اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف شاعر سعود عثمانی کا یوم پیدائش ہے

سعود عثمانی (پیدائش: 6 دسمبر 1958)
——
سعود عثمانی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے ممتاز شاعر ہیں۔ وہ اردو زبان کے شاعر محمد زکی کیفی کے بیٹے اور مفتی تقی عثمانی، مولانا ولی رازی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی کے بھتیجے ہیں۔ سعود عثمانی نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی ایس سی اور جامعہ پنجاب سے ایم بی اے کیا ہے اور کتابوں کی فروخت اور اشاعت کا اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔
——
اردو غزل کے جدید ترین نمائندوں میں بہت کم لوگ ہیں جو سعود عثمانی کی نفاستِ کلام کو پہنچ سکتے ہیں ۔ سعود عثمانی نے ثابت کیا ہے کہ شعر ظاہر کے تجربوں سے نہیں باطن کے ولولوں سے زندہ رہتا ہے ۔
——
ایک کم عمر شاعر کی بہت بڑی شاعری از اشفاق احمد
——
سعود عثمانی کو جب میں نے اس کے لڑکپن میں دکان پر آتے جاتے دیکھا تھا تو بھائی زکی سے اکثر کہا کرتا تھا کہ بھائی میاں! لڑکے کے تیور کڑے پڑتے ہیں، کہیں تمہاری متاعِ سخن کو لوٹ پیٹ کر نہ لے جائے ۔لیکن والدین چونکہ ہمیشہ غلطی پرہوتے ہےںاِس لئے انہوں نے میرے اعلانِ خطر پر کوئی توجہ نہ دی اور اپنی غزل کی ساری کمائی لاڈلے سپوت ، سعودؔ کے ہاتھ دوسرے بچوں سے پوچھے بغیر بیع کردی۔ اس وقت قوس میرے سامنے ہے اور میں اس یقین میں بہت گہرا اُترچکا ہوں کہ سعودؔ کی غزل کا ایک نیا اپنا ہی انوکھا رنگ ہے ۔ ہے تو ذہن اور تصور کی پیداوار مگر پا پیادہ چلتی ہے اور ایسے راستوں ،ایسی گزرگاہوں اور ایسے مکانوں سے گزرتی ہے جو سارے میرے دیکھے بھالے اور جانے پہچانے ہیں ۔حیرت تویہ ہے کہ سعو د ؔ کی غزل کلاسیکی ہوتے ہوئے بھی ماڈرن ہے اور اپنا مقام اور اپنا قیام آج کی دنیا میں رکھتی ہے اوراس کا ماحول میرے وجود کا محل وقوع ہے ۔ میں جب چلتا ہوں تو یہ میرے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ رکتا ہوں تو میرے ساتھ رک جاتی ہے ۔ بُلاتا ہوں تو پیچھے مڑ کر دیکھتی ہے ،یہ میرا سایہ ہے جو میرے دائیں ہاتھ تقریبا ” ایک گز کے فاصلے پر ساتھ ساتھ رہتا ہے اور کہتا ہے ۔
——
میں ساتھ کسی کے بھی سہی، پاس ہوں تیرے
سب دربدری ایک ٹھکانے کے لئے ہے
اس راہ پہ اک عمر گزر آئے تو دیکھا
یہ راہ فقط لوٹ کے جانے کے لئے ہے
تجھ کو نہیں معلوم کہ میں جان چکا ہوں
تو ساتھ فقط ساتھ نبھانے کے لئے ہے
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز شاعر اور ملی و فلمی نغمہ نگار کلیم عثمانی کا یومِ وفات
——
سعود عثمانی کی شاعری کااحاطہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سعودؔ نہ تو اداسی کا شاعرہے نہ اکلاپے کا، نہ جلاپے کا ،نہ سیاپے کا ۔ نہ یہ احتجاج کا شاعر ہے نہ احتیاج کا ۔ نہ مخاصمت کانہ مزاحمت کا۔ وہ بس ایک چھوٹاسا شاعر ہے جو بہت بڑی شاعری کر رہا ہے اور اپنے ہم عصروں کے لئے ایک خاموش چیلنج سابنا ہوا ہے اور یہی ان کے گھرانے کا خاصہ ہے ۔
ایک ہی موڈ کے غزل گو شاعر کے اندر نظم کا باطن تومل جاتا ہے مگر باریک لکیر کھینچ کر فرق واضح نہیں کیا جاسکتا۔ مرکز تخلیق ہر آن اپنا مقام بدلتا رہتا ہے کہ کبھی یہ لہر ہے کبھی پارٹیکل ۔لیکن حتمی طور پر کچھ طے نہیں ہو پاتا کہ نظم ہے یاغزل ۔ قطعہ بند اشعا ر ہیں کہ من موجی غزالاں غزل میں تھوتھنیاں ٹیک کر ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی ہیں۔ میں صرف مقبرہ جہانگیر والی غزلی نظم کا حوالہ نہیں دوں گا بلکہ فال کے انداز میں کوئی بھی صفحہ کھول کر دکھادوں گاکہ :۔
——
گنبد کی صدا کو راستا دے
بڑھتی ہوئی گونج دل نہ ڈھا دے
تتلی کا سفر ہی بے-جہت ہے
اب ساتھ بھی کوئی دے تو کیا دے
آپس میں الجھ گئے ہیں رستے
اس ڈور کا دوسرا سرا دے
آپہنچے ہیں پھر حریف سر پر
اے قلزمِ وقت ! راستا دے
سب شاہ کی مات تک کھڑے ہیں
کیا اسپ و وزیر کیا پیادے
——
اور پھر وہ آخرِ کار والی غزل کہ :
——
حوصلہ چھوڑ گئی راہ گزر آخر ِ کار
رہ گیا ساتھ مسافر کے سفر آخرِ کار
اس کے پتوں پہ لکیریں تھیں ہتھیلی جیسی
مُدّتوں سبز رہا پیڑ مگر ، آخرِ کار
——
اور یہ شعر
——
ٹوٹ جاتا ہے کسی شخص کے مانند سعودؔ
قید تنہائی میں رہتا ہوا گھر آخرِ کار
——
قوس میں ایک شعر ہے کہ
——
میاں ! یہ عشق ہے اور آگ کی قبیل سے ہے
کسی کو خاک بنادے ، کسی کو زر کر دے
——
اس شعر کے ساتھ میں نے اور اس شعر نے میرے ساتھ بڑی تفصیلی گفتگو کی ہے ہم ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہوئے بھی اجنبی بنے بیٹھے ہیں۔ شعر میں میاں کا لفظ میرے تایاجی اور بڑے ماموں کے زمانے میں استعمال ہوتا تھا ۔ پھر اس کا م کے کاریگر نہ رہے۔ اس لفظ کا آخر ی مستری نظیر اکبر آبادی تھا ، جو تخاطب کے انداز کی فٹنگ کا ایک ہی مستری تھا ۔ اب اتنی مدت کے بعد سعودؔ نے اپنی ماڈرن غزل میں لفظ ، میاں ، کی ایسی چول بٹھائی ہے کہ سنگ مر مر پر سنگ سیاہ کی پچی کاری کا جوڑ ہی دکھائی نہیں دیتا ۔ میں نے اس شعر کے ساتھ اپنے وکیلی جھگڑے میں کہا کہ۔
——
رکو! یہ عشق ہے اور آگ کی قبیل سے ہے
اور
سنو! یہ عشق ہے اور آگ کی قبیل سے ہے
——
تو میاں نے یہ سن کر گُڑگُڑی کی راکھ زمین پر انڈیلتے ہوئے کہا کہ "بھائی ! یہ کیمیا گری کا کھیل ہے میاں! آدمی گھر گھاٹ کانہیں رہتا۔ ساری عمر گزر جاتی ہے ہاتھ کچھ نہیں آتا، لے دے کر آخر میں ایک آنچ کی کسر رہ جاتی ہے اور سب کچھ خاک در خاک ہوجاتا ہے۔ پھر نئے لوگ عشق اور آگ کے اثر آثار معلوم کرنے اور خبر اخبار کی ٹوہ میں نکلتے ہیں تو آگہی کی نکڑ پر میاں ہی ہوتا ہے جس سے سُوجھ بُوجھ کے ڈھائی انچھر مل سکتے ہیں اور کسی کو کچھ معلوم نہیں ہوتا۔
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز کلاسیکل شاعر عزیز لکھنوی کا یوم وفات
——
تو اس شعر کے شروع میں میاں ہی کو رہنے دو۔ کسی اور کو مخاطب کرو گے؟ تو نہ عشق کا بھید ملے گا نہ آگ کا بھاؤ !
مےں نے اس بات کو دل سے نہیں مانا ۔ شعر سے مکالمہ جاری ہے جو بڑی دیر تک اور بڑی دور تک چلے گا ۔
تو میاں سعود! تم کو قوس کی اشاعت مبارک ہو۔ جو بات ہم نے بھائی زکی سے کہی تھی اس پر تم پورے اترے۔ ہماری عزت رہ گئی ، تمہارا نام ہوگیا ، ہم خوش ہولئے ، اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے
——
معاصرین کی رائے
——
سعود عثمانی نے کوئی نام نہاد جدت طرازی نہیں کی ، کوئی مضحکہ خیز تجربہ نہیں کیا ۔ کوئی نئی صنف یا ہیئیت ایجاد کرنے کا روگ نہیں پالا، برتے ہوئے اسالیب کو برتا ہے مگر اُس کے زندہ لمس سے خوابیدہ الفاظ اور غنودہ ترکیبیں جاگ اٹھی ہیں اور ان میں زندہ مفاہیم لَو دینے لگے ہیں ۔ یہی کام سب سے مشکل ہے کہ روایت کی زمین پر مضبوطی سے قدم جماتے ہوئے شاعر "شجرۂ طیبہ” کی طرح آسمان تک بلند ہو جائے ۔
(ڈاکٹر خورشید رضوی از قوس)
——
غزل جیسی عظیم اور نازک صنفِ سخن میں طبع آرائی جس قدر آسان ہے اس میں اپنا نام اور شناخت پیدا کرنا اتنا ہی مشکل ہے کہ شعر اور غزلیں تو کیا لوگوں کے پورے کے پورے دیوان قارئین کی توجہ حاصل کیے بغیر چَھپتے ہی اس طرح چُھپ جاتے ہیں کہ ان کا نشان تک نہیں ملتا ۔ ایسے میں سعود عثمانی جیسے شاعر کا ظہور یقیناََ ایک اہم خبر ہے کہ ” غریب شہر سخن ہائے گفتنی دارد” کے مصداق اس نوجوان کے پاس نہ صرف کہنے کے لیے بہت کچھ ہے بلکہ وہ کہنے کا ہنر اور ڈھب جانتا ہے ۔
سعود عثمانی اپنے رویے ، اسلوب اور لہجے کے اعتبار سے روایت اور جدیدیت کے ایک خوشگوار امتزاج کا نمائندہ نظر آتا ہے ۔ جہاں وہ نئے الفاظ ، تراکیب اور تمثالوں میں جدت انگیزی کرتا ہے وہاں اُس کی غزل میں کلاسیکی غزل کے رچاؤ ، مطالعے اور شعور کی مہک بھی قدم قدم پر دامن گیر ہوتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ دونوں کے اسالیبِ سخن کے اچھے ، زندہ ، معیاری اور مستقبل عناصر کا نہ صرف بہت احتیاط سے انتخاب کرتا ہے بلکہ اس کے اظہار میں بھی اُس مصنوعی تفریق کو روا نہیں رکھتا جس نے جدید اور قدیم غزل کو دو علیحدہ منطقوں کی شکل دے دی ہے ۔
(امجد اسلام امجد از قوس)
——
منتخب کلام
——
یہ قرعہء افتخار یثرب کے نام نکلا
وداع کی گھاٹیوں سےماہ تمام نکلا
——
شرف زمیں کو ملا اربوں کہکشاؤں پر
کہ اس کو تیرے لیے مستقر بنایا گیا
——
مرکز بحر و بر جیسے یثرب ہوا راہ تکتے دیاروں کے ہوتے ہوئے
یہ زمیں میزبان پیمبر بنی اربوں کھربوں ستاروں کے ہوتے ہوئے
——
یہ نہر ممکن ہے حوضِ کوثر سے پھوٹتی ہو
میں تشنہ اترا تھا نعت میں،شاد کام نکلا
——
ہمارا دھیان تو کھودی ہوئی زمین میں تھا
خزانے میں نہیں وہ سانپ آستین میں تھا
——
ایک کتاب سرہانے رکھ دی ایک چراغ ستارا کیا
مالک اس تنہائی میں تو نے کتنا خیال ہمارا کیا
——
ممکن ہے اب نہ ساتھ ہمارا کہیں بھی ہو
لیکن تو میرے پاس ہے یارا ! ، کہیں بھی ہو
——
جتنا بھی محتاط ہو آخر جانا جاتا ہے
آدمی اپنے لفظوں سے پہچانا جاتا ہے
——
سبھی دکانیں لباس و طعام کی ہیں سعود
یہ لوگ صرف پہنتے ہیں صرف کھاتےہیں
——
اس خواب کی تقدیر میں تعبیر اگر ہو
تو ساتھ ہو اور دور کا درپیش سفر ہو
——
تمام عشق تسلسل ہیں اک محبت کا
جو اولیں ہے وہی آخری محبت ہے
——
مرے سکوت کو تائید مت سمجھ اپنی
یہ اختلاف ہے اور خامشی سے ہوتا ہے
——
وہ جھوٹ بول رہا تھا کس اعتماد کے ساتھ
وہ جانتا ہی نہیں تھا کہ جانتا تھا میں
——
عشق سامان بھی ہے بے سر و سامانی بھی
اسی درویش کے قدموں میں ہے سلطانی بھی
ہم بھی ویسے نہ رہے دشت بھی ویسا نہ رہا
عمر کے ساتھ ہی ڈھلنے لگی ویرانی بھی
وہ جو برباد ہوئے تھے ترے ہاتھوں وہی لوگ
دم بخود دیکھ رہے ہیں تری حیرانی بھی
آخر اک روز اترنی ہے لبادوں کی طرح
تن ملبوس! یہ پہنی ہوئی عریانی بھی
یہ جو میں اتنی سہولت سے تجھے چاہتا ہوں
دوست اک عمر میں ملتی ہے یہ آسانی بھی
——
بچھڑ گیا ہے تو اب اس سے کچھ گلا بھی نہیں
کہ سچ تو یہ ہے وہ اک شخص میرا تھا بھی نہیں
میں چاہتا ہوں اسے اور چاہنے کے سوا
مرے لیے تو کوئی اور راستا بھی نہیں
عجیب راہ گزر تھی کہ جس پہ چلتے ہوئے
قدم رکے بھی نہیں راستا کٹا بھی نہیں
دھواں سا کچھ تو میاں برف سے بھی اٹھتا ہے
سو دل جلوں کا یہ ایسا کوئی پتا بھی نہیں
رگوں میں جمتے ہوئے خون کی طرح ہے سعودؔ
وہ حرف ہجر جو اس نے ابھی کہا بھی نہیں
——
ایک کتاب سرہانے رکھ دی ایک چراغ ستارا کیا
مالک اس تنہائی میں تو نے کتنا خیال ہمارا کیا
یہ تو بس اک کوشش سی تھی پہلے پیار میں رہنے کی
سچ پوچھو تو ہم لوگوں میں کس نے عشق دوبارہ کیا
چند ادھورے کاموں نے کچھ وقت گرفتہ لوگوں نے
دن پرزے پرزے کر ڈالا رات کو پارہ پارہ کیا
دل کو اک صورت بھائی تھی اس انبوہ میں پر ہم نے
جانے اس افرا تفری میں کس کی سمت اشارہ کیا
سر پر تاج کی صورت دھر دی اس نے ایندھن کی گٹھری
عشق نے کیسے خوش قسمت کو شاہ سے لکڑہارا کیا
سردی کی آمد تھی لیکن ساون کی رت لوٹ آئی
بجھتے بجھتے اک وحشت میں آنکھ نے رنج دوبارہ کیا
——
نظر کے بھید سب اہل نظر سمجھتے ہیں
جو بے خبر ہیں انہیں بے خبر سمجھتے ہیں
نہ ان کی چھاؤں میں برکت نہ برگ و بار میں فیض
وہ خود نمود جو خود کو شجر سمجھتے ہیں
انھوں نے جھکتے ہوئے پیڑ ہی نہیں دیکھے
جو اپنے کاغذی پھل کو ثمر سمجھتے ہیں
حصار جاں در و دیوار سے الگ ہے میاں
ہم اپنے عشق کو ہی اپنا گھر سمجھتے ہیں
کشادہ دل کے لیے دل بہت کشادہ ہے
یہ میں تو کیا مرے دیوار و در سمجھتے ہیں
مری حریف نہیں ہے یہ نیلگوں وسعت
اور اس فضا کو مرے بال و پر سمجھتے ہیں
اکیلا چھوڑنے والوں کو یہ بتائے کوئی
کہ ہم تو راہ کو بھی ہم سفر سمجھتے ہیں
تجھے تو علم کے دو چار حرف لے بیٹھے
سمجھنے والے یہاں عمر بھر سمجھتے ہیں
سمجھ لیا تھا تجھے دوست ہم نے دھوکے میں
سو آج سے تجھے بار دگر سمجھتے ہیں
جو آشنائی کے خنجر سے آشنا ہیں سعودؔ
وہ دست دوست کے سارے ہنر سمجھتے ہیں
——
حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو
کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو
سات سروں کی لہروں پہ ہلکورے لیتے پھول سے ہیں
اک مدہوش فضا سنتی ہے اک چڑیا کے گانے کو
بولتی ہو تو یوں ہے جیسے پھول پہ تتلی ڈولتی ہو
تم نے کیسا سبز کیا ہے اور کیسے ویرانے کو
لیکن ان سے اور طرح کی روشنیاں سی پھوٹ پڑیں
آنسو تو مل کر نکلے تھے آنکھ کے رنگ چھپانے کو
جیسے کوئی جسم کے اندر دیواریں سی توڑتا ہے
دیکھو اس پاگل وحشی کو روکو اس دیوانے کو
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ