اردوئے معلیٰ

آج معروف مصنف، مترجم ، شاعر اور سوانح نگار علامہ تمنا عمادی کا یوم وفات ہے

علامہ تمنا عمادی(پیدائش: 14 جون 1888ء— وفات: 27 نومبر 1972ء)
——
علامہ تمنا عمادی کی پیدائش پھلواری شریف، پٹنہ میں 14 جون 1888ء کو ہوئی۔ تاریخ پیدائش کا مادہ ’’فیروزبخت‘‘ سے مخرج ہوتا ہے۔ والدین نے نام حیات الحق رکھا تھا مگر وہ اپنے ننھیالی نام محمد محی الدین سے مشہور ہوئے اور تمنا عمادی کے نام سے شہرت پائی۔ والد شاہ نذیرالحق تھے جنہوں نے 10 مارچ 1905ء کو پھلواری شریفمیں وفات پائی۔
درس نظامی کی تکمیل تمنا نے اپنے والد شاہ نذیرالحق سے کی۔ گویا عربی زبان اور فارسی زبان میں منتہی الکمال تھے۔ انگریزی زبان سے نابلد تھے۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد اولاً مدرسہ حنیفیہ، پٹنہ میں ملازمت اختیار کرلی۔ یہ مدرسہ محمدی جان بیگم تھا جسے نواب یوسف علی خان نے قائم کیا تھا۔ یہاں تمنا 1910ء سے 1918ء تک عربی زبان اور فارسی زبان کے مدرس رہے۔
اِس کے بعد وہ تقریباً ساڑھے تین سال سابق صدر بھارت ڈاکٹر راجندر پرشاد کے قائم کردہ وِدیا پیٹھ (بہار) میں عربی و فارسی پڑھاتے رہے۔ 1921ء میں تمنا اِس سے علاحدہ ہو گئے اور پھر کسی ادارے میں ملازمت اختیار نہ کی۔ بعد ازاں پٹنہ کے بعض مسلمان وکلا اُن سے قرآن مجید پڑھنے لگے۔ یہ لوگ کچھ مالی خدمت بھی کر دیا کرتے تھے۔ سر فخرالدین (متوفی 1933ء) فقہی معاملات میں بھی علامہ تمنا سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ جب اُن کا انتقال ہو گیا تو یہ عبدالعزیز بیرسٹر (متوفی 1948ء)، وزیر تعلیم بہار کے مشیرخاص اور دستِ راست بن گئے۔ عبدالعزیز صاحب بعد میں صدر اُمورِ مذہبی بن کر حیدرآباد دکن گئے تو تمنا کو بھی اپنے ہمراہ لیتے گئے۔ ریاست نظام حیدرآباد دکن سے علامہ تمنا کا ماہانہ وظیفہ 100 روپئے مقرر ہوا اور یہ اُنہیں ریاست حیدرآباد کے انضمام یعنی ستمبر 1948ء تک باقاعدگی سے ملتا رہا۔
——
یہ بھی پڑھیں : علامہ اقبال کا یوم وفات
——
1948ء میں علامہ تمنا اپنے اہل و عیال کے ہمراہ ہجرت کرکے ڈھاکہ چلے گئے۔ڈھاکہ جاتے ہوئے وہ اپنا کتاب خانہ بھی ساتھ لے گئے تھے۔ وہاں حکومت پاکستان نے اُنہیں رہائش کے لیے ایک وسیع مکان دیا۔ علمی حلقوں میں خاصی آؤ بھگت ہوئی۔ وہ طویل عرصے تک ریڈیو ڈھاکہ سے درس قرآن نشر کرتے رہے۔ غرض کہ معاش کے پہلو سے اُنہیں کوئی تشویش نہ ہوئی، بلکہ وہ خاصا خوشحال اور فارغ البال تھے۔ کئی سال بعد اُنہوں نے ڈھاکہ سے اپنی رہائش چاٹگام منتقل کرلی جہاں اُن کا بیٹا صاحبزادہ محمد انعام الدین رہتا تھا اور جس کا وہاں ٹھیکے کا کاروبار تھا۔
اُن کی بیشتر تصانیف نامکمل پڑی تھیں۔ اُنہوں نے اِس دوران خیال کیا کہ اُن کی تکمیل اُس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتی کہ جب تک مستقل قیام کراچی میں نہ ہوجائے۔ اِس کے علاوہ اُن کی ایک آنکھ سے پانی اُترنے کا مرض شروع ہو گیا اور رفتہ رفتہ بینائی رخصت ہونے لگی۔ اِس پر اُنہیں آپریشن کی ضرورت تھی۔ اِس لیے چاٹگام سے کراچی چلے آئے اور ایک عزیز کے پاس قیام کیا۔ اِس اثنا میں اُن کے بیٹے محمد انعام الدین نے بھی اپنا کاروبار کراچی منتقل کر لیا۔ چنانچہ 1969ء میں علامہ تمنا اپنے بیٹے کے پاس کراچی میں رہائش پزیر ہوئے۔
اواخرعمر میں بینائی رخصت ہونے پر آنکھ پر عمل جراحی کروایا۔ بینائی اِس سے بحال ہو گئی مگر شومئی قسمت کہ 1972ء کے اوائل میں اُنہیں حلق کا سرطان لاحق ہو گیا۔ علاج معالجہ کا بے سود کوششیں کی گئیں مگر کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ کھانا پینا بالکل ترک ہوچکا تھا کیونکہ کوئی شے حلق سے نیچے نہیں اُترتی تھی۔ سیال چیزوں میں دو چار گھونٹ یخنی یا آدھی پیالی چائے اُن کی دن بھر کی خوراک رہ گئی تھی۔ اِسی مرض میں 27 نومبر 1972ء کو کراچی میں فوت ہو گئے۔
علامہ تمنا کی چند مشہور تصانیف یہ ہیں:
مثنوی مذہب و عقل
مثنوی معاش و معاد
ایضاحِ سخن
رسالہ تذکیر و تانیث
افعالِ مرکبہ
تمنائے سخن
اعجاز القرآن
——
ان کی علمی زندگی بڑی متنازعہ تھی ۔ ان کی زندگی میں بڑے فکری انقلابات آئے ۔ عام طور پر انہیں لوگ منکر حجیت حدیث سمجھتے ہیں تاہم یہ خیال درست نہیں ۔ انما الاعتبار بالخواتیم کا اصول پیش نظر رہے ۔ انہوں نے آخری عمر میں حدیث کی حجیت کو تسلیم کر لیا تھا ۔
——
حوالہ برائے رجوع
——
یہ بھی پڑھیں : حمد اس کی کروں!
——
منتخب کلام
——
حمدِ باری تعالیٰ
——
حمد خدا کا حق ہے خاص ہو تو خدا کے واسطے
اوروں کو مستحق نہ تم سمجھو خدا کے واسطے
حمد کی چاہیے ، حمد خدا کی چیز ہے
سوچو اگر ہے تم کو عقل ، سمجھو اگر تمیز ہے
حمد و ثنا کا مستحق اس کے سوا کوئی نہیں
ایک خدا ہے بس وہی اور خدا کوئی نہیں
مدح کسی کی بھی کرو ، وہ بھی اسی کی حمد ہو
قدح کسی کی بھی کرو وہ بھی اسی کی حمد ہے
چاہے جو یہ کہ اُس کو بھی بخت پر اپنے ناز ہو
رکھ کے جبیں خاک پر سجدوں سے سرفراز ہو
——
نذرِ بے کساں
——
مالک المک ، خالق الکونین
اے خدائے کریم و ربِ غفور
یہ سیہ کار ، نام کے مسلم
جن کے دل ظلمتوں سے ہیں معمور
راہ بھی جن کی ، اور چال بھی کج
سیدھے رستے سے ہیں جو کوسوں دور
لائے ہیں نذر ایک انوکھی چیز
باد و چشم نم و دلِ رنجور
ارحم الراحمین ہے جب تو
تیری رحمت سے نہیں یہ کچھ دور
ان کی ہمت کی داد دیتے ہوئے
کر لے تو نذرِ بے کساں منظور
آج اک جوئے خونِ معصوماں
پیش یہ کر رہے ہیں تیرے حضور
گو تیری چاہ میں نہیں نہ سہی
یہ ترے نام پر کٹے ہیں ضرور
——
مسدس : مذہب و عقل ، چند اشعار
——
کل جو اک بزم میں ناگاہ ہوا اپنا گزر
نظر آئے مجھے بیٹھے ہوئے چند اہلِ نظر
جن میں دو چار تھے مُلا ، تو کئی تھے مسٹر
باہم اک تبصرہ تھا فلسفۂ مذہب پر
باری باری سے ہر اک گرم سخن رانی تھا
وہ گرج ہیں ، تو یہ چنگھاڑ میں لاثانی تھا
ایک کہتا تھا کہ مذہب تو ہے اک راہِ نجات
اس کو اللہ ہی جانے ، کہ ہے اللہ کی بات
عقل کا حق یہ نہیں ، اس میں بکے کچھ ہفوات
شاخِ آہو پہ یہاں عقل کی رہتی ہے برات
عقل کو دین کا معیار مقرر کرنا
ہے یہ مخلوق کو خالق کے برابر کرنا
——
رباعی
——
بچوں کو ہے دلچسپیٔ بازیچۂ حال
رہتا ہے جوانوں کو غمِ استقبال
بوڑھوں کو بجز حسرتِ ماضی نہیں کچھ
مُردوں کو ہی ہو اگر تو ہو فکرِ مآل
——
ساقی گھٹا ہے صحن چمن ہے بہار ہے
اب کار خیر میں تجھے کیا انتظار ہے
——
شعری انتخاب از الاسلام ، جلد ثانی
مصنف تمنا عمادی ، صفحہ نمبر 1 ، 2 ،22 اور 23
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات