اردوئے معلیٰ

Search

آج اردو زبان کے مشہور مزاح نگار ضیاء الحق قاسمی کا یوم وفات ہے۔

ضیاء الحق قاسمی(پیدائش: 1935ء – وفات: 26 اکتوبر 2006ء)
——
اردو کے نامور مزاح نگار۔ مشہوور مزاح نگار عطا الحق قاسمی کے چھوٹے بھائی۔بھارت کے شہر امرتسر میں پیدا ہوئے۔ پاکستان بننے کے بعد ان کا خاندان حیدرآباد آ کر آباد ہوا۔ بعد میں وہ کراچی منتقل ہو گئے جہاں سے انہوں نے ماہنامہ ظرافت جاری کیا۔
ضیاء الحق قاسمی نے اردو ادب میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ مزاحیہ شاعری کے ساتھ انہوں نے سنجیدہ شاعری اور نثر میں بھی طبع آزمائی کی۔ ان کے مشہور مجموعوں میں’ ہرے بھرے زخم‘، ’ رگ ظرافت‘، ’ضیاء پاشیاں‘ اور ’چھیڑخانیاں‘ قابل ذکر ہیں۔ قاسمی کی اصل وجہ شہرت مزاحیہ شاعری ہی رہی اور انہیں اس سلسلے میں بھرپور پزیرائی ملی۔
——
یہ بھی پڑھیں : عطاء الحق قاسمی کا یوم پیدائش
——
ملک کا پہلا مزاحیہ رسالہ ظرافت ان کی ادارت میں اکیس برس تک شائع ہوتا رہا۔ ضیاء الحق قاسمی کی ایک اور وجہ شہرت ملکی اور عالمی مزاحیہ مشاعرے منعقد کرانا بھی رہی۔ انہوں نے پاکستان کے بڑے شہروں میں مزاحیہ مشاعرے منعقد کرائے۔ ضیاء الحق قاسمی بعض ٹی وی پروگراموں میں بطور میزبان شریک ہوتے رہے۔ کراچی میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر اکہتر سال تھی۔
——
میری بھی سنو از ضیاء الحق قسمی
——
طنز و مزاح کے نامور تخلیق کاروں کی آرا تو آپ نے پڑھ لیں تو اب میری بھی کچھ سن لیں نا ! میں آخر صاحبِ دیوان ہوں ۔ مجھے بھی تو کچھ کہنے کا حق ہے ۔ میرا لکھا ہوا بھی آپ کو پڑھنا ہی پڑے گا ۔ اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ خوش دلی سے پڑھیں یا بادلِ نخواستہ ۔
ابھی تو پوری کتاب پڑی ہے ۔ وہ بھی آپ پڑھیں گے نا ؟
اگر کوئی انٹرویو کرنے والا کسی شاعر سے یہ پوچھے کہ آپ نے مزاحیہ شاعری ہی کیوں شروع کی تو وہ جواب میں یہی کہے گا کہ اسے فلاں واقعے نے متاثر کیا اور مزاحیہ اشعار کا درود ہونے لگا مگر میرے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔
مرا مزاج لڑکپن سے عاشقانہ ہے
طبیعت میں چلبلا پن بچپن سے ہی موجود تھا ۔ مجھے یاد ہے میری عمر دس سال تھی ۔ ہمارے ایک رشتہ دار سلیمان کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو بچے کا نام رکھنے کا مرحلہ درپیش ہوا ۔ ایسا نام رکھنا چاہتے تھے جو سلیمان کا ہم وزن ہو ۔ مگر کسی ایک کے ذہن میں بھی ایسا نام نہ آ سکا ۔
مجھ سے پوچھا تو میں نے فوراََ کہہ دیا ” ہنومان ” ۔ بچے کے والد کو یہ مذاق پسند نہ آیا مگر دیگر حضرات نے میری اس قافیہ پیمائی کو خوب سراہا ۔
مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جب میری شادی ہوئی تو میں نہ گھوڑے پہ بیٹھا ، نہ سہرا باندھا ، نہ ہی ناک پر رومال رکھا اور نہ ہی لوگوں کو جھک جھک کر آداب کیا ۔ میں حسبِ عادت شرارتیں ہی کرتا رہا ۔
——
یہ بھی پڑھیں : سید خورشید علی ضیاء ​کا یومِ پیدائش
——
سسرال پہنچنے پر وہ تمام لوگ جنہوں نے اس سے پہلے مجھے نہیں دیکھا تھا ، یہی پوچھتے رہے کہ دولہا کہاں ہے ۔
میں نے وہاں پہنچتے ہی اعلان کر دیا تھا کہ میرے ساتھ کوئی خصوصی برتاؤ نہ ہو ۔
نہ ہی لڑکیاں مجھے چھیڑیں ۔ کیونکہ میں دلہن لینے آیا ہوں کالج میں داخلہ لینے نہیں ۔
بارات کی واپسی پر میں راستے بھر میں نئی نویلی دلہن کو ہنسنے پر مجبور کرتا رہا ۔
جناب مشتاق یوسفی اپنی بیگم کو رونے کے لیے کہتے رہے ۔ وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ” کار میں بیٹھے ہوئے میں نے اپنی دلہن سے کہا کہ لڑکیاں اپنا میکہ چھوڑتے وقت آب دیدہ ہوتی ہیں مگر تمہارے چہرے پر تو پریشانی اور اداسی کے آثار تک نہیں ہیں ۔ وہ پھر بھی نہ روئیں ۔ مگر جب میں نے اپنے چہرے سے سہرا سرکایا تو مجھے دیکھ کر وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی ” .
بابائے ظرافت سید ضمیر جعفری فرماتے ہیں کہ ” طنز و مزاح قوموں کو پالش کرنے کے لیے ہے ، مالش کرنے کے لیے نہیں ” ۔ میں بھی اپنی روزمرہ گفتگو اور شاعری میں یہی کوشش کرتا ہوں کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو ۔ میں اگر کسی انسان کو مسکرانے کا ایک لمحہ فراہم کر سکوں تو اس سے بڑی نیکی اور کیا ہو سکتی ہے ۔
——
منتخب کلام
——
میں جسے ہیر سمجھتا تھا وہ رانجھا نکلا
بات نیت کی نہیں بات ہے بینائی کی
——
حج ادا کرنے گیا تھا قوم کا لیڈر کوئی
سنگ باری کے لیے شیطان پر جانا پڑا
ایک کنکر پھینکنے پر یہ صدا آئی اسے
تم تو اپنے آدمی تھے تم کو یہ کیا ہو گیا
——
خود خدا نے مجھے بھیجا ہے حکومت کے لیے
میں سمجھتا ہوں کہ زمانے کی ضرورت کیا ہے؟
مشورہ کوئی نہیں آپ سے مانگا میں نے
آپ کو ٹانگ اڑانے کی ضرورت کیا ہے؟
——
کہتے ہیں چٹورے کہ یہ نمکین زباں ہے
کیا خوب ہے اردو کا مزہ ، اُف مرے اللہ
جب ہم نے بنایا اسے چُوں چُوں کا مربّہ
اُردوئے معلیٰ بنی اُردوئے محلہ
——
کوئی گاہک لوٹ جائے یہ ممکن ہی نہیں
میں نے حاصل کر لیا ہے سیلزمینی میں کمال
ایک گاہک کو ضرورت ٹائلٹ پیپر کی تھی
میں نے اس کو دے دیا ہے اس کے بدلے ریگ مال
——
چند مستورات گاڑی میں سفر کرتی ہوئی
کم سنی کا ایک دُوجی کو دلاتی تھیں یقیں
اک مراثی دھم سے کودا اور یوں کہنے لگا
میں ابھی پیدا ہوا ہوں ، ریل گاڑی میں یہیں
——
دل کے زخموں پہ وہ مرہم جو لگانا چاہے
واجبات اپنے پرانے وہ چکانا چاہے
میری آنکھوں کی سمندر میں اترنے والا
ایسا لگتا ہے مجھے اور رلانا چاہے
دل کے آنگن کی کڑی دھوپ میں اک دوشیزہ
مرمریں بھیگا ہوا جسم سکھانا چاہے
سیکڑوں لوگ تھے موجود سر ساحل شوق
پھر بھی وہ شوخ مرے ساتھ نہانا چاہے
آج تک اس نے نبھایا نہیں وعدہ اپنا
وہ تو ہر طور مرے دل کو ستانا چاہے
میں نے سلجھائے ہیں اس شوخ کے گیسو اکثر
اب اسی جال میں مجھ کو وہ پھنسانا چاہے
میں تو سمجھا تھا فقط ذہن کی تخلیق ہے وہ
وہ تو سچ مچ ہی مرے دل میں سمانا چاہے
اس نے پھیلائی ہے خود اپنی علالت کی خبر
وہ ضیاؔ مجھ کو بہانے سے بلانا چاہے
——
میری عینک اگر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
مچھرو! تم کو کیا ہوا آخر
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
وہ جو آتی تھی اک اشارے پر
اب کسی بات پر نہیں آتی
دال خوری کے فائدے معلوم
پر طبیعت اِدھر نہیں آتی
میں رہا ساتھ ساتھ بیگم کے
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
میں بڑھا لوں گا والیوم اپنا
میری آواز گر نہیں آتی
بند ہے میری ناک نزلے سے
بُو بھی چارہ گر نہیں آتی
اُن کی چھپتی ہیں روز ہی خبریں
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
مر گئے وہ بھی جو یہ کہتے تھے
موت آتی ہے پر نہیں آتی
پُرزے غالب کے اُڑ رہے ہیں ضیا
شرم تم کو مگر نہیں آتی
——
تحریر و شعری انتخاب از رگِ ظرافت ، مصنف : ضیا الحق قاسمی
شائع شدہ : 2000 ء ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ