اردوئے معلیٰ

Search

آج مشہور و معروف شاعر، داغ دہلوی کے شاگرد علامہ سیماب اکبر آبادی کا یوم وفات ہے

سیماب اکبر آبادی (پیدائش: 5 جون 1880— وفات: 31 جنوری 1951ء)
——
سیماب اکبر آبادی اردو کے نامور اور قادرالکلام شاعر تھے۔
ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ سیماب آگرہ، اتر پردیش کے محلے نائی منڈی،کنکوگلی، املی والے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، محمّد حسین صدیقی بھی شاعر اور حکیم امیرالدین اتتار اکبرآبادی کے شاگرد تھے اور ٹائمز آف انڈیا پریس میں ملازم تھے۔
سیماب اکبر آبادی نے فارسی اور عربی کی تعلیم جمال‌ الدین سرحدی اور رشید احمد گنگوہی سے حاصل کی۔ اسکول گورنمنٹ کالج اجمیر سے الحاق شدہ برانچ اسکول سے میٹرک کیا۔ 1897 میں 17 سال کی عمر میں والد کا انتقال ہو گیا جس کی وجہ سے ایف اے کے آخری سال میں تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔
1898 میں ملازمت کے سلسلے میں کان پور گئے اور وہیں فصیح الملک داغ دہلوی کی شاگردی اختیار کی جو علامہ اقبال کے بھی استاد تھے۔ 1900 میں سکینہ بیگم سے شادی ہوئی۔ دیوہ شریف میں حاجی حافظ سید وارث علی شاہ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ 1921 میں ریلوے کی ملازمت چھوڑ کر آگرہ میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور قصرِ ادب کے نام سے ادبی ادارہ قائم کیا۔ ملازمت کے دوران ماہنامہ مرصع ، ماہنامہ پردہ نشین اور آگرہ اخبار کی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
قصرِ ادب ادارے سے ماہنامہ پیمانہ جاری کیا۔ پھر بیک وقت ماہنامہ ثریا، ماہنامہ شاعر، ہفت روزہ تاج، ماہنامہ کنول، سہ روزہ ایشیا شائع کیا۔ ساغر نظامی جو سیماب اکبر آبادی کے شاگرد تھے وہ بھی قصر ادب سے وابستہ رہے۔ ان کی لکھی کتابوں کی تعداد 284 ہے جس میں 22 شعری مَجمُوعے ہیں جن میں "وحی منظوم” بھی شامل ہے جس کی اشاعت کی کوشش 1949 میں ان کو پاکستان لے گئی جہاں کراچی شہر میں 1951 میں انکا انتقال ہوا۔
مولوی فیروز الدین کی فرمائش پر مثنوی مولانا روم کا منظوم اردو ترجمہ شروع کیا جس کے لیے وہ لاہور منتقل ہوئے اور اپنا ادارہ قصرادب بھی لاہور ہی لے آئے۔ مثنوی مولانا روم کو فارسی سے اسی بحر میں اردو میں منظوم ترانے کام شروع کیا اور اس کا نام الہام منظوم رکھا تقریبا 45 ہزار افراد 6 جلدوں میں ترتیب پائے۔ مولوی فیروز الدین کے بقول انہوں نے مثنوی روم کا منظوم اردو ترجمہ امیر مینائی سمیت کئی نامور شاعروں کے سپرد کرنا چاہا مگر یہ مشکل کام ان میں سے کسی کے بس کا نہ تھا۔
ہندووں کی مذہبی کتاب بھگوت گیتا کے کچھ حصوں کا منظوم ترجمہ کرشن کیتا کے نام سے کتابی شکل میں شائع کیا۔
——
وحی منظوم
——
انیس سو چوالیس کے شروع میں سیماب اکبر آبادی نےقرآن مجید کا منظوم ترجمہ کرنے کا بیڑا اٹھایا اور دس ماہ میں منظوم ترجمہ مکمل کر کے علما کی خدمت میں پیش کر دیا۔ ستاروں کا ترجمہ ایک ہی بحر میں منظوم کیا گیا حاشیہ پر ضروری تشریح دی گئی علما کے تعریفی کلمات کتاب کے آخر میں شامل کیے گئے قرآن مجید کا یہ منظوم اردو ترجمہ "وحی منظوم” کے نام سے مشہور ہوا۔ 1981 کو اسلام آباد میں پندرہویں صدی ہجری کے سلسلہِ تقسیم انعامات میں قرآن پاک کے چار مختلف زبانوں کی کتابوں کو انعام سے نوازا گیا۔ وحی منظوم کتاب سرفہرست تھی۔
انیس سو پچاس میں شیخ عنایت اللہ کی درخواست پر سیماب اکبر آبادی نے سیرت نبی پر مختصر اور انتہائی جامع کتاب ڈیڑھ ماہ کے مختصر عرصے میں جدید اسلوب اور دلنشین پیرائے میں لکھ کر پیش کردی۔
1892 سے شعر کہنا شروع کر دیا تھا اور 1898 میں مرزا خان داغ دہلوی کے شاگرد ہو گئے تھے۔ 1923 میں قصر الادب کی بنیاد رکھی اور پہلے”پیمانہ” اور بعد میں 1929 میں "تاج” اور 1930 میں "شاعر” شائع کرنا شروع کیے۔ پیمانہ 1932 میں بند ہو گیا تھا۔
سیماب اکبر آبادی کا پہلا مجموعہِ کلام "نیستاں” 1923 میں چھپا تھا۔ 1936 میں دیوان کلیم عجم شائع ہوا اور اسی سال نظموں کا مجموعہ کار امروز منظر عام پر آیا۔
سیماب اکبر آبادی کے تقریباً ڈھائی ہزار شاگرد تھے جن میں راز چاندپوری، ساغر نظامی، ضیاء فتح آبادی، بسمل سیدی، الطاف مشہدی اور شفا گوالیوری کے نام قابل ذکر ہیں۔ سیماب اکبر آبادی کو "تاج الشعرا”، "ناخدائے سخن” بھی کہا گیا۔ داغ دہلوی کے داماد سائل دہلوی سیماب کو جانشینِ داغ کہا کرتے تھے۔
——
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر اکبر الہ آبادی کا یوم وفات
——
سیماب اکبر آبادی:ہمہ جہت شاعر از صالحہ صدیقی
——
19صدی کے ہجوم شعرا میں اپنی الگ شناخت بنانے والے ”سیماب اکبرآبادی“ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ان کی تصانیف کی اشاعت نے خود ہی یہ فریضہ انجام دیا ہے۔ان کی تصانیف نہ صرف عصری شاعری کی عکاس ہے بلکہ قاری کے ذہن کے دریچوں کو بھی کھولتی ہے۔ سیماب اکبر آبادی کی شاعری کا جائزہ ”بحیثیت انقلابی شاعر“کے لینے سے قبل ان کی سوانح پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔کیونکہ کسی بھی مصنف یا تخلیق کا ر کو عام انسان سے تخلیق کار بننے میں اس کی ذاتی زندگی،عہد و ماحول،اس کے معاشرے کے حالات و واقعات کے اثرات اہم رول ادا کرتے ہے۔
سیماب اکبر آبادی کا پورا نام سید عاشق حسین تھا،جب کہ ”سیماب“ تخلص اختیا ر کرتے تھے۔وہ 1880میں اکبرآباد (آگرہ) محلہ نائی منڈی ککو گلی املی والے مکان میں پیدا ہوئے۔اپنی ولادت کے تعلق سے اپنے ہجری سنہ ولادت کی نشاندہی اپنے ایک شعر ”کا ر امروز“ ص 253میں یوں کی ہے ؏
——
ستاسی سال بعد میرؔ ہے تخلیق غالب کی
یہی وقفہ ہے میری اور غالب کی ولادت میں
——
سیماب کے والد مولوی محمد حسین صدیقی اجمیر شریف میں ”ٹائمز آف انڈیا“ پریس کی شاخ کے انچارج تھے۔سیماب نے ابتدا میں مولانا جمال الدین سرحدی‘ مولانارشید احمد گنگوہی،مولانا قمرالدین اور مولانا عبد الغفور جیسے قابل فارسی و عربی ادب کے اساتذہ سے دینی علوم اور منطق کی تکمیل کی۔انگریزی تعلیم کے لیے برانچ اسکول میں داخلہ لیا،پھر کالج بھی گئے لیکن والد کے انتقال کے بعد یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔شعر و شاعری کا ذوق انھیں ابتدا ہی سے تھا، اس لیے ذوق کے حلقہ ئتلامذہ میں شامل ہوگئے۔ان کا کلام صوفی،نظام المشائخ، سالک،ہمدرد،اور صبح بنارس میں شائع ہوتا رہا۔غزل،نظم،اور منظوم ترجمے میں سیماب کو کمال حاصل تھا۔
انگریزی سے شناسائی کے سبب وہ شعرو ادب کے جدید حجانات سے بھی کسی نہ کسی حد تک آگہی رکھتے تھے۔ لہٰذا سیماب کی شاعری کا رخ بدل گیا۔ابتدائی شاعری دیگر شعراکی طرح عشق و عاشقی پر ہے لیکن آگے چل کر ان کی شاعری کا رخ بدل گیا۔وہ شعر کی مقصدیت پر زو ر دینے لگے۔انھوں نے اپنی آخری سانس تک شعر و ادب کی خدمت انجام دی۔ان کی وفات 1951 میں کراچی میں ہوئی۔اگر ہم سیماب اکبر آبادی کی شاعری میں انقلاب کی بات کریں تو ان کی شاعری میں جو انقلابی رنگ آیا اس سلسلے میں وہ خود رقم طراز ہیں کہ:
”اوائل مشق سخن تک مجھے قدیم تغزل سے دلچسپی تھی لیکن زمانے کے ساتھ علم و معلومات کا دائرہ جس قدر وسیع ہوتا گیا رنگ قدیم سے لگاو ئ کم ہوتا گیا۔اب شاعری میں بلند خیالات او ر بلند انسانی جذبات کی ترجمانی کا حامی ہوں۔میں شاعری میں فلسفہ اور حقائق و معارف کے نکات پسند کرتا ہوں۔میں اس شاعری کا منکر ہوں جس کا موضوع صرف عورت اور اس کے متعلقات ہوں،جو مرد پرستی کی نفسیات پر مشتمل ہوں ، میں نظم کو غزل پر ترجیح دیتا ہوں۔“
سیماب اکبر آبادی اردو شاعری میں اصلاح کے خواہش مند تھے۔ انھوں نے اپنے خیالات کی اشاعت کے لیے کئی بار انجمن بھی بنائی،قصر ادب کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کا مقصد نو آموز شعرا کے کلام کی اصلاح اور ان کی تربیت تھا۔ان کے شاگردوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔مختلف مقامات پر مشاعروں کا اہتمام بھی کیاجاتا تھا۔ان کی رائے تھی کہ جہاں مشاعرہ ہو وہاں صدارت کے لیے عالم کو مدعو کیا جائے،جو شاعری کے مسائل پراظہار خیال کرے اور اس کی اصلاح و ترقی کے لیے تجویزیں پیش کرے خود انھوں نے بہت سے مشاعروں کی صدارت کی اوران میں خطبات پیش کیے جو منظر عام پر بھی آچکے ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر ضیاؔ فتح آبادی کا یومِ وفات
——
ان میں وقت کے جدید تقاضوں کے بارے میں اظہار خیال کیا گیا ہے،او ر بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ بدلنے کی رائے دی گئی ہیں۔انھوں نے کئی شعری مجموعے اپنی یادگار چھو ڑے جن میں کلیم عجم،سدرۃ المنتہی،اور لوح محفوظ ان کی غزلیہ شاعر ی کے مجموعے ہیں۔ان کی نظمیہ شاعری میں شامل ہیں ریاض الاظہر،عزیز الخطب،جامع الخطب،ارشاد احمد،فریاد، جنت کے خطوط وغیرہ۔ آپ نے بچوں کے لیے بھی نظمیں لکھیں۔آپ کی نظموں کا پہلا مجموعہ کا ر امروز1934، دوسرا مجموعہ ساز و آہنگ 1941،تیسرا مجموعہ شعر انقلاب 1947 میں منظر عام پر آیا۔سیماب اکبر آبادی نے بہت سی نظمیں کہیں،ان میں سیاست،وطنیت،معاشرتی حالات اور معاملات سبھی کچھ شامل ہیں۔جس کے سبب ان کے یہاں موضوعات کی وسعت دکھائی دیتی ہے۔سیماب اکبر آبادی نے اقبال اور دیگر شاعروں کی طرح مذہبی رہنماؤں کو بھی اپنی نظموں کا موضوع بنایا اس سلسلے میں ان کی نظم ”گوتم بدھ“ اور ”سری کرشن“ انتہائی اہم ہیں،اشعار ملاحظہ فرمائیں:
نظم ”گوتم بدھ“
——
حسن جب افسردہ پھولوں کی طرح پامال تھا
جب محبت کا غلط دنیا میں استعمال تھا
بے خودی کے نام پر جب دور جام بادہ تھا
جب تجلی حقیقت سے ہر اک دل سادہ تھا
زیست کا اور موت کا ادراک دنیا کو نہ تھا
ظلم کا احساس جب بے باک دنیا کو نہ تھا
بند آنکھیں کر کے اس دنیا کے مکروہات
تونے حاصل کی ضیائے دل،تجلیات سے
برف زاروں کو ترے انفاس نے کرما دیا
تیرے استغنا نے تخت سلطنت ٹھکرادیا
یاد تیری آج بھی ہندستاں میں تازہ ہے
چین،جاپان ااور تبت تک ترا آوازہ ہے
روشنی جس کی نہ ہوگی ماند وہ مشعل ہے تو
سر زمین ہند کا عرفانیئ اول ہے تو
——
نظم ”سری کرشن“
——
ہوا طلوع ستاروں کی دلکشی لے کر
سرور آنکھ میں نظروں میں زندگی لے کر
خودی کے ہوش اڑانے بصد نیاز آیا
نئے پیالوں میں صہبائے بے خودی لے کر
فضائے دہر میں گاتا پھرا وہ پریت کے گیت
نشاط خیز و سکوں ریز بانسری لے کر
جہان قلب سراپا گداز بن ہی گیا
ہر اک ذرہ محبت کا ساز بن ہی گیا
ہر ایک ذرے کو دل دے کے بے قرار کیا
جو مشرب اس کا نہ اس طرح عام ہو جاتا
جہاں سے محو محبت کا نام ہو جاتا
——
سیماب اکبر آبادی نے بچوں کے لئے بھی ان کی نفسیات کو ذہن میں رکھ کر نظمیں لکھیں،جنھیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ معصوم بچوں کی معصوم ذہنیت کو کتنی اچھی طرح سمجھتے تھے،سیدھے سادے آسان لفظوں میں پانی کی طرح بہتی بچوں کی نظم ”برسات“ کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
——
نظم ”برسات“
برکھا آئی،بادل آئے
اوڑھے کالے کمبل آئے
ٹھنڈی ٹھنڈی آئیں ہوائیں
کالی کالی چھائیں گھٹائیں
گرمی نے ڈیرا اٹھوایا
دھوپ پہ سایہ غالب آیا
بادل سے امرت جل برسا
امرت جل کیسا کومل برسا
ہوگئی زندہ مردہ کھیتی
——
سیماب اکبر آبادی غزلوں کی دنیا کے بادشاہ نظر آتے ہیں۔جہاں ان کی وسعت نظر اور وسعت فہم کا قائل ہو نا پڑتاہے۔سیدھے سادے انداز میں لکھی معنی خیز غزلیں ذہن کو جھنجوڑتی ہیں۔ان کی غزلیں ان کی شخصیت کا آئینہ ہے، جس میں ان کے خیالات،احساسات،تجربات،مشاہدات اور زمانی و مکانی تبدیلیوں و تقاضوں کو بھی بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ نمونۂ کلام ملاحظہ فر مائیں:
——
یہ بھی پڑھیں : معروف ادیب اور براڈکاسٹر اخلاق احمد دہلوی کا یوم پیدائش
——
محبت میں ایک ایسا وقت بھی آتا ہے انساں پر
ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگ جاں پر
——
اب کیوں ہمارے سامنے آتے ہو بے حجاب
جب خو گر تجّلی مستور کر دیا
——
بدل گئیں وہ نگاہیں یہ حادثہ تھا اخیر
پھر اس کے بعد کوئی انقلاب ہو نہ سکا
——
سیماب اکبر آبادی کی انفرادیت اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اردو غزل کے مروجہ موضوعات یعنی حسن و عشق اور ومانیت سے گریز کر کے بقول ڈاکٹر شہپر رسول ”فلسفہ،حقائق و معرفت اور عشق حقیقی پر اپنی توجہ مرکوز کر تے ہیں۔“(بحوالہ،اردو شاعری میں پیکر تراشی) اشعار ملاحظہ فرمائیں:
——
انجام ہر اک شئے کا بجز خاک نہیں ہے
کیا ہے جو یہ عالم خس وخاشاک نہیں ہے
آنکھوں سے ہر اک پردہئ موہوم ہٹادے
اتنی نگہ شوق ابھی چالاک نہیں ہے
——
بدن سے روح رخصت ہورہی ہے
مکمل قید غربت ہو رہی ہے
میں خود ترک تعلق پر ہوں مجبور
کچھ ایسی ہی طبیعت ہو رہی ہے
——
دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائے
یہ فتنہ کہیں خواب سے بیدار نہ ہو جائے
مدت سے یہی پردہ یہی پردہ دری ہے
ہو کوئی نو پردہ سے نمودار نہ ہو جائے
——
سیماب اکبر آبادی نے تا عمر شاعری کی خدمت کی او ر اپنے بعد اپنے شاگردوں کی ایک جماعت بھی چھوڑی جو ان کے مقصد حیات کو آگے بڑھاتے رہے۔ وہ شاعری کو لطف اندوزی یا وقت گزاری کا سامان نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس میں زندگی کا مقصد بھی تلاش کرتے تھے۔بلا شبہ وہ ایک ممتاز شاعر تھے جن کو آج تک پڑھنے اور ان کی شاعری کو سمجھنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر ساغر نظامی کا یوم وفات
——
منتخب کلام
——
عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
——
ہائے سیمابؔ اس کی مجبوری
جس نے کی ہو شباب میں توبہ
——
قفس کی تیلیوں میں جانے کیا ترکیب رکھی ہے
کہ ہر بجلی قریب آشیاں معلوم ہوتی ہے
——
لہو سے میں نے لکھا تھا جو کچھ دیوار زنداں پر
وہ بجلی بن کے چمکا دامن صبح گلستاں پر
——
تعجب کیا لگی جو آگ اے سیمابؔ سینے میں
ہزاروں دل میں انگارے بھرے تھے لگ گئی ہوگی
——
میں دیکھتا ہوں آپ کو حد نگاہ تک
لیکن مری نگاہ کا کیا اعتبار ہے
——
مرکز پہ اپنے دھوپ سمٹتی ہے جس طرح
یوں رفتہ رفتہ تیرے قریب آ رہا ہوں میں
——
رنگ بھرتے ہیں وفا کا جو تصور میں ترے
تجھ سے اچھی تری تصویر بنا لیتے ہیں
——
خلوص دل سے سجدہ ہو تو اس سجدے کا کیا کہنا
وہیں کعبہ سرک آیا جبیں ہم نے جہاں رکھ دی
——
ہے حصول آرزو کا راز ترک آرزو
میں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے
——
وہ دنیا تھی جہاں تم بند کرتے تھے زباں میری
یہ محشر ہے یہاں سننی پڑے گی داستاں میری
——
تجھے دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوں
نظر آخر نظر ہے بے ارادہ اٹھ گئی ہوگی
——
روز کہتا ہوں کہ اب ان کو نہ دیکھوں گا کبھی
روز اس کوچے میں اک کام نکل آتا ہے
——
دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں
اک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں
——
شاید جگہ نصیب ہو اُس گُل کے ہار میں
میں پُھول بن کے آؤں گا، اب کی بہار میں
خَلوَت خیالِ یار سے ہے انتظارمیں
آئیں فرشتے لے کے اِجازت مزار میں
ہم کو تو جاگنا ہے ترے انتظار میں
آئی ہو جس کو نیند وہ سوئے مزار میں
اے درد! دل کوچھیڑکے، پھرباربارچھیڑ
ہے چھیڑ کا مزہ خَلِشِ باربارمیں
ڈرتا ہوں، یہ تڑپ کے لحد کو اُلٹ نہ دے
ہاتھوں سے دِل دبائے ہوئے ہُوں مزارمیں
تم نے تو ہاتھ جوروسِتم سےاُٹھالیا
اب کیا مزہ رہا سِتَمِ روزگار میں
اے پردہ دار، اب تونکل آ کہ حشْرہے
دنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظار میں
عمرِ دراز، مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
سیماب پھول اُگیں لحدِعندلیب سے
اتنی تو تازگی ہو، ہوائے بہار میں
——
اب کیا بتائیں عمرِ وفا کیوں خراب کی
نوحہ ہے زندگی کا کہانی شباب کی
تم نے خبر نہ لی مِرے حالِ خراب کی
کالی ہوئیں فراق میں راتیں شباب کی
تھی الوداعِ ہوشِ تجلّئِ مختصر
میرا تو کام کرگئی جنْبش نقاب کی
وہ میرے ساتھ ساتھ مُجسّم تِرا خیال
وہ جنگلوں میں سیر شبِ ماہتاب کی
ممنُون ہوں تِری نگۂِ بے نیاز کا
رُسوائیاں تو ہیں مِرے حالِ خراب کی
میں اپنی جلوہ گاہِ تصوّر سجاؤں گا
تصویرکھینچ دے کوئی اُن کے شباب کی
دیدو غبارِ دل میں ذرا سی جگہ ہمیں
تربت بنائیں گے دلِ خانہ خراب کی
گھبرا کے جس سے چیخ اُٹھا عالَمِ وجُود
وہ چیز دل نے میرے لئے اِنتخاب کی
چمکیں تو خوفناک، گِرَیں تو حیات سوز
ساون کی بجلیاں ہیں نگاہیں عتاب کی
سیماب زندگی کی ہے تاریخ ہرغزل
ہرشعرمیں ہے ایک کہانی شباب کی
——
یہ بھی پڑھیں : محسن نقوی اور سید فخرالدین بلے فیملی ، داستانِ رفاقت
——
ہَمَیں تو یوں بھی نہ جلوے تِرے نظرآئے
نہ تھا حجاب، توآنکھوں میں اشک بھرآئے
ذرا سی دیر میں دُنیا کی سیر کرآئے
کہ لے کے تیری خبر تیرے بے خبرآئے
اسِیر ہونے کے آثار پھر نظرآئے
قفس سے چھوٹ کر آئے تو بال وپرآئے
تجھے ملال ہے ناکامئ نظر کا فضول
نظر میں جو نہ سمائے وہ کیا نظرآئے
وہ جانتا ہے، میں پابندِ رسْم وراہ نہیں
فضول ٹھوکریں کھانے کو راہبرآئے
تمام عمْر یہ ناکامیاں قیامت ہیں
کبھی کبھی تو الٰہی، اُمید بر آئے
جسے تصرفِ تیرِ نظر نہ ہو معلوم
وہ تیرے سامنے لے کے دل و جگرآئے
شریکِ قسمتِ تنہائیِ فراق ہوں میں
اجل بھی کیوں تِرے آنے سے پیشترآئے
بلائے جاں ہے وہ نصفِ شباب کا عالم
کسی حَسِین کی جب زلف تا کمر آئے
نگاہِ جلوہ میں شاید سما گئے سیماب
کہ منتظِر گئے لوٹے تو منتظَر آئے
——
کیا جانے میں جانا ہے ، کہ جاتے ہو خفا ہو کر !
میں جب جانُوں مِرے دل سے چلے جاؤ جُدا ہو کر
تصور آپ کا، کیا کیا فریبِ جلوہ دیتا ہے
کہ رہ جاتا ہُوں میں اکثر، ہم آغوشِ ہوا ہو کر
وہ پروانہ ہُوں، میری خاک سے بنتے ہیں پروانے
وہ دیپک ہُوں، کہ انگارے اُڑاتا ہُوں فنا ہو کر
قیامت تک اُڑے گی دِل سے اُٹھ کر خاک آنکھوں تک
اِسی راستے گیا ہے، حسرتوں کا قافلا ہو کر
تُمِھیں اب دردِ دل کے نام سے گھبرائے جاتے ہو !
تُمِھیں تو دِل میں شاید آئے تھے درد آشنا ہو کر
یُونہی ہم تُم گھڑی بھر کو مِلا کرتے تو بہتر تھا !
یہ دونوں وقت جیسے روزمِلتے ہیں جُدا ہوکر
یقینی حشر میں سیماب اُن کی دید ہے لیکن !
وہ پھر پردے میں جا بیٹھے اگر جلوہ نما ہوکر؟
——
نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی
کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہوگی
تجھے دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوں
نظر آخر نظر ہے بے ارادہ اٹھ گئی ہوگی
مزہ آ جائے گا محشر میں کچھ سننے سنانے کا
زباں ہوگی ہماری اور کہانی آپ کی ہوگی
یہی عالم رہا پردہ نشینی کا تو ظاہر ہے
خدائی آپ سے ہوگی نہ ہم سے بندگی ہوگی
تعجب کیا لگی جو آگ اے سیمابؔ سینے میں
ہزاروں دل میں انگارے بھرے تھے لگ گئی ہوگی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ