اردوئے معلیٰ

Search

زہے اعجازِ انوارِ مدینہ

منور قلب ہے روشن ہے سینہ

 

ہٹا لو سامنے سے جام و مینا

کہ پی رکھی ہے صہبائے مدینہ

 

دعائیں مانگئے گا با قرینہ

کہ بابِ استجابت ہے مدینہ

 

منور شہر در اقصائے عالم

بجوفِ خاتم اک جیسے نگینہ

 

وہیں ہوتا ہے کارِ مینا کاری

وہیں لے چلئے دل کا آبگینہ

 

ہے روضہ پر نزولِ رحمتِ حق

کہ ہے عرشِ معلّیٰ کا وہ زینہ

 

کرم کی ہو نظرؔ امت پہ شاہا

بہ موجِ قہر آگیں ہے سفینہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ