اردوئے معلیٰ

Search

آج اردو کے صاحب طرز ادیب، ساقی کے مدیر اور ماہر موسیقی جناب شاہد احمد دہلوی کا یومِ پیدائش ہے۔

شاہد احمد دہلوی(پیدائش: 22 مئی 1906ء — وفات: 27 مئی 1967ء)
——
اردو کے صاحب طرز ادیب، ساقی کے مدیر اور ماہر موسیقی جناب شاہد احمد دہلوی 22 مئی 1906ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ان کا تعلق اردو کے ایک اہم ادبی خانوادے سے تھا وہ ڈپٹی نذیر احمد کے پوتے اور مولوی بشیر الدین احمد کے فرزند تھے
شاہد احمد کا چہرہ کتابی، ناک قدرے پھیلی ہوئی اور اونچی ۔ ہونٹ پتلے ۔ ہنستی آنکھیں ۔ پیشانی فراخ ۔ ڈاڑھی مونچھ صاف ۔ سر پر جناح کیپ ۔ ایک زمانے میں ترکی ٹوپی پہنتے تھے۔ تحریکِ پاکستان کے دور سے جناح کیپ اختیار کی ، آنکھوں پر عینک،گہرا سانولا رنگ ، چہرے مہرے سے بڑا پن اور وقار آشکار، ان کے چہرے میں کشش تھی اور وضع قطع سے انفرادیت کا اظہار ہوتا تھا ۔ ہمیشہ شیروانی پہنتے ، غالباً کوٹ پتلون انہوں نے کبھی پہنا ہی نہیں ۔ علی گڑھ کا پاجامہ جس کے پائنچوں میں جالی بنی ہوتی تھی۔ یہ بھی ان کی انفرادیت کا نشان تھا۔ شیروانی کے نیچے گول گلے کی قمیص ، گرمیوں میں ململ کا سفید کرتا سونے کے بٹن لگے ہوتے ۔ دلی میں اعلٰی درجے کی فٹ شیروانی پہنتے تھے ۔ کراچی آ گۓ تو لباس میں کوئی اہتمام نہیں رہا ۔ معمولی ڈھیلی ڈھالی شیروانی سے کام چلاتے۔
شاہد احمد کے والد کا نام بشیر الدین احمد تھا ۔ان کے والد انھیں ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے مگر انسان سوچتا کچھ ہے ہوتا کچھ ہے۔
شاہد احمد جب سکول میں پڑھ رہے تھے ۔ انٹرنس کے امتحان میں تین مہینے باقی تھے کہ ان کی شادی کر دی گئی۔ دلہن مولوی نذیر احمد کے بڑے داماد حافظ احمد حسن کی صاحبزادی تھیں عالیہ بیگم نام تھا۔
——
یہ بھی پڑھیں : شہنشاہ جہاں ہے تیرا نانا شاہد ملت
——
شادی کا ایک فوری نتیجہ تو یہ نکلا کہ شاہد احمد انٹرنس کے امتحان میں فیل ہو گۓ ۔ بشیر الدین احمد نے انہیں مشن سکول میں داخل کرا دیا ، جہاں سے انہوں نے 1923ء میں انٹرنس پاس کر لیا۔ چونکہ بشیر الدین احمد طے کر چکے تھے شاہد احمد کو ڈاکٹری پڑھنا ہے لٰہذا انھیں ایف سی کرنے کے لیے لاہور بھیجا گیا ۔ ایف سی کالج میں داخلہ ہوا ۔ ان کے بہنوئی ڈاکٹر اجمل حسین اس زمانے میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے وابستہ تھے قیام انھیں کے یہاں رہا۔
ایف سی کالج سے شاہد احمد نے ایف ایس سی کر لی۔ کنگ ایڈورڈ کالج میں داخلہ بھی ہو گیا لیکن لاہور میں ان کا احساس تنہائی روز بروز بڑھتا گیا ۔ انہوں نے خود ایک دفعہ بتایا کہ
"میں اکثر وائی ایم سی کے سامنے بجلی کے کھمبے کے نیچے کھڑا رہتا اور سوچتا رہتا تھا ۔ اس طرح کھڑے رہنا اور سوچنا میری عادت بن گیا”
احساسِ تنہائی کی بڑی وجہ گھر سے دوری تھی۔ ان کا بچپن اور لڑکپن بھرے پرے گھر میں گزرا تھا ۔ بھائیوں اور ہم جھولیوں کا جھگمٹ رہتا تھا ۔ ہنسی مذاق چہلیں ہوتی رہتی تھیں ۔ دن رات کھیل کود رہتا تھا اور اب تنہائی تھی اور وہ تھے ۔
دوسری وجہ نوعمری میں ان کی شادی تھی ۔ سولہ برس کے تھے کہ شادی ہو گئی ، جلد ہی ایک بیٹے کے باپ بھی بن گۓ ۔ بیوی بیٹے کی یاد ستاتی رہتی تھی۔ یہ دکھ بھی کچوکے دیتا رہتا تھا۔
تیسری وجہ ان کی بیوی عالیہ بیگم کی بیماری تھی ۔ وہ پہلے بچے کی پیدائش کے بعد سخت بیمار ہوئیں ۔ علاج ہوتا رہا لیکن ” مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی” ہڈی سے چمڑا لگ گیا ۔ دو پسلیاں بھی کاٹ دی گئیں لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا ۔ زخم نے ناسور کی شکل اختیار کر لی ۔ روزانہ ڈریسنگ ہوتی تھی ۔ ایک دو دن نہیں پورے چودہ برس ڈریسنگ ہوئی۔
شاہد احمد کا احساس تنہائی حد سے بڑھ گیا ۔ پڑھنے لکھنے سے طبیعت اچاٹ ہو گئی۔ میڈیکل کی پڑھائی بڑی توجہ اور محنت چاہتی ہے۔ شاہد احمد ذہنی الجھنوں میں گرفتار تھے ۔ روحانی کرب روز بروز بڑھتا جا رہا تھا آخر کار انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا اور اہم ترین فیصلہ کر لیا اور ہمت کر کے باپ کے پاس گۓ۔
باپ ان دنوں فالج کے مرض میں مبتلا تھے۔ مایوس اور مضحمل تھے۔ شاہد احمد نے ڈرتے ڈرتے کہا ۔ ” میرا دل میڈیکل کی پڑھائی میں نہیں لگتا۔ میں یہ پڑھائی چھوڑنا چاہتا ہوں۔ ” بیمار باپ کے ذہن کو دھچکا تو لگا لیکن انہوں نے کہا تمھاری مرضی۔ پھر اب کیا کرو گے؟ شاہد احمد نے کہا ۔ میں بی اے ۔ایم اے کروں گا ۔ ” بشیر احمد نے محبت بھرے لہجے میں کہا اچھا یونہی کرو” ۔ میڈیکل کی دو سالہ پڑھائی ۔ لاہور کے قیام اور احساس تنہائی کا یک لخت خاتمہ ہو گیا۔
شاہد احمد نے مشن کالج میں داخلہ لے لیا اور انگریزی میں آنرز کر لیا ۔ انگریزی میں آنرز کرنے کے بعد ایم اے فارسی میں داخلہ لیا۔
ساقی کا اجراء
——
یہ بھی پڑھیں : لطف اللہ خان کا یومِ وفات
——
شاہد احمد ایک ادبی رسالہ شائع کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرتے رہے۔ کبھی یہ خیال آتا کہ دلی ہندوستان کا دل ہے ۔ قدیم تہذیب و ثقافت کی یادگار ہے ۔ ایک سے بڑھ کر ایک صاحبِ قلم یہاں موجود ہیں ۔ شاعر بھی نثر نگار بھی ہیں ۔ لیکن اس قدیم مرکزِ علم کے شایانِ شان کوئی ادبی رسالہ شائع نہیں ہوتا ۔ جب کہ دوسرے شہروں سے شائع ہونے والے ادبی رسالوں نے دھوم مچا رکھی ہے۔
دوستوں کے حلقے میں بھی جو لوگ تھے ادب دوست تھے۔ شعر و ادب سے رغبت رکھنے والے انصار ناصری تھے ( صلاۓ عام والے میر ناصر علی کے پوتے) ادب ان کی گھٹی میں پڑا تھا ۔ صادق الخیری تھے مصورِ غم راشد الخیری کے صاحبزادے ۔ شعر و ادب کے رسیا فضل حق قریشی تھے ۔ انھیں بھی ادب سے گہرا شغف تھا ۔ غرض جتنے دوست تھے سب کے یہاں ادب کا ذوق تھا ۔چنانچہ یہ فیصلہ ہوا کہ شاہد احمد ایک اعلٰی درجے کا ادبی پرچہ شائع کریں اور اس فیصلے پر عمل بھی ہوا۔
چانچہ دوستوں کے صلاح و مشورے کے بعد نام کے بارے میں جستجو ہوئی کہ رسالے کا نام کیا رکھا جاۓ؟۔ کون سا نام موزوں ہو گا ۔ مختلف نام سامنے تھے ۔ کسی نے کچھ تجویز کیا کسی نے کچھ اور راۓ دی ۔ آخر کار خواجہ حافظ کے ایک مصرعے ” جہانِ فانی و باقی فداۓ شاہد و ساقی” نے نام کا مسئلہ حل کر دیا۔ ” ساقی نام طے ہو گیا اور پہلے شمارے کی تیاریاں ہونے لگیں ۔ شہر کی دیواروں پر پوسٹڑ چسپاں کیے گۓ ۔ ادیبوں اور شاعروں کو خط لکھے گۓ ۔ مقامی ادیبوں کے یہاں حاضری دی گئی ۔ بڑی دھوم دھام سے پہلا پرچہ شائع ہوا اور ایک دھوم مچ گئی ۔
"ساقی” کا وقار بڑھتا گیا مگر عالیہ بیگم گھلتی گئیں ۔ علاج میں بڑی بھاگ دوڑ ہوئی شاہد احمد خود ان کی ڈریسنگ کرتے رہے۔ تیمارداری بھی کرتے دل جوئی بھی کرتے بچوں کو بھی دیکھتے رہے اور ساقی کے سارے کام بھی کرتے رہے ۔ شاہد احمد کو موسیقی سے غیر معمولی شغف تھا ۔ موسیقی ان کی زندگی کا ضروری جزو بن گئی تھی ۔ ریاض بھی ہوتا ۔استادوں کے یہاں حاضری بھی ہوتی ۔ موسیقی کے جلسوں میں بھی شرکت ہوتی ایک سر اور ہزار سودے تھے۔
آخر کار 24 جون 1938ء کو سولہ سالہ رفاقت کا خاتمہ ہو گیا ۔ عالیہ بیگم چھ بچوں کو چھوڑ کر رخصت ہو گئیں ۔ شاہد احمد کو بڑا صدمہ ہوا ۔اگلے مہینے کے ساقی کا اداریہ وہ خود نہیں لکھ سکے تھے۔
اس کے بعد انھوں نے بھائیوں کے مشورے اور اجازت سے عاصمہ بیگم سے شادی کی جو رشتے میں عالیہ بیگم کی بھانجی تھیں۔
شاہد احمد کا ادبی کاروبار عروج پر تھا اور موسیقی کا دور بھی تھا ۔ ریڈیو آہستہ آہستہ مقبول ہو رہا تھا ۔ شاہد احمد ریڈیو پر موسیقی کا پروگرام کرتے تھے مگر یہاں بڑے بھائی کا ادب لحاظ قائم تھا ۔ موسیقی کے پروگراموں میں ان کا نام ایس ۔ احمد تھا تا کہ بڑے بھائی اور خاندان والوں کو پتا نہ چلے۔
اگست 1947ء تک شاہد احمد کا ٹھاٹ باٹ قائم رہا ۔ ادبی سرگرمیاں ، ساقی میں ادبی معرکے، ساقی کے امتیازی حیثیت رکھنے والے خاص نمبر، ساقی کی ترقی پسند ادب کی ترجمانی نمایاں ، معروف اور ابھرتے ہوۓ فنکاروں کا اجتماع، معیاری کتابوں کی اشاعت، ادیبوں شاعروں سے روابط ، موسیقی کے جلسے، سب جاری رہے۔
زندگی بڑی عافیت سے گزر رہی تھی ۔ شاہد احمد اور ان کے خاندان والے مطمئن اور خوش تھے لیکن فضا ماحول اور حالات بڑی تیزی سے بدل رہے تھے۔
شاہد احمد دھلوی کی دلی سے رخصتی
14 اگست 1947ء کو پاکستان کا قیام عمل میں آیا ۔ پندرہ اگست کو ہندوستان آزاد ہوا لیکن انتقالِ آبادی کا عمل شروع ہو چکا تھا ۔ دونوں ملکوں کے سرکاری ملازم اپنی اپنی پسند کے ملک روانہ ہو رہے تھے۔تاہم یہ عمل پرسکون نہیں تھا۔ فضا میں خون کی بو محسوس ہو رہی تھی ۔ دلی کے مسلمان باشندے بڑے پریشان اور گھبراۓ ہوۓ تھے ۔ ان کی پریشانی اور گھبراہٹ بالکل بجا تھی کیونکہ زرنارتھی دلی کے مسلمانوں کے لۓ سراپا قہر بنے ہوۓ تھے۔
شاہد احمد سیاسی آدمی نہیں تھے ۔ ان کے ملنے جلنے والوں میں ہر قسم کے لوگ تھے ۔ مسلمان بھی تھے اور ہندو بھی تھے ۔ کھاری باؤلی میں ان کا جدی مکان ہندوؤں کے گڑھ میں تھا مگر انھیں کبھی یہ خیال بھی نہیں آیا کہ انھیں اس مکان سے نکلنا پڑے گا ۔ مکان سے کیا دلی سے نکلنا پڑے گا اور دلی ہمیشہ ہمیشہ کے لۓ چھٹ جاۓ گی۔
——
یہ بھی پڑھیں : روش صدیقی کا یوم پیدائش
——
ویسے عام مسلمانوں کی طرح انھیں بھی تحریک پاکستان سے لگاؤ تھا ۔ 23 مارچ 1940ء کو لاہور میں منعقد پونے والے مسلم لیگ کے سالانہ جلسے میں وہ بھی اپنے چھوٹے بھائی سراج الدین احمد کے ساتھ شریک ہوۓ تھے۔
بڑی مشکلوں سے مسلمانوں پہ ہوتے ظلم دیکھتے بھوکے پیاسے 20 ستمبر رات ساڑھ نو بجے لاہور پہنچے۔
شاہد احمد دھلوی لاہور میں
شاہ احمد اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کو لاہور پہنچے ۔ رات کے گیارہ بجے سے شہر میں کرفیو لگ جاتا تھا ۔ خدا خدا کر کے صبح ہوئی اور سب لوگ بارود خانے میں میاں اسلم کے یہاں پہنچے۔
دوسرے دن بحالی کی کاروائی شروع ہوئی ۔ میاں صاحب نے پانی والے تالاب کے کوچہ سیٹھا میں ایک مکان الاٹ کروا دیا۔لیکن بیس بائیس دن تک انھیں اپنے یہاں مہمان رکھا۔
روزگار کی صورت یہ نکلی کہ اندرون لوہاری گیٹ نرائن دت سیگل کی دکان الاٹ ہو گئی ۔ نرائن دت سیگل تیرتھ رام فیروزپوری کے جاسوسی ناولوں کے ترجمے شائع کرنے کے لیے سارے ملک میں مشہور تھا ۔ دکان میں مال وال تو براۓ نام تھا ۔ بہرحال ایک ٹھیا ضرور تھا۔ شاہد احمد اس کی کتابوں کی دکان پر بیٹھنے لگے۔
لاہور میں شاہد احمد لشتم پشتم گزر کرتے رہے ۔ دلی کا سارا کاروبار تلپٹ ہو گیا ۔ جائیداد کی آمدنی ختم کیونکہ جائداد پر کسٹوڈین نے قبضہ کر لیا تھا ۔ دلی سے روانہ ہوۓ تھے تو پچاس روپے جیب میں تھے اب صورت حال یہ کہ آمد ایک پیسے کی نہیں اور ایک بڑے کنبے کی ذمہ داری ۔ نجانے کیا کیا جتن کیۓ۔ کس طرح وقت گزارا ۔ یہ انہیں کا دل جانتا ہو گا
کتابوں اور رسالے کے کاروبار کو سنبھالنا چاہا ۔ از سر نو شروع کرنے کا خیال ہوا لیکن بے یقینی کی فضا اور بیچارگی کے ماحول میں لوگ کتابیں اور رسالے نہیں پڑھتے نہ خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں ۔
مرے پر دو درے یہ کہ ساقی کے لیے ڈکلریشن کی بھاگ دوڑ کرتے رہے لیکن حکومت پنجاب کی پریس برانچ میں چوھدری محد حسین بیٹھے تھے۔ چوھدری صاحب نے منٹو اور عصمت کے افسانوں کے خلاف فحاشی کے الزام میں حکومت کی طرف سے مقدمے دائر کیے تھے۔ شاہد احمد، منٹو اور عصمت پر جرمانہ بھی ہوا تھا لیکن ہائی کورٹ میں اپیل ہوئی اور مقدمے ختم کر دیۓ گۓ۔ شاہد احمد نے 10 مہینے تک بھاگ دوڑ کی مگر ڈیکلریشن نہ ملنا تھا نہ ملا۔۔ آخر کار پانی سر سے اونچا ہو گیا ۔ ایک دن کوچہ سیٹھاں کا مکان بھائی ولی کے حوالے کیا ۔ دکان کے کاغذات واپس کیے اور کراچی آ گۓ۔
شاہد احمد دھلوی کراچی میں
شاہد احمد کراچی میں ایک عزیز کے ساتھ مارٹن روڈ پر رہنے لگے ۔ چھوٹا سا کوارٹر ۔ نہ پانی نہ بجلی۔
مارٹں روڈ کے کوارٹر میں گزر بہت مشکل تھی ۔ ناچار بہار کالونی میں مکان بنوانا شروع کیا ، وہاں سیلن، بدبو ، شہر سے دوری ۔ سبھی آفتیں تھیں ۔ان دنوں پیر الٰہی بخش کالونی زیرِ تعمیر تھی ۔ شاہد احمد نے یہاں دو مکان خریدے اور باقی ساری عمر یہیں گزاری ۔ ان کے مکان کا نمبر 1906 تھا ۔ کبھی کبھی کہتے تھے میرے مکان کا نمبر اور میرا سال پیدائش دونوں ایک ہی ہیں۔
کراچی میں انہیں ساقی کا ڈیکلریشن بآسانی مل گیا ۔ رسالے کا اجرا ہوا لیکن نہ وہ ساقی نہ وہ شاہد احمد ۔ دونوں پژمردہ ہو گۓ تھے۔
چودہ اگست 1948ء کو کراچی میں بھی ریڈیو اسٹیشن قائم ہو گیا ۔ کراچی ان دنوں چھوٹا سا شہر تھا ۔ ریڈیو اسٹیشن قائم تو اللہ میاں کے پچھواڑے انٹۓ لی جنس سکول میں ۔۔۔ سمندر کے کنارے قائم ہوا ۔ ایک لمبی بیرک میں اسٹیشن ڈائریکٹر کا کمرہ۔ اسٹوڈیو ۔ سب کچھ تھا دفتر بھی خیمے میں اور دفتر والے بھی خیموں میں ۔۔۔ ریڈیو اسٹیشن قائم ہونے کے بعد شاہد احمد جن کا شمار استادانِ موسیقی میں ہوتا تھا پانچ سو روپے ماہوار پر شعبہ موسیقی میں میوزک سپروائزر مقرر ہو گۓ۔ تقرر سالانہ معاہدے کی بنیاد پر ہوا ۔۔۔۔۔۔ اللہ کی شان ہے ۔۔۔۔۔ نہ ادب کام آیا نہ لکھنا لکھانا کام آیا ۔ موسیقی جو خاندان والوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی ۔ شاہد احمد کے لیے موسیقی کیا تھی کھوٹا پیسہ تھا جو آڑے وقت پر کام آ گیا۔
ریڈیو سے شاہد احمد کا تعلق اٹھارہ برس رہا ۔ ان کی وجہ سے ریڈیو پاکستان کراچی کے شعبہ موسیقی کا افتخار اور وقار بڑھا ۔ نۓ نۓ پروگرام مرتب ہو کر نشر ہوۓ ۔ سامعین ان کے پروگراموں مے منتظر رہتے تھے ۔ موسیقار انھیں ماہرِ فن سمجھتے تھے اور راگ راگنیوں کے حوالے سے ان کی راۓ کو اہمیت دیتے تھے۔
شاہد احمد دہلوی گلڈ کے مرکزی مجلس عاملہ کے رکن رہے بعد ازاں کراچی ریجن کے سیکرٹری منتخب ہوۓ۔
گلڈ میں شاہد احمد کی خدمات پر تبصرہ کرتے ہوۓ پروفیسر وقار عظیم نے بڑے پتے کی بات کہی تھی۔ انہوں نے کہا تھا ۔ ” شاہد احمد نے گلڈ کی سرگرمیوں میں بغیر معاوضے کے اسی انہماک سے حصہ لیا جیسے ساقی کے کام کیے” یہ شاہد احمد کے خلوص ، محنت ، فروغ ادب اور ادیبوں کی بہبود کی کوششوں پر بہترین تبصرہ ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : لطف اللہ خان کی تاریخ پیدائش
——
1959ء میں شاہد احمد کوسیٹو کی جانب سے تھائی لینڈ اور فلپائن میں پاکستانی موسیقی پر لیکچر دینے کی دعوت ملی ۔ انہوں نے قبول کی اور پاکستانی موسیقی اور ثقافت کے حوالے سے بڑے معلومات افزا اور دلکش لیکچر دیےَ ۔ موسیقی کے حوالے سے انہوں نے عملی مظاہرہ بھی کیا تھا جسے لوگوں نے بہت پسند کیا۔ اس سفر میں وہ ہانگ کانگ اور جاپان بھی گۓ۔ موسیقی اور ثقافت کے حوالے سے وہ پاکستانی وفد کے سربراہ کی حیثیت سے دلی بھی گۓ ۔ ڈھاکہ میں ” یوم خسرو” منایا گیا تو انہوں نے اس تقریب میں خسرو پر لیکچر بھی دیا ۔
1963ء میں شاہد احمد کو صدر پاکستان کی جانب سے” افتخارِ ادب” کا اعزاز عطا کیا گیا۔ یہ ان کی ادبی خدمات کا بجا اعتراف تھا۔
علالت اور انتقال
زندگی اپنے ڈھرے پر آہستہ آہستہ رواں تھی ۔ دورے بھی ہو رہے تھے ۔ جلسے بھی ہو رہے تھے ۔ اعزاز بھی ملے لیکن شاہد احمد ذہنی اور روحانی شکست و ریخت سے بھی دو چار تھے ۔ ٹوٹ پھوٹ تو اسی دن شروع ہو گئی تھی جس دن انہوں نے دلی چھوڑی تھی لیکن آدمی تھے حوصلہ مند شکست و ریخت کو برداشت رہے۔ ان کے ایک بیٹۓ مسعود باہر چلے گۓ ۔ انہوں نے بیٹے کے باہر چلے جانے پر کسی کے سامنے رنج کا اظہار نہیں کیا غم کو اندر ہی اندر برداشت کیا ۔ پھر سب سے چھوٹا بیٹا محمود بھی باہر چلا گیا ۔ محمود کے جانے کا دکھ ان کے لیے بہت سخت تھا کیونکہ وہ محمود کو بہت چاہتے تھے لیکن اس کے جانے پر بھی چپ رہے ۔ منہ سے کچھ نہیں کہا ۔ چہیتی بیٹی ارجمند بھی امریکہ چلی گئیں ۔ گھر میں سناٹا ہو گیا اور پھر بھی چپ رہے اور اندر ہی اندر گھلتے رہے۔
تکلیفیں تو بہت تھیں لیکن 1965ء میں شاہد کو دائیں ٹانگ میں غیر معمولی تکلیف محسوس ہوئی ذرا سا چلتے تھے ٹانگ تھک جاتی تھی ۔ ڈاکٹرز کو چیک کروایا تو تشخیص یہ ہوئی کہ ٹانگ کی رگ گھٹنے کے نیچے سے موٹی ہوتی جا رہی ہے ۔ پنڈلی کو پورا خون نہیں مل رہا ۔ اس علاج آپریشن ہے۔ خیر آپریشن کامیاب ہوا ۔ شاہد احمد بخیریت گھر واپس آ گۓ ۔ آہستہ آہستہ چلنا شروع کیا ۔ لکڑی کے سہارے چلنے لگے ۔ ریڈیو اسٹیشن آنے جانے لگے مگر صحت برباد ہو گئی تھی۔ غضب یہ ہوا کہ جوان جہان بیاہی تیاہی بیٹی مسعودہ جو ” منی” کہلاتی تھیں ایک سخت بیماری کے باعث دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
پیر کی تکلیف سے افاقہ ہو گیا تھا لیکن کام تمام کرنے والی بیماری دل نے ان کا پیچھا کر لیا ۔ فروری 1967ء میں ایک حملہ ہوا ۔ علاج معالجے سے بہتر ہو گۓ لیکن احتیاط، پرہیز، لکھنے پڑھنے پر پابندی نے زندگی دوبھر کر دی۔ 27 مئی کا دن انہوں نے عام دنوں کی طرح گزارہ ۔ رات کو میل ڈیڑھ میل پیدل ٹہلے ۔ گھر آۓ بیٹی فرزانہ کے ساتھ کھانا کھایا ۔ یہ ان کا آخری کھانا تھا ۔ سونے کے لیے لیٹے تو کھانسی کی دھسک اٹھی ۔ خود اٹھے ۔ دوا پی ۔ دوبارہ کھانسی اٹھی ۔ سانس میں خرخراہٹ پیدا ہوئی ۔ یہ آخری سانس تھا ۔ اس کے ساتھ ہی شاہد احمد اللہ کو پیارے ہو گۓ۔
——
تصانیف
——
گنجینۂ گوہر (خاکے)
بزمِ خوش نفساں (خاکے)
بزم شاہد (خاکے)
طاق نسیاں (خاکے)
دلی کی بپتا (دلی کی یاداشتیں)
اجڑا دیار (مضامین)
سرگزشت ِعروس (ناول)
بچوں کی دلچسپیاں (جی فریڑرک کیوڈر) (ترجمہ)
بچوں کی جنسی تعلیم (لیسٹراے کرکنڈال) (ترجمہ)
خودشناسی (ولیم سی میجر) (ترجمہ)
بچوں کی نشو و نما ( ولارڈسی اولسن، جون لی ولن) (ترجمہ)
بچوں کا خوف ( ہیلن راس) (ترجمہ)
انتخاب معاش (ہمفریز جے انتھی) (ترجمہ)
دھان کا گیت (مس آئی لن چانگ) (ترجمہ)
غریب لڑکے جو نامور ہوئے (یولٹن) (ترجمہ)
بچوں میں جذبہ عداوت (سپل سکلونا ) (ترجمہ)
بچوں کے جذباتی مسائل (اوسپرجن، سٹوراٹ ایم قچ ) (ترجمہ)
بچوں کی معاشرتی زندگی (ایلس وٹنرمین) (ترجمہ)
والدین اور معلمین (ایوایچ گرانٹ) (ترجمہ)
آپ کے بچے کی وراثت (ایل گارٹن) (ترجمہ)
نرگس جمال (مارس مترلنک) (ترجمہ)
حیرت ناک کہانیاں (نتھینیل ہوتھورن) (ترجمہ)
انوکھی کہانیاں (نتھینیل ہوتھورن) (ترجمہ)
فاؤسٹ (جان ولف کانگ گوئٹے) (ترجمہ)
پروین و ثریا (مارس مترلنک) (ترجمہ)
پھانسی (اندریف) (ترجمہ)
مضامین موسیقی (ترتیب عقیل عباس جعفری)
——
حوالہ
——
کتاب : شخصیت اور فن، شاہد احمد دہلوی
مصنفہ تاج بیگم فرخی ، شائع شدہ 2006
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ