——
مختصر سوانح
——
نام : راجیش ریڈی
ولدیت : شیش نارائن ریڈی
مقامِ پیدائش : ناگپور ( مہاراشٹر )
پرورش : جئے پور ( راجستھان )
پڑھائی لکھائی : ایم اے ہندی ، راجستھان یونیورسٹی ، جئے پور
روزگار : تین برس تک راجستھان پتریکا ( جئے پور ) کی اتواری پتریکا میں سب ایڈیٹر
1980 ء سے آل انڈیا ریڈیو میں
جالندھر ، جئے پور ، الموڑہ اور رِتنا گری ہوتے ہوئے اِن دنوں وِوِدھ بھارتی ممبئی میں اسٹیشن ڈائریکٹر
تخلیقی سفر : جئے پور تھیٹر میں بطور ڈرامہ نگار اور ڈائریکٹر
ریڈیو میں سنسکرت کے مہا کوی جئے دیو کے ، گیت گووند ، کا ریڈیو اڈا پٹیشن ، میوزک ڈائریکشن اور ڈائریکشن
بطور موسیقار کبیر کے پدوں ، دوہوں اور مرزا غالب کی چنیدہ غزلوں کو اسٹیج پر پیش کیا ۔
شاعری کی شروعات : 1975 ء سے
——
یہ بھی پڑھیں : خادم رزمی کا یوم وفات
——
پہلا شعری مجموعہ : اُڑان
دوسرا شعری مجموعہ : وجود
ادبی رسالوں اور آل انڈیا مشاعروں میں برابر حصے داری
جگجیت سنگھ ، پنکج اداس ، بھوپندر سنگھ اور راج کمار جیسے بڑے غزل گائیکوں کے البم میں شامل
حال ہی میں انگلینڈ کے سات بڑے شہروں میں غزل کا خاص پروگرامز میں شرکت
——
راجیش ریڈی : جدید طرزِ اظہار کا حیرت یاب غزل گو از پرویز ساحر
——
جدید و قدیم کے حریرِ دو رنگ اور زمانی تقدّم کا عُذر اپنی جگہ مگر غزل میں جدّت زائی لانا کلاسیکی شعریات اور روایت آشنائی بغیر نا ممکن ہے ۔ شاعری تاثّرات و خیالات کا خارجی اظہاریہ ہی سہی’ مگر شاعری میں شعریت اور ادبیت کو کسی طَور دائرہِ اہمیّت سے مستثنیٰ نہیں قرار دیا جا سکتا۔
افسوس کا محلّ ہے کہ زندہ شعری روایت سے نا آشنا اور زبان سے نا بلد کم کوش اور نام نہاد جدید شاعروں کی بے رس غزلیہ شاعری میں مایوس کُن بے مہابانہ روِیّے دیکھنے میں آتے رہتے ہیں۔
شاعر اپنے منتشر ادراک ( Dispersed Cognition) اور فکری آوارگیوں کی شیرازہ بندی کر کے متخیّلہ کی ہنگامہ آرائیوں کا سامان باہم کرتا ہے ۔ شاعری میں یوسفِ مُلک ِ معانی کوئی کوئی ہوتا ہے۔
غزل تمدّنی منزلیں طے کر کے تخلیقی ارتقا (Creative Evolution) کے بعد جس مَقام تک آن پہنچی ہے اب اس نرتکی کی خوش قبائی اور جمالِ جہت آشنا دیدنی ہے ۔ البتّہ منفی غزل کو جدیدیت کے ساتھ متلازِم کرنا نِری جہالت ہے۔
راجیش ؔ ریڈی ؔ کا تعلّق بمبئی ( بھارت ) سے ہے ۔ تا حال ان کا ایک غزلیہ مجموعہ ‘ وجود ‘ ریختہ ویب کے توسّط سے ادبی دنیا میں دھومیں مچا چکا ۔ موصوف کا اصل حوالہ غزل ہی ٹھہرتی ہے ‘ سو دَر اِیں خصوص انتقادیانہ نگاہ ڈالتے ہوئے ان کی غزل کے شعری اوصاف ( Poetic Attributes ) کو مختصرا نشان زد کیا جاتا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : قیوم نظر کا یومِ پیدائش
——
راجیش ریڈی کی غزل میں ‘ لذّت بخش داخلی ہم آہنگی ( Enjoyable Interier Symphonic ) ‘ وجود و عدم ( Being And Nothingness ) کی گنجھلک اور خود کلامی (Internal Monologue) کی بھر مار ٓہے:
——
سچ پوچھیے تو عشق کسی اور کے نہیں
اپنے ہی ‘ انتظـار ‘ میں رہنے کی بات ہے
——
شام کو جس وقت خالی ہاتھ گھر جاتا ہوں میں
مســکرا دیتے ہیں بچّے اور مر جاتا ہوں میں
——
دھوکا ہے’ اک فریب ہے’ منزل کا ہر خیال
سچ پوچھیے تو سارا سفـر واپسی کا ہے
——
زمانے کو نہیں جس کی ضرورت
میں شاید وہ ضــــروری آدمی ہوں
——
اب تو سراب ہی سے بجھانے لگے ہیں پیاس
لینے لگے ہیں کام یقیں کا گمـــــاں سے ہم
——
میں سونے کا بہانہ کر کے اکثر سنتا رہتا ہوں
مِرے بارے میں جو باتیں در و دیوار کرتے ہیں
——
مرے بارے میں باتیں ہو رہی تھیـں
مجھے کہنا پڑا’ مَیں بھی یہیں ہوں
——
یوں دیکھیے تو آندھی میں بس اک شجر گیا
لیــــکن ‘ نہ جانے کتنے پرندوں کا گھرگیا
——
میں روشـنی تھا ‘ مجھے پھــــیلتے ہی جانا تھا
وہ بجھ گئے’ جو سمَجھتے رہے چراغ مجھے
——
راجیش ؔ ریڈی اس قدر شِیستا سے شِیتل اور نِرمل شعر کہتے ہیں کہ بندہ اَش اَش کر اٹھتا ہے۔ ان کے یاں غزل میں روایت اور جدیدیت کچھ اِس طور ہم آمیز ہو گئے کہ بس دیکھا چاہیے :
——
شـــرافت نے مجھ کو کہیں کا نہ چھوڑا
رقیب اپنے خط مجھ سے لکھوا رہے ہیں
——
غم چھپانے کے سو طریقوں میں
مسـکرانا ہی سب سے مشکل ہے
——
ریت پر دُور تکـــــــــ یہ نقش قـــدم
جانے کس شخص کی تکان کے ہیں
——
یہ بھی پڑھیں : افضل گوہر راؤ کا یومِ پیدائش
——
بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں بے وفائی نہ تھی
میں انتظـــــــــــــار نہ کرتا تو اور کیــــــا کرتا
——
جو دکھــــــــائی ہی نہیں دیتا کہیں
دیکھتا رہتا ہوں اس کو دھیان سے
——
بعــــــد مدّت کے تم آئے ہو تو بیٹھـــو بھی ذرا
کام آنکھوں کو مِلا ہے کتنی بے کاری کے بعد
——
دُکھ کی پرتیں کھولنے والے ہوتے ہیں
کچھ ســـــنّاٹے بولنے والے ہوتے ہیں
——
وہ آفتاب لانے کا دے کر ہمیں فــــــــریب
‏ہم سے ہماری رات کے جگنو بھی لے گیا
——
راجیش ریڈی غزل میں نئی معنویت کے با وصف نئے شعری تیور رکھتے ہیں ۔ محیّرالعقول مضمون آفرینی ان کا اصل فنی وَطیرہ ہے:
——
اُن آنکھــوں کی بینائی کس کام کی ہے
جو حیرت سے کم پر راضی ہو جائیں
——
ہم کو بھی تیز لگتی تھی رفتار وقت کی
لیکن یہ انتظار سے پہلے کی بات ہے
——
اِتنی جلـدی نہ گرا اپنے حَسیں رخ پہ نقاب
تو مجھے ٹھیک سے حیران تو ہو لینے دے
——
ساری کی ساری اگـــر مِل بھی گئی دنیا تجھے
یہ بتا تو کیا کرے گا ساری کی ساری کے بعد
——
عمر بھر جن کو عقیــدوں نے لڑائے رکّھــــا
بعد مرنے کے وہ سب ایک ہی رب کے نکلے
——
جــــــاگیں تو احتیاط سے پلکــوں کو کھـــولیے
ایسا نہ ہو کہ آنکھوں سے کچھ خواب گر پڑیں
——
میری آنکھیں یہ کہا کرتی ہیں اکثر مجھ سے
آپ دیکھـی ہوئی چیــزوں کو بہُت دیکھتے ہیں
——
یہ بھی پڑھیں : نسیم امروہوی کا یومِ وفات
——
بعــــد میں ڈوبی ہوگی ناو
پہلے دل ڈوبے ہوں گے
——
سُــورج کی روشــنی تو ہمیں چاہیے، مگر
ہم یہ بھی چاہتے ہیں’ کبھی دوپہَـر نہ ہو
——
راجیش ریڈی جدید غزل کے جمالیاتی منظرنامہ ( Aesthetical Scenario ) میں بندھے ٹکے معیار سے الگ تھلگ (Disunified) ادبی مَقام رکھتے ہیں ۔ راجیش ؔ ریڈی اپنے بیش تر ہم زمانی غزل گویاں کی بَہ نسبت صحیح معنوں میں تازہ بیان اور جدید طرزِ اظہار کے حیرت یاب غزل گو ہیں ۔
——
منتخب کلام
——
سر قلم ہو ں گے کل یہاں ان کے
جن کے منہ میں زبان باقی ہے
——
دنیا کو ریشہ۔ ریشہ اُدھیڑیں ، رفو کریں
آ بیٹھ تھوڑی دیر ذرا گفتگو کریں
——
اوروں سےمدتوں کئی شکوے گلے رہے
پهر یوں ہوا کہ خود سے ملاقات ہو گئی
——
‎ہم کو بھی تیز لگتی تھی رفتار وقت کی
‎لیکن یہ انتظار سے پہلے کی بات ہے
——
کہکشاؤں کو کریدا تو زمانے نکلے
کچھ ستارے مرے غم سے بھی پرانے نکلے
——
اتنی جلدی نہ گرا اپنے حسیں رخ پہ نقاب
تو مجھے ٹھیک سے حیران تو ہو لینے دے
——
پہلے سا لطف تیرے ستم میں نہیں رہا
جی چاہتا ہے کوئی ستم گر نیا ملے
——
کربلا کا کرب دوہرایا گیا ہر عہد میں
کوئی آتا ہی رہا ہے پیاس اور پانی کے بیچ
——
جو میری خامشی کو سُن رہے ہیں
سخن پہ میرے وہ سر دُھن رہے ہیں
سجانے کے لیے اپنی چتائیں
دُکھوں کی لکڑیاں سب چُن رہے ہیں
خوشی میں میری شامل ہیں عدو تو
مگر احباب سب جل بُھن رہے ہیں
کریدے کب کسی کے گھاؤ میں نے
گو میرے پاس بھی ناخن رہے ہیں
ہمیں جس جال میں پھنسنا ہے جاکر
اُسی کو لمحہ لمحہ بُن رہے ہیں
——
میں ہونے میں نہ ہونے کا یقیں ہوں
مری موجودگی ہے، میں نہیں ہوں
مرے بارے میں باتیں چل رہی تھیں
مجھے کہنا پڑا میں بھی یہیں ہوں
میں کمرے میں ہوں، اور کمرا ہے مجھ میں
مکیں میرا وہ میں اسکا مکیں ہوں
کوئی ہے آستیں میرے لیے،اور
کسی کے واسطے میں آستیں ہوں
ہنر میرا چڑھے پروان کیسے
ضرورت سے زیادہ نکتہ چیں ہوں
لیے جاتی تھی بےچینی فلک پر
سکوں کے ساتھ اب زیر زمیں ہوں
——
آخر ہوا انا کا وہ آئینہ خانہ کیا
ہم سے بچھڑ چکا ہے ہمارا زمانہ کیا
بڑھتے ہی جا رہے ہیں مری آستیں میں سانپ
محفوظ ہوتا جاتا ہے میرا خزانہ کیا ؟
تو تھا تو زندگی کی تمنا بھی تھی ہمیں
تیرے بغیر سانس کا آنا نہ آنا کیا
دل اس نے توڑ ڈالا یوں ہی کھیل کھیل میں
اک دل لگی کی بات کو دل سے لگانا کیا
گر کچھ نہیں ہے آپ کے دل میں تو یہ بتائیں
پلکیں جھکانا کیا ہے جھکا کر اٹھانا کیا
محفل میں آنکھوں آنکھ خبر بھی نہیں ہوئی
سادھا ہے کس ادا سے کسی نے نشانہ کیا
مل جاتا ڈھونڈنے سے تجھے بھی کوئی گہر
تو نے کبھی دکھوں کے سمندر کو چھانا کیا ?
یا رب کبھی اتر کے زمیں کو سنوار بھی
اوپر سے ڈالتا ہے نظر طائرانہ کیا
——
حوالہ جات
——
تحریر : پـرویـز سـاحِـرؔ ۔۔ ایبٹ آباد ‘ پاکـــــســــتان )
شائع شدہ 17 جون 2021
شعری انتخاب از فیس بک صفحہ ، راجیش ریڈی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔