اردوئے معلیٰ

Search

آج ہندوستان کے معروف شاعر، مترجم، ماہر السنہ، مورخ اور ادیب رام پرساد بسمل کا یومِ وفات ہے

رام پرساد بسمل(پیدائش: 11 جون 1897ء – وفات: 19 دسمبر 1927ء)
——
رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی اور معروف مجاہد آزادی تھے نیز وہ معروف شاعر، مترجم، ماہر السنہ، مورخ اور ادیب بھی تھے۔ ہندوستان کی آزادی کے لیے ان کی کوششوں کو دیکھ کر انگریزوں نے انہیں خطرہ جانتے ہوئے پھانسی کی سزا دے دی تھی۔
وہ کانگریس کے رکن تھے اور ان کی رکنیت کے حوالے سے کانگریسی رہنما اکثر بحث کرتے تھے، جس کی وجہ بسمل کا آزادی کے حوالے سے انقلابی رویہ تھا، بسمل کاکوری ٹرین ڈکیتی میں شامل رہے تھے، جس میں ایک مسافر ہلاک ہو گيا تھا۔ 11 جون 1897ء (ہندو جنتری کے مطابق بروز جمعہ نرجلا ایکادشی بكرمی سن 1954) کو اتر پردیش کے شاہجہاں پور میں پیدا ہوئے۔ رام پرساد کو 30 سال کی عمر میں 19 دسمبر 1927ء (پیر پوش کرشن نرجلا ایکادشی (جسے سپھل ایکادشی بھی کہا جاتا ہے) بكرمی سن 1984) کو برطانوی حکومت نے گورکھپور جیل میں پھانسی دے دی۔
بسمل ان کا اردو تخلص تھا جس کا مطلب مجروح (روحانی طور پر ) ہے۔ بسمل کے علاوہ وہ رام اور نامعلوم کے نام سے بھی مضمون لکھتے تھے اور شاعری کرتے تھے۔ انہوں نے سن 1916ء میں 19 سال کی عمر میں انقلابی راستے میں قدم رکھا اور 30 سال کی عمر میں پھانسی چڑھ گئے۔
11 سال کی انقلابی زندگی میں انہوں نے کئی کتابیں لکھیں اور خود ہی انہیں شائع کیا۔ ان کتابوں کو فروخت کرکے جو پیسہ ملا اس سے وہ ہتھیار خریدا کرتے اور یہ ہتھیار وہ انگریزوں کے خلاف استعمال کیا کرتے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں، جن میں 11 کتابیں ہی ان زندگی کے دور میں شائع ہوئیں۔ برطانوی حکومت نے ان تمام کتابوں کو ضبط کر لیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : موہن لال رواں کا یوم پیدائش
——
بنكم چندر چٹوپادھیائے نوشتہ وندے ماترم کے بعد رام پرساد بسمل کی تخلیق سرفروشی کی تمنا نے کارکنانِ تحریکِ آزادی میں بہت مقبولیت پائی۔
انہوں نے 1918ء میں شائع انگریزی کتاب دی گرینڈمدر آف رشین روولیوشن کا ہندی ترجمہ کیا۔ ان کے تمام ساتھیوں کو یہ کتاب بہت پسند آئی۔ اس کتاب کا نام انہوں نے كیتھے ران رکھا تھا۔ اتنا ہی نہیں، بسمل نے سشیل مالا سیریز سے کچھ کتابیں بھی شائع کیں تھیں جن میں دماغ کی لہر نامی نظموں کا مجموعہ، کیتھے رائن یا آزادی کی دیوی، برشكووسكی کی مختصر سوانح عمری اور دیسی رنگ اور ان کے علاوہ بولشیویكیوں کے کرتوت نامی ناول شامل تھے۔ دیسی رنگ کے علاوہ دیگر تینوں کتابیں عام قارئین کے لیے آج دور میں بھی کتب خانوں میں دستیاب ہیں۔
ہندوستان کو برطانوی سلطنت سے آزاد کرانے میں یوں تو ہزا رہا بہادروں نے اپنی انمول قربانی دی لیکن رام پرساد بسمل ایک ایسے حیرت انگیز انقلابی تھے جنہوں نے انتہائی غریب خاندان میں پیدائش لے کر عام تعلیم کے باوجود غیر معمولی حوصلہ اور غیر متزلزل عزم کے زور پر ہندوستان پرجاتنتر یونین کے نام سے ملک گیر تنظیم قائم کی جس میں ایک سے بڑھ کر ایک شاندار اور عظیم الفطرت نوجوان شامل تھے بسمل کی پہلی کتاب سن 1916ء میں شائع ہوئی تھی جس کا نام تھا "امریکا کی آزادی کی تاریخ” تھا۔ بسمل کے پیدائش کے سو سال کے موقع پر 1996ء-1997ء میں یہ کتاب آزاد بھارت میں پھر سے شائع ہوئی جس کی رسم رونمائی بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کی۔ اس پروگرام میں آر ایس ایس کے اس وقت کے سرسنگھچالك پروفیسر راجندر سنگھ (رجو بھیا ) بھی موجود تھے۔ اس مکمل گرنتھاولی (مجموعہ کلام) میں بسمل کی تقریبًا دو سو سے زائد نظموں کے علاوہ پانچ کتابیں بھی شامل کی گئی تھیں۔ لیکن آج تک کسی بھی حکومت نے بسمل کے انقلابی فلسفہ کو سمجھنے اور اس پر تحقیق کروانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ جبکہ گاندھی کی طرف سے 1909ء میں ولایت سے ہندوستان لوٹتے وقت پانی کے جہاز پر لکھی گئی کتاب ہند سوراج کئی مذاکرے ہوئے۔
اردو ادبی حلقوں میں بسمل کو جو مقام حاصل ہے، اسی کی مناسبت سے اکثر اہل علم کو ان سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ پروفیسر قمر رئیس اور شبنم رومانی کے سانحات رحلت کو سپردقلم کرتے ہوئے اہل قلم نے بسمل کو اس کی شاعری اور شاہجہاں پور کی ولادت کے لیے یاد کیا گیا جہاں سے ان اہل علم کا بھی تعلق رہا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : منشی نول کشور کا یوم وفات
——
سرفروشی کی تمنا
——
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے یہ غزل جب ہمارے کان میں پڑتی ہے ذہن میں رام پرساد بسمل کا نام ابھر آتا ہے۔ یہ غزل رام پرساد بسمل کی علامت سی بن گئی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس مطلع کے خالق رام پرساد بسمل نہیں بلکہ اس کے خالق شاعر بسمل عظیم آبادی ہیں اور ان کے مجموعہ کلام حکایت ہستی میں کچھ دیگر مختلف اشعار کے ساتھ موجود ہے۔ مگر رام پرساد بسمل نے بھی اسی مطلع کو لے کر اسی زمین پر غزل کہی تھی۔ اور آخری ایام میں ان کا ورد زباں رہی۔
بسمل شاہجہاں پوری سیاست کے علاوہ شعروادب کابھی ذوق رکھتے تھے۔ بسمل شاہجہاں پوری کی غزل سرفروشی کی تمنا عالمی شہرت یافتہ ہے۔ مقدمے کے دوران ان کی کئی نظمیں مشہور ہوئیں، حکام نے ان کے کلام پر پابندی عائد کردی۔ زمانے کی دست برد سے سرفروشی کی تمنا محفوظ غزل ہے اس کے ابتدائی چار شعر اورمقطع لاہور سے جاری ہونے والے اخبار بندے ماترم میں اور بقیہ اورمقطع 1929ء میں "پشپانجلی”میں شائع ہوئے تھے۔ پوری نظم لائق توجہ ہے۔
——
محققین کی آراء
——
رام پرساد بسمل اور اشفاق اللہ خان پر تحقیق کر نے والے سدھیر کہتے ہیں، "سرفروشی کی تمنا” کو رام پرساد بسمل نے گایا ضرور تھا، لیکن یہ غزل بسمل عظیم آبادی کی ہے۔”
مؤرخ پروفیسر امتیاز بھی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ غزل بسمل عظیم آبادی کی ہی ہے۔ پروفیسر امتیاز کے مطابق، ان کے ایک دوست خود۔
رضوان احمد اس غزل پر ایک تحقیق کر چکے ہیں، جسے کئی قسطوں میں انہوں نے اپنے اخبار ‘ عظیم آباد ایکسپریس’ میں شائع کیا تھا۔
بسمل عظیم آبادی کے پوتے منور حسن بتاتے ہیں کہ یہ غزل آزادی کی لڑائی کے وقت قاضی عبد الغفار کی میگزین ‘صباح’ میں 1922ء میں شائع ہوئی تو انگریز حکومت تلملا گئی تھی۔ ایڈیٹر نے خط لکھ کر بتایا کہ برطانوی حکومت نے پرچے کو ضبط کر لیا ہے۔ دراصل، اس غزل کا ملک کی جنگ آزادی میں ایک اہم کردار رہا ہے۔
یہ غزل رام پرساد بسمل کی زبان پر ہر وقت رہتی تھی۔ 1927ء میں سولی پر چڑھتے وقت بھی یہ غزل ان کی زبان پر تھی۔ بسمل کے انقلابی ساتھی جیل سے پولیس کی لاری میں جاتے ہوئے، کورٹ میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوتے ہوئے اور لوٹ کر جیل آتے ہوئے ایک سر میں اس غزل کو گایا کرتے تھے۔
——
منتخب کلام
——
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
راہروِ راہِ محبت رہ نہ جانا راہ میں
لذتِ صحرا نوردی دوری منزل میں ہے
وقت آنے دے بتا دیں گے تجھے اے آسمان
ہم ابھی سے کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
اے شہیدِ ملک و ملت تیرے جذبوں کے نثار
تیری قربانی کا چرچا غیر کی محفل میں ہے
اب نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ وہ ارماں کی بھیڑ
صرف مٹ جانے کی اک حسرت دل بسملؔ میں ہے
——
چرچا اپنے قتل کا اب یار کی محفل میں ہے
دیکھنا ہے یہ تماشہ کون سی منزل میں ہے
دیش پر قربان ہوتے جاؤ تم اے ہندیو
زندگی کا راز مضمر خنجرِ قاتل میں ہے
ساحلِ مقصود پر لے چل خدارا ناخدا
آج ہندوستان کی کشتی بڑی مشکل میں ہے
دور ہو اب ہند سے تاریکیٔ بغض و حسد
بس یہی حسرت یہی ارماں ہمارے دل میں ہے
بام رفعت پر چڑھا دو دیش پر ہو کر فنا
بسملؔ اب اتنی ہوس باقی ہمارے دل میں ہے
——
مٹ گیا جب مٹنے والا پھر سلام آیا تو کیا
دل کی بربادی کے بعد ان کا پیام آیا تو کیا
مٹ گئیں جب سب امیدیں مٹ گئے جب سب خیال
اس گھڑی گر نام اور لیکر پیام آیا تو کیا
اے دل نادان مٹ جا تو بھی کوئے یار میں
پھر میری ناکامیوں کے بعد کام آیا تو کیا
کاش! اپنی زندگی میں ہم وہ منظر دیکھتے
یوں سرِ تربت کوئی محشرخرام آیا تو کیا
آخری شب دید کے قابل تھی ‘بسمل’ کی تڑپ
صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا
——
الٰہی خیر وہ ہر دم نئی بیداد کرتے ہیں
ہمیں تہمت لگاتے ہیں جو ہم فریاد کرتے ہیں
کبھی آزاد کرتے ہیں کبھی بیداد کرتے ہیں
مگر اس پر بھی ہم سو جی سے ان کو یاد کرتے ہیں
اسیران قفس سے کاش یہ صیاد کہہ دیتا
رہو آزاد ہو کر ہم تمہیں آزاد کرتے ہیں
رہا کرتا ہے اہل غم کو کیا کیا انتظار اس کا
کہ دیکھیں وہ دل ناشاد کو کب شاد کرتے ہیں
یہ کہہ کہہ کر بسر کی عمر ہم نے قید الفت میں
وہ اب آزاد کرتے ہیں وہ اب آزاد کرتے ہیں
ستم ایسا نہیں دیکھا جفا ایسی نہیں دیکھی
وہ چپ رہنے کو کہتے ہیں جو ہم فریاد کرتے ہیں
یہ بات اچھی نہیں ہوتی یہ بات اچھی نہیں ہوتی
ہمیں بیکس سمجھ کر آپ کیوں برباد کرتے ہیں
کوئی بسمل بناتا ہے جو مقتل میں ہمیں بسملؔ
تو ہم ڈر کر دبی آواز سے فریاد کرتے ہیں
——
ہم بھی آرام اٹھا سکتے تھے گھر پر رہ کر
ہم کو بھی پالا تھا ماں باپ نے دکھ سہہ سہہ کر
وقت رخصت انہیں اتنا بھی نہ آئے کہہ کر
گود میں آنسو کبھی ٹپکے جو رخ سے بہہ کر
طفل ان کو ہی سمجھ لینا جی بہلانے کو

دیش سیوا ہی کا بہتا ہے لہو نس نس میں
اب تو کھا بیٹھے ہیں چتوڑ کے گڑھ کی قسمیں
سرفروشی کی ادا ہوتی ہیں یوں ہی رسمیں
بھائی خنجر سے گلے ملتے ہیں سب آپس میں
بہنیں تیار چتاؤں پہ ہیں جل جانے کو

نوجوانوں جو طبیعت میں تمہاری کھٹکے
یاد کر لینا کبھی ہم کو بھی بھولے بھٹکے
آپ کے عضو بدن ہوویں جدا کٹ کٹ کے
اور صد چاک ہو ماتا کا کلیجہ پھٹکے
پر نہ ماتھے پہ شکن آئے قسم کھانے کو

اپنی قسمت میں ازل سے ہی ستم رکھا تھا
رنج رکھا تھا محن رکھا تھا غم رکھا تھا
کس کو پرواہ تھا اور کس میں یہ دم رکھا تھا
ہم نے جب وادئ غربت میں قدم رکھا تھا
دور تک یاد وطن آئی تھی سمجھانے کو

اپنا کچھ غم نہیں ہے پر یہ خیال آتا ہے
مادر ہند پہ کب سے یہ زوال آتا ہے
دیش آزادی کا کب ہند میں سال آتا ہے
قوم اپنی پہ تو رہ رہ کے ملال آتا ہے
منتظر رہتے ہیں ہم خاک میں مل جانے کو
——
شعری انتخاب از ضبط شدہ نظمیں ، مرتبین خلیق انجم ، مجتبیٰ حسین
شائع شدہ ، جون 1975 ء ، صفحہ نمبر 85 تا 89
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ