اردوئے معلیٰ

سید مجتبیٰ حسین کا یوم وفات

آج معروف دانشور، تنقید نگار اور شاعر پروفیسر سید مجتبیٰ حسین کا یوم وفات ہے

 

پروفیسر سید مجتبیٰ حسین(پیدائش:یکم جولائی، 1922ء – وفات: یکم اپریل، 1989ء)
——
سید مجتبیٰ حسین یکم جولائی 1922ء میں موضع سنجر پور، ضلع جونپور، برطانوی ہند میں ایک علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔
دادا کا نام عبد اللہ تھا۔ صدر قانون گو اور بے مثل خطاط تھے۔
والد کا نام سید باقر حسین تھا اور وہ ڈپٹی کلکٹر تھے۔ اور الہ آباد یونیورسٹی کے پہلے گریجویٹ تھے۔ شعرو سخن کا بھی ذوق رکھتے تھے۔
سید مجتبیٰ حسین کی والدہ قمر النسا بیگم شعر و سخن کا نہایت عمدہ ذوق رکھتی تھیں۔
سید مجتبیٰ حسین کا ایک بڑا بھائی مصطفیٰ حسین اور ایک بہن سیدہ شمیم آرا تھے۔
مجتبی حسین نے ابتدائی تعلیم گاؤں سے حاصل کی۔ والدین کی طرف سے ادبی ذوق ورثے میں ملا لہذا نو برس کی عمر میں گلستانِ سعدی بھی پڑھ لی تھی۔ ابتدائی دو جماعتوں کے بعد کی تعلیم انہوں نے جونپور اور جھانسی سے حاصل کی۔ جونپور کے مشن ہائ اسکول سے کلاس سوم سے ہشتم تک پڑھا اور اسکول کی بقیہ تعلیم اپنے بڑے بھائی مصطفی حسین کے پاس ” جھانسی” میں آ کر حاصل کی اور 1935ء میں میٹرک کیا۔
سید مجتبی حسین کے والد کو انگریزی، عربی اور فارسی پر عبور حاصل تھا لہذا سید مجتبیٰ حسین کو بچپن سے ہی انگریزی ادب کا شائق بنایا اور اردو ادب کی بھی تمام مشہور اور اہم کتب اسکول کے زمانے میں ہی پڑھوا دیں۔ ان بیش قیمت کتب کا مطالعہ مجتبی حسین کی شخصیت کو صحیح معنوں میں ادب آشنا بنانے میں بہت معاون ثابت ہوا۔ کالج ٹیوٹوریل میں فراق گورکھپوری جیسے استاد ملے۔ ان کے فارسی کے استاد ڈاکٹر زبیر اور فلسفے کے استاد ڈاکٹر مکر جی تھے ۔ 1943ء میں گریجویشن پاس کی اور الہ آباد یونیورسٹی سے 1945 میں اول درجے میں ایم اے (اردو) کیا ۔
——
کیرئیر کا آغاز
——
ایم اے کرنے کے بعد پروفیسر مسید مجتبیٰ حسین نے فراق گورکھپوری کے ساتھ ” سنگم پبلشنگ ہاؤس ” الہ آباد میں قائم کیا۔ اس مکتبہ کو قائم کرنے اور چلانے کے لیے تمام روپیہ مجتبی حسین نے ہی لگایا۔ اور نہ صرف فراق صاحب بلکہ دیگر بہت سے نامور ادیبوں کی کتب اسی مکتبہ سے شائع ہوئیں ۔1945 میں ہی سنگم پبلشنگ ہاؤس کو اپنے دوست رئیس احمد رزاقی کے حوالے کیا اور بمبئ آ گئے جہاں دو سال تک قیام کیا۔ یہاں کچھ عرصہ انجمن اسلام ہائی اسکول میں بطور مدرس خدمات انجام دیں ۔ اس کے بعد فلمی دنیا سے وابستگی اختیار کی اور فلم اسکرپٹ پر طبع آزمائی کرتے رہے۔ 1947 میں گاؤں واپس لوٹ آئے۔ اور آبائ جاگیر کا نظم و نسق سنبھالا ۔
1948 کے آخر میں سید مجتبیٰ حسین مستقل طور پر پاکستان آ گئے۔ اور نارتھ ناظم آباد کراچی میں رہائش پزیر ہوئے ۔کراچی کے کالجز میں نوکری نہ ملنے کے باعث پہلے کچھ مدت اسکولوں میں پڑھایا پھر چینی سفارت خانے کے مترجم اور پھر خبرنامے کے مدیر ہوئے۔ یہاں تقریباََ دس برس تک کام کرتے رہے۔ اس کے بعد محکمہِ تعلیم سے وابستہ ہوئے۔ 1965 سے 1972 کے دوران پہلے نیشنل کالج کراچی میں صدر شعبہِ اردو کی حیثیت سے کام کیا۔ اس کے چار برس بعد سراج الدولہ کالج کی بنیاد رکھی اور اس میں بطور صدر شعبہ اردو اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اور بعد میں اسی کالج کے پرنسپل ہو گئے۔ 1973 سے جامعہ بلوچستان میں شعبہِ اردو ان کی کوششوں اور کاوشوں سے وجود میں آیا ۔
1975 میں استاد شعبہ اردو کی حیثیت سے بلوچستان یونیورسٹی میں تقرر ہوا اور بعد میں صدر شعبہ اردو، بلوچستان یونیورسٹی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔اور تادمِ مرگ اس یونیورسٹی سے وابستگی رہی ۔
——
تخلیقی سفر
——
سید مجتبیٰ حسین نے ادبی تخلیقات کی ابتدا افسانہ نگاری سے کی۔ پہلا افسانہ ” سوچ ” 1943 میں رسالہ ” نگار ” لکھنؤ سے شائع ہوا۔ اس کے بعد ” نگار ‘ ” ادبی دنیا ” اور ” ساقی میں باقاعدگی سے لکھتے رہے۔ جب تنقید نگاری کی طرف آئے تو پہلا تنقیدی مضمون ” جریدہ اردو شاعری ” 1944 میں رسالہ نگار لکھنؤ میں چھپا۔ اس کے بعد تنقیدی مضامین کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ ڈراما نگاری سے بھی دلچسپی رہی۔ قیامِ پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے۔ اور ان گنت فیچر اور ڈرامے ریڈیو پاکستان سے نشر کر کے مقبولیت پائ ۔
——
شعر و سخن
——
پروفیسر سید مجتبیٰ حسین کو شاعری کا بھی شغف رہا۔ انکا کلام مختلف رسالوں میں شائع ہوا۔ البتہ ان کا مجموعہِ کلام زیرِ ترتیب ہے ۔
——
تخلیقات
——
مطبوعہ
انتظارِ سحر (ایک ڈراما اور افسانوں کا مجموعہ )1951
انکار، اہرمن، بن بلایا مہمان۔ ۔۔ ( ڈرامے )
تہذیب و تحریر (تنقید ) 1959
ادب و آگہی ( تنقید ) 1963
نیم رخ ( تنقید) پہلا ایڈیشن 1978
دوسرا ایڈیشن 1986
آغا شاعر قزلباش۔ حیات و شاعری ( تالیف )
زیرِ ترتیب
اردو مرثیہ عہد بہ عہد
تنقیدی مضامین
شعری مجموعہ
چند ایک ڈرامے پی، ٹی، وی سے بھی ٹیلی کاسٹ کیے جا چکے ہیں۔ اہرمن، بن بلایا مہمان، انکار وغیرہ نیز پروفیسر مجتبی حسین ماہنامہ شعور کراچی کے شریک مدیر بھی رہے
تنقیدی کلیات
پاکستان اسٹڈی سنٹر، کراچی یونیورسٹی، پروفیسر مجتبی حسین کے حوالے سے بہت جلد ایک ہزار صفحات سے زائد ایک جامع کتاب شائع کروا رہی ہے۔ اس کتاب کا عنوان پروفیسر مجتبی حسین تنقیدی کلیات ہے۔ اور اس کتاب کی تحقیق و ترتیب و تدوین ڈاکٹر ہلال نقوی نے انجام دی ہے ۔
——
اعزازات
——
یو ۔ این ۔ او ایوارڈ برائے بچوں کا ادب۔
——
وفات
——
یکم اپریل 1989ء کو وہ لاہور میں ایک کنوینشن میں شرکت کے بعد کراچی واپس آ ئے توراستے میں ایک ٹریفک حادثہ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ انکی تدفین کراچی میں ہوئی۔ پسماندگان میں بیوہ نرگس خاتون اور چار بیٹے انیس باقر، اقبال باقر، عباس باقر اور غالب باقر چھوڑے ۔
——
تنقید و آرا
——
کراچی یونیورسٹی کے استاد اور نامور شاعرڈاکٹر ہلال نقوی نے پروفیسر مجتبی حسین کے شاگرد ہونے کی حیثیت سے ان کو خراج پیش کرتے ہوئے کہا ہے ۔
” میں نے سراج الدولہ کالج کراچی میں 1975 میں سالِ اول سے لے کر اپنے پی ایچ ڈی کی تکمیل تک بحیثیت استاد ان سے رہنمائی پائ۔وہ نقاد بھی تھے،افسانہ نگار اور شاعر بھی ، تاہم تنقید میں انہوں نے بہت سے سنگِ میل قائم کیئے ۔اور انیس و دبیر ، فیض، جوش، قراہ العین کا ناول الغرض سلام نگاری اور قصیدہ گوئی کے ہنر پر بھی مفصل بات کرتے ہیں۔ گویا جملہ اصنافِ شعر و نثرپر عمدہ لکھنے کا ہنر پروفیسر مجتبی حسین کا وصف ہے ۔وہ ایک سماجی اور خاص نظریئے کے مالک تھے ۔ انکا ذہن ترقی پسند تھا لیکن وہ ازحد معتدل بھی تھے۔ وہ صرف میرے استاد ہی نہیں تھے بلکہ ایک شفیق دوست کی طرح سے تھے۔“
ریڈیو پاکستان، کوئٹہ کے سابق اسٹیشن ڈائریکٹر جناب عابد رضوی نے پروفیسر مجتبی حسین کی حیات میں انکی ڈراما نگاری سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا ۔
——
یہ بھی پڑھیں :
——
” مجتبی حسین صاحب گزشتہ چالیس برسوں سے ریڈیو پاکستان سے پروگرام نشر کر رہے ہیں ۔بلا شبہ انکی ذاتِ گرامی اس ادارے کے لیے سرمایہِ افتخار ہے۔پروفیسر مجتبی حسین صاحب کی شخصیت کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ انکی تحریروں میں حیران کن حد تک ہم آہنگی پائ جاتی ہے ۔وہ جو سوچتے ہیں وہی لکھتے ہیں اورجو کہتے ہیں وہی لکھتے ہیں ۔ وہ قلم کی طہارت اور فکر کی صداقت کے ہر پیمانے پر اترتے ہیں
——
تکیہ کلام سے اقتباس
——
’تکیہ کلام‘ سے یہاں ہماری مراد وہ تکیہ کلام نہیں ہے جوبات چیت کے دوران میں بار بار مداخلت جاوبےجا کرتا ہے بلکہ یہاں تکیہ کلام سے مراد وہ کلام ہے جو تکیوں پر زیورِ طبع سے آراستہ ہوتا ہے اور جس پر آپ اپنا سررکھ کر سو جاتے ہیں اور جو آپ کی نیدیں ’حلال‘ کرتا ہے۔ پرسوں کی بات ہے کہ ہم نے ایک محفل میں غالب کا شعر پڑھا،
——
نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں
تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں ہوگئیں
——
اس شعرکوسن کرایک صاحب پہلےتو چونکے، پھر گہری سوچ میں غرق ہوگئے اور اپنا سر کھجاتے ہوئے بولے، ’’اگر میرا حافظہ خراب نہ ہو تو یہ شعر میں نے ضرور کہیں پڑھا ہے۔‘‘ ہم نے ان کی یاد داشت کا امتحان لینے کی خاطر پوچھا، ’’تب تو سوچ کر بتائیے کہ آپ نے یہ شعر کہاں پڑھا تھا؟‘‘ وہ کچھ دیر سوچ کر بولے، ’’بھئی! لو یاد آیا۔ یہ شعر ہم نے رحمٰن خاں ٹھیکیدار کے تکیہ کے غلاف پر پڑھا تھا۔ بھلا تمہیں یہ شعر کس طرح یاد ہوگیا؟ کیا تمہیں بھی اس تکیہ پر سونے کا اتفاق ہوا تھا؟‘‘
ہم نے کہا، ’’آپ کیسی باتیں کرتے ہیں یہ شعر تو دیوانِ غالب میں موجود ہے۔ رحمٰن خاں ٹھیکیدار سے ہمارا کیا تعلق ؟‘‘ اس پر وہ بولے، ’’بھئی! دیوانِ غالب سے ہمارا کیا تعلق۔ ہم تو شعر و شاعری صرف تکیوں کے غلافوں پر پڑھ لیتے ہیں۔ جو شاعری آپ کو تکیوں کے غلافوں پرپڑھنے کو مل جاتی ہے تو اس کے لئے شعراء کے دیوانوں کو الٹنے پلٹنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
ان صاحب کے جواب کو سن کر ہمیں پہلی بار احساس ہوا کہ جس زبان میں شعر و شاعری کی بہتات ہوتی ہے اس کا یہی حشر ہوتا ہے۔ شاعری کا ’پیمانۂ صبر‘ جب لبریز ہوجاتا ہے تو اشعار اچھل کر تکیوں پر گر جاتے ہیں، چادروں پر بکھر جاتے ہیں، لاریوں کی پیشانیوں پر چپک جاتے ہیں، رکشاؤں کی پیٹھ پر بیٹھ جاتے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ دسترخوانوں تک کی زینت بن جاتے ہیں۔
کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ ہم دسترخوان پرکھانا کھانے بیٹھے ہیں کہ اچانک دسترخوان پر چنے ہوئے کسی شعر نے ہمیں چونکا دیا۔ اورہم کھانا کھانے کے بجائے سردھنتے رہ گئے۔ بعض سخن فہم حضرات تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو دسترخوان پر فارسی میں اشعار لکھواتے ہیں، جیسے،
——
شکر بجا آر کہ مہمانِ تو
روزیٔ خود می خورد از خوانِ تو
——
نتیجہ ان فارسی اشعار کی اشاعت کا یہ ہوتا ہے کہ مہمان کھانا کم کھاتے ہیں اور شعر کے معنی و مفہوم کو سمجھنے کی کوشش زیادہ کرتے ہیں۔ اور جب وہ معنی و مفہوم کے چکر سے آزاد ہوتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ میزبان نے سارا کھانا خود ہی کھا لیا ہے۔
دستر خوان کے اشعارکی بات چھوڑیئے کیونکہ اب ہم دسترخوان پرچنی جانےوالی اشیائےخوردونوش میں مختلف ملاوٹوں کےعلاوہ اشعار کی ملاوٹ کے بھی عادی ہوگئے ہیں لیکن یہاں بات تکیوں اوران کے کلام کی چل رہی ہے۔ ہم نے ایسے معرکتہ الآرا شعر تکیوں پر دیکھے ہیں کہ اگر کوئی ان تکیوں پر سوجائے تو پھر زندگی بھر ان تکیوں پر سے اٹھنے کا نام نہ لے۔
ہمیں ایک بار سفر پر جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک شناسا کے ہاں مہمان ٹھہرے، چونکہ ہم حسبِ روایت بستر اپنے ساتھ نہیں لے گئے تھے اس لئے میزبان نے ہمارے بستر کا انتظام کیا۔ اب جو ہم بستر پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ تکیہ پر نہایت جلی حروف میں یہ شعر لکھا ہوا ہے،
——
کسی کے حسن کا جادو بسا ہے تکیہ میں
جہانِ عارض و گیسو بسا ہے تکیہ میں
——
اب آپ سے کیا بتائیں کہ ہمارے حق میں یہ بستر، بسترِ مرگ ثابت ہوا۔ رات بھر کروٹیں بدلتے رہے، اختر شماری تک کرتے رہے۔ ہر بار یہی سوچتے رہے کہ آخر تکیہ میں کس کے حسن کا جادو بسا ہے، آخر وہ کون مہ جبین ہے جس کا جہانِ عارض و گیسو اس تکیہ میں پنہاں ہے۔ بار بار تکیہ کو الٹ کر دیکھا۔ اس تکیہ نے ہم میں وہ سارے آثار پیدا کردیئے جو آغاز ِعشق کے لئے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ وفورِ عشق نے اتنا سر اٹھایا کہ ہم بار بار تکیہ پر اپنا سر پٹختے رہے۔ بالآخر ہم نے فیصلہ کیا کہ صبح ہوگی تو ہم اس نازنین کو ضروردیکھیں گے جس کے حسن کا جادو اس تکیہ کے توسط سے ہمارے سر چڑھ کر بولنے لگا تھا۔
صبح ہوئی تو ہم نے چوری چھپے اس نازنین کو دیکھ ہی لیا۔ اس نازنین کے ڈیل ڈول اوروضع قطع کو دیکھنے کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ محترمہ کو یہ شعر تکیہ پر نہیں بلکہ گاؤ تکیہ پر لکھنا چاہئے تھا کیونکہ ان کے حسن کا ’سمبل‘ صرف گاؤ تکیہ ہی ہوسکتا تھا۔
اس واقعہ کے بعد تکیہ کے اشعار پر سے نہ صرف ہمارا ایقان اٹھ گیا بلکہ جب بھی کوئی منظوم تکیہ ہمارے سر کے نیچے آیا تو ہم نے چپکے سے اس کا غلاف اتار لیا کہ کون اپنی نیند حرام کرے۔ آپ نے تکیوں کے وہ اشعار ضرور پڑھے ہوں گے جن پر سوکرآپ نہایت ڈراو نے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر چند اشعار ملاحظہ ہوں،
——
کونین تک سمیٹ لئے ہیں غلاف میں
ٹکڑے جگر کے ٹانک دیئے ہیں غلاف میں
——
خواب ہائے دل نشیں کا اِک جہاں آباد ہو
تکیہ جنت بھی اٹھا لائے اگر ارشاد ہو
——
چمن در چمن ہے غلاف آئیے تو
ذرا اس پہ آرام فرمائیے تو
——
غنچہ ہائے دل کھلے، سر رکھ کر گستاخی معاف
گلشنِ امید کے سب پھول چن لایا غلاف
——
غور فرمائیے کہ ان اشعار پر کیا آپ ’تکیہ‘ کر سکتے ہیں؟ گویا تکیہ نہ ہوا، الہٰ الدین کا چراغ ہوا کہ کونین تک اس میں سمٹ کر آ گئے ہیں۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ