اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف کلاسیکل شاعر سراج اورنگ آبادی کا یومِ وفات ہے

سراج اورنگ آبادی(پیدائش: 11 مارچ 1712ء— وفات: 6 اپریل 1764ء)
——
سراج اورنگ آبادی دکنی شعرا میں ولی دکنی کے بعد اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ سراج کی کلیات میں غزلیں، قصیدے، رباعیات اور مثنوی شامل ہیں۔ لیکن وہ اپنی مثنوی’بوستانِ خیال’ اور اپنی غزلوں کی وجہ سے مشہور ہوئے تھے۔
نام سید سراج الدین اور تخلص سراج تھا۔ اورنگ آباد میں پیدائش ہوئی اور تمام عمر وہیں بسر کی۔ بارہ سال کی عمر میں اُن پر وحشت طاری ہوئی اور گھر بار چھوڑ کر نکل گئے۔ مدتِ مدید تک یہ کیفیت رہی۔ 1734ء میں سراج حضرت شاہ عبدالرحمن چشتی سے بیعت ہوئے۔ سراج درویش و باکمال صوفی تھے اور اِن کے مریدین کی تعداد ان گنت تھی
سراج نے سخن کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی۔اردو کا ایک ضخیم کلیات ، فارسی اساتذہ کے کلام کا انتخاب اور ایک مثنوی’’بوستان خیال‘‘ ان کی یادگار ہے۔ آپ ایک ہندوستانی صوفی شاعر تھے۔
سراج 1734ء میں بیس سال کی عمر میں حضرت شاہ عبد الرحمن چشتیؒ سے بیعت کیے تھے۔ اسی زمانے میں انہوں نے اردو میں شعر گوئی کا آغاز کیا تھا۔ سنہ 1740ء کے بعد انہوں نے اپنے مرشد کے حکم پر شاعری کو خیرباد کہا۔
سراج اورنگ آبادی کا انتقال 52 سال کی عمر میں بروز جمعہ 4 شوال 1177ھ مطابق 6 اپریل 1764ء کو اورنگ آباد میں ہوا۔
——
مرٹھواڑہ میں اردو غزل کے چراغ – سراج اورنگ آبادی از سراج آرزو
——
مراٹھواڑہ(مہاراشٹر ) کی ادبی زمین ہمیشہ سے ہی شعر و سخن کے لئے بڑی زرخیز رہی ہے۔اس کے لئے ہم ماضی میں ولی ، سراج ، سکندر علی وجد اور احسن یوسف زئی کی مثال دیکھیں یا پھر حال میں بشر نواز، شمس جالنوی اور عرفان پربھنوی کی مثال لے سکتے ہیں۔ولی اورنگ آبادی کی اگر بات کی جائے تو اردو شاعری میں اولیت کا تاج ولی کے ہی سر جاتاہے۔ولی سے قبل اردو غزل صرف ناز وادا ،حسن وجمال اور خارجی پہلوؤں تک محدود تھی۔ اس میں کوئی گہرے تجربے یااحساس نہیں ہوا کرتے تھے۔ولی نے اس میں زندگی کے تجربات ،تنوع اور داخلیت کو سمو کر غزل کے دائرے میں جیسے پوری کائنات کو سمیٹ لیا ہے۔
ہم اس مضمون میں مراٹھواڑہ کے ہی اک ایسے شاعر کی شخصیت اور فن کا جائزہ لیں گے۔جنہوں نے مراٹھواڑہ کے اردو ادب کی تاریخ میں اپنانام طلائی روشنائی سے لکھوایا ہے۔اور انہیں ہم سب سراج اورنگ آباد ی کے نام سے جانتے ہیں۔راقم الحروف کو سراج اورنگ آبادی کی شاعری میں تب سے ہی دلچسپی ہوئی جب وہ دسویں جماعت کا طالب علم ہوا کرتا تھااور دسویں جماعت کی درسی کتاب میں سراج اورنگ آبادی کی غزل شامل نصاب تھی۔یہی وجہ رہی کہ میں جب اور نگ آباد میں پڑھائی کے لئے تھا تب خاص طور پر ‘کالا دروازہ ‘سے متصل قبرستان میں موجود سراج اورنگ آبادی کی قبر کی بڑی اہتمام سے زیارت کی۔جن کی شاعری نصابی کتاب میں پڑھی ،اس عظیم شاعر کی قبر پر درود پڑھ کر دل کو بڑی تسکین ہوئی۔
——
یہ بھی پڑھیں : سراج الدین ظفر کا یوم وفات
——
دکنی شعراء میں ولی کے بعد اردو کے سب سے بڑے شاعر سراج اورنگ آبادی ہیں۔ڈاکٹر فخر الاسلام اعظمی اور ڈاکٹر محمد الیاس اعظمی اپنی کتاب ‘شعور و فن’میں لکھتے ہیں کہ سراج کا مزاج بچپن سے ہی حسن پرستی کی طرف مائل تھا۔عنفوان شباب ہی میں ان پر ایک طرح کی مجنونانہ کیفیت طاری ہوگئی تھی۔مجذوبیت کے عالم میں انہوں نے فارسی زبان میں بہت سے اشعار کہے۔جذب کی کیفیت ختم ہونے پر وہ شاعری ترک کرکے صوفی اور فقراء کے ساتھ رہنے لگے۔
سراج کے کلیات میں غزلیں، قصیدے،رباعیات اور مثنوی شامل ہیں۔یوں تو ان کا سارا کلام ہی شعریت سے بھرپور ہے، لیکن وہ اپنی مثنوی’بوستانِ خیال’اور اپنی غزلوں کی وجہ سے مشہور ہوئے۔بوستانِ خیال میں تقریباً 1160؍اشعار ہیں۔یہ مثنوی ایک طرح سے سراج کی آپ بیتی ہے ،جسے انہوں نے سیدھے سادے انداز میں پیش کیا ہے۔سراج عیسوی سنہ 1734ء میں بیس سال کی عمر میں حضرت شاہ عبدالرحمن چشتیؒ سے بیعت ہوئے۔اسی زمانے میں انہوں نے اردو میں شعر گوئی کا آغاز کیا۔اور عیسوی سنہ 1740ء کے بعد انہوں نے اپنے مرشد کے حکم پر شاعری ترک کردی۔سراج کا شعری سرمایہ ان پانچ چھ سال ہی کا نتیجۂ فکر ہے۔
معروف محقق جمیل جالبی کے مطابق ‘بوستان خیال’ یہ مثنوی اپنے روانی ، سادگی اور شدید عشقیہ کیفیات کے بے باکانہ اظہارکی وجہ سے پُراثر ہے۔اورریختہ کی مثنویوں کی ابتدائی روایات میں ایک اہم کڑی کا درجہ رکھتی ہے۔
سراج کی شاعری میں روحانی کیفیات اپنے پورے حسن و جمال کے ساتھ نمایاں ہیں۔ ان کے کلام میں تصوف کا فلسفہ بھی ہے ، اخلاق وحکمت کی باتیں بھی اور دنیا کی ناپائیداری کا ذکر بھی۔مثلاً
——
شرابِ معرفت پی کر جو کوئی مجذو ب ہوتا ہے
در و دیوار اس کوں مظہرِ محبوب ہوتا ہے
——
سراج کے کلام کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اپنے محبوب کے لئے پری ، من ہرن، گل بدن،جانِ سراج اور من موہن جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ذیل کے اشعار میں ہم مذکورہ تشبیہات کا مشاہدہ کرسکتے ہیں:
——
اس گلبدن نشترِ مژگاں کوں دیکھ کر
آیا ہے جوش خوں سے رگِ کوں پیچ و تاب
——
میں کہا رحم پتنگوں پہ کراے جانِ سراج
تب کہا شمعِ شب تار ہوں کن کا ان کا
——
کہاں ہے گلبدن موہن پیارا
کہ جوں بلبل ہے نالاں دل ہمارا
——
یہ بھی پڑھیں : سراج الدین خان آرزو
——
سراج کی شاعری سے داخلیت صاف طورپر جھانکتی ہے۔ذیل کے اشعار سے یہ بات محسوس کی جاسکتی ہے:
——
تجھے کہتا ہوں اے دل عشق کا اظہار مت کیجو
خموشی کے مکاں بات اور گفتار مت کیجو
——
پُتلی ہماری نین کے جھروکے میں بیٹھ کر
بیکل ہو جھانکتی ہے پیارا کب آئے گا
——
سراج کی شاعری کا ایک اہم موضوع تصوف ہے۔ ملاحظہ ہو :
——
ہمیشہ دورِ الم مختلف ہے
کہ گردش میں ہیں ہر دم نیلگوں
——
م فقیروں پہ ستم جیتے رہو
خوب کرتے ہو بجا کرتے ہو
——
روشن ہے اے سراج کہ فانی ہے سب جہاں
مظرب ہے جام غلط انجمن غلط
——
منتخب کلام
——
تڑپنا ، تلملانا ، غم میں جلنا ، خاک ہو جانا
یہی ہے افتخار اپنا ، یہی ہے اعتبار اپنا
——
دامن تلک بھی ہائے مجھے دسترس نہیں
کیا خاک میں ملی ہیں میری جانفشانیاں
——
جس پھول نے ترے سیں کیا دعویٔ جمال
وہ پائمال آفت باد خزاں ہوا
——
محراب بیچ سجدۂ ریائی ہے دوستو
ان ابروؤں کوں دیکھ کے قامت کوں خم کرو
——
ہم فقیروں پر ستم ، جیتے رہو
خوب کرتے ہو ، بجا کرتے ہو تم
——
یار کوں بے حجاب دیکھا ہوں
میں سمجھتا ہوں خواب دیکھا ہوں
یہ عجب ہے کہ دن کوں تاریکی
رات کوں آفتاب دیکھا ہوں
——
دو رنگی خوب نہیں ، یک رنگ ہو جا
سراپا موم ہو یا سنگ ہو جا
——
کام جاہل کا ہے سخن چینی
اے سراجؔ اس کوں توں جواب نہ دے
——
آبِ رواں ہے حاصل عمر شتاب رو
دہرِ فنا میں نقش نہیں ہے ثبات کا
——
اے زاہدو تمہیں فردوس کی تمنا ہے
ہمیں تو آگ میں گلزار کا تماشا ہے
——
نظر کر دیکھ ، ہر شئے مظہرِ نورِ الہیٰ ہے
سراجؔ اب دیدۂ وا سیں صمد دیکھا ، صنم بُھولا
——
ہر گز نہیں اس کوں حقیقت کی چاشنی
جس نے مزہ چکھا نہیں عشقِ مجاز کا
——
روشن ہے سبب عشق کے کیفیتِ عالم
آئینۂ دل ساغر جمشید ہوا ہے
——
کہتے ہیں تری زلف کوں دیکھ اہلِ شریعت
قربان ہے اس کفر پر ایمان ہمارا
——
کب نظر آوے گا یارب وہ مرا آرام جاں
دوست بیگانے ہوئے جس دلربا کے واسطے
——
رنگیں بہار جنت ہے ، دوزخ ہے مجھ کوں اُس بن
دوزخ ہے اس کے ہوتے دار السلام گویا
——
بو الہوس کا کام نہیں ہے عشق کا دعویٰ سراجؔ
عشق کی لذت اسے ہے جس نے عالم کوں تجا
——
انتخاب اشعار از سراج اور ان کی شاعری ، مصنف عبد القادر سروری
——
خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی
شہ بے خودی نے عطا کیا مجھے اب لباس برہنگی
نہ خرد کی بخیہ گری رہی نہ جنوں کی پردہ دری رہی
چلی سمت غیب سیں کیا ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا
مگر ایک شاخ نہال غم جسے دل کہو سو ہری رہی
نظر تغافل یار کا گلہ کس زباں سیں بیاں کروں
کہ شراب صد قدح آرزو خم دل میں تھی سو بھری رہی
وہ عجب گھڑی تھی میں جس گھڑی لیا درس نسخۂ عشق کا
کہ کتاب عقل کی طاق پر جوں دھری تھی تیوں ہی دھری رہی
ترے جوش حیرت حسن کا اثر اس قدر سیں یہاں ہوا
کہ نہ آئینے میں رہی جلا نہ پری کوں جلوہ گری رہی
کیا خاک آتش عشق نے دل بے نوائے سراجؔ کوں
نہ خطر رہا نہ حذر رہا مگر ایک بے خطری رہی
——
خوب بوجھا ہوں میں اس یار کوں کوئی کیا جانے
اس طرح کے بت عیار کوں کوئی کیا جانے
لے گئیں ہات سیں دل اس کی جھکی ہوئی آنکھیں
حیلۂ مردم بیمار کوں کوئی کیا جانے
میں نہ بوجھا تھا تری زلف گرہ دار کے پیچ
سچ کہ کیفیت مکار کوں کوئی کیا جانے
شرح بے تابیٔ دل نیں ہے قلم کی طاقت
تپش شوق کے طومار کوں کوئی کیا جانے
شربت خون جگر کا مزہ عاشق پاوے
لذت عشق جگر خار کوں کوئی کیا جانے
مشرب عشق میں ہیں شیخ و برہمن یکساں
رشتۂ سبحہ و زنار کوں کوئی کیا جانے
نمک زخم ہوا مرہم جالینوسی
خلش سینۂ افگار کوں کوئی کیا جانے
طوق و زنجیر نہیں جس پہ کسے رحم آوے
دام الفت کے گرفتار کوں کوئی کیا جانے
جب تلک تلخیٔ شورابہ غم چاکھا نیں
تب تلک لذت دیدار کوں کوئی کیا جانے
قدر اوس نافۂ تاتار کی مجھ سیں پوچھو
یار کی زلف کی مہکار کوں کوئی کیا جانے
میں کہا زخمیٔ غم ہوں تو دیا اس نے جواب
اے سراجؔ ایسے چھپے وار کوں کوئی کیا جانے
——
غم نے باندھا ہے مرے جی پہ کھلا ہائے کھلا
پھر نئے سر سیتی آئی ہے بلا ہائے بلا
اے گل گلشن جاں کر مجھے یک بار نہال
خار حسرت کا کلیجے میں سلا ہائے سلا
دیکھ سکتا نہیں میں گل کوں ہر یک خار کے ساتھ
اپنے ہمراہ رقیبوں کوں نہ لا ہائے نہ لا
ذبح کرنے میں مرے رحم نہ لایا اس نے
بلکہ اتنا بھی کہا نیں کہ گلا ہائے گلا
جس نے کھایا ہے تیرے ابروئے خوں ریز کا زخم
مرغ بسمل سا لہو بیچ رلا ہائے رلا
جان جاناں کوں مرے پاس شتابی لاؤ
نیں تو یک پل میں مرا جان چلا ہائے چلا
بے طرح اب تو برہ آگ دہکتی ہے سراجؔ
دل مرا کیوں نہ پکارے کہ جلا ہائے جلا
——
تجھے کہتا ہوں اے دل عشق کا اظہار مت کیجو
خموشی کے مکاں میں بات اور گفتار مت کیجو
محبت میں دل و جاں ہوش و طاقت سب اکارت ہے
کہو کوئی عقل کوں جا کر بڑا بستار مت کیجو
عوض نقد دعا کے مفت ہے دشنام اس لب سیں
ارے دل عشق کے سودے میں پھر تکرار مت کیجو
اسے اونچا ہے ظالم دام نے تجھ مہربانی کے
ہمارے صید دل اوپر ستم کا وار مت کیجو
اگر خواہش ہے تجھ کوں اے سراجؔ آزاد ہونے کی
کمند عقل کوں ہرگز گلے کا ہار مت کیجو
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ