اردوئے معلیٰ

آج اردو تنقید کے بانیوں میں نمایاں، عظیم مورخ، عالم دین، سیاسی مفکر اردو اور فارسی شاعر علامہ شبلی نعمانی کا یومِ وفات ہے ۔

شبلی نعمانی
(پیدائش: 4 جون 1857ء — وفات: 18 نومبر 1914ء)
——
( نوٹ: ان کی تاریخ پیدائش کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے ۔ بعض کے نزدیک یکم جون، بعض کے نزدیک 3 جون ، 4 جون اور بعض کے نزدیک 8 جون 1857ء ہے واللہ عالم)
——
علامہ شبلی نعمانی کی پیدائش اعظم گڑھ ضلع کے ایک گاؤں بندول جیراج پور میں4 /جون 1857ء کو ہوئی تھی- ابتدائی تعلیم گھر ہی پر مولوی فاروق چریا کوٹی سے حاصل کی- 1876ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ وکالت کا امتحان بھی پاس کیا اور وکالت بھی کی مگر اس پیشہ سے دلچسپی نہ ہونے کے سبب ترک کر دی۔ علی گڑھ گئے تو سرسید احمد خان سے ملاقات ہوئی، چنانچہ فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہیں سے شبلی نے علمی و تحقیقی زندگی کا آغاز کیا۔ پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی سیکھی۔ 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ آ گئے۔ 1913ء میں دار المصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔
——
تعارف
——
علامہ شبلی نعمانی کا شمار اردو تنقید کے بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت اردو دنیا میں بطورشاعر، مورخ، سوانح نگار اورسیرت نگار کی حیثیت سے بھی مسلم ہے۔ شبلی کے تنقیدی نظریات و افکار مختلف مقالات اور تصانیف میں بکھرے ہوئے ہیں لیکن یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کو شاعری اور شاعری کی تنقید سے خاص انسیت تھی۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ شاعری اور اس کے دیگر لوازمات سے متعلق اپنے نظریات کو مفصل طور سے "شعرالعجم” میں پیش کیا بلکہ عملی تنقید کے نمونے "موازنۂ انیس و دبیر” میں پیش کیے۔ یہاں شبلی کی جانب داری یا غیر جانب داری سے مجھے سروکار نہیں بلکہ اصول و نظریے سے بحث درکار ہے۔ "موازنے” میں مرثیہ نگاری کے فن پر اصولی بحث کے علاوہ فصاحت، بلاغت، تشبیہ و استعارے اور دیگر صنعتوں کی تعریف و توضیح اور اس کے مختلف پہلوؤں پر بھی شبلی نے روشنی ڈالی ہے، جس سے ہمیں ان کے تنقیدی شعور کا اندازہ ہوتا ہے۔ شبلی کے نظریۂ تنقید کو سمجھنے کے لیے ان کی مذکورہ دونوں کتابیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں یعنی "شعرالعجم” اور موازنۂ انیس و دبیر۔ انہوں نے "شعرالعجم” کی چوتھی اور پانچویں جلدمیں شاعری، شعر کی حقیقت اور ماہیت، لفظ و معنیٰ اور لفظوں کی نوعیتوں پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس لحاظ سے ان کی یہ تصنیف خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہے ،کیوں کہ انہیں میں انہوں نے اردو کی جملہ کلاسیکی اصناف شاعری کا محاکمہ کیا ہے۔ اردو کی شعری تنقید کو سمجھنے کے لیے ہم اردو والوں کے لیے یہ کتابیں نوادر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کیوں کہ انہیں دونوں میں مندرجہ بالا تمام امور کی صراحت و وضاحت انہوں نے پیش کی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : شبلی نعمانی کا یومِ وفات
——
"شعرالعجم” کی چوتھی جلد کی ابتدا ہی میں فرماتے ہیں کہ” جو بحثیں اگلے حصوں میں نا تمام رہ گئی تھیں، ان کو اب تفصیل سے لکھتا ہوں۔ یہ حصہ تین فصلوں پر منقسم ہے:1۔ شاعری کی حقیقت اور ماہیت، 2۔ فارسی شاعری کی عام تاریخ اور تمدن اور دیگر اسباب کا اثر اور 3۔ تقریظ و تنقید۔ دراصل شعرالعجم شبلی کی وہ کتاب ہے،جس میں انہوں نے اپنے خیالات بالخصوص فنِ شاعری کے بارے میں اپنے مطالعے، مشاہدے اور تجربے کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ شاعری کے اصلی عناصر، تاریخ اور شعر کا فرق، شاعری اور واقعہ نگاری کا فرق جیسے مسائل پر مدلل بحث کی ہے تاکہ شاعری کے جملہ معاملات واضح ہو جائیں۔ اس کے لیے وہ لفظ اور معنیٰ کی بھی بحث کرتے ہیں اور ان کی مختلف نوعیتوں کو پیش بھی کرتے ہیں۔
وہ شاعری کو ذوقی اور وجدانی شے کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شاعری کی جامع تعریف پیش کرنا آسان نہیں بلکہ مختلف ذریعوں سے اور مختلف انداز میں اس حقیقت کا ادراک ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ” شاعری چونکہ وجدانی اور ذوقی چیز ہے، اس لیے اس کی جامع و مانع تعریف چند الفاظ میں نہیں کی جا سکتی اِس بنا پر مختلف طریقوں سے اس کی حقیقت کا سمجھانا زیادہ مفید ہوگا کہ ان سب کے مجموعہ سے شاعری کا ایک صحیح نقشہ پیش نظر ہو جائے۔”
شبلی نے مختلف مثالوں سے شاعری کی اہمیت کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے نزدیک شاعری کا منبع ادراک نہیں بلکہ احساس ہے۔ اس کے بعد وہ ادراک اور احساس کی وضاحت کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ:
خدا نے انسان کو مختلف اعضا اور مختلف قوتیں دی ہیں۔ ان میں سے دو قوتیں تمام افعال اور ارادات کا سر چشمہ ہیں، ادراک اور احساس، ادراک کا کام اشیا کا معلوم کرنا اور استدلال اور استنباط سے کام لینا ہے۔ ہر قسم کی ایجادات، تحقیقات، انکشافات اور تمام علوم و فنون اسی کے نتائج عمل ہیں۔ احساس کا کام کسی چیز کا ادراک کرنا یا کسی مسئلے کا حل کرنا یا کسی بات پر غور کرنا اور سوچنا نہیں ہے۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ جب کوئی موثر واقعہ پیش آتا ہے تو وہ متاثر ہو جاتا ہے، غم کی حالت میں صدمہ ہوتا ہے، خوشی کی حالت میں سرور ہوتا ہے، حیرت انگیز بات پر تعجب ہوتا ہے، یہی قوت جس کو انفعال یا فیلنگ سے تعبیر کر سکتے ہیں شاعری کا دوسرا نام ہے، یعنی یہی احساس جب الفاظ کا جامہ پہن لیتا ہے تو شعر بن جاتا ہے۔”
علامہ شبلی نعمانی کے شاعری سے متعلق یہ بنیادی خیالات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان متاثر ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مختلف واقعات اس پر اثر کرتے ہیں اور اس طرح اس پر مختلف کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ ان کے نزدیک یہ کم و بیش ایک ایسی کیفیت ہے جو شیر کو گرجنے، مور کو چنگھاڑنے، کوئل کو کوکنے، مور کو ناچنے اور سانپ کو لہرانے پر مجبور کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شاعری میں جذبات کی اہمیت کے قائل ہیں۔ جذبات کے بغیر شاعری کا وجود نہیں ہوتا اور وہ جذبات سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہیجان اور ہنگامہ برپا کرنا نہیں بلکہ جذبات میں زندگی اور جولانی پیدا کرنا ہے۔ شبلی کے نزدیک شاعری کے لیے جذبات ضروری ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : حمید الدین فراہی کا یوم پیدائش
——
علامہ شبلی نعمانی کے تصور کے اعتبار سے تمام عالم ایک شعر ہے۔ زندگی میں ہر جگہ شاعری بکھری پڑی ہے اور جہاں شاعری موجود ہے وہاں زندگی ہے۔ ایک یورپین مصنف کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ "ہر چیز جو دل پر استعجاب یا حیرت یا جوش اور کسی قسم کا اثر پیدا کرتی ہے، شعر ہے ۔” اس بناپر فلک نیلگوں، نجمِ درخشاں، نسیم سحر، تبسم گل، خرام صبا، نالہ بلبل، ویرانی دشت، شادابی چمن، غرض تمام عالم شعر ہے” اور ساری زندگی میں یہ شعریت پائی جاتی ہے۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شبلی کے تنقیدی نظریات شاعری کے جمالیاتی پہلو پر زور دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر سید عبد اللہ "اشاراتِ تنقید” میں لکھتے ہیں کہ:
"یہ تو ظاہر ہے کہ شبلی کی تنقید میں اجتماعی اور عمرانی نقطہ نظر بھی ہے مگر اس کے باوجود ان کا مزاج، جمالیاتی اور تاثراتی رویے کی طرف خاص جھکاؤ رکھتا ہے۔”
علامہ شبلی نعمانی کے نزدیک شاعری تمام فنونِ لطیفہ میں بلند تر حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ تاثر کے لحاظ سے بہت سی چیزیں مثلاً موسیقی، مصوری، صنعت گری وغیرہ اہم ہیں مگر شاعری کی اثر انگیزی کی حد سب سے زیادہ وسیع ہے۔ شاعری کے سلسلے میں وہ محاکات کا ذکر کرتے ہیں اور پھراس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"محاکات کے معنیٰ کسی چیز یا کسی حالت کا اس طرح ادا کرنا ہے کہ اس شے کی تصویر آنکھوں میں پھر جائے۔ تصویر اور محاکات میں یہ فرق ہے کہ تصویر میں اگرچہ مادی اشیا کے علاوہ حالات یا جذبات کی بھی تصویر کھینچی جا سکتی ہے۔ ۔۔ تاہم تصویر ہر جگہ محاکات کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ سینکڑوں گوناگوں حالات و واقعات تصور کی دسترس سے باہر ہیں۔”
وہ صرف محاکات کی تعریف ہی پر بس نہیں کرتے بلکہ محاکات کن کن چیزوں سے قائم ہوتی ہے۔ اس کی بھی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے تخیل، جدت ادا اورالفاظ کی نوعیت، کیفیت اور اثر کی بات کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک لفظ جسم ہیں اور مضمون روح ہے۔ اس مسئلے پر اہل فن کے دو گروہ ہیں ایک لفظ کو ترجیح دیتا ہے اور دوسرا معنیٰ کو۔ شبلی کا زور لفظ پر زیادہ ہے۔ لفظ اور معنی کی بحث میں لفظوں کی اقسام اور ان کی نوعیت کی صراحت کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں :
"الفاظ متعدد قسم کے ہوتے ہیں، بعض نازک، لطیف، شستہ، صاف، رواں اور شیریں اور بعض پر شوکت، متین، بلند، پہلی قسم کے الفاظ عشق و محبت کے مضامین ادا کرنے کے لییموزوں ہیں، عشق اور محبت انسان کے لطیف اور نازک جذبات ہیں، اس لیے ان کے ادا کرنے کے لیے لفظ بھی اسی قسم کے ہونے چاہئیں۔”
لفظ اور معنیٰ کی بحث نہایت دلچسپ ہے۔ فصیح اورمانوس الفاظ کا اثر، سادگی ادا، جملوں کے اجزا کی ترکیب پر اپنی آرا کا اظہار کرتے ہوئے شبلی اس کے اثر کی بھی بات کرتے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ خیال یا مضمون کتنا ہی عمدہ کیوں نہ ہو اگر لفظ عمدہ نہیں ہوں گے تو خیال کا اثر جاتا رہے گا۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ آب زم زم کی مثال کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں۔ اگر آپ کو کوئی گندے پیالے میں آبِ زم زم پینے کو دے تو آپ آبِ زم زم کے تقدس کی وجہ سے پانی تو پی لیں گے لیکن آپ کی طبیعت میلی ہو جائے گی۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس مثال میں پیالہ لفظ کی نمائندگی کر رہا ہے اور پانی مضمون کی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خیال کی عمدگی کے ساتھ ساتھ الفاظ کا عمدہ ہونا بھی ضروری ہے۔
علامہ شبلی نعمانی نے اردو کی تمام کلاسیکی اصناف کا جائزہ لیا ہے اور اس پر اپنی رائے قائم کی ہے۔ ان کا نقطۂ نظر تاثراتی اور جمالیاتی نظر آتا ہے لیکن شاعری کی دوسری خوبیوں پر بھی ان کی نگاہ رہتی ہے۔ موازنۂ انیس و دبیر میں انہوں نے شاعری کی صنعتوں کی جس طرح تشریح پیش کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس لیے جس صنعت کے ضمن میں انہوں نے جو شعر نقل کیے ہیں۔ ہم آج بھی اس کے حصار سے کلی طور سے باہر نہیں نکل سکے ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : حسن عسکری عابدی کی برسی
——
اردو کی نظریاتی تنقید کو فروغ دینے اور اسے ایک مثبت سمت دینے میں شبلی اور الطاف حسین حالی نہایت اہم ہیں۔ انہیں کی بدولت اردو تنقید کا چراغ روشن سے روشن تر ہوا۔
——
مشہور تصانیف
——
الفاروق
سوانح مولانا روم
علم الکلام (شبلی)
المامون
موازنہ (دبیر و انیس)
شعر العجم
مقالات شبلی
سیرت النعمان
سیرت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
الغزالی
شروع میں علامہ شبلی نعمانی اپنے خاندانی اثر کے مطابق مذہبی لحاظ سے مضبوط فکر کے حامل ہوا کرتے تھے پھر سر سیّد احمد خان کی قائم شدہ علی گڑھ یونیورسٹی سے تعلق کے بعد شبلی وسيع النظرہوگئے۔
——
منتخب کلام
——
فراز دار پہ بھی میں نے تیرے گیت گائے ہیں
بتا اے زندگی تو لے گی کب تک امتحاں میرا
——
تسخیر چمن پر نازاں ہیں تزئین چمن تو کر نہ سکے
تصنیف فسانہ کرتے ہیں کیوں آپ مجھے بہلانے کو
——
جمع کر لیجئے غیروں کو مگر خوبئ بزم
بس وہیں تک ہے کہ بازار نہ ہونے پائے
——
عجب کیا ہے جو نوخیزوں نے سب سے پہلے جانیں دیں
کہ یہ بچے ہیں ان کو جلد سو جانے کی عادت ہے
——
آپ جاتے تو ہیں اس بزم میں شبلیؔ لیکن
حال دل دیکھیے اظہار نہ ہونے پائے
——
آہ کو سوۓ اثر بھیجا تھا
واں سے کیا جانیۓ کیا لائی ہے
شبلیؔ زاد سے کہدے کوئی
مژدہ وصل صبا لاتی ہے
——
پوچھتے کیا ہو جو حال شب تنہائی تھا
رخصت صبر تھی یا ترک شکیبائی تھا
میں تھا یا دیدہ خوننابہ فشاں تھی شب ہجر
ان کو واں مشغلہ انجمن آرائی تھا
خون رو رو دیے بس،دو ہی قدم میں چھالے
یاں وہی حوصلہ بادیہ پیمائی تھا
دشمن جاں تھے ادھر ہجر میں درد و غم و رنج
اور ادھر ایک اکیلا تر شیدائی تھا
انگلیاں اٹھتی تھیں مژگاں کی اسی رخ پیہم
جس طرف بزم میں وہ کافر ترسائی تھا
کون اس راہ سے گزرا ہے کہ ہر نقش قدم
چشم عاشق کی طرح اس کا تماشائی تھا
ہم نے بھی حضرت شبلیؔ کی زیارت کی تھی
یوں تو ظاہر میں مقدس تھا یہ شیدائی تھا
——
تیس دن کے لیے ترکِ مے و ساقی کر لوں
واعظ سادہ کو روز دل میں تو راضی کر لوں
پھینک دینے کی کوئی خیر نہیں فضل و کماں
ورنہ حاسد تری خاطر سے میں یہ بھی کر لوں
اے نکیرین قیامت ہی پر رکھو پرسش
میں ذرا عمر گزشتہ کی تلافی کر لوں
کچھ تو ہو چارہ غم بات تو یک سو ہو جاۓ
تم خفا ہو تو اجل ہی کو راضی کر لوں
دل ہی ملتا نہیں سفلوں سے وگرنہ شبلیؔ
خوب گزرے فلک دوں سے جو یاری کر لوں
——
اک اور نفس پاک بھی ان سب کا تھا شریک
جو آب و گل کے شغل میں شاد کام تھا
کندھوں پہ اپنے لاد کے لاتا تھا سنگ و خشت
سینہ غبار خاک سے سب گرد فام تھا
سمجھے کچھ آپ کون تھا ان کا شریک حال
یہ خود وجود پاکِ رسولِ انام تھا
جو وجہ آفرینش افلاک و عرش ہے
جس کا جبرئیل بھی ادنٰی غلام تھا
صلو علٰی النبی و اصحابہ الکرام
اس نظم مختصر کا یہ مسلک انحتام تھا
——
وضع میں طرز مین اخلاق مین سیرت میں کہیں
نظر آتے نہیں کچھ ضرمت دیں کے آثار ہیں
آپ نے ہم کو سکھاۓ ہیں جو یورپ کے علوم
اس ضرورت سے نہیں قوم کو ہرگز انکار
بحث یہ ہے کہ وہ اس طرز سے بھی ممکن تھا
کہ نہ گھٹتا کبھی ناموس شریعت کا وقار
ہم نے پہلے بھی اغیار کے سیکھے تھے علوم
ہم نے پہلے بھی تو اس نشہ کا دیکھا ہے خمار
نام لیتے تھے ارسطو کا ادب سے ہر چند
تھے فلاطوں الٰہی کے بھی گو شکر گزار
جانتے تھے مگر اس بات کو بھی اہل نظر
کہ حریفوں کو نہیں انجمن خاص میں بار
یعنی یہ بادہ عرفاں کے نہیں ذوق شناس
بزم اسرار کے یہ لوگ نہیں بادہ گسار
آج ہر بات میں ہے شان تفریح پیدا
آج ہر رنگ میں یورپ کے نمایاں ہیں اشعار
ہیں شریعت کے مسائل بھی وہیں تک محدود
کہ جہاں تک انھیں معقول پتائیں اغیار
(مذہب یا سیاست)
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات