اردوئے معلیٰ

Search

سخن کے شہرِ حبس میں ہَوا کا باب کھُل گیا

گدائے حرف کے لئے ثنا کا باب کھُل گیا

 

تکلفاً بھی اب کسی صدا کی آرزو نہیں

دُعا کے آس پاس ہی عطا کا باب کھُل گیا

 

غضب کا کرب تھا رواں، بڑا عمیق زخم تھا

تری گلی کی خاک لی، شفا کا باب کھُل گیا

 

وہاں پہ تھے تو جیسے لفظ ساتھ ہی نہ آئے تھے

مدینے سے چلے تو پھر صدا کا باب کھُل گیا

 

کھڑے تھے قُدسیوں کے ساتھ دم بخود کہ یک بہ یک

لبوں پہ ایک دید التجا کا باب کھُل گیا

 

یہ سر پہ جو تنی ہُوئی ہے اِک ردائے نیلگوں

وہ نُور جب چلا تو پھر سما کا باب کھُل گیا

 

سخی نے یوں سخاوتوں کے ضابطے بدل دئیے

نوازنے کو شہ نہیں گدا کا باب کھُل گیا

 

بسیطِ حرف پر ہُوا ثنائے مہر کا طلوع

مری شبِ حیات میں، ضیا کا باب کھُل گیا

 

جہانِ شوق کو ملے نئے نظر کے زاویے

وہ حُسن آ گیا تو ہر ادا کا باب کھُل گیا

 

عجیب تھا ورود فاتحِ زمن کا شہر میں

قدم لگے تو خانۂ خُدا کا باب کھُل گیا

 

سجا دیئے گئے سروں پہ تاج مہر و ماہ کے

کچھ اِس طرح سے فیضِ نقشِ پا کا باب کھُل گیا

 

ادب نے آرزوئے دل کے جب سخن بُجھا دئیے

تو خامشی میں ہی مری نوا کا باب کھُل گیا

 

صبا نے ایسی تیز رو میں دی خبر بُلاوے کی

لبوں پہ دیر سے رُکی دُعا کا باب کھُل گیا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ