اردوئے معلیٰ

آج ممتاز شاعر خواجہ ریاض الدین عطش کا یومِ وفات ہے۔

 خواجہ ریاض الدین عطش(پیدائش: 4 مارچ، 1925ء- وفات: 8 جنوری، 2001ء)
——
خواجہ ریاض الدین عطش 4 مارچ 1925ء کو پٹنہ کے قریب واقع تاریخی شہر عظیم آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنا بچپن عظیم آباد میں گزارا، پھر پٹنہ سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دوسری جنگِ عظیم کے دوران برٹش ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی اور پانچ برس اس سے وابستہ رہے۔ اسکے بعد عطش ڈھاکہ چلے گئے۔
عطش کا تعلق ایک ادبی گھرانے سے تھا۔ انہوں نے کم عمری میں ہی شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔ ڈھاکہ میں انہوں نے فلموں کے لئے گیت بھی لکھے۔ وہ 1971 تک مشرقی پاکستان میں ہی مقیم رہے، لیکن بنگلہ دیش بننے کے بعد انہوں نے ایک بار پھر ہجرت کی اور پاکستان آ گئے۔ انہوں نے کچھ عرصہ لاہور میں واپڈا میں ملازمت کی اور بعد ازاں سعودی عرب چلے گئے۔ 1983 میں وہ واپس پاکستان آ گئے۔
اردو شاعری میں ریاض الدین عطش کا اپنا ایک منفرد انداز تھا جسے ادبی حلقوں اور عوام دونوں میں بیحد پسند کیا گیا۔
ان کی شاعری کی تین کتابیں ہیں۔ ‘سوغاتِ جنون’ انکی غزلیات کا مجموعہ ہے، ‘جشنِ جنون’ انکی نظموں کا جبکہ ‘وردِ نفس’ عطش کی حمد و نعت کا مجموعہ ہے۔
انکی دوسری کتابوں میں ‘داغ کا آخری چراغ’ ڈاکٹر مبارک عظیم آبادی کی سوانح حیات ہے۔
اسکے علاوہ ‘اردو کا شجرہ ء نسب’، ‘اردو ہزار داستان’ اور ‘اردو دشمن تحریک کے سو سال’ بھی انکی کتب ہیں۔
ریاض الدین عطش نے ڈھاکہ، کراچی اور شکاگو میں بزمِ سخن کی بنیاد بھی رکھی۔
عطش نے اپنی زندگی کے آخری دس برس شکاگو میں بسر کیے جہاں وہ ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوئے۔ شکاگو میں عطش بہت باقاعدگی کے ساتھ ادبی کانفرنسوں اور مشاعروں میں شامل ہوتے رہے۔ اسکے علاوہ وہاں اردو اخبارات اور رسائل میں لکھتے بھی رہے۔ عطش نے اپنی ادبی خدمات پر ‘غالب ایوارڈ’ سمیت کئی ایوارڈ حاصل کیے۔
عطش، 8 جنوری 2001 کو شکاگو میں انتقال کر گئے اور وہیں آسودہِ خاک ہوئے۔
مملکت البحرین میں بھی عطش صاحب نے کچھ عرصہ قیام کیا اس دوران بحرین کی ادبی شخصیات سے ملاقاتیں بھی رہیں اور بحرین کے کئی مشاعروں میں آپ نے شرکت فرمائی، عطش صاحب کے انتقال کے بعد بحرین کی ادبی تنظیم،، *الثقافہ* کے زیرِ اہتمام ایک مشاعرہ * بیادِ عطش * کا بھی انعقاد کیا گیا
——
یہ بھی پڑھیں : ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے
——
عطش 8 جنوری 2001 کو شکاگو میں انتقال کر گئے اور وہیں آسودہ ٔ خاک ہوئے۔
——
منتخب کلام
——
میں مصور ہوں کہ شاعر مجھے معلوم نہیں
میرے اشعار میں جذبات کی تصویریں ہیں
——
روشنی جس کی کسی اور کے کام آجائے
اک دیا ایسا بھی رستہ میں جلا کر رکھنا
——
دن بھر کی عطشؔ دھوپ کو دامن میں سمیٹے
میں شام کے سورج کی طرح ڈوب رہا ہوں
——
یا تو دیوانہ ہنسے یا تُو جسے توفیق دے
ورنہ اس دنیا میں آ کر مسکرا سکتا ہے کون
——
تم اپنی نسل کو اردو سے آشنا کر کے
زباں ، بیاں ، بہر عنواں سنبھال کے رکھو
رہے خیال کہ کوا چلے نہ ہنس کی چال
پروں کے رنگِ نمایاں سنبھال کے رکھو
——
اک تاج محل کے بنتے ہی سو ہاتھ قلم ہو جاتے ہیں
لیتی ہے خراج فن دنیا اس طور بھی ہم فنکاروں سے
——
چراغِ الفت کریں گے روشن محبتوں کو اجال دیں گے
نچوڑ کر دل کا قطرہ قطرہ وفا کے سانچے میں ڈھال دینگے
سجا کے ماتھے پہ چاند ٹیکا پہنا کے تاروں کے پھول گہنے
تمہاری آنکھوں میں بھر کے کاجل کمالِ چشمِ غزال دینگے
——
یہ کم نگاہئ عشوہ گری معاذ اللہ
دل و نظر کی تری خود سری معاذ اللہ
درونِ دینِ محمد الگ الگ مسلک
تضادِ سلسلۂ بندگی معاذ اللہ
کہیں خودی ہے خدائی کہیں خودی خود ہیں
الگ الگ یہ مزاجِ خودی معاذ اللہ
سب اپنی اپنی جگہ بد گماں ہیں اپنوں سے
نہ رہبری نہ کوئی آگہی معاذ اللہ
بلا کی آندھیاں اٹھتی ہیں مومنوں کے لیے
نہ لے اڑے ہمیں طوفاں یہی معاذ اللہ
پیامِ یک جہتی پر ہوۓ ہیں سب خائف
عطش نے مول لی یہ دشمنی معاذ اللہ
——
پتہ رقیب کا دے جام جم تو کیا ہوگا
وہ پھر اٹھائیں گے جھوٹی قسم تو کیا ہو گا
ادا سمجھتا رہوں گا ترے تغافل کو
طویل ہو گئ شام الم تو کیا ہوگا
جفا کی دھوپ میں گزری ہے زندگی ساری
وفا کے نام پہ جھیلیں گے غم تو کیا ہوگا
ابھی تو چرخ ستم ہم پہ ڈھائے جاتا ہے
زمیں نہ ہوگی جو زیر قدم تو کیا ہوگا
میں ڈر رہا ہوں کہ زاہد کی خشک باتوں سے
سراب بن گیا باغ ارم تو کیا ہوگا
خود اپنی موج نفس سے یہ زاہدان کرام
بجھا رہے ہیں چراغ حرم تو کیا ہوگا
——
ابر چھایا نہ کوئی ابر برستا گزرا
اب کے ساون بھی کڑی دھوپ میں جلتا گزرا
یا سر راہ کبھی ٹوٹ کے تارے برسے
یا کسی چاند کا بجھتا ہوا سایہ گزرا
ہم جلاتے رہے ہر گام محبت کے چراغ
وہ رہ و رسم کی ہر شمع بجھاتا گزرا
ہم کزر جاتے ہیں ہر دور سے ایسے جیسے
ایک آنسو کسی جہرے سے ڈھلکتا گزرا
سوچتا ہوں کہ بدلنے پڑے کتنے چہرے
زندگی گزری ہے اپنی کہ تماشا گزرا
جادہ عمر عطشؔ پاؤں کی گردش ٹہری
دشت سِمٹا نہ کبھی دامن سحرا گزرا
——
یہ بھی پڑھیں : اُردو ادب کے پہلے ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد دھلوی کا یومِ وفات
——
حسرت پائمال میں گم ہیں
ہم فریب خیال میں گم ہیں
بجھتی یادوں کے سرمئی ساۓ
شام رنج و ملال میں گم ہیں
ہم حصار وجود کے رہ رو
گردش لازوال میں گم ہیں
شمع انسانیت کو نور فروغ
ظلمت انفعال میں گم ہیں
وہ ابد تک عروج کا پرتو
ہم ازل سے زوال میں گم ہیں
اب بھنور میں پھنسا ہے ماہی گیر
مچھلیاں جال جال میں گم ہیں
لالہ و گل یہ مہر و ماہ و نجوم
سب ترے خد و خال میں گم ہیں
شام غم کی ہزار ہا شامیں
میرے جام سفال میں گم ہیں
ہجر کی بے پناہ راتوں میں
لوگ شوق وصال میں گم ہیں
کشتئی زیست کھے رہے ہیں عطشؔ
بحر کار محال میں گم ہیں
——
ہر گوشۂ عالم میں زمانے کی صدا ہوں
میں وقت پہ چلتا ہوا نقش کف پا ہوں
اے دشت تخیل تری خاموش نوا ہوں
میں نقش حقیقت ہوں مگر خواب نما ہوں
اک عالم دنیا ہے مری ذات کے اندر
میں آگ بھی مٹی بھی ہوں پانی ہوں ہوا ہوں
دو لخت ہوا ہوں میں تری جلوہ گری سے
ایسی ہے چکاچوند کہ سائے سے جدا ہوں
دن بھر کی عطشؔ دھوپ کو دامن میں سمیٹے
میں شام کے سورج کی طرح ڈوب رہا ہوں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات