اردوئے معلیٰ

درشن سنگھ دُگل کا یومِ وفات

آج معروف صوفی شاعر درشن سنگھ دُگل کا یومِ وفات ہے

درشن سنگھ دُگل(پیدائش: 14 ستمبر 1921ء – وفات: 30 مئی 1989ء)
——
معروف صوفی شاعر ، مصنف اور ادیب درشن سنگھ دُگل 14 ستمبر 1921 کو سید کسراں ضلع راولپنڈی پنجاب میں پیدا ہوئے ۔
بی اے آنرز پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیا ۔
ڈپٹی سیکرٹری گورنمنٹ آف انڈیا کے طور پہ ریٹائرڈ ہوئے ۔
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم اور حضرت شمیم کرہانی سے مشورۂ سخن لیا ۔
مشہور تصنیفات میں تلاشِ نور ، جادۂ نور ، متاعِ نور اور منزلِ نور شامل ہیں ۔
30 مئی 1989 کو انتقال کر گئے ۔
——
متاعِ نور از رفعت سروش
——
رازِ نہاں تھی زندگی ، رازِ نہاں ہے آج بھی
وہم و گماں ازل میں تھی ، وہم و گماں ہے آج بھی
——
درشن سنگھ اگرچہ فارسی کے بھی عالم ہیں لیکن انہوں نے اپنے شعری اظہار کے لیے اردو اور بالخصوص اردو غزل کو ہی اپنے مزاج اور افتادِ طبع کے مطابق تصور کیا ۔
——
یہ بھی پڑھیں : خشونت سنگھ کا یوم وفات
——
متاعِ نور ان کی غزلوں کا مجموعہ ہے جس کا اسمِ اعظم ہے ، عشق ۔ کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی تمام تر شاعری اسی ایک لفظِ عشق کی تفسیر ہے ۔ یہ عشق انہیں زمان و مکاں کی سیر کرواتا ہے ، انہیں کسی خلوتِ خاص میں باریاب ہونے کا مژدہ سناتا ہے ، انہیں عوام الناس سے محبت کے لیے اُکساتا ہے ۔ ان کے دل میں سوز و گداز پیدا کرتا ہے اور اس حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے کہ خالقِ کائنات ایک ہے ۔
——
خاک سے تابہ کہکشاں ہم نے تو جب کیا سفر
عشق ملا قدم قدم ، حسن ملا نظر نظر
——
حسن سے بھی سوا ہے کچھ عشق کی روشنی ہمیں
وہ ہے چراغِ انجمن ، یہ ہے چراغِ رہ گزر
——
اپنے ہی دوست کی تو ہیں جتنی ہیں نشانیاں
دِیر ملے تو سر جھکا ، کعبہ ملے سلام کر
——
نام ہے آدمی تو کیا ، اصل میں روحِ عشق ہوں
ساری زمیں ہے میرا گھر ، سارا جہاں میرا وطن
——
حرم و دِیر میں بٹ جاتے ہیں رندانِ وفا
حرم و دِیر کی تفریق مٹا دے ساقی
——
وہ ایک سچے عاشق کی طرح دوئی کے پردے کو چاک کر دینا چاہتے ہیں اور تمام انسانوں اور خدا سے محبت کرنے والوں کو ایک مرکز پہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔
انہیں عشق کی وہ شمع دینا چاہتے ہیں جو ایک مقدس آتش دان کی طرح ان کے سینے میں جل رہی ہے اور جس کی روشنی سے یہ جہانِ معنی روشن اور منور ہے ۔
وہ نہ کسی تذبذب کا شکار ہیں اور نہ ذہنی خلجان میں گرفتار ۔
نہ ادھر اُدھر بھٹکنے کے قائل ہیں ۔
ان کے سامنے ایک منزلِ مقصود ہے ۔ معرفت کی ایک راہ متعین ہے اور ان کے شعور اور وجدان نے انہیں یکسوئی اور یقینِ کامل بخشا ہے کہ وہ ذاتِ واحد اور لاشریک ہے جس کی طرف ان کے قدم بڑھ رہے ہیں ۔
انسان کی معراج یہی ہے کہ وہ اپنے معبود کو پہچان لے ، صالح عمل کرتا رہے اور ایک ذرۂ نور کی طرح آخر کار اس منبع نور سے جا ملے ۔
یہی ان کی تعلیمات کا نچوڑ ہے اور یہی ان کا مسلکِ حیات و نظریۂ شاعری ہے ۔
——
کوئی سالک ہے نہ مسلک بجز ایمائے سلوک
دل ہی کھینچے لیے جاتا ہے سرِ راہ گزار
——
مٹا کر مجھے آپ میں جذب کر لے
بقا کے لیے میں فنا چاہتا ہوں
——
نفس نفس مجھے لازم ہے شکر کا سجدہ
کہ میرے دوست کا احساں ہے زندگی میری
——
درشن سنگھ نام و نمود اور شہرت کی طلب سے بہت دور ہیں ۔ مشاعرے ان کا میدان نہیں ۔
بحیثیت ایک روحانی رہنما کے وہ عالمگیر شہرت اور مقبولیت کے مالک ہیں ۔
——
یہ بھی پڑھیں : طفیل ہوشیارپوری کا یوم وفات
——
ان کے پیروکاروں میں ہر مذہب و ملت کے لوگ ہیں ۔ ہندو ، مسلمان ، سکھ ، عیسائی ، بودھ ، جین ، پارسی ۔
وہ بھی جو خدا کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں اور وہ بھی جو مادہ پرست ہیں ۔
درشن سنگھ کا پیغام سب کے لیے ہے اور وہ سب کے دلوں کو مسخر کیے ہوئے ہیں ۔
اپنے اس شعر میں انہوں نے خود اپنا تجزیہ کیا ہے :
——
میں نے پی صہبائے عرفاں ہر تجلی گاہ سے
ایک ہی ساقی تھا جو میخانہ در میخانہ تھا
——
میں سمجھتا ہوں کہ ان کا اردو ادب پہ احسان ہے کہ انہوں نے گوناگوں مصروفیات کے باوجود غزلیات کا یہ مجموعہ مرتب کیا ۔ مجھے یقین ہے کہ علمی اور ادبی حلقوں میں اس مجموعے کا گرمجوشی سے استقبال کیا جائے گا اور تراجم کے ذریعے یہ غزلیں دنیا کی دوسری زبانوں تک پہنچیں گی اور اردو شاعری نئی وسعتوں سے ہم کنار ہو گی ۔
——
درشنؔ یہ آرزو ہے کہ جب میرا ذکر ہو
قصوں سے اہلِ دل کے مری داستاں ملے
——
منتخب کلام
——
دل سے نکل کے ہر صدا کیوں نہ دلوں میں ڈوب جائے
ساز مرا لطیف ہے ، نغمہ ترا لطیف تر
——
اہلِ دوئی کو عشق سے وحدتِ کیفیت ملی
بادہ کشوں میں بٹ گیا پیرِ مغاں کا پیرہن
——
کٹ گئی عمر محبت کے سفر میں لیکن
صبح کو شامِ تمنا سے گریزاں دیکھا
——
منزل کہاں خیال کی دِیر و حرم کہاں
پہنچے تلاشِ یار میں اپنے قدم کہاں
——
یہ ہوس کے بندے ہیں ناصحا ، نہ سمجھ سکے مرا مدعا
مجھے پیار ہے کسی اور سے ، مرا دل ربا کوئی اور ہے
——
وہ سر جس کو نہ سجدے سے تھی کوئی نسبت
نہ جانے کیوں ترے در پر وہ دیر سے خم ہے
——
ہوش والوں کو سراسیماں و حیراں دیکھا
تیرے دیوانے کو ہر حال میں شاداں دیکھا
——
جزو سے کُل کی طرف جن کا سفر ہے روز و شب
موت اُن کی منزلِ مقصود کا اک نام ہے
——
گوشے گوشے سے نمایاں ہو گئے انوارِ دوست
ذرہ ذرہ دے رہا ہے مژدۂ دیدارِ دوست
——
کتنے چمن کھلا گئیں آبلہ پائیاں مری
یاد رہے گا دشت کو میرے جنوں کا بانکپن
——
ملا کیا چاند پر بھی جا کے مٹی کے سوا آخر
جنونِ شوق کی یہ چرخ پیمائی نہیں جاتی
——
صحنِ گلشن میں لہو چھڑکا ہے دیوانوں نے
بُوئے خوں آتی ہے اس فصل میں گلزاروں سے
——
اشعارِ غزل پر رکھ دینا تیشہ نہ کہیں تنقیدوں کا
شیشے سے بھی نازک ہوتے ہیں یہ سیم بدن اصنامِ غزل
——
تجھے جو پوچھنا ہے پوچھ لے اے داورِ محشر
میں اپنے ساتھ اپنی بے زبانی لے کے آیا ہوں
——
عشق کی بات غلط ، حسن کی ہر بات حسیں
آپ سچ کہتے ہیں ، ہاں آپ بجا کہتے ہیں
——
تجھے کیا خبر مرے ہم سفر مرا مرحلہ کوئی اور ہے
مجھے منزلوں سے گریز ہے میرا راستہ کوئی اور ہے
میری چاہتوں کو نہ پوچھئے جو ملا طلب سے سوا ملا
مری داستاں ہی عجیب ہے مرا مسئلہ کوئی اور ہے
یہ ہوس کے بندے ہیں ناصحا نہ سمجھ سکے مرا مدعا
مجھے پیار ہے کسی اور سے مرا دل ربا کوئی اور ہے
مرا ذوق سجدہ ہے ظاہری کہ ہے کشمکش مری زندگی
یہ گمان دل میں رہا سدا مرا مدعا کوئی اور ہے
وہ رحیم ہے وہ کریم ہے وہ نہیں کہ ظلم کرے سدا
ہے یقیں زمانے کو دیکھ کر کہ یہاں خدا کوئی اور ہے
میں چلا کہاں سے خبر نہیں کہ سفر میں ہے مری زندگی
مری ابتدا کہیں اور ہے مری انتہا کوئی اور ہے
مرا نام درشنؔ خستہ تن مرے دل میں کوئی ہے ضو فگن
میں ہوں گم کسی کی تلاش میں مجھے ڈھونڈھتا کوئی اور ہے
——
کب خموشی کو محبت کی زباں سمجھا تھا میں
تھا عیاں وہ راز دل جس کو نہاں سمجھا تھا میں
سن رہا ہوں اپنی خاموشی کا چرچا کو بہ کو
تھی فغاں وہ بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا میں
عارضی سا عکس تھا اک التفات دوست کا
جس کو نادانی سے عیش جاوداں سمجھا تھا میں
تم نے آنکھیں پھیر لیں مجھ سے تو یہ مجھ پر کھلا
خار زار زندگی کو گلستاں سمجھا تھا میں
وہ بھی نکلے برق و باد و باغباں کی ملکیت
چار تنکے جن کو اپنا آشیاں سمجھا تھا میں
کر سکیں درشنؔ نہ وہ بھی عرض حال آرزو
جن نگاہوں کو محبت کی زباں سمجھا تھا میں
——
وہ سلیقہ ہمیں جینے کا سکھا دے ساقی
جو غم دہر سے بیگانہ بنا دے ساقی
جام و مینا مری نظروں سے ہٹا دے ساقی
یہ جو آنکھوں میں چھلکتی ہے پلا دے ساقی
شعلۂ عشق سے چھلکا دے مرے شیشے کو
اور بیتاب کو بیتاب بنا دے ساقی
حرم و دیر میں بٹ جاتے ہیں رندان وفا
حرم و دیر کی تفریق مٹا دے ساقی
سن رہا ہوں کہ میسر ہی نہیں دنیا میں
اک نگہ راز دو عالم جو بتا دے ساقی
خشک ہے موسم احساس فضا پیاسی ہے
خم کے خم سینۂ گیتی پہ لنڈھا دے ساقی
پھر کبھی ہوش نہ آئے تو کوئی بات نہیں
آج ہم جتنی پئیں اتنی پلا دے ساقی
جوش مستی میں بغل گیر ہوں بچھڑے ہوئے دل
آج انسان کو انسان بنا دے ساقی
زندگی خواب مسلسل کے سوا کچھ نہ سہی
اس کی تعبیر تو درشنؔ کو بتا دے ساقی
——
چارہ گر
——
رہ عشق کی انتہا چاہتا ہوں
جنوں سا کوئی رہنما چاہتا ہوں
جو عرفان کی زندگی کو بڑھا دے
میں وہ بادۂ جانفزا چاہتا ہوں
مٹا کر مجھے آئی میں جذب کر لے
بقا کے لیے میں فنا چاہتا ہوں
بیاں حال دل میں کروں کیوں زباں سے
کوئی جانتا ہے میں کیا چاہتا ہوں
مجھے کیا ضرورت ہے کیا تم سے مانگوں
مگر میں تمہارا بھلا چاہتا ہوں
مرے چارہ گر میں ہوں بیمار تیرا
ترے ہاتھ ہی شفا چاہتا ہوں
——
حوالہ جات
——
اقباس : رفعت سروش از متاعِ نور ، مصنف درشن سنگھ
شائع شدہ ، 1988 ، صفحہ نمبر 15 تا 34
شعری انتخاب : متاعِ نور ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ