اردوئے معلیٰ

آج فتح پور (اُترپردیش) سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر شرر فتح پوری کا یومِ وفات ہے ۔

(پیدائش: 16 مئی 1928ء – وفات: 26 نومبر 1992ء)
——
شرر فتح پوری فتح پور (اُترپردیش)، بھارت سے تعلق رکھنے والے مشہور شاعر ہیں۔ ان کا اصل نام رام سنگھ ہے ۔ قیام پاکستان سے پہلے 16 مئی 1928ء فتح پور (اترپردیش) بھارت میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے اور ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کی۔ محکمۂ تعلیم ہریانہ میں ہیڈماسٹر کے عہدے پر فائز رہے۔
26؍نومبر 1992ء کو ضلع کیتھل ہریانہ بھارت میں وفات پائی ۔
——
تعارف از مخمور جالندھری
——
شرر فتح پوری نام و نمود اور شہرت و عظمت سے بے نیاز ہو کر زلفِ شعر و ادب سنوارتا رہا ہے ۔ لیکن اس کی شاعری گوشہ نشینی کی شاعری نہیں ہے ۔
یہ اپنی آغوش میں فکر و خیال کی وسعتیں اور شعور و ادراک کی بلندیاں لیے ہوئے ہے ۔ نہ صرف زندگی کے حقائق پر اس کی گرفت مضبوط ہے بلکہ اس کے فنِ شعر میں اک دلپسند پختگی اور ایک دلفریب رچاؤ ہے ۔
شرر فتح پوری اردو شاعری میں فکر و احساس کی نئی اور گہری آواز ہے ۔ ایک ایسی آواز جس کے ارتعاش میں کلاسیکی پختگی اور جذبات و محسوسات کی دلآویز شدت ہوتی ہے ۔
——
منزلِ شام و سحر ، شمس و قمر کی راہیں
حدِ امکاں سے بھی آگے ہیں بشر کی راہیں
——
شرر فتح پوری اردو شاعری کے کلاسیکی ورثے سے پوری طرح فیضیاب ہے ۔ اس کا تمام تر تجسس ، ادراک اور شعور صرف اسی سمت میں گامزن رہا ہے کہ وہ ایسی شاہراہیں تلاش کرے جن پر چل کر انسان غم و اندوہ ، آہ و زاری اور مکر و ریا سے پاک صاف زندگی سے ہمکنار ہو سکے ۔
——
زندگی تشنگیٔ خوں کی گنہگار نہ ہو
رہزنِ ہوش کوئی قافلہ سالار نہ ہو
——
شرر فتح پوری کے یہاں کہیں بھی رسمی اور روایتی انداز نہیں ملتا ۔ تصور اور حقیقت کے حسین و جمیل خدوخال ملتے ہیں ۔ اس کے یہاں شگفتہ طرزِ بیان اور ندرتِ موضوع موجود ہے
——
یہ بھی پڑھیں : ضیا فتح آبادی کا یومِ پیدائش
——
دشت و صحرا سے کبھی اُٹھے بگولوں کی طرح
اور کبھی اُترے زمینوں پہ رسولوں کی طرح
——
شرر فتح پوری وہ شاعر ہے جس نے اپنی آواز پا لی ہے ۔ اس کے ہر شعر پر اس کی انفرادیت کی چھاپ ہے ۔ اس کے شعر کا حسنِ ترتیب ناقابلِ تقلید ہے ۔ اس کی شاعری میں ادب کی متحرک ، تغیر پذیر اور ارتقائی قدریں بے حد نمایاں ہیں ۔
ربطِ تخیل ، ہم آہنگیٔ تصور اور تسلسلِ احساس شرر کی شاعری کا عدیم المثال وصف ہے ۔ اس نے نئے اسالیب تخلیق کیے ہیں ۔ اس نے جمالیاتی اسلوب کو حد سے زیادہ نکھارا ہے ۔ اس کے یہاں وجد آفریں کیفیت اور ترنم ریز شگفتگی اور لطافت ملتی ہے
——
ابر کی چھاگلیں بھر بھر کے ہوا لاتی ہے
جھومتی ، گاتی ہوئی بادِ صبا آتی ہے
——
شرر فتح پوری اپنی شاعری کو تکلفات سے آراستہ نہیں کرتا بلکہ اس میں وہ عظیم سادگی سمو دیتا ہے جو اشعار کو ادبِ عالیہ بنا دیتی ہے ۔
شرر کے اشعار میں مقصدیت ہے لیکن وہ مقصدیت چلمن سے جھانکتی ہوئی ایک حسینہ کی طرح ہے ۔ زبان کی صفائی ، تراکیب کی دلآویزی اور اظہار و بیان کی جاذبیت شرر کی شاعری کا طرۂ امتیاز ہے ۔
( مخمور جالندھری کالکا جی ، نئی دلی ، 4 ستمبر 1972 )
——
منتخب کلام
——
اک برق سی گری تھی ، اک حشر سا اٹھا تھا
ایسی ہی روشنی تھی جب میرا گھر جلا تھا
——
میری شائستگیٔ طرزِ فغاں تو دیکھو
کاٹ کے رکھ لی ہے خود منہ میں زباں تو دیکھو
——
چہرہ کسی کا ہے تو یہ پیکر کسی کا ہے
پہچانیے کہ آدمی یہ کس صدی کا ہے
——
یہ صنم تو صنم کدوں کے ہوئے
ڈھونڈ لو اب نیا خدا کوئی
——
اک کُھلا منظر بھی پس منظر میں تھا
خانہ ویرانی کا عالم ، گھر میں تھا
——
وہ درد و داغِ دل تھا کہ سوزِ آہ و اشک
دنیا نے ہر حسابِ الم ، بیش و کم لیا
——
ہجومِ برق و باد میں یہی جگہ اماں کی ہے
نہ کام کا ہو آشیاں تو آشیاں کو پُھونک دو
——
موت بھی آ کے شرمسار گئی
زندگی ، تیری آبرو ہم تھے
——
ہم پھٹے حالوں کی چادر ہے حیات
اِس کو اوڑھیں کہ بچھائیں یارو !
——
میں پھول بھی ہوں ، زخم بھی ، خوشبو بھی ، درد بھی
گلشن کی موجِ رنگ بھی ، صحرا کی گرد بھی
——
میں شگفتہ ہوں بہت اب بھی سرِ شاخِ صلیب
سنگ ساروں سے کہو ، مشقِ ستم فرمائیں
——
دیکھیے کس سے ہو تفسیرِ غمِ زیست شررؔ
یوں تو ہونے کو یہاں اہلِ قلم اتنے ہیں
——
شہر میں ننگِ آبرو ہم تھے
سب کا موضوعِ گفتگو ہم تھے
نیزہ نیزہ ہمارے سر تھے عَلم
سر سے پا تک لہو لہو ہم تھے
شعلہ شعلہ ، سر اشکِ دیدۂ تر
آگ کی بہتی آب جو ہم تھے
جو صلیبوں پہ سنگسار ہوئے
وہ سزاوارِ آرزو ہم تھے
کون لیتا اسے ہمارے سوا
زہر کا آتشیں سبُو ہم تھے
موت بھی آ کے شرمسار گئی
زندگی ، تیری آبرو ہم تھے
——
اور کیا روز جزا دے گا مجھے
زندہ رہنے کی سزا دے گا مجھے
زخم ہی زخم ہوں میں داغ ہی داغ
کون پھولوں کی قبا دے گا مجھے
میں سمجھتا ہوں زمانے کا مزاج
وہ بنائے گا مٹا دے گا مجھے
بے کراں صدیوں کا سناٹا ہوں میں
کون سا لمحہ صدا دے گا مجھے
ٹوٹ کر لوح و قلم کی جاگیر
کوئی دے گا بھی تو کیا دے گا مجھے
میرے ہی خون میں نہلا کے شررؔ
وہ صلیبوں پہ سجا دے گا مجھے
——
ہونے کو آستانِ حرم بھی قریب تھا
ہم دار تک گئے یہ ہمارا نصیب تھا
میرے ہی حسنِ شوق نے رسوا کیا مجھے
میرا جنونِ عشق ہی میرا رقیب تھا
اب تک ہے جان و دل پہ مصیبت بنی ہوئی
وہ حادثۂ زیست بھی کتنا عجیب تھا
اوروں کو بارِ غم سے سبکدوش کر گیا
وہ جس کے دوشِ عزم پہ بارِ صلیب تھا
سب کو متاعِ عیش و طرب بانٹتا گیا
ہر چند دل ہمارا نہایت غریب تھا
——
راہ چلیے تو یہاں دیر و حرم اتنے ہیں
کس کو پوجیں کہ خدا ساز صنم اتنے ہیں
اب کوئی اُٹھے بہ اندازِ دگر تیشہ بدست
کاٹے کٹتے ہیں نہیں کوہِ الم اتنے ہیں
تازہ احسانِ ستم ، طُرفہ عنایت ہے تری
ورنہ ہونے کو ترے لطف و کرم اتنے ہیں
یہ بھی کیا کم ہے کہ جینے کی طرح جیتا ہوں
ورنہ مرنے کے لیے زیست کے غم اتنے ہیں
دیکھیے کس سے ہو تفسیرِ غمِ زیست شررؔ
یوں تو ہونے کو یہاں اہلِ قلم اتنے ہیں
——
حوالہ جات
——
تعارف از کاروانِ سحر ، شائع شدہ 1972 ء ، صفحہ نمبر 6
شعری انتخاب از حرف حرف 1986 ء ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات