اردوئے معلیٰ

Search

آج بہت خوبصورت اور پختہ لہجے کی نوجوان شاعرہ سبیلہ انعام صدیقی کا یوم پیدائش ہے

سبیلہ انعام صدیقی(پیدائش: 22 فروری 1988ء )
——
سبیلہ انعام صدیقی 22 فروری کو کراچی میں پیدا ہوئیں ۔ سبیلہ نے بیچلرز ان کامرس اور پھر ماسٹرز ان اکنامکس کیا ہے جبکہ ابھی مزید تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں ۔ ان کے مشاغل مطالعہ ڈریس ڈیزائینگ اور شاعری ہیں۔
سبیلہ نے کم عمری میں ہی شعر و ادب میں غیر معمولی دلچسپی لیتے ہوئے شاعری کے ہنر میں خود کو نمایاں کیا ہے ۔ سبیلہ نے اپنی شاعری میں نئی نسل کے اس لہجے کو پیش کیا ہے جو ان کی پہچان بنے گا۔ وہ اپنے ذوق سخن کو جانچنے میں مگن ہیں۔
سبیلہ عالمی مشاعرے میں بھی شریک ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ 2014 اور 2016 میں بطور نئی نسل کی شاعرہ کے عمدہ کارکردگی پہ ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں اور” 2015″ میں مختلف شعراء کے منتخب کلام پہ مبنی کتاب “دی ٹیلنٹ انٹرنیشنل 2015” میں بھی ان کے کلام کو شامل کیا گیا ۔
اس کے علاوہ 2015 میں شہدائے پشاور کی یاد میں ایک کتاب “رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو ” میں بھی ان کا کلام شامل کیا گیا ۔
انڈیا سے چھپنے والی “لوری ” پہ پہلی کتاب میں بھی ان کا کلام شامل ہوا۔ اُن کی شاعری کےمطالعے سے پتا چلتا ہے کہ اُن کا شعری اظہار نہ صرف نئی فکر اور جذبات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ زندگی سے حاصل شدہ نت نئے تجربات کا رس بھی پیش کرتا ہے۔
سبیلہ کے پاس الفاظ کے استعمال کا خوب صورت انداز پایا جاتا ہے۔ اُن کی غزلیہ شاعری کا خاص وصف یہ ہے کہ ان کی ہر غزل میں وحدتِ تاثّر نمایاں ہے جو غزل کو غزلِ مسلسل کا روپ عطا کرتی ہے۔
سبیلہ نے اپنے تخلیقی سفر میں زندگی کے تقاضوں کو سمجھنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور اپنے عہد کی حسّیت کو بھی نمایاں کیا ہے۔ پیار و محبت سے لے کر ظلم و تشدد اور دہشت گردی سے لے کر ذات کے خول میں بند ہوکر زندگی گزارنے والے بے حس لوگوں کی کیفیات کو اپنے جنبشِ قلم سے مجسّم کر دیا ہے۔
——
نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ ، سبیلہ انعام صدیقی
——
جب ہم نئی نسل کی شاعری کی بات کرتے ہیں تو اس سے مرادیہ نہیں ہوتا کہ نئی نسل کی شاعری کرنے والے شاعر بھی نئی نسل سے ہوں،بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ نئی نسل کا شاعر نئی نسل کے جذبات کی نمائندگی کرتاہو،نئی نسل کے مسائل کا ترجمان ہو،اب یہ نمائندگی اور ترجمانی کوئی بزرگ شاعر بھی کرسکتاہے اور ادھیڑ عمربھی اور نوجوان بھی۔اگر کوئی شاعر نئی نسل سے تعلق رکھتاہے اور وہ اپنے ہم عمروں اور ہم عصروں کے مسائل کی ترجمانی بھی کر رہاہے اور اُن کی نمائندگی بھی تو اس سے بہتر اور کیا بات ہوسکتی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعرہ بشریٰ فرخ کا یومِ پیدائش
——
یہاں مثال پیش کی جا سکتی ہے ، تازہ کار اور نوآموز شاعرہ سبیلہ انعام صدیقی کا تعلق نہ صرف نئی نسل سے ہے بلکہ وہ نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ بھی ہیں۔اُن کی شاعری میں نئی نسل کے جذبات کی نمائندگی بھی موجودہے اور اُن کے مسائل کی ترجمانی بھی پائی جاتی ہے۔سبیلہ انعام صدیقی کے غزلیہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
——
رکھّے ہر اک قدم پہ جو مشکل کی آگہی
ملتی ہے اُس کو راہ سے منزل کی آگہی
خنجر کا اعتبار نہیں، وہ تو صاف ہے
لیکن ملے گی خون سے قاتل کی آگہی
——
سبیلہ انعام صدیقی نے بیچلرز ان ’’کامرس ‘‘کے بعدماسٹرز(اکنامکس) کراچی یونیورسٹی سے کیا ہے اورابھی وہ مزید تعلیم حاصل کر نے کا ارادہ رکھتی ہیں تاکہ اُن کی شخصیت اور نکھر کر سامنے آئے۔کہتے ہیں علم انسان کو انسان بنا دیتا ہے ،سبیلہ انعام صدیقی کا بھی خیال یہی ہے، اس لیے وہ علم حاصل کرتی جا رہی ہیں اور اپنی تعلیم میں اضافے کی خواہش مند ہیں۔وہ 22؍فروری کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد کا تعلق ‘‘ مظفر نگر‘یو۔پی ‘‘ بھارت سے ہے۔ سبیلہ انعام صدیقی کے مشاغل میں عمومی طورپر مطالعہ، ڈریس ڈیزائننگ اور موسیقی شامل ہے جب کہ شاعری کو اُنھوں نے اپنی رگ و پے میں اُتار لیا ہے۔ سبیلہ انعام صدیقی درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معمارانِ قوم کے اذہان و قلوب کو علم کی روشنی سے دن رات منور کر رہی ہیں۔اُن کو قدرت نے شاعری کے ایسے انعام سے نوازا ہے کہ وہ کم عمری ہی سے شعر و ادب میں غیرمعمولی دل چسپی لینے لگی تھیں اور جوان ہو کر شاعری کے ہنر میں خو د کو نمایاں کرلیا ہے۔
انھوں نے شاعری میں نئی نسل کے اُس لہجے کو پیش کیا ہے جو اُن کی پہچان بنے گا۔ وہ اپنے ذوقِ سخن کو جانچنے میں مگن ہیں۔ یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
——
بھیگا ہُوا ہے آنچل ، آنکھوں میں بھی نمی ہے
پھیلا ہُوا ہے کاجل آنکھوں میں بھی نمی ہے
اک دن سخن کی ملکہ بن جاؤں گی سبیلہؔ
پھر آج کیوں ہوں بے کَل،آنکھوں میں بھی نمی ہے
——
سبیلہ انعام صدیقی مشاعروں میں بھی شرکت کرتی ہیں اور ریڈیو اور ٹی وی پروگراموں میں بھی اُن کو سنا اور دیکھا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ عالمی مشاعرے میں بھی شریک ہو چکی ہیں۔یہ اُن کی عمدہ شاعری کی بنا پر ممکن ہوسکا ہے، ورنہ بے شمار شاعر اور شاعرات یہ حسرت دل ہی میں لیے رہتے ہیں کہ اُن کو عالمی مشاعرے میں شریک کیا جائے ،بہت کم شعرا کو یہ موقع نصیب ہوتاہے۔ شاعرہ موصوفہ کی شعری عمر کم ہے مگر وہ دنیائے شعروادب میں بہت سے کارنامے سرانجام دے چکی ہیں۔وہ غزل کے ساتھ ساتھ نظم بھی اچھی کہہ رہی ہیں۔آئیے اُن کی نظم ’’ یہ آنکھ منتظر ہے کسی انقلاب کی‘‘ ملاحظہ کرتے ہیں:
——
شعلے بھڑک رہے ہیں
عِناد و فساد کے
اس دور ِ آگہی میں تو
جینا عذاب ہے
مکر و فریب کا یہاں ہے
جال سا بچھا
سچ کا یہاں تو رہنا ہی
مطلق حرام ہے
تازہ ہوا بھی کیسے ملے؟
نسلِ نو کو جب
آ ب و ہوا میں پھیلی بُو
آلودگی سی ہو
منظر یہ سارے دیکھ کے
آنکھیں برس پڑیں
ہے جان کی اماں نہ ہی
محفوظ مال و زر
یارب دعا ہے رات کی
کالی گھٹا ہٹے
ہوجائیں بارشیں یہاں
انوار ِ سحر کی
صورت نظر میں آئے
کسی چارہ گر کی اب
یہ آنکھ منتظر ہے کسی انقلاب کی
——
بطور نئی نسل کی شاعرہ، عمدہ کارکردگی پر سبیلہ انعام صدیقی ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف شعرائے کرام کے منتخب کلام پر مبنی کتاب ’’دی ٹیلنٹ انٹر نیشنل ۲۰۱۵ء ‘‘ میں بھی اُن کے کلام کو شامل کیا گیا۔ شہدائے پشاور کی یاد میں ایک کتاب ’’رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو‘‘ میں بھی اُن کے کلام کو منتخب کیا گیا ہے اور اس وقت ادب کے مستند اور قابل لحاظ ویب سائیٹ ‘‘ریختہ‘‘میں بھی ان کی بہت سی غزلوں اور نظموں کو شامل کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ’’لوح ، ارژنگ،سنگت ،تخلیق ، چہارسو، ادب وفن، دنیائے ادب اور دیگر مؤقر ادبی جرائدورسائل اور اخبارات میں اکــثر اُن کی تخلیقاتِ شعری شائع ہوتی رہتی ہیں۔ اُنھوں نے غزل اورنظم کے ساتھ ساتھ جاپانی صنفِ سخن ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی ہے جو کہ خوش آئند ہے ۔چند اُردو ہائیکو پیشِ خدمت ہیں:
——
۔ساجن سے کہنا
اُس کے ہاتھوں پہنوں گی
پھولوں کا گہنا
——
ایسا ہو انداز
جس کو دیکھ کے بول پڑے
دل کا ہر اک ساز
——
بارش کا موسم
اکثر کہتا رہتا ہے
ہلکا کر لو غم
——
رب کی ایسی شان
اک خلیے کو بخشی ہے
اُس نے کتنی جان
——
یہ بھی پڑھیں : محترمہ فاطمہ ثریا بجیا کا یوم وفات
——
سبیلہ انعام صدیقی نے اپنے تخلیقی سفر میں زندگی کے تقاضوں کو سمجھنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور اپنے عہد کی حسیت کو بھی نمایاں کیا ہے ۔ پیار و محبت سے لے کر ظلم و تشدد اور دہشت گردی سے لے کر ذات کے خول میں بند ہو کر زندگی گزارنے والے بے حس لوگوں کی کیفیات کو اپنے جنبشِ قلم سے مجتمع کر دیا ہے۔سبیلہ انعام صدیقی نے جہاں مجازی محبت کی لطافتوں کو اُجاگر کیا ہے وہیں عشقِ حقیقی کی خوشبو سے اپنے کلام کومعطّر بھی کیا ہے۔ اُن کے کلام میں عشقِ حقیقی کے نمونے ملاحظہ ہوں:
——
حمدیہ
یارب ہر ایک نعمت و راحت کا شکریہ
کرتی ہوں پیش لطف و عنایت کا شکریہ
——
نعتیہ
نبی کی ذات اور آل نبیـ کو
زمانے بھر کا رہبر سوچتی ہوں
——
غیر منقوط شاعری سے مراد ایسی نظم جس کو بغیر نقطوں کے منظوم کیا گیا ہو،غیرمنقوط شاعری میں الفاظ کی فیکٹری موجود ہو، اور وہ اپنی ضرورت کے مطابق بدل بدل کر لفظ استعمال کرنا جانتاہو،غیر منقوط شاعری کے نمونے جن شعرا کے سامنے آئے ہیں اُن کے نام انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔غیر منقوط غزل بھی سبیلہ انعام صدیقی کے شعری سرمائے میں نظر آتی ہے جس سے اس بات کا اندازہ بہ خوبی لگایاجاسکتا ہے کہ اُن کا مزاج مختلف فنی تجربے کرنے کا جوہر بھی رکھتا ہے اور وہ الفاظ کا ذخیرہ بھی اپنے ذہن میں محفوظ رکھتی ہیں۔آئیے اُن کی ایک غیر منقوط غزل کے دو اشعارملاحظہ کرتے ہیں اور اُن کے فن کی داد دیتے ہیں:
——
ہے راس دل کو اُداس موسم
کہ دکھ کو دل ہی سہا کرے گا
کسک اُٹھے گی ہمارے دل سے
کسی سے گر وہ ملا کرے گا
——
پروینؔ شاکر کی طرح ہر شاعرہ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ نسوانی لہجے میں بات کرے اور کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کرے مگر اکثر شاعرات اس رویے سے پہلو بچا کر گزرجاتی ہیں اور کچھ شاعرات اس کا برملا اظہار کر دیتی ہیں مگر کچھ شاعرات کا اظہار بے معنی ہو تا ہے جو اپنی وقعت کھو دیتا ہے مگر چند شاعرات کا اظہار اتنا توانا ہوتاہے کہ قاری کی ساری توجہ اپنی جانب مبذول کرا لیتا ہے اور قاری اُس کے کلام کی اتھاہ گہرائیوں میں اُترتا چلا جاتاہے، یہ اُس کلام کی خوبی ہوتی ہے کہ یا تو سنتے ہی دل میں اُتر جائے یا قاری کو اپنے معانی و مفاہیم کی گہرائی میں اُتارے،سبیلہ انعام صدیقی کے یہ اشعار اِسی صفت سے متصف ہے ملاحظہ ہو:
——
جہاں میں جس کی شہرت کُو بہ کُو ہے
وہ مجھ سے آج محو ِ گفتگو ہے
رہا آباد خوابوں میں جو اب تک
خو شا قسمت ! کہ اب وہ روبرو ہے
——
سبیلہ انعام صدیقی ابھی جوان ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں،ان کے کلام میں بھر پور توانائی موجود ہے اسی لیے مجھے ان سے بہت سی اُمیدیں وابستہ ہوگئی ہیں،مجھے اُمید ہے کہ اگر یہ اسی طرح مطالعے کی شوقین رہیں اور مشقِ سخن جاری رکھی تو وہ ایک کہنہ مشق شاعرہ کے روپ میں ہمارے سامنے ہوں گی۔
——
منتخب کلام
——
اے خدا ہو ادا شکر ممکن نہیں
چا ہے جتنی کرو ں بندگی آپ کی
——
میرے سجودِ شوق کا، مجھ کو معا فی دے صلہ
فضل و کرم کر اے خدا،تو لا شریک و لا مکا ں
——
ہوتا ہے جن کے نام سے اسلام معتبر
ان کے دریچے ، کوچے در و بام معتبر
——
خواب میں ہی میں جمالِ ُرخِ زیبا دیکھوں
کاش نعتوں میں مری اتنا اثر ہو جائے
——
ذات ِاقدس پہ بڑا خاص کرم ہے رب کا
بارِ ش ِ نور ہو جس سمت نظر ہو جائے
——
ثناء کیسے کروں شا ن ِ نبی کی
میں اک خا کی ہوں کمتر سوچتی ہوں
——
گناہوں سے بدن ہے چور لیکن
میں کلمہ پڑھ کے محشر سوچتی ہوں
——
کس کو بتا تے کس سے چھپاتے سراغ ِ دل
چپ سادھ لی ہے ، زخم دکھایا نہ داغِ دل
——
چاہت کی اب تو کوئی بھی حسرت نہیں رہی
سرسبز اس کی یاد سے پھر بھی ہے باغِ دل
——
میں دریا ہوں مگر دونوں طرف ساحل ہے تنہائی
تلاطم خیز موجوں میں مری شامل ہے تنہائی
——
ہجوم ِزیست سے دوری نے یہ ما حول بخشا ہے
اکیلی میں ، مرا کمرا ہے اور قا تل ہے تنہا ئی
——
محبت ہو تو تنہا ئی میں بھی اک کیف ہو تا ہے
تمنا ؤں کی نغمہ آفریں محفل ہے تنہا ئی
——
ُ سنا ہے اُس نے ارا دہ کِیا ہے آ نے کا
َ متاع ِ قلب و نظر سب فدا ہے رستے میں
کِھِلے ہیں پھول بھی ‘ رقصاں صبا ہے رستے میں
کوئی بتائے مِرا دل رُبا ہے رستے میں؟
ُ سنا ہے’ اُس نے ارا دہ کِیا ہے آ نے کا
َ متاع ِ قلب و نظر سب فدا ہے رستے میں
جو دل ُچرا کے مِرا لا پتا ُہوا تھا کبھی
وہ اتّفاق سے اب مِل گیا ہے رستے میں
رہا ہے مو َسم ِ دل تو طواف میں اُس کے
اک آرزو کا شجر جو لگا ہے رستے میں
نہ جا نے کس نے یہ ڈالا ہے شا خ پر جُھولا
در خت شوق سے جو ناچتا ہے رستے میں
وہ شہر جس میں َشب و روز رونقیں تھیں کبھی
اب ایک درد میں ڈوبی صدا ہے رستے میں
ہمیشہ مجھ کو ُاسی نے حصار میں رکّھا
خدا کا شکر کہ ماں کی دعا ہے رستے میں
سبیلہ ؔ ، رنگ و ادا اور نغمہ بار فَضا
عجب ُسرُور کا عالم رہا ہے رستے میں
——
میں دریا ہوں مگر دونوں طرف ساحل ہے تنہائی
تلاطم خیز موجوں میں مری شامل ہے تنہائی
محبت ہو تو تنہا ئی میں بھی اک کیف ہو تا ہے
تمنا ؤں کی نغمہ آفریں محفل ہے تنہا ئی
بہت دن وقت کی ہنگامہ آرائی میں گزرے ہیں
انھیں گزرے ہوئے ایام کا حاصل ہے تنہائی
ہجوم ِزیست سے دوری نے یہ ما حول بخشا ہے
اکیلی میں ، مرا کمرہ ہے اور قا تل ہے تنہا ئی
مرے ہر کام کی مجھ کو و ہی تحریک دیتی ہے
اگر چہ دیکھنے میں کس قدر مشکل ہے تنہا ئی
اسی نے تو تخیل کو مرے پر واز بخشی ہے
خدا کا شکر ہے جو اب کسی قا بل ہے تنہا ئی
محبت کی شعا عوں سے توا نا ئی جو ملتی ہے
اسی رنگینیءِ مفہوم میں دا خل ہے تنہا ئی
خدا حسرت زدہ دل کی تمنا ؤ ں سے وا قف ہے
دعائیں روز و شب کرتی ہوئی سائل ہے تنہائی
کسی کی یاد ہے دل میں ابھی تک انجمن آ را
سبیلہ کون سمجھے گا کہ میرا دل ہے تنہائی
——
کس کو بتا تے کس سے چھپاتے سراغ ِ دل
چپ سادھ لی ہے ، زخم دکھایا نہ داغِ دل
کیسے کریں بیا ن غم ِ جاں کی داستاں
اے کاش گل کھلائے ہمارا یہ باغِ ِ دل
گزرے ہماری زیست کے ایام اس طرح
لبریز آ نسو ؤ ں سے ہے گو یا ایا غ ِدل
جب راکھ بن گئے تو کہا یہ حریف نے
جل جل کے وہ جلاتے رہے ہیں چراغِ دل
جس سے ملے طویل زمانہ گزر گیا
شا ید اسی کے ذہن میں ہو کچھ سرا غ ِدل
چاہت کی اب تو کوئی بھی حسرت نہیں رہی
سرسبز اس کی یاد سے پھر بھی ہے باغِ دل
رکھتی نہیں سبیلہ کبھی عیب پر نظر
مصروف پیار میں رہا ا س کا فراغِ دل
——
جو با کردار ہو ا س کو سیا نی کون کہتا ہے ؟
کسی مزدور کی بیٹی کو ر ا نی کون کہتا ہے ؟
محبت کے فسا نے آج بھی تحر یر ہو تے ہیں
بہارِ زندَ گا نی کو پرا نی کون کہتا ہے؟
مری نانی سناتی تھی حکایت سات پریوں کی
وہ سچے پیار کی لوری سہانی کون کہتا ہے ؟
نہیں مٹتا مٹانے سے کسی سے پیار کا رشتہ
محبت تو حقیقت ہے کہانی کون کہتا ہے ؟
عطا عمر روا ں نے کی ہے جو سوغات با لو ں کو
اتر تی چا ندنی کو نو جوا نی کون کہتا ہے؟
سبھی نے آپ بیتی اور جگ بیتی کہی لیکن
مرے انداز سے سچی کہا نی کون کہتا ہے؟
کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو مر کے بھی نہیں مرتے
ہیں جن کے نام زندہ ان کو فانی کون کہتا ہے؟
جو میرے لب نہیں کہتے مرے اشعار کہتے ہیں
جو دل تحریر کرتا ہے ، زبانی کون کہتا ہے؟
سبیلہ اپنے غم کو میں چھپا لیتی تو ہو ں لیکن
گرا تی ہیں جو آنکھیں ان کو پا نی کون کہتا ہے؟
——
لڑکی ذات
——
مرا بچپن جو گزرا ہے گل و گلزار جیسا تھا
جہا ں چڑ یا ں چہکتی تھیں ، جہا ں با دل بر ستا تھا
مرے چھو ٹے سے آنگن میں بہت سے خواب اگتے تھے
مگر بچپن سے ہی یہ اک صدا کانوں میں تھی میرے
کبھی بھی اپنے خوا بو ں کے تعا قب میں نہ بھا گو تم
بس اب تم ہو ش میں آؤ ذ را خود کو سنبھا لو تم
ہو لڑ کی ذات تم سیکھو جہا ں کے ظلم کو سہنا
غلط با تو ں کو سن لینا مگر خا موش ہی رہنا
تمھا ری سوچ میں پر واز کا ہو نا نہیں ا چھا
بغا وت کی نشا نی کو عیا ں کرنا نہیں اچھا
چلائے جس قدر تم پر زمانہ تیر و نشتر کو
تمہیں برداشت کرنا ہے ہر اک جا بر کے لشکر کو
تمھا را حق نہیں ہے کو ئی آزا دا نہ سو چو ں کا
تقا ضا ہی نہیں ہر گز یہ نسوا نی ا صو لو ں کا
تمہیں روٹی بنانی ہے کبھی کھانا پکانا ہے
تمہیں چابی کی گڑیا بن کے ساری عمر ر ہنا ہے
تمھا رے وا سطے یہ شرط ہے اب زندہ رہنے کی
سزا تم کو بھگتنا ہو گی اب عو رت کے ہو نے کی
مگر کیسے دریچے بند ذہن و دل کے میں کر دوں؟
یہ کیسی زندگی ہے جس میں خود کو قید میں کرلوں؟
یہی میں سو چتی ہو ں ِ ا س طر ح ہو نا بھی کیا ہو نا؟
ہو مر دہ ر و ح تو پھر جسم کا بیکا ر ہے جینا
سزا کس جر م ِ نا کر دہ کی یہ اب مجھ کو سہنا ہے
میں اب آزا د ہو ں جو سو چتی ہو ں بس وہ کہنا ہے
نہیں میں مانتی جھوٹے تقاضے جھوٹی نسبت کو
دکھاؤں گی میں آئینہ جہاں کی ساری خلقت کو
زما نے کی پرا نی سوچ کو تبدیل کر دو ں گی
جو حق ہے عو ر تو ں کا اس کی میں تکمیل کر دو ں گی
کسی لڑکی سے ایسا کو ئی اب کہنے نہ پا ئے گا
نہ آئندہ سوال اس ظلم کا کو ئی ا ٹھا ئے گا
ہو لڑ کی ذات تم سیکھو جہا ں کے ظلم کو سہنا
غلط با توں کو سن لینا مگر خا موش ہی رہنا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ