اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف ادیب اور ماہر لسانیات سید شبیر علی کاظمی کا یوم وفات ہے

شبیر علی کاظمی(پیدائش: 11 جولائی 1915ء-وفات: 31 جنوری، 1985ء)
——
پروفیسر شبیر علی کاظمی  پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز ادیب، ماہر لسانیات اور ماہر تعلیم تھے۔ آپ کاظمی سادات کے چشم و چراغ تھے
شبیر علی  11 جولائی 1915ء کو سنبھل، مراد آباد، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔
سید شبیر علی کاظمی , علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ تقسیم ہند کے بعد پہلے مشرقی پاکستان منتقل ہوئے اور پھر سقوط ڈھاکہ کے بعد کراچی میں اقامت اختیار کی۔ یہاں وہ انجمن ترقی اردو سے منسلک ہو گئے۔ ان کی تصانیف میں اردو اور بنگلہ کے مشترک الفاظ،اساس اردو، پراچین اردو، والیان اردو، اردو کا عوامی ادب، ایشیا کے لوگ اور چند تعلیمی تصورات شامل ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : مشہور و معروف شاعر ناصر کاظمی کا یوم پیدائش
——
سید شبیر علی 31 جنوری 1985ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ کراچی میں گلشن اقبال کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
——
تصانیف
——
اُردو اور بنگلہ کے مشترک الفاظ
پراچینِ اُردو
ایشیا کے لوگ
والیان ِاُردو
اُردو کا عوامی ادب
اساس اُردو
——
” پراچین اردو ” سے کچھ اقتباسات
——
کراچی میں سندھی زبان و ادب کے مطالعے کا شوق ہوا تو معلوم ہوا کہ عربوں کے حملے سے قبل سندھ میں عام طور پہ بولی جانے والی زبان کے متعلق معلومات میں کمی ہے ۔
مگر عرب جغرافیہ نویسوں کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کی زبان سندھی کہلاتی تھی جو ملتان تک پھیلی ہوئی تھی ۔
لسانی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ وہ زبان پراکرات کی اپ بھرنش تھی اور اس کی اپنی صوتیاتی خصوصیات تھیں ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ابھیروں کی زبان تھی اور اس کو سندھیا بھاشا کہتے تھے لیکن ایف ۔ ایڈ گرٹن نے اس کو سُندھا بھاشا کہا ہے اور سندھا کے معنی علامتی یا مقصدی بتائے ہیں ۔ مگر اُس وقت کے شاعر اِس زبان کو عام طور پر دیش بھاشا ہی کہتے تھے ۔
اس واقفیت کے بعد سندھیا اور سُندھا الفاظ اور ان کے معانی مزید تحقیق کی دعوت دیتے ہیں ۔ کیونکہ ان پدوں کی زبان کو بھی سندھیا بھاشا کہا گیا ہے ۔
یہ تحقیق اردو اور سندھی کی اصل میں یگانگت اور بنیاد میں اشتراک کو مزید ثابت کرنے میں معاون ہو گی ۔
سنسکرت زبان میں سیاند ، سندھیا اور سندھا لفظ ملتے ہیں ۔ سیاند کے معنی رقیق شئے پگھلنے اور پھیلنے والے شئے ، ٹپکنے والا رس وغیرہ کے آتے ہیں ۔
سندھیا کے معنی جوڑنا یعنی یکجا کرنا اور متحد کرنا بیان کیے گئے ہیں ۔
سندھا صوتیات میں الفاظ کے میل کو کہتے ہیں ۔
ایک لفظ انہیں الفاظ سے ملتا جلتا سندھیا اور بھی ہے جس کے معنی میں سندھا کے معنی بھی پوشیدہ ہیں ۔ اب یہ امر فیصلہ طلب ہے کہ ان قدیم زبانوں کے لیے یہ نام آیا صوتیات کی بنیاد پہ رکھے گئے تھے یا جغرافیائی نسبت کا خیال تھا یا شاعرانہ پیرائے بیان اختیار کیا گیا تھا ۔
ان پدوں کا عہدِ تصنیف آٹھویں سے دسویں صدی عیسوی تک ہو سکتا ہے ۔ اردو کی قدیم ترین تصنیف پندرھویں صدی کے ربع اول کی بتائی جاتی ہے ۔
اس طرح تقریباََ پندرہ سو سال درمیانی مدت کی ادبی کاوشوں کا کھوج بھی لگانا ہے ۔
مختصر یہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند مختلف پراکرتوں ، متعدد بھاشاؤں اور بھانت بھانت کی بولیوں کا اتھاہ مہا ساگر ہے جس کو تاریخی فارقے عہدِ قدیم سے اس وقت تک متھتے چلے آئے ہیں اور نت نئی تہذیبیں اپنی اپنی طرح اس کو بلواتی رہی ہیں ۔ اس صورتِ حال کے تحت مدت مدیہ میں وہ امرت دستیاب ہوا ہے جس کو عرفِ عام میں اردو کہتے ہیں ۔ اس کے عناصر اصلاََ مقامی بھی ہیں اور اپنی ترکیب ، ترتیب اور تشکیل میں روحِ عصر کے نمائندے بھی ۔
اس طرح یہ زبان پراچین بھی ہے اور جدید بھی ۔ اس میں گیان ، دھیان ، عرفان اور ایقان کی آن بان سموئی ہے ۔
قومی سطح پر اس لسانی حقیقت سے انحراف ترقی معکوس کے برابر ہو گا ۔
——
حوالہ جات
——
تحریر : سید شبیر علی کاظمی از پراچین اردو
شائع شدہ : 1982 ، صفحہ نمبر 6-7
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ