اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف مزاحیہ شاعر ساغر خیامی کا یومِ وفات ہے

ساغر خیامی(پیدائش: 7 جون 1938ء – وفات: 19 جون 2008ء)
نوٹ : یومِ پیدائش کلیاتِ ساغر خیامی شائع شدہ 2012 ء سے لی گئی ہے
——
ساغر خیامی اردو کے ایک ممتاز مزاحیہ شاعر تھے۔ وہ اپنے طنزومزاح کے لیے شہرت رکھتے تھے۔ ان کا حقیقی نام راشد الحسن تھا۔
19 جون 2008ء کو 70 سال کی عمر کی عمر میں ساغر خیامی کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین فرزندان حسن راشد، حسن شاہد اور حسن ریال شامل تھے۔ ان کے انتقال کی خبر ان کے بھتیجے شکیل شمسی نے جاری کی جو اس وقت سہارا ٹی وی چیانل کے ڈائریکٹر بھی تھے۔
ساغر خیامی قلب پر حملے کی وجہ سے ممبئی کے ناناوتی اسپتال میں زیر علاج تھے۔
——
ساغر خیامی کا نام طنز و مزاح کے حوالے سے اردو شاعری میں جانا پہچانا ہے ۔ آپ نے بھی ان کی بھرپور مزاحیہ نظمیں پڑھی ہوں گی اور انہیں مشاعرہ لوٹتے ہوئے بھی دیکھا اور سنا ہو گا ۔
ساغر خیامی کمال کی شخصیت ہیں ۔ نہایت شائستہ ، متین ، وضعدار ، پرکشش، پڑھے لکھے اور گفتگو کا ڈھب جاننے والے ۔
اور کیون نہ ہو ان کا تعلق ایسے علمی خانوادے سے ہے جو ہمیشہ سے معروف اور باتوقیر ہے ۔ ان کے والدِ ماجد للن صاحب کو بھلا کون نہیں جانتا ۔ جی ہاں وہی یعنی لکھنؤ کے جوہری محلے والے حضرت مولانا سید اولاد حسین نقوی مرحوم ۔ صاحبانِ ممبر بہت ہوئے اور ہیں مگر للن صاحب نے بڑا نام کمایا ۔
ساغر خیامی کے برادران میں بھی سب شعر کا عمدہ ذوق رکھنے والے اور بہت اچھے شاعر ہیں ۔ ان میں مہدیؔ نظامی کے نام سے تو اردو دنیا بخوبی واقف ہے اور ان کی شعری عظمت کی قائل بھی ۔
——
یہ بھی پڑھیں : ساغر نظامی کا یوم پیدائش
——
بھارت کے مختلف صوبوں کی ثقافتی اور معاشرتی زندگی کو جس شاعرانہ خوبی سے انہوں نے کئی جلدوں میں نظم کیا وہ ان کا ایک بڑا کارنامہ اور یادگار ہے ۔
اس تمہید و تعارف کا مطلب بس یہی باور کروانا تھا کہ ساغر خیامی کی طبع اور تربیت نے معاملہ فہمی ، معنیٰ آفرینی اور شعر گوئی کو اُن پر آسان کر دیا ہے ۔
اب ساغر صاحب شعر میں چاہے سنجیدہ طرز برتیں یا طنز و مزاح کو بروئے کار لائیں ان کی مرضی اور دلچسپی پہ منحصر ہے ۔
مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی سنجیدہ ظاہری کیفیت سے الگ انہوں نے مزاحیہ شاعری کے حق میں ووٹ دیا اور پھر اسی کے ہو رہے ۔
اب وہ ہیں اور ان کے سامعین و قارئین ۔ نہ کبھی ان کا وار خالی جاتا ہے اور نہ کبھی اُدھر سے داد و ستائش میں بخل سے کام لیا گیا ہے ۔
یہ بھی خوش اور وہ بھی ۔ اسی لیے میں اگر کہوں کہ ساغر خیامی اردو مزاحیہ شاعری کے مقبول ترین شعرا کی صف میں نمایاں ہیں تو بے جا نہ ہو گا ۔
میں اس انتخاب کو ایک اور نظر سے بھی دیکھتا ہوں اور وہ یہ کہ اتنے کٹھن کام کا انتخاب ساغر صاحب نے کیا اور الجھی ہوئی ، مسائل کے بوجھ میں دبی ہوئی ہماری زندگی میں احساس پیدا کیا کہ ہجومِ غم میں بھی مسکرایا جا سکتا ہے ۔
قہقہہ بھی لگایا جا سکتا ہے تو یہ ان کی دردمندی کا ثبوت ہے اور زندگی کی جانب ان کے سنجیدہ رویے پر دلالت کرتا ہے ۔
ان کی کتاب انڈر کریز دہلی سے 1990ء میں شائع ہو گئی تھی ۔ بہت مقبول ہوئی البتہ پاکستان میں مزاحیہ شعر کے قارئین تک نہیں پہنچ پائی ۔
اور ایسا ہونا کوئی نئی بات نہیں ۔ نہ جانے کتنی ہی کتابیں ہیں جو سرحد پار نہیں کر پاتیں ۔ اور اس طرح بھارت اور پاکستان کے قارئین محرومی کا شکار رہتے ہیں ۔
اپریل 1991ء میں ساغر صاحب شہرِ قائد کے عالمی مشاعرے میں شرکت کرنے کراچی آئے تو ان کا یہ دلچسپ شعری مجموعہ بھی پاکستان پہنچا ۔
ساغر صاحب سے ہر بار مل کر جی خوش ہوتا ہے ۔
جن موضوعات پر نظمیں لکھی گئیں وہ نئے تو نہیں البتہ یہ کمال ساغر صاحب کا ہے کہ انہوں نے نئے نئے گوشے ڈھونڈ نکالے اور ایسے موضوعات سے قارئین کی دلچسپی کو پھر سے بحال کر دیا ۔ بعض نظمیں علاؤ الدین کا تربوز ، ون ڈے ، اگر جنگ ہو گئی تو ، نیتا جنت میں ، غالب دہلی میں ، اکیسویں صدی کا آدمی ، کنجوس کی بیوی ، اور عشق بذریعہ پتنگ بہت دلچسپ ہیں ۔
چند مقامات کی نشاندہی مناسب معلوم ہوتی ہے :
——
معشوق بزمِ ناز میں اُن کو بلائیں گے
عاشق جو کوئے یار میں سو رَن بنائیں گے
بیگم تمام عمر مجھے جھیلتی رہیں
یعنی فرنٹ فرنٹ پہ مجھے کھیلتی رہیں
( ون ڈے )
——
شمعیں برائے رسمِ مکاں جلاتا ہے
بیوی کو بھی گلے سے وہ آدھا لگاتا ہے
( کنجوس کی بیوی )
——
دھڑکنیں سنتے تھے ہم ڈور پہ رکھے ہوئے کان
باندھ دیتی تھی کنوں سے کبھی خط کبھی پان
( عشق بذریعہ پتنگ )
——
حُسن ہی حُسن کا ہر شہر میں جلوہ ہوتا
پُوریاں ، مرغ ، پراٹھے ، کہیں حلوہ ہوتا
ناک چھلتی نہ شکستہ کوئی تلوا ہوتا
بم برستے نہ فضاؤں میں نہ بلوہ ہوتا
پوری دنیا میں حکومت جو زنانی ہوتی
عالمی جنگ بھی ہوتی تو زبانی ہوتی
——
یہ بھی پڑھیں : ساغر صدیقی کا یوم وفات
——
اک یار روز لکھتے تھے اک مہ جبیں کو خط
لکھتے تھے شب کے پردے میں پردہ نشیں کو خط
پہنچے وہیں تھا چاہے لکھیں اور کہیں کو خط
دیتا تھا روز ڈاکیا اس نازنیں کو خط
آخر نتیجہ یہ ہوا اتنی بڑھی یہ بات
معشوق ان کا بھاگ گیا ڈاکیے کے ساتھ
——
محبوب داؤ دے گیا فصلِ بہار میں
گردن پھنسی ہوئی ہے ابھی تک ادھار میں
مُرغے جو چار لائے تھے دعوت کے واسطے
” دو آرزو میں کٹ گئے ، دو انتظار میں ”
——
جب مرے نام کو اک یار نے ساگر لکھا
میری قسمت کی خرابی میں بھی دفتر لکھا
تب چلا مجھ کو تلفظ کی خرابی کا پتہ
جب فرشتوں نے مقدر کو مکدر لکھا
——
ان چند سطور سے گزر کر اب آپ یقیناََ جناب ساغر خیامی کو بھی جان گئے ہوں گے اور ان کے طرزِ سخن کا بھی اندازہ ہو گیا ہو گا ۔
سو اب اس میں کلام کیا کہ ساغر صاحب کمال کی شخصیت ہیں ۔ میں تو معترف تھا ہی آپ بھی مان گئے ۔
——
منتخب کلام
——
کچھ دن کے بعد اور کریں گے ترقیاں
لڑکے بنیں گے ٹِین کے ، شیشے کی لڑکیاں
سر پہ لگائی جائیں گی ڈیزل کی ٹینکیاں
اسٹارٹر کا کام کریں گی دولتیاں
کچھ دن کے بعد دیکھنا اسمارٹ ہو گیا
کِک مارنے سے آدمی اسٹارٹ ہو گیا
——
کوچے نہیں شہر کے میدانِ جنگ میں
حالاتِ حرب و ضرب بدن پر سجا کے جا
ہو جائے تیرے شہر میں پتھراؤ کس گھڑی
گھر سے نکل رہا ہے تو ہیلمٹ لگا کے جا
——
عاشق جو چاہتے تھے وہی کام ہو گیا
کِل کِل سے روز روز کی آرام ہو گیا
کہنے لگی ہیں جب سے غزل عورتیں جناب
مردوں سے گفتگو کا غزل نام ہو گیا
——
کنٹرول کر رہی تھیں ٹریفک کو لڑکیاں
تعداد حادثات کی کچھ اور بڑھ گئی
حالت خراب ہو گئی ہر راہ گیر کی
اک بس سنا ہے تیسری منزل پہ چڑھ گئی
——
مفلسی کے شکار سوتے ہیں
ایک کمبل میں چار سوتے ہیں
پانچواں کھینچ لے نہ جائے کہیں
سب کے سب ہوشیار سوتے ہیں
——
ڈاکو کے سر کا مول تو ستر ہزار ہے
کیا خاک بیٹھے کوئی شرافت کی ناؤ میں
اس دورِ نامراد میں سر بھی غریب کا
بکتا نہیں ہے دوستو ! کدُو کے بھاؤ میں
——
ہماری بیوی یہ بولی ہمارے بچوں سے
تمہارے پاپا غمِ الفراق دے دیں گے
وہ جب بھی کہتے ہیں گھر کو بناؤں گا جنت
میں سوچتی ہوں وہ مجھے طلاق دے دیں گے
——
اک شب ہمارے بزم میں جوتے جو کھو گئے
ہم نے کہا بتائیے گھر کیسے جائیں گے
کہنے لگے کہ شعر سناتے رہو یونہی
گنتے نہیں بنیں گے ابھی اتنے آئیں گے
——
میں کس کو دفن کروں کس کو پھونکنے جاؤں
رہی سہی مری جاں بھی نکال دیتا ہے
اندھیرے منہ کوئی اخبار بیچنے والا
ہزار لاشیں مرے در پہ ڈال دیتا ہے
——
کیوں دل ترے خیال کا حامل نہیں رہا
یہ آئینہ بھی دید کے قابل نہیں رہا
صحرا نوردیوں میں گزاری ہے زندگی
اب مجھ کو خوف دورئ منزل نہیں رہا
ارباب رنگ و بو کی نظر میں خدا گواہ
کب احترام کوچۂ قاتل نہیں رہا
زنداں میں خامشی ہے کوئی بولتا نہیں
حد ہو گئی کہ شور سلاسل نہیں رہا
مانوس اس قدر ہوئے دریا کی موج سے
ساحل بھی اعتبار کے قابل نہیں رہا
اس وقت مجھ کو دعوت جام و سبو ملی
جس وقت میں گناہ کے قابل نہیں رہا
——
رہ حیات میں بس وہ قدم بڑھا کے چلے
دئے لہو کے سر راہ جو جلا کے چلے
گلوں کو پیار کیا اور گلے لگا کے چلے
چمن میں خاروں سے دامن نہ ہم بچا کے چلے
پتا چلا نہ مسافت کا پا گئے منزل
قدم سے جب بھی قدم دوستو ملا کے چلے
نہیں ہیں واقف اسرار لذت منزل
جو راہ شوق سے کانٹے ہٹا ہٹا کے چلے
ہزار خار ہیں دامن کو تھامنے والے
ہمارے ہاتھ سے آنچل جو تم چھڑا کے چلے
وہ گزریں شوق سے بے خوف و بے خطر ساغرؔ
دکھا کے راستہ منزل کو ہم بتا کے چلے
——
گدھوں کا مشاعرہ
——
اک رات میں نے خواب میں دیکھا یہ ماجرا
اک جا پہ ہو رہا ہے گدھوں کا مشاعرہ
وہ نیلے پیلے قمقمے میداں ہرا بھرا
بیٹھا ہے فرش سبز پہ اک سرمئی گدھا
جتنے گدھے ہیں سب کے تخلص ہیں واہیات
کونے میں بیٹھی دم کو ہلاتی ہیں خریات

کچھ موٹے تازے خر تھے کئی لاغر و نحیف
کچھ فنے خاں گدھے تھے کئی مہرباں شریف
کچھ ایسے ویسے اور کئی شاعری کے چیف
سرقہ پسند آٹھ تھے اور دس غزل کے تھیف
ڈھینچو میں جن کی رنگ تھا وہ سارے ہٹ گئے
واقف نہ تھے جو سات سروں سے وہ پٹ گئے

باہوش جو گدھے تھے وہ بیٹھے گدھی کے پاس
ساغرؔ بھی جا کے بیٹھ گئے رس بھری کے پاس
کدو سا سر لئے ہوئے چھپن چھری کے پاس
عصمت تھا جس کا نام وہ بیٹھی دری کے پاس
برفی سی تھوتھنی پہ لکھے بند دوستو
منہ میں زبان ہے کہ شکرقند دوستو

سیدھی کنوتیوں میں وہ بندوں کی آب و تاب
آواز شعلہ ور میں مہکتی ہوئی شراب
پلکوں کی چلمنوں میں چھپے روشنی کے خواب
توڑے پڑا تھا جسم کو اٹھتا ہوا شباب
قدریں تھیں جن کے پاس وہ سر کو جھکائے تھے
جو منچلے گدھے تھے وہ تھوتھن اٹھائے تھے

مائک پہ آ کے شور مچاتے ہوئے گدھے
پانوں کی جا پہ گھاس چباتے ہوئے گدھے
ترشول ذہن و دل پہ چلاتے ہوئے گدھے
دیوار نفرتوں کی اٹھاتے ہوئے گدھے
جو تھے عروض داں وہ روایت میں بند تھے
بے بہرہ جو گدھے تھے ترقی پسند تھے
——
حوالہ جات
——
ڈاکٹر پیر زادہ قاسم ، کراچی یونیورسٹی از قہقہوں کی بارات
مصنف : ساغر خیامی ، شائع شدہ 1992 ، صفحہ نمبر 3 تا 6
شعری انتخاب از کلیاتِ ساغر خیامی ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ