اردوئے معلیٰ

Search

ادب اور فنون ِ لطیفہ کی عالمی شہرت یافتہ شخصیت ضیاء محی الدین بھی اب ہم میں نہیں رہے۔

ضیاء محی الدین
لیکن ان کے رنگ فضاؤں میں موجود ہیں اور تادیر رہیں گے۔ جب بھی زبان و بیان کی بات ہوگی۔ درست تلفظ کی ادائیگی موضوع ِ بحث بنے گی۔ صداکاری، اداکاری، ہدایت کاری، فلم ، اسٹیج ، تھیٹر اور اعلیٰ پائے کی مکالمہ نگاری کاذکر ہوگا ، ضیاء محی الدین اپنے پورے قدو قامت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑے نظر آئیں گے۔میں نے اپنے والد بزرگوار سید فخرالدین بلے سے جن قدآور علمی اورادبی شخصیات کاذکر ِ خیر قافلے کے پڑاؤ میں بڑی محبت کےساتھ سنا ،ان میں ضیاء محی الدین شامل ہیں۔ مجھے یاد ہے احمد ندیم قاسمی ، اشفاق احمد، بانو قدسیہ ، اجمل نیازی،بیدار سرمدی، ظفرعلی راجا، میرزاادیب،طفیل ہوشیارپوری،ڈاکٹر عاصی کرنالی ،محترمہ صدیقہ بیگم موجود تھے کہ اردو الفاظ کے درست تلفظ کی بات چھڑ گئی ۔اس محفل میں ضیاء محی الدین نہیں تھے لیکن موضوع وہی بنے رہے۔سیدفخرالدین بلے مرحوم نے کہاضیاء محی الدین اپنی ذات میں ایک چلتا پھرتاادبی انسائیکلو پیڈیا ہیں۔زبان و بیان کا انہوں نے جو معیار قائم کیا ہے ، اسے اس عہد کے بڑے پڑھے لکھے اصحاب کیلئے بھی برقرار آسان نہیں۔۔۔ وہ خود ایک جیتی جاگتی اکیڈمی ہیں۔نسل ِ نو کوچاہئیے کہ اگر وہ زبان و بیان کے اعتبار سے کوئی نام یا مقام بنانا چاہتی ہے تو ان کی صحبت اوررفاقت سے فیض یاب ہو،جوکچھ آپ کو اور ہمیں کتابوں سے نہیں ملے گا ، وہ کچھ ہم ضیاء محی الدین سے حاصل کرسکتے ہیں ۔یاد رہے کہ اس وقت تک جب قافلے کے پڑاؤ میں یہ گفتگو ہورہی تھی ، ضیا محی الدین نےنیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس نہیں بنائی تھی۔ ۲۰۰۵ میں انہوں نے اس اکیڈمی کی بنیادرکھی۔ اور ۲۰۲۱ تک اس سے وابستہ رہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : محی الدین نواب کا یوم وفات
——
ضیاء محی الدین کی شخصیت کے بہت سے پہلو، اور ان گنت جہتیں تھیں۔ وہ ادیب تھے، ادب نواز تھے۔ ٹی وی اینکر تھے۔ ڈراما نگار تھے۔ صداکار تھے۔ ٹی وی پروگراموں کے میزبان رہے۔ ضیاء محی الدین شو برسوں پیش کیا اور اپنی علمی دھاک بٹھائے رکھی۔
اردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر انہیں غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔اردو بولتے وقت وہ انگریزی الفاظ کا تڑکا نہیں لگاتے تھے اور انگریزی بولتے تو اس میں اردو الفاظ کبھی استعمال نہیں کرتے تھے۔وہ ادب کےرسیا تھے۔ 50 کی دہائی میں انہوں نے لندن جاکر رائل اکیڈمی آف ڈراماٹک آرٹ سے اداکاری کی باقاعدہ تعلیم وتربیت حاصل کی۔اور پھر ساٹھ ستر سال تک اپنے فن کارانہ جوہر دکھاتے نظر آئے۔بہت سی نامور علمی ادبی شخصیات کے منظوم اور نثری شہ پارے انہوں نے اپنی آواز کاجادو جگاکر پیش کئے۔ان کی اس مسلسل کاوش نے نامور شخصیات کی شہرت کوبھی چار چاند لگادئیے۔
غالباً ایک مہینہ پہلے ایک خوبصورت محفل میں ضیائمحی الدین اپنے رنگ بکھیررہے تھے ۔محفل کے اختتام پر ان کے چاہنے والوں نے انہیں گھیر لیا ۔ ایکسپریس نیوز کےاحباب بھی آگئے۔ محترمہ ارم غنی کے ساتھ عمر رحمان اور ظفراقبال رامے بھی تھے۔ سیدعارف معین بلے نے ان سے آٹو گراف بھی لیا اور یہ وعدہ بھی کہ وہ ہمیں وقت دیں گے اور ان کی زندگی اور فنی سفر پر مکالمہ ہوگا۔یہیں بات ختم نہیں ہوئی بلکہ چلتے چلتے سیدعارف معین بلے نے ان سے ان کاقلم بھی لے لیا ۔یہ مکالمہ تو نہیں ہوسکا ۔ ضیا محی الدین نے بانوے سال عمر پائی اور پورا پاکستان سوگوارچھوڑگئے۔ بلکہ پاکستان ہی کیا ؟ جہاں اردو بولی، پڑھی، سنی اور لکھی جاتی ہے اور انگریزی ادب کے صداکار اور ان کے سننے والے موجود ہیں ، وہاں ضیاء محی الدین کے چاہنے والے اداس ہیں ۔اب آپ ملاحظہ فرمائیے ، وہ نظم جو سید عارف معین بلے نے ان کی وفات کی الم ناک خبر سنتے ہی سپر دِ قلم کی ہے۔
——
ضیاء محی الدیں کے ساتھ اِک جہان اُٹھ گیا
نظم نگار:سیدعارف معین بلے
——
زمیں سَرَک گئی کہ سر سے آسمان اُٹھ گیا
ضیا ءمحی الدیں کے ساتھ اِک جہان اُٹھ گیا
دِیا تھا جو انہوں نے،وہ قلم تو میرے پاس ہے
ہے دُکھ کہ حُرمت ِ قلم کا پاسبان اُٹھ گیا
اُسی کے دَم قَدم سے تھی بہار ِ بزم ِ فکر و فن
وہ لے اپنے ساتھ سارا گلستان اُٹھ گیا
وہ اِک ادارہ تھا ، وہ اپنی ذات میں تھا انجمن
سخنوروں کو دے کے آن ، بان ، شان اُٹھ گیا
زبان اور بیان کی بھی اِک کسوٹی آ پ تھے
کہوں میں کیا کہ ناپا کا بھی نگہبان اُٹھ گیا
جوعلم کے جلائے تھےچراغ ، وہ بُجھے نہیں
نقوش ِ پا ہیں اب بھی ، میر ِ کاروان اٹھ گیا
زمین میں اُتر گیا ، جوایک پیڑ تھا گھنا
ہے چلچلاتی دھوپ ، سر سے سائبان اُٹھ گیا
بڑا تھا اِک دماغ ، جس کا حافظہ بلا کا تھا
کتابوں کا وہ چلتا پھرتا اِک جہان اُٹھ گیا
سوال بھی اُٹھائے ، جس نے خود جواب بھی دئیے
وہ لاجواب نکتہ بیں ، وہ نکتہ دان اُٹھ گیا
تراشے تھے جو ہیرے وہ چمک رہے ہیں آج بھی
صحافت و صدا کا تھا جو نگہبان اُٹھ گیا
جو بیج اس نے بوئے تھے ،وہ بن گئے ہیں اِک شجر
وہ رنگ دے کے اپنے ، ہوکے شادمان اُٹھ گیا
ابھی تک اُس کے رنگ ہیں فضاؤں میں بسے ہوئے
ادھوری چھوڑ کر جواپنی داستان اُٹھ گیا
صدا و صوت کے رموز رکھ دئیے ہیں کھول کر
بسا دِلوں میں پہلے ، پھر وہ خوش بیان اُٹھ گیا
عمر، ظفر ، اِرم غنی کے ساتھ بھی سُنا اُسے
وہ دے اپنی یادوں کاحسیں جہان اُٹھ گیا
شعور و آگہی کی روشنی لُٹائی عمر بھر
ہے دکھ وہ ہم سے علم و فن کا پاسبان اُٹھ گیا
——
ضیاء محی الدین کو ستارہ ء امتیاز، ہلال امتیازاور لائف ایچیومنٹ ایوارڈ سمیت لاتعداد ایوارڈز ملےلیکن ان ایوارڈز کے ملنے سے ان کا قدو قامت نہیں بڑھا بلکہ سچ پوچھئے تو ان ایوارڈز ہی کو وقعت ملی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : ضیاء الحق قاسمی کا یوم وفات
——
ابھی ایک سال پہلے کی بات ہے ضیا محی الدین نے 2022 میں شیکسپیئر کے ڈرامے ’رومیو اینڈ جولیئٹ‘ کو اردو زبان میں پیش کرکےدھوم مچادی تھی اور کلاسیکل تھیٹرکی تربیت کابھی اہتمام کیا تھا ۔اس وقت کوئی نہیں جانتا تھا کہ ویلنٹائن ڈے ۲۰۲۳ میں آئے گا تو وہ کسی دوسری دنیا میں جاچکے ہوں گے۔ وہ اب ہم میں نہیں رہے ،لیکن ان کی آواز ہمیشہ زندہ رہے گی ۔اس لئے کہ اس کی ریکارڈنگ محفوظ ہے۔ ایسی ہستیاں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں ، اور بلاشبہ ایسی ہستیاں دنیا سے رخصت ہوبھی جائیں تو زندہ رہتی ہیں ،کیسے؟ مجھے والد محترم سیدفخرالدین بلے کاایک شعر یاد آرہاہے۔وہی آپ کو اس کیسے کاجواب دے گا۔
الفاظ و صوت و رنگ و نگارش کی شکل میں
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود
امید ہے کہ مرحوم کی ہردلعزیز بھانجے محترم نوید ریاض اور نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کے سی ای او جنید زبیری اُس چراغ کو بجھنے نہیں دیں گے جو ضیاء محی الدین نے روشن کیا تھا۔ مجھے تو بس اتنا ہی کہنا ہے ۔اس لئے کہ مجھے یقین ہے کہ ضیا ء محی الدین کی ضیاء نے ہمیشہ رہنا ہے۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ