اردوئے معلیٰ

Search

آج ممتاز شاعر منشی احمد علی شوق قدوائی کا یوم وفات ہے۔

 منشی احمد علی شوق قدوائی(پیدائش: 1852ء – وفات: 27 اپریل 1925ء)
——
نام احمد علی
ولادت 1852ء قصبہ جگور مضافات لکھنؤ
تلمذ مظفر علی اسیر
بھوپال میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔
آخر عمر میں رام پور آ کر کتب خانہ سرکاری میں ملازم ہو گۓ۔
وفات 27 اپریل 1925ء گونڈہ
——
سوانح عمری
——
منشی شیخ احمد علی شوق قدوائی اپنے وطن قصبہ جگور ضلع لکھنؤ میں 1852ء میں پیدا ہوۓ۔ ان کے والد شیخ کاظم علی قدوائی مختلص بہ قیسؔ لکھنوی اودھ کے ایک عالی نسب اور ممتاز رئیس تھے۔ شوقؔ قدوائی کا بچپن مصیبت میں گزرا۔ اڑھائی سال کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔ موروثی جائداد کا اکثر حصہ غدر میں تلف ہو گیا۔ ابتدائی تعلیم ماں کی زیر سرپرستی وطن ہی میں شروع ہوئی۔مولوی عبدالحیؒ موہانی ایک صوفی منش بزرگ جن کا مشہور مزار اسی قصبہ میں ہے ان کے معلم تھے۔ ابھی دس گیارہ سال کی عمر تھی کہ ان کو شیخ امیر الزماں صدیقی جو ان کے بہنوئی تھے اور اوناؤ میں سرکاری عہدہ دار تھے اپنے ساتھ اناؤ لے گۓ اور جب رامپور میں ایک بڑے عہدہ پر سرفراز ہوۓ تو اپنے ساتھ رامپور میں رکھا اور نہایت شفقت سے فارسی اور عربی کی تعلیم شروع کرائی۔ اس کے بعد ان کے بہنوئی کا مستقل قیام سہسواں ضلو بدایوں میں ہوا تو شوقؔ کو بھی وہیں رہنا پڑا جہاں انھوں نے مولانا ریاض الحسن مرحوم سے علوم عربیہ حاصل کیۓ اور پھر بدایوں کے سکول میں انٹرنس کی جماعت تک انگریزی تعلیم حاص کی۔ ابھی شوقؔ کا سن اٹھارہ ہی سال کا تھا کچھ ایسے اتفاقات وطن میں پیش آۓ کہ ان کی والدہ محترمہ نے ان کو سلسلہ تعلیم ترک کرنے پر مجبور کیا اور بلا لیا۔ وطن کا آنا قیام لکھنؤ کے مترادف تھا۔ انکی مستقل سکونت اپنے پھوپھی زاد بھائی منشی امتیاز علی مرحوم سابق وزیر بھوپال کی مشہور کوٹھی میں سالہا سال رہی۔ اسی اثناء میں ان کو فکر معاش نے گھیرا اور کچھ عرصہ تک تحصیلداری پر فیض آباد میں رہے۔ مگر یہ مشغلہ مرضی کے مطابق نہ تھا مستعفی ہو کر لکھنؤ چلے آۓ اور اخبار ” آزاد” نکالا جو لکھنؤ کے ابتدائی اخبارات میں ممتاز حیثیت رکھتا تھا ۔ اس اخبار کے فائل جہاں کہیں ہیں قدر کے ساتھ رکھے جاتے ہیں۔ کیونکہ ان میں سیاست سے زیادہ ادبیات کا مواد محفوظ ہے ۔ چند سال کے بعد یہ مشغلہ بھی مجبوراً ترک کیا اور بھوپال میں سرکاری ملازمت قبول کی جہاں نظامت (کلکٹری) کے عہدہ تک ترقی کی اور پنشن لے لی پھر آخری عمر میں رامپور آ کر کتب خانہ میں ملازم ہوۓ۔یہاں مشغلہ طبیعت کے مطابق بالکل موافق تھا۔ یعنی ترتیب لغات کا کام سپرد تھا۔ جو تقریباً پندرہ سال تک نہایت انہماک اور محنت کے ساتھ انجام دیتے رہے۔ زیادہ تر وقت کتب خانہ میں کٹتا ۔
——
یہ بھی پڑھیں : شوق بہرائچی کا یومِ وفات
——
بالآخر ضعفِ پیری اور علالتوں کے سلسلوں نے مجبور کر کے یہ مشغلہ ترک کروایا اور مرحوم مستعفی ہو کر ضلع بارہ بنکی میں آ گۓ اور خانہ نشین ہو گۓ۔ دو برس بھی نہ گزرے تھے کہ مرض الموت ( استسقاء) شروع ہوا جب مرحوم زندگی سے بالکل مایوس ہو گۓ تو اپنی صاحبزادی ( اہلیہ خان بہادر شیخ رضی الدین احمد صاحب بیرسٹر) کے پاس گونڈہ چلے گۓ اور 27 اپریل 1925ء میں انتقال کیا اور وہیں مدفوں ہوۓ۔
——
شوقؔ کا زمانہ
——
شوق قدوائی نواحِ لکھنؤ میں پیدا ہوئے اور دستور کے مطابق لکھنوی کہلائے ۔ لکھنؤ کے ہی لوگوں اور خاندانوں میں ان کی تربیت ہوئی ۔
حضرتِ شوقؔ اوائلِ سن میں رامپور دیکھ چکے تھے اور اُسی زمانہ سے اسیرؔ کے معتقد ہو چکے تھے ۔ غرضیکہ انیس برس کے سن میں تعلیم ختم کرنے کے بعد جب اُن کا قیام لکھنؤ میں ہوا تو کچھ دنوں بعد اسیرؔ کے شاگرد ہو گئے ۔
جب ہی سے گویا بالاعلان شاعری کے روایتی میدان میں آئے ۔
شوق قدوائی ہمیشہ یہ کہتے رہے کہ میں نے اسیرؔ کے سوا کسی کو اپنا استاد نہیں بنایا نہ اصلاح کی نیت سے کسی اور کو کلام دکھایا ۔
یہ ضرور ہے کہ امیرؔ کی صحبت کا پایہ بہت بلند تھا ۔ ہر جگہ کے شعراء وہاں موجود ہوتے تھے اور ان کی محفلوں سے شوقؔ نے بہت کچھ سیکھا اور بہت فائدہ اٹھایا ۔
——
استادِ شوقؔ
——
شوق قدوائی کو اپنی جفا کشی ، حوصلہ مندی ، ذہانت اور قابلیت کی داد سب سے پہلے اُستاد اسیرؔ کے گھر سے ملتی تھی ۔ اُستاد کی اصلاح فقط مصرعوں کی درستی تک محدود نہ تھی ۔ ایک ایک لفظ کی تحقیق کے لیے تصانیف کے ورق الٹوائے جاتے تھے ۔ محاوروں کی تلاش میں ساکنانِ محلاتِ لکھنؤ سے استفادہ کیا جاتا تھا ۔
امراء کی ڈیوڑھیوں پر اوقات مقرر تھے کہ طالبانِ فن آئیں اور الفاظ کی چھان بین کریں ۔
ایک ایک مصرع کی خوبی اور خرابی پر مباحثے ہوا کرتے تھے ۔
حضرتِ شوق مدتوں حضرتِ قلقؔ کی صحبت میں رہے ۔ قلقؔ سے بڑھ کر محلات کی زبان کہنے والا لکھنؤ میں نہیں گزرا ۔
انہوں نے شوقؔ کو شوق دلایا کہ وہ محلات کی زبان سیکھیں ۔
اسیرؔ کی وفات کے بعد شوقؔ نے زیادہ تر وقت نواب مہدی علی خان کی صحبت اختیار کی جو زبان کے بڑے سرپرست تھے ۔
ان کے ہاں محققین کا اجتماع رہتا تھا ۔ محاورات ، ضرب الامثال اور صحت الفاظ کی بابت مختصر مباحثے اور فیصلے قلمبند کر کے شائع کر دئیے جاتے تھے ۔ زیادہ تر اخبار ” آزاد ” میں ان کے حوالہ جات ملیں گے ۔
——
شاعری
——
افسوس کہ شوق قدوائی کے ابتدائی زمانۂ شاعری کا کلام مدت ہوئی تلف ہو گیا ۔ اُس حصۂ کلام کا کوئی بھی جزو باقی نہیں جو ان کے استاد کی اصلاح سے مشرف ہوا تھا ۔ ان کے ابتدائی زمانہ کی یادگار غالباََ یہی مثنوی ترانۂ شوق باقی ہے ۔ یہ گویا انہوں نے اپنے زمانۂ شباب میں لکھنا شروع کر دی تھی جب وہ بمشکل بیس برس کے تھے ۔
اس مثنوی میں لطفِ زبان ، سلاست ، محاورات اور روزمرہ کا جو مذاق دکھایا گیا ہے وہ پرانے لکھنؤ کی پرانی صحبتوں میں بیٹھے بغیر کوئی پیدا نہیں کر سکتا ۔
ترانۂ شوق بالکل گلزارِ نسیم کے طرز پہ ہے ۔ بحرِ سخن اور سلسلۂ کلام بلکہ اختصار بھی نسیمؔ ہی کا سا ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : جلیل قدوائی کا یوم وفات
——
شوقؔ نے ایک مقام پر نہایت دیانتداری اور جرأت کے ساتھ بلکہ فخریہ یہ تسلیم کیا کہ میں نے اُس کو گلزارِ نسیم کے جواب کے طور پہ نہیں بلکہ اتباع کر کے نظم کیا ہے ۔ اور اس اتباع کی کوشش میں مجھے واقعی خون تھوکنا پڑا ۔ اس سےشوقؔ کی نیت صاف ظاہر ہے ۔
——
شیشے کی پری کو ساقیا لا
بھر بادۂ عیش سے پیالا
آئے پیمانہ ، آئے مینا
ناچے پیمانہ ، گائے مینا
——
ساقی ترے آگے ہاتھ پھیلا
چھینٹوں کی نہیں بدی ہے مے لا
بھر دے ، بھر دے ، پیالہ بھر دے
دل سرد ہے خوب گرم کر دے
——
جمنے پہ جنوں کا رنگ ہے آج
ساقی مری عقل دنگ ہے آج
وحشت جو کہیں زیادہ ہو جائے
زنجیر یہ موج بادہ ہو جائے
——
ان اشعار میں سادگی ، سلاست ، معاملہ دادا بندی ، مصنف کی مشتاقی اور باریک بینی کی داد دے رہی ہے ۔
شوق قدوائی نے اس قسم کی نظموں کے قصائد ، مسدس ، مخمس اور رباعیاں بکثرت لکھی ہیں ۔ جن میں ان کا ذوق غزل کی نسبت زیادہ بہتر ثابت ہوا ہے ۔ اور صاف اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا میلان مضامین کی طرف زیادہ تھا ۔ شوق قدوائی کی نظمیں اس کثرت سے شائع ہو چکی ہیں کہ ان کا گننا دشوار ہے ۔
مثلث ہماری شاعری میں کوئی نئی شے نہیں لیکن متروک ہے ۔ شوق نے کئی نظمیں اسی صنفِ سخن میں لکھ کر شاعری کی نیرنگی اور اپنی جدت پسندی کا عمدہ ثبوت دیا ہے ۔ چند مصرعے پیشِ خدمت ہیں :
——
نگاہ لوٹ ہے دریا کی اس روانی پر
کسی جبیں پہ شکن ہے کہ لہر پانی پر
بھنور میں گردشِ چشمِ حسیں نظر آئی
——
شعاعِ مہر سے پانی ہے آبِ زر گویا
ہے مچھلیوں کے رخوں پہ نقابِ زر گویا
فلک سے دھوپ جو آئی تو لیکے زر آئی
——
اسی طرح بہت سی نظمیں جو مختلف رسائل اور اخبارات وغیرہ میں شائع ہوئی ہیں کسی نہ کسی طرح کی ظاہری یا معنوی جدت ضرور رکھتی ہیں ۔
مثنوی اور دوسری نظموں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شوق قدوائی غزل کی نسبت اپنی مسلسل نظموں میں زیادہ کامیاب رہے ۔ حالانکہ ان کے زمانۂ شباب میں غزل کے علاوہ بجز مرثیہ کسی صنفِ سخن کو چنداں مقبولیت حاصل نہ تھی اور صرف روایتی شاعری کی قدر تھی ۔ مگر باوجود مذاق جدت پسندی کے انہوں نے روایتی شاعری اور غزلیں کہنا آخر وقت تک نہیں چھوڑا ۔ آخری زمانہ میں غزلیات سے ایک حد تک متنفر ہو گئے تھے لیکن اس مشق کا ترک کرنا وضع کے خلاف تھا ۔
——
میں اس کی آںکھ پر مائل ہوں دل کاکل پر مائل ہے
قضا کے سامنے میں ہوں ، بلا کے سامنے دل ہے
نباہ الفت کا ان دو نازکوں میں سخت مشکل ہے
ادھر نازک مزاجِ یار اُدھر نازک مرا دل ہے
سیہ بختی بھی رنگِ حسن لاتی ہے حسینوں میں
بڑھے تو سر پہ کاکل ہے ، گھٹے تو گال پہ تل ہے
——
یاد رہے کہ یہ اس زمانہ کا کلام ہے جب امیرؔ اور داغؔ کا طُوطی بول رہا تھا ۔ ان شاہی اساتذہ کے سامنے رنگ جمانا دشوار تھا ۔ جب تک شعر میں امیریتؔ اور داغیتؔ نہ ہوتی عوام کالانعام شعر کی داد ہی نہ دیتے تھے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : شوق بہرائچی کا یومِ پیدائش
——
مگر شوقؔ کے اشعار اس زمانہ میں بھی پھلے اور اس وقت بھی ایسی وجاہت رکھتے ہیں کہ ا س کی تصریح زبان نہیں بلکہ نظر اور بس نظر ہی کر سکتی ہے ۔
ضرورت صرف رواداری اور ایک خاص مذاق کا اندازہ رکھنے کی ہے۔
شوق قدوائی کی زندگی ایک سرگرم زندگی تھی جس کے کارنامے دنیائے ادب میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔
——
حوالہ : دیوانِ شوق ، فیضانِ شوق ، صفحہ نمبر 4 تا 30
از قلم مولوی محمد معین الدین انصاری لکھنؤ
——
منتخب کلام
——
بگاڑ میں بھی ادا سے لُبھائے جاتا ہے
وہ لڑ رہا ہے مگر مسکرائے جاتا ہے
——
یہ خلفشار حشر کا متلی سے کم نہیں
کھایا پیا تمام زمیں نے اُگل دیا
——
مرا حق مان کر بن تو مرا حاجت روا ہونا
کہ میں مانے ہوئے ہوں ، اے خدا تیرا خدا ہونا
——
نشے میں جا گرا جو مسجد میں سر کے بل
زاہد نے مجھ پہ سجدے کا الزام رکھ دیا
——
اے شوقؔ ابھی آیا ، یہ کہہ کے ہوا غائب
دل رکھ کے محبت سے اُس نےمجھے ٹالا ہے
——
پھر آںے کا یقیں اے شوقؔ کر لوں اُس کے جانے پر
تشفی دل کو یوں دے لوں میں گھبرانے سے پہلے ہی
——
شوقؔ جنوں میں حال نہ پوچھو میرے کھانے پینے کا
ڈھیلے کھا لوں ، غصہ پی لوں ، ان پر اب اوقات رہی
——
اذاں حرم میں ہوئی ہے خدا خدا کر کے
چلو وہ چیز پیئیں اب نماز ادا کر کے
——
اے شوقؔ ٹھکانے لگے مجھ رند کی مٹی
ساقی جو یہ کہہ دے کہ یہ ساغر کے لیے ہے
——
دم گھٹتا ہے گرمی سے اے شوقؔ جنوں سے کہہ
وہ گھر کو جو ڈھا دیتا تو خوب ہوا آتی
——
مرا حق مان کر بَن تو مرا حاجت روا ہونا
کہ میں مانے ہوۓ ہوں اے خدا تیرا خدا ہونا
تجھے سمجھے ہوۓ میں ہمیشہ سے ہمیشہ تک
نہ جانوں ابتدا ہونا نہ مانوں انتہا ہونا
ہے تیری ذات اے اللہ خود ہی مققخی تیری
نہیں ممکن ہے ایسا اور کا تیرے سوا ہونا
خرد کو عجز زیبا ہے ادب سے دم بخود ہو کر
کہ تیری معرفت تک غیر ممکن ہے رسا ہونا
خطا سے پیشتر میں ہوں خطا کا معترف یا رب
بشر ہوں اور نہیں ممکن بشر کا خطا ہونا
میں کیوں محروم رکھوں تیرے وصفِ عفو سے تجھکو
نہیں منظور یارب مجھ کو اپنا پارسا ہونا
الٰہی عفو کرنا شوقؔ پر جو قرض رہ جاۓ
ہیں اتنے حق ترے دشوار ہے جن کا ادا ہونا
——
بھاگے اچھی شکلوں والے عشق ہے گویا کام برا
اپنی حالت کیا میں بتاؤں بد اچھا بدنام برا
گیسو و رخ کو جب سے چاہا تب سے میرا رنگ یہ ہے
شام اچھا تو صبح برا اور صبح اچھا تو شام برا
قدر ہو کیا خاک اس کے گھر میں آندھی کے سی آم ہیں دل
عاشق ٹوٹے پڑتے ہیں ہر روز کا اذن عام برا
باندھ کے حلقے گھیریں گے اب میرے دل کی خیر نہیں
گھونگھر والے گیسو اس کے باندھ رہے ہیں لام برا
سر پہ عمامہ ہاتھ میں سبحہ شوقؔ نہ جا بت خانے کو
بت ہیں بڑے کافر رکھ دیں گے سر الزام برا
——
اُس کی ساری آبرو پر آج پانی پھر گیا
دل میں وہ مجھ کو برا سمجھا مگر سمجھا تو کچھ
ہوں رسا اتنا کہ میں نظروں سے تا خاطر گیا
کس قدر بیدل ہوا میں جا کے اُس بدخو کے پاس
اس طرح کھویا کہ گویا کچھ بغل سے گر گیا
رہ گیا حیرت کے مارے بن کے پتلی دم بخود
سامنے اُس شوخ کی آنکھوں کے جو ساحر گیا
یوں بلائیں گرد سَر ہیں ، بادل جیسے سر کے گرد
کیا بلاؤں میں ترے بالوں کا عاشق گِھر گیا
بدگمانی سے ہوا کیا کیا نہ سَر گرداں خیال
رات کو کس کس کے گھر بن کر مرا مخبر گیا
کل نکالا جا چکا اے شوقؔ اُس کی بزم سے
آج کیوں اپنا سا مُنھ لیکر وہاں تو پھر گیا
——
ابرو ہے کعبہ ، آج سے یہ نام رکھ دیا
ہم نے اُٹھا کے طاق پہ اسلام رکھ دیا
نشے میں جا گرا جو مسجد میں سر کے بل
زاہد نے مجھ پہ سجدے کا الزام رکھ دیا
جھچکا وہ خوف کھا کے تو میں نے تڑپ کے خود
برچھی کی نوک پر دلِ ناکام رکھ دیا
دلچسپ نام سن کے لگے مانگنے حسیں
کس نے ذرا سے خون کا دل نام رکھ دیا
اتنی تو اُس نے کی مری دلسوزیوں کی قدر
تربت پہ اک چراغ سرِ شام رکھ دیا
جُوڑا جو بندھ گیا تو نۓ دل کہاں پھنسیں
تو نے اُدھر لپیٹ کے کیوں دام رکھ دیا
آنکھ اس ادا سے اُس نے دکھائی کہ میں نے شوقؔ
چپکے سے اپنا مَے کا بھرا جام رکھ دیا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ