اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر’ شاعر جمالی کا یوم وفات ہے


(پیدائش: 15 جون 1943ء – وفات: 8 اکتوبر 2008ء)
——
شاعر جمالی کا پورا نام سید نظرالحسنین تھا ۔آپ کے والد کا نام سید شوکت علی اور و الدہ کا نام حامدہ بیگم ہے۔ شاعر جمالی کی پیدائش 15جون، 1943ء کو شہر بہرائچ کے مردم خیز محلہ، قاضی پورہ میں ہوئی تھی۔آپ نے ایم ۔اے۔(اردو)تک کی تعلیم حاصل کی اور جون پور میں محکمہ صحت میں ہیلتھ سپر وائزر ہوئے اور جون پور سے ہی ریٹائر ہوئے۔ شاعر جمالی کے والد، والدہ اور بھائی وٖغیرہ نے بعد میں شہربہرائچ سے نانپارہ جاکر وہیں سکونت اختیار کر لی جس کی وجہ سے شاعر جمالی اکثر نانپارہ آیا کرتے اور شاعر شارق ربانی کے مکان کے قریب واقع اپنے والد اور والدہ کی رہائش گاہ پر ٹہرتے تھے۔
شاعر جمالی کی زندگی کا زیادہ حصہ جون پور میں ہی گزرا ۔شاعر جمالی نے آل انڈیا مشاعروں کے علاوہ بیرونی ممالک کے مشاعروں جیسے دوہا قظر،، دبئی ،ابو ظہبی،وغیرہ میں بھی شرکت کی اور کافی شہرت حاصل کی۔’’شاعراور ادیب شارق ربانی کا کہنا ہے کہ شاعر جمالی بہترین غزلیں کہتے تھے اور اردو ادب کی باکمال شخصیت تھے۔‘‘ شاعر جمالی کو ان کے شعری مجموعہ ’’لہجہ‘‘ پر اردو اکادمی ایوارڈ مل چکا ہے اور ادبی خدمات کے لئے انہیں ’’پوروانچل رتن اعزاز ‘‘ نظیر بنارسی ایوارڈ اور آل انڈیا کامل ایووارڈ سے بھی نوازا گیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : رکھا بے عیب اللہ نے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کا نسب نامہ​
——
شاعر جمالی کے تین شعری مجموعے ہیں۔ پہلا ۔ کرب، دوسرا۔ صحیفہ اور تیسرا۔ لہجہ ہے۔
شاعر جمالی کے راحت اندوری ،بشیر بدر ،انور جلال پوری ،اظہار وارثی ،اثر بہرائچی ،معراج فیض آبادی ،احمد نثار ،اسلم آلہ آبادی،عالم غازی پوری، شارق ربانی وغیرہ سے قریبی تعلقات تھے۔
شاعر جمالی کا انتقال 8اکتوبر، 2008ء کو ایک آل انڈیا مشاعرہ میں شرکت کے لئے جاتے وقت فیض آباد ریلوے اسٹیشن پر ہوا تھا اور تدفین نانپارہ میں ہوئی تھی، جس میں کثیر تعداد میں مقامی اور بیرونی ادبی شخصیات نے بھی شرکت کی تھی۔
——
شاعر جمالی اپنی شاعری کے بارے میں کہتے ہیں :
——
اپنی شخصیت اور شاعری کی روح تک آپ کی رسائی کے لیے شاید میرا اتنا کہنا کافی ہے کہ :
ٹوٹتے بکھرتے لمحے اور صدیوں پر بھاری پل ۔۔۔ احساس کے تپتے ہوئے صحرا میں رشتوں کے سراب ۔۔۔ لمحہ لمحہ پگھلتا وجود ۔۔۔ بے نام سکھ ۔۔۔ جانے پہچانے دکھ ۔۔۔ کچے آنگن کی سوندھی مہک ۔۔۔ سرسبز وادیاں ۔۔۔ جنگلی پھول ۔۔۔ پتھریلے راستے ۔۔۔ ننھے ننھے ہاتھ ۔۔۔ اخروٹ اور پتھر ۔۔۔ شدید احساسِ جمال ۔۔۔ یادیں ۔۔۔ افلاس ۔۔۔ بھوک ۔۔۔ احساسِ کمتری سے جنگ ۔۔۔ راہبر ہوتے ہوئے احساسِ رہبری سے محرومی ۔۔۔ بے ثمری ۔۔۔ بے اعتنائی ۔۔۔ طنز ۔۔۔ غریب الوطنی ۔۔۔ اکتاہٹیں ۔۔۔ زندگی کا ایک طویل صحرا ۔۔۔ علم کی شدید پیاس ۔۔۔ فراتِ علم پہ پہرہ ۔۔۔ جنگ ۔۔۔ شکست ۔۔۔ فتح ۔۔۔ محبت ۔۔۔ کامیابی ۔۔۔ روزگار ۔۔۔ بے روزگاری ۔۔۔ بے انصافی ۔۔۔ حق پرستی ۔۔۔ حق گوئی ۔۔۔ لہجے کا زہر ۔۔۔ انفرادیت ۔۔۔ خود پسندی ۔۔۔ خود شناسی ۔۔۔ خود فراموشی ۔۔۔ عرفانِ ذات ۔۔۔ وجدان ۔۔۔ تخلیق ۔۔۔ احترام و حفظِ مراتب ۔۔۔ گستاخیاں ۔۔۔ تعمیر ۔۔۔ آرٹ ۔۔۔ فلسفہ ۔۔۔ تاریخ ۔۔۔ سماجیات ۔۔۔ مذہب ۔۔۔ کربلا ۔۔۔ عقیدہ ۔۔۔ بغاوت ۔۔۔ لامقصدیت ۔۔۔ کرب ۔۔۔ اندیشے ۔۔۔ وسوسے ۔۔۔ لمحاتی سکون ۔۔۔ سفر ۔۔۔ تھکن ۔۔۔ حادثے ۔۔۔ اپنوں کی غیریت ۔۔۔ غیروں کی اپنائیت ۔۔۔ ماحول کی بے حسی ۔۔۔ لایقینی ۔۔۔ سمجھوتے ۔۔۔ امید ۔۔۔ یقین اور عمل ۔۔۔ تضاد ۔۔۔ انا پرستی ۔۔۔ انجانی خوشبوئیں ۔۔۔ خوش رنگ موسموں کی آہٹ ۔۔۔ چاند کا جزیرہ ۔۔۔ اور ۔۔۔ دودھیا دھند میں بنتی مٹتی شباہتیں ۔۔۔
بس یہی کچھ اور اسی بے ربطی کے داخلی ربط اور اظہار کا وسیلہ ہی میری شاعری کی اساس ہے ۔ اور اسی سے میری شخصیت بھی عبارت ہے ۔
——
منتخب کلام
——
حمدِ باری تعالیٰ
——
زبان تو نے عطا کی ہے لفظ بھی دے دے
تری ثنا مرے امکان میں نہیں مالک
میں تیری حمد و ثنا کے لیے ترستا ہوں
میں جانتا ہوں کہ تو چاہے تو شجر بولے
میں جانتا ہوں کہ تو چاہے تو حجر بولے
تو ایک لمحے میں ذرے کو آفتاب کرے
ہے کائنات کی ہر شے میں تیری جلوہ گری
بصارتوں سے پرے لامکاں کا تو ہے مکیں
بصیرتوں کی حدیں تو نے کھینچ رکھی ہیں
ہماری سوچ پہ پابندیاں بھی عائد ہیں
میں ایک بندۂ ناچیز اور تری عظمت
کہ جیسے قطرہ سمندر کی آرزو رکھے
تری نوازش و اکرام کا حساب نہیں
زبان تو نے عطا کی ہے لفظ بھی دے دے
میں تیری حمد و ثنا کے لیے ترستا ہوں
——
اس تمنا نے كھيں کا بھی نہ چھوڑا مجھ کو
آسمانوں میں اڑوں ابر کا ٹکڑا ھو جاؤں
——
ذرا سی دیر کو دامن جو چھٹ گیا تیرا
سڑک کے لوگ ہمیں راستہ بتانے لگے
——
اس سیاست کو کبھی گھر میں نہ آنے دینا،
یہ طوائف هے کبھی ذات نہیں چھوڑتی هے
——
کسی کسی کو خدا یوں زوال دیتا هے
عروج دے کے دلوں سے نکال دیتا هے
——
خوابناک لمحوں میں چاند کے جزیروں سے تم مجھے بلاتے ہو
اور میں یہ کہتا ہوں اس زمیں کے دامن میں آج بھی اندھیرا ہے
——
حافظے تک فکر و فن کا اک خزانہ رہ گیا
شاعری تو مر گئی گانا بجانا رہ گیا
تب خیال آیا چلو کچھ نیکیاں کرتے چلیں
چار دن کا جب ہمارا آب و دانا رہ گیا
——
یہ مصلحت وقت کے مارے ہوئے انسان
ہر ظلم کی پرزور مذمّت بھی کرینگے
مقتول کے ماتم میں بھی شامل ہیں میرے یار
حد یہ ہے کے قاتل کی حمایت بھی کرینگے
——
تم آسمان کی بلندی سے جلد لوٹ آنا
ہمیں زمیں کے مسائل پہ بات کرنی ہے
——
ہم نے خوشبو کے بند کھول دیۓ
اب ہوا تیری ذمہ داری ہے
——
اس کا خط خود مجھ کو پڑھنے لگتا ہے
اس کے ایک ایک لفظ میں آنکھیں ہوتی ہیں
——
سفید پوش بھکاری غریب لوگوں سے
کچھ اور چیز نہیں تخت و تاج مانگتا ہے
——
کیسے کیسے تیرنے والوں کو دریا کھا گیا
بچ گیا وہ جس کی مٹھی میں کوئی تنکا نہ تھا
——
زینتِ صد انجمن ہے آپ کی موجودگی
ہے قیامت آپ کے محفل سے اٹھ جانے کا نام
——
یہ بھی پڑھیں : نامور افسانہ و ڈرامہ نگار میرزا ادیب کا یوم وفات
——
وہ ایک بشر تھا مگر نور ہو گیا وہ شخص
کہ جب حیات کا دستور ہو گیا وہ شخص
ابھی تو میں نے ستائش کی ابتدا کی تھی
ابھی سے کس لیے مغرور ہو گیا وہ شخص
تھا جس کو ناز بہت اپنی دستگیری پر
سنا ہے ہاتھوں سے معذور ہو گیا وہ شخص
ستم نے بظاہر اس کو تباہ کر ڈالا
ستم کے سینے کا ناسور ہو گیا وہ شخص
وہ اتنی تیز اجالوں کی سمت بھاگا تھا
کہ تھک کے بیٹھا تو بے نور ہو گیا وہ شخص
یہ سایہ دار درختوں کا فیضِ صحبت تھا
پڑی جو دھوپ تو کافور ہو گیا وہ شخص
تمام عمر وہ میری مخالفت میں رہا
بس اتنی بات پہ مشہور ہو گیا وہ شخص
——
سر جو میرا اب تمہارے پتھروں کی زد پہ ہے
سن رہا ہوں اس کا بھی الزام میرے قد پہ ہے
کون ظالم کون ہے مظلوم اس کا فیصلہ
حشر میں ہوگا مگراب حشر کی آمد پہ ہے
آسماں سے پھر لہو کی بارشیں ہونے کو ہیں
اک کبوتر آج پھر بیٹھا ہو ا بر گد پہ ہے
لاش اس کی کھا گئے مل جل کے کالے بھیڑئے
اور اسکی ماں سمجھتی ہے کہ وہ سر حد پر ہے
اپنے اندر جھانکنے کی ان کو فرصت ہی کہاں
جن کی چشم معتبر دنیا کے نیک و بد پہ ہے
جنگ کس نے جیت لی اور ہوگئی کس کو شکست
انحصار اس فیصلے کا جنگ کے مقصد پہ ہے
اب مجھے سچائی کی عظمت کا اندازا ہوا !!
اب مری گردن یزیدی خنجروں کی زد پہ ہے
دیکھئے تو ساری دنیا ہی مہذب ہو چکی
سوچئے تو یہ ابھی تہذیب کی ابجد پہ ہے
تاجروں نے اس کا سون لے لیا مٹی کے مول
بحث فنکاروں میں اب تک اسکے خال و خد پہ ہے
——
یہ بھی پڑھیں :  نامور نقاد، افسانہ نگار اور مترجم ممتاز شیریں کا یومِ پیدائش
——
زمیں پہ پھینک دے مجھ کو کہ آسمان میں رکھ
ترا صحیفہ ہوں تو چاہے جس جہان میں رکھ
فلک کو رنگ بدلنے میں دیر لگتی نہیں
زمین پر بھی نظر اپنی ہر اڑان میں رکھ
خبر نہیں تجھے کب چھوڑنا پڑے ساحل
ہوا کو باندھ کے تو اپنے بادبان میں رکھ
جوان تو بھی ہے میں بھی ہوں شب ہے ایسا کر
خدا کے نام کی تلوار درمیان میں رکھ
سکوں ملے گا تو اندر کا شخص جاگے گا
سفر تمام نہ کر جسم کو تکان میں رکھ
خبر ہے گرم کہ طوفان آنے والا ہے
قدم نہ بھول کے گرتے ہوئے مکان میں رکھ
لہو بہے گا تو صدیوں پہ پھیل جائے گا
لہو بہانے سے پہلے یہ بات دھیان میں رکھ
ہمارے دور نے ہم کو یہی سکھایا ہے
ہو دل میں زہر مگر چاشنی زبان میں رکھ
——
حوالہ جات
——
تحریر : شاعر جمالی از صحیفہ ، مصنف : شاعر جمالی
شائع شدہ 1983 ، صفحہ نمبر 10-11
شعری انتخاب از فیس بک صفحہ : شاعرؔ جمالی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات