اردوئے معلیٰ

آج معروف ادیب،کالم نگار، ڈرامہ نگار اور شاعر سلیم احمد کا یومِ پیدائش ہے

سلیم احمد
(پیدائش: 27 نومبر، 1927ء – وفات: یکم ستمبر، 1983ء)
——
اردو زبان میں ایسے شاعر اور ادیب کم ہی گزرے ہیں جنہوں نے خود کو ادب کے لئے اس طرح وقف کردیا ہو کہ کبھی کبھی دھوکا ہونے لگتا ہو کہ وہ گوشت پوست سے بنے ہوئے انسان نہیں بلکہ مجسمہ ٔ خیال ہوں۔ ایسے ہی ایک شاعر اور ادیب سلیم احمد بھی تھے۔
جناب سلیم احمد1927ء کو ضلع بارہ بنکی کے ایک قصبے کھیولی میں پیدا ہوئے۔ وہیں سے میٹرک کیا اور میٹرک کے بعد میرٹھ کالج میں داخل ہوئے جہاں ان کے تعلقات پروفیسر کرار حسین، محمد حسن عسکری، انتظار حسین اور ڈاکٹر جمیل جالبی سے استوار ہوئے جو دم آخر تک قائم رہے۔
قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان چلے آئے، یہیں تعلیم مکمل کی اور 1950ء میں ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے۔
جناب سلیم احمد نے 1944ء میں ہی شاعری شروع کردی تھی۔ ان کی شاعری باوجود منفرد لب و لہجے اور نئے اسلوب و مضامین کے کڑے اعتراضات کا نشانہ بنی۔
سلیم احمد کی وجۂ شناخت ان کے بے لاگ اور کھرے تنقیدی مضامین تھے جن کی کاٹ اور جن کی صداقت اور راست بازی کے دوست ہی نہیں دشمن بھی گرویدہ تھے۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف ادیب،کالم نگار،ڈرامہ نگار اور شاعر سلیم احمد کی برسی
——
سلیم احمد ایک بہت اچھے ڈرامہ نگار بھی تھے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لئے متعدد ڈرامے تحریر کئے، اخبارات میں کالم نگاری بھی کی اور پاکستان کی پہلی جاسوسی فلم ’’راز کی کہانی‘‘ بھی تحریر کی جس پرانہیں بہترین کہانی نویس کا نگار ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔
یکم ستمبر 1983ء کو سلیم احمد کراچی میں وفات پاگئے اور پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
سلیم احمد کے شعری مجموعوں میں بیاض، اکائی، چراغ نیم شب اور مشرق اور تنقیدی مضامین کے مجموعوں میں ادبی اقدار، نئی نظم اور پورا آدمی، غالب کون؟ ادھوری جدیدیت، اقبال ایک شاعر، محمد حسن عسکری آدمی یا انسان شامل ہیں۔
ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے:
——
اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا
روشنی کے ساتھ رہئے روشنی بن جایئے
——
سلیم احمد کی تین کتابیں از شاہنواز فاروقی
——
سلیم احمد جدید اردو ادب کی اہم شخصیتوں میں سے ایک ہیں۔ تنقید میں ان کا مقام یہ ہے کہ وہ اردو کے تین اہم نقادوں میں سے ایک ہیں۔ تنقید کے دائرے میں ان کی اہمیت اس امر سے بھی ظاہر ہے کہ ان کے یہاں تنقید ایک تہذیبی عمل بن گئی ہے۔ اردو تنقید میں یہ بات سلیم احمد کے علاوہ صرف عسکری صاحب کے بارے میں کہی جاسکتی ہے جو بلاشبہ اردو کے سب سے بڑے نقاد ہیں۔ جہاں تک سلیم احمد کی تنقید کی تہذیبی اہمیت کا سوال ہے تو اس بارے میں بنیادی بات یہ ہے کہ نقاد کا صاحبِ علم ہی نہیں صاحبِ نظر ہونا بھی ضروری ہے۔ لیکن تہذیبی اعتبار سے ایک بات ان دونوں چیزوں سے بھی زیادہ اہم ہے اور وہ یہ کہ نقاد کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی تہذیب کے بنیادی تصورات اور بنیادی تقاضے کیا ہیں؟ سلیم احمد کی ایک اہمیت یہ ہے کہ ان کی تنقید اپنی تہذیب کے دائرے میں موجود بنیادی سوالات سے نبرد آزما ہے۔ سلیم احمد کی تنقید نے ان سوالات کے جو جواب مہیا کیے ہیں ان سے اختلاف تو کیا جاسکتا ہے مگر ان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد نظم کے سب سے بڑے شاعر ن۔م۔ راشد نے سلیم احمد کو اردو کا واحد original نقاد کہا ہے۔ سلیم احمد خود کو عسکری صاحب کا شاگرد کہتے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ عسکری صاحب کے بغیر سلیم احمد وہ کچھ نہیں بن سکتے تھے جو کہ وہ تھے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عسکری صاحب اور سلیم احمد کی شخصیتوں میں بڑا فرق ہے۔ عسکری صاحب کی شخصیت کا خمیر علم سے اُٹھا تھا، چناں چہ عسکری صاحب نے محبت کو بھی علم بنادیا ہے۔ اس کے برعکس سلیم احمد کا خمیر محبت سے اُٹھا تھا، چناں چہ انہوں نے علم کو بھی محبت میں ڈھال دیا ہے۔ سلیم احمد کی شخصیت کے اس جوہر کا اثر ان کی نثر تک پر پڑا ہے۔ عسکری صاحب کی نثر کمال کی چیز ہے، مگر سلیم احمد کی نثر زبان کا رقص ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : سلیم کوثر کا یوم پیدائش
——
اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات کسی المیے سے کم نہیں کہ سلیم احمد کی تنقیدی کتب عرصے سے نایاب تھیں۔ چند سال قبل سلیم احمد کے دیرینہ رفیق جمال پانی پتی کے فرزند رضوان امریکا سے کراچی آئے تو انہوں نے بتایا کہ جمال پانی پتی صاحب نے انتقال سے قبل انہیں سلیم احمد کی چار کتابوں ’’ادبی اقدار‘‘، ’’نئی نظم اور پورا آدمی‘‘، ’’ادھوری جدیدیت‘‘ اور ’’نئی شاعری نامقبول شاعری‘‘ کو ایک مجموعے کی صورت میں شائع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ مجموعے جمال پانی پتی صاحب اپنی زندگی میں کچھ مضامین کے اضافوں کے ساتھ مرتب کرچکے تھے۔ بہرحال سلیم احمد کی کتابوں کا یہ مجموعہ رضوان جمال کے ذاتی سرمائے سے برادرم مبین مرزا نے اکادمی بازیافت کے تحت ’’مضامینِ سلیم احمد‘‘ کے عنوان سے شائع کردیا تھا۔ مگر سلیم احمد نے اردو کی تین بڑی شخصیات کے فکر و فن پر جو کتابیں لکھی تھیں وہ اس مجموعے کا حصہ نہیں تھیں۔ یہ کتب بھی مدتوں سے بازار میں دستیاب نہیں تھیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ ایک چھوٹا سا علمی و ادبی اور تہذیبی ’’واقعہ‘‘ ہے کہ سلیم احمد کی یہ تینوں کتابیں بھی ایک مجموعے کی صورت میں لاہور سے شائع ہوگئی ہیں۔ اس سلسلے میں معروف شاعر، نقاد اور قائداعظم اکیڈمی کے ڈائریکٹر خواجہ رضی حیدر کی کوششوں کی اہمیت بنیادی ہے۔ مگر اس مجموعے میں سلیم احمد کی کون سی کتب شامل ہیں؟ سلیم احمد کے ’’نئے قارئین‘‘ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس مجموعے میں ’’غالب کون؟‘‘، ’’اقبال۔ ایک شاعر‘‘ اور ’’محمد حسن عسکری آدمی یا انسان؟‘‘ شامل ہیں۔ لیکن سوال تو یہ بھی ہے کہ سلیم احمد کی ان کتب کی اہمیت کیا ہے؟
اردو شاعری میں غالب کی شاعری کی اہمیت کا اندازہ عبدالرحمن بجنوری کے اس فقرے سے کیا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں: وید اور دیوانِ غالب۔ یہ غالب کی مبالغہ آمیز تعریف ہے، لیکن غالب کی شاعرانہ عظمت یہ ہے کہ اس کے سلسلے میں مبالغے سے کام لینا ضروری محسوس ہوتا ہے۔ غالب ساری زندگی اپنی ناقدری کا ماتم کرتے رہے مگر اُن کے انتقال کے بعد اردو میں اُن پر اتنی گفتگو ہوئی ہے کہ ’’غالبیات‘‘ ہمارے ادبی علم کا ایک مستقل گوشہ بن کر رہ گئی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو سلیم احمد کی کتاب ’’غالب کون؟‘‘ کی اہمیت یہ ہے کہ سلیم احمد نے غالب کو جس زاویے سے دیکھا ہے کسی اور نے غالب کو اس زاویے سے نہیں دیکھا۔ چناں چہ سلیم احمد کی کتاب غالبیات میں ایک اضافے کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن غالب کے سلسلے میں سلیم احمد کے زاویۂ نگاہ کی انفرادیت کیا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ سلیم احمد نے اَنا کو غالب کا بنیادی مسئلہ ثابت کرکے غالب کی شخصیت اور شاعری کا تجزیہ اسی تناظر میں کیا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : محمد حسن عسکری کا یوم پیدائش
——
ایلیٹ کا مشہورِ زمانہ فقرہ ہے کہ شاعری شخصیت کا اظہار نہیں، اس سے فرار کا نام ہے۔ اس فقرے کی معنویت کو سمجھنا آسان نہیں، مگر سلیم احمد نے اس فقرے کو نہ صرف یہ کہ گہرائی میں جاکر سمجھا ہے بلکہ اسے اپنے بے مثال اسلوب میں بیان بھی کیا ہے۔ سلیم احمد نے بتایا ہے کہ اَنا کس طرح پیدا ہوتی ہے، کس طرح پروان چڑھتی ہے، اور اس کا انسانی زندگی میں کیا کردار ہوتا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ کہ غالب کی شاعری کی تخلیق میں اَنا کا کیا کردار ہے اور اس صورتِ حال کی تہذیبی معنویت کیا ہے؟ ’’غالب کون؟‘‘ میں صرف اَنا اور شخصیت کی تفہیم ہی نہیں ہے بلکہ اس میں غالب کے آشوبِ آگہی، غالب کے تصوف، غالب کی ہنسی اور غالب کے اسلوب کا تجزیہ بھی موجود ہے۔ قاری ’’غالب کون؟‘‘ ختم کرتا ہے تو غالب کی شخصیت اور شاعری کی ایسی تفہیم اُس کے سامنے آتی ہے جو غالبیات کے علم میں ایک نئی جہت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ’’غالب کون؟‘‘ 1971ء میں شائع ہوئی تھی۔ 46 سال بعد اب اس کا دوسرا ایڈیشن ہمارے سامنے ہے۔
مجموعے میں شامل سلیم احمد کی دوسری کتاب ’’اقبال۔ ایک شاعر‘‘ ہے۔ اقبال اردو کے تین عظیم شاعروں میں سے ایک ہیں اور 20 ویں صدی دراصل اقبال کی صدی تھی۔ لیکن اقبال صرف 20 ویں صدی کے شاعر نہیں بلکہ آنے والی صدیاں بھی ان کی عظمت کی گواہی دیں گی۔ غالبیات کی طرح اقبالیات بھی ایک بہت بڑے گوشۂ علم کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ اس علم میں اضافہ معمولی بات نہیں۔ سلیم احمد کی کتاب ’’اقبال۔ ایک شاعر‘‘ کی اہمیت یہ ہے کہ یہ کتاب اقبالیات میں ایک توسیع کی حیثیت رکھتی ہے۔ ’’اقبال۔ ایک شاعر‘‘کا ہنگامہ خیز مرکزی پہلو یہ ہے کہ اقبال کی شاعری کا اساسی تصور خودی ہے نہ مردِ مومن، بلکہ اقبال کی شاعری کا سرچشمہ موت کی خواہش ہے۔ تاہم ’’اقبال۔ ایک شاعر‘‘ صرف اس مسئلے کی نشاندہی اور اس کی تعبیر سے متعلق نہیں، بلکہ اس میں اقبال کی شاعری کے بڑے موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس گفتگو کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ کتاب کے دیباچے میں سلیم احمد کے استاد پروفیسر کرار حسین جیسی شخصیت نے یہ کہا ہے کہ مسجد قرطبہ پر سلیم احمد کا مضمون اعلیٰ ترین تنقید کا شاہکار ہے۔ اقبال کے یہاں عشق اور عقل کے تصورات بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ سلیم احمد نے ان تصورات کو گہرائی میں جاکر دیکھا اور سمجھا ہے۔ اسلامی تہذیب میں سکون اور تغیر، یا ثبات اور تغیر کے تصورات کی اہمیت بھی بنیادی ہے۔ سلیم احمد نے ان تصورات پر بھی چشم کشا گفتگو کی ہے۔ ’’اقبال۔ ایک شاعر‘‘ میں اقبال کے تصورِ خودی، اقبال کے سورہ اخلاص، اقبال کے تصورِ ابلیس اور تصورِ شاہین کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے۔ کتاب میں اقبال کی شخصیت کے بعض ایسے پہلو بھی زیر بحث آئے ہیں جن پر عموماً گفتگو نہیں ہوتی۔ سلیم احمد کے بقول ’’اقبال۔ ایک شاعر‘‘ اقبال سے ان کے عشق کا حاصل ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اقبال اکیڈمی نے کبھی اس کتاب کو ’’اقبال مخالف‘‘ کہہ کر شائع کرنے سے انکار کردیا تھا۔ پہلی بار یہ کتاب 1978ء میں شائع ہوئی تھی۔ چند سال بعد اضافوں کے ساتھ اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا تھا، تاہم 1981ء کے بعد سے یہ کتاب کہیں دستیاب نہ تھی۔
محمد حسن عسکری اردو کے سب سے بڑے نقاد ہیں اور سلیم احمد نہ صرف یہ کہ اُن کے شاگردِ رشید تھے بلکہ عسکری صاحب کے ساتھ اُن کی رفاقت 40 برسوں پر محیط تھی۔ اس بات کی اہمیت یہ ہے کہ عسکری صاحب کی فکر اور شخصیت کو سلیم احمد جس طرح سمجھتے تھے کوئی اور اس طرح نہیں سمجھتا تھا۔ عسکری صاحب پر بہت کم لکھا گیا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عسکری صاحب کا علم قاموسی یا Encyclopedic ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : آغا سلیم کا یوم پیدائش
——
چناں چہ عسکری صاحب پر گفتگو کے لیے بھی ایک بلند علمی سطح درکار ہے۔ عسکری صاحب کے شاگردوں اور اُن سے فیض اُٹھانے والوں میں شمس الرحمن فاروقی، انتظار حسین اور مظفر علی سید جیسے لوگ شامل ہیں، مگر ان میں سے کسی نے بھی عسکری صاحب کی شخصیت اور فکر کی تفہیم کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ سیلم احمد نے اس مشکل کام کا بیڑا اُٹھایا اور اس کام کے سلسلے میں وہ طریقہ اختیار کیا جو انہوں نے عسکری صاحب ہی سے سیکھا تھا۔ سلیم احمد کہا کرتے تھے کہ عسکری صاحب کی فکر کو سمجھنے کے سلسلے میں ان کا مضمون ’’انسان یا آدمی‘‘ اتنا اہم ہے کہ اگر کسی وجہ سے عسکری صاحب کی ساری تحریریں تلف ہوجائیں تو صرف اس ایک مضمون کی مدد سے عسکری صاحب کے علمی مؤقف کو ازسرنو مرتب کیا جاسکتا ہے۔ چناں چہ سلیم احمد نے عسکری صاحب کی شخصیت اور فکر کے تجزیے کے سلسلے میں بنیادی سوال یہ قائم کیا ہے کہ عسکری صاحب کیا تھے؟ آدمی یا انسان۔ اس سلسلے میں سلیم احمد کے تجزیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عسکری صاحب انسان تھے مگر وہ انسان سے آدمی بننا چاہتے تھے۔ یہ ان کی روحانی، فکری اور تہذیبی جدوجہد کا مرکزی نکتہ ہے۔ مگر سلیم احمد نے یہ بات ایک وسیع علمی پس منظر میں کہی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے پی ڈی اوسپنسکی کے تصورِ انسان اور انسان کے تصورِ ارتقا سے استفادہ کیا ہے۔ کہنے کو انسان اور آدمی ہم معنی الفاظ ہیں مگر عسکری صاحب کے یہاں ان الفاظ کے امتیاز کا گہرا تجزیہ موجود ہے۔ عسکری صاحب اس تجزیے کو اتنا اہم سمجھتے تھے کہ انہوں نے صاف کہا ہے کہ اگر ہم نے ’’انسان‘‘ کو رد کرکے ’’آدمی‘‘ کو قبول نہ کیا تو انسانیت کا مستقبل صدیوں تک مبہم رہے گا۔ لیکن اس کتاب میں اور بھی بہت کچھ ہے۔ مثلاً عسکری صاحب کے تصورِ مغرب اور تصورِ روایت کا تجزیہ۔ یہ کتاب 1982ء میں مشفق خواجہ نے مکتبۂ اسلوب کے تحت شائع کی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک یہ کتاب دوبارہ شائع نہیں ہوئی تھی۔
سلیم احمد کی ان تینوں کتابوں کا مجموعہ ’’غالب، اقبال اور حسن عسکری‘‘ کے نام سے کتاب محل نے شائع کیا ہے۔ 392 صفحات پر مشتمل اس مجلّد مجموعے کی قیمت 800 روپے ہے۔ کتاب اوسط درجے کے کاغذ پر شائع ہوئی ہے البتہ اس میں حروف چینی یا پروف ریڈنگ اوسط درجے سے بھی کم سطح کی ہے۔ کتاب لاہور اور کراچی سمیت کئی شہروں میں اہم کتب فروشوں کے یہاں دستیاب ہے۔
——
منتخب کلام
——
سچ تو کہہ دوں مگر اس دور کے انسانوں کو
بات جو دل سے نکلتی ہے بری لگتی ہے
——
دیوتا بننے کی حسرت میں معلق ہو گئے
اب ذرا نیچے اتریے آدمی بن جائیے
——
اتنی کاوش بھی نہ کر میری اسیری کے لیے
تو کہیں میرا گرفتار نہ سمجھا جائے
——
مجھ سے کہتا ہے کہ سائے کی طرح ساتھ ہیں ہم
یوں نہ ملنے کا نکالا ہے بہانہ کیسا
——
مسلسل دید بھی شاید کبھی ہو
ابھی تو اس کے ڈر سے کانپتا ہوں
مرا دل جیسے ہمسائے کا گھر ہے
کبھی روزن سے خود کو جھانکتا ہوں
——
جلا وطنی کے دن پورے ہوئے ہیں
حیاتِ تازہ پانے جا رہا ہوں
کیا ہے طُور کو زندہ کسی نے
میں پھر سے آگ لانے جا رہا ہوں
——
میرا ماضی مرے پیچھے نہ آئے
مجھے یادوں کی اب فرصت نہیں ہے
نئے خوابوں میں اُلجھایا گیا ہوں
رہی تعبیر سو عُجلت نہیں ہے
——
دل میں تھی کس کی طلب یاد نہیں
حال جو کل تھا وہ اب یاد نہیں
گریہء شب سے ہیں آنکھیں نم ناک
اور رونے کا سبب یاد نہیں
——
کبھی اپنی خوشی پر شادماں ہوں
کبھی اپنے غموں پہ نوحہ خواں ہوں
تواضع خود ہی کر لیتا ہوں اپنی
میں اپنے گھر میں اپنا مہماں ہوں
——
بھُلا بیٹھا تھا جس یادوں کو دل سے
وہی یادیں ہیں جن پر جی رہا ہوں
اُدھیڑا تھا جسے لاکھوں جتن سے
وہ پیراہن میں پھر سے سی رہا ہوں
——
تمہارے دوش پر بھاری نہیں تھا
یہ احساس کس لیے فرما دیا ہے
عزیز اس قدر عُجلت بھی کیا تھی
مجھے زندہ ہی کیوں دفنا دیا ہے
——
جس کا انکار بھی انکار نہ سمجھا جائے
ہم سے وہ یارِطرحدار نہ سمجھا جائے
اتنی کاوش بھی نہ کر میری اسیری کے لیے
تو کہیں میرا گرفتار نہ سمجھا جائے
اب جو ٹھہری ہے ملاقات تو اس شرط کے ساتھ
شوق کو درخورِ اظہار نہ سمجھا جائے
نالہ بلبل کا جو سنتا ہے تو کھل اُٹھتا ہے گل
عشق کو مفت کی بیگار نہ سمجھا جائے
عشق کو شاد کرے غم کا مقدر بدلے
حسن کو اتنا بھی مختار نہ سمجھا جائے
بڑھ چلا آج بہت حد سے جنونِ گستاخ
اب کہیں اس سے سرِ دار نہ سمجھا جائے
دل کے لینے سے سلیمؔ اُس کو نہیں ہے انکار
لیکن اس طرح کہ اقرار نہ سمجھا جائے
——
یہ بھی پڑھیں : صد امتنان و فضلِ خدائے کریم ہے
——
کسی محفل میں مدت سے غزل خواں ہم نہیں جاتے
کسے اب یاد ہیں وہ عہد و پیماں، ہم نہیں جاتے
نہ ہونے سے ہمارے کون ایسا فرق پڑتا ہے
خدا آباد رکھے بزمِ جاناں ۔۔ ہم نہیں جاتے
صبا کے ہاتھ خوشبو بھیج کر عہدِ بہاراں کی
ہمیں کیوں تنگ کرتے ہیں گلستاں، ہم نہیں جاتے
حرم کا پوچھنا کیا گھر خدا کا ہے مگر اے دل
وہاں تو سب کے سب ہوں گے مسلماں ہم نہیں جاتے
بلاوے تو بہت آئے مگر شہرِ نگاراں میں
وہی ہے امتیازِ جان و جاناں۔ ہم نہیں جاتے
——
اتنا یاروں کو نہ سُوجھا کہ لگا کر لاتے
یوں نہ آتا تو کوئی بات بنا کر لاتے
جانے کیا بول اُٹھے دل کا ٹھکانہ کیا ہے
ایسے وَحشی کو تو پہلے سے پڑھا کر لاتے
یوں بھی سنتا ہے کہیں کوئی فسانہ غم کا
ایسے مضموں کو ذرا اور بنا کر لاتے
ہم تو اس بزم میں اے دل رہے تیری خاطر
کچھ اشارہ بھی جو پاتے تو بُلا کر لاتے
رنگِ محفل کی بڑی دھوم سنی ہے یارو
کیا بگڑ جاتا ہمیں بھی جو دکھا کر لاتے
آج ہی تم کو نہ آنا تھا چلو جاؤ سلیمؔ
ورنہ ہم آج تمہیں اس سے ملا کر لاتے
——
ترک ان سے رسم و راہِ ملاقات ہو گئی
یوں مل گئے کہیں تو کوئی بات ہو گئی
دل تھا اُداس عالمِ غربت کی شام تھی
کیا وقت تھا کہ تجھ سے ملاقات ہو گئی
رسمِ جہاں نہ چھوٹ سکی ترکِ عشق سے
جب مل گئے تو پُرسشِ حالات ہو گئی
خو بُو رہی سہی تھی جو تجھ میں خلوص کی
اب وہ بھی نذرِ رسمِ عنایات ہو گئی
وہ دشتِ ہول خیز وہ منزل کی دھن وہ شوق
یہ بھی خبر نہیں کہ کہاں رات ہو گئی
کیوں اضطراب دل پہ تجھے آ گیا یقیں
اے بدگمانِ شوق یہ کیا بات ہو گئی
دلچسپ ہے سلیمؔ حکایت تری مگر
اب سو بھی جا کہ یار بہت رات ہو گئی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات