اردوئے معلیٰ

Search

اس کی تجلیات کا مظہر بنا ہوں میں

گو عینِ حق نہیں ہوں مگر حق نما ہوں میں

 

پھرتا ہوں در بدر کہ اسے ڈھونڈتا ہوں میں

دکھلا دے کوئی راہ کہ بھٹکا ہوا ہوں میں

 

جس سمت جاؤں اس کے ہی جلوے ہیں جابجا

دیکھوں جدھر بھی صرف اسے دیکھتا ہوں میں

 

گونجی تھی جس کی عالمِ لاہُوت میں صدا

وہ بازگشتِ "​صبحِ اَلَسْت و بلیٰ”​ ہوں میں

 

عاطفؔ یہ آرزو ہے کہ اک بار وہ کہے

ہاں یہ مرا ہے، اس کو تو پہچانتا ہوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ