اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر اور نقاد زہیر کنجاہی کا یوم وفات ہے

زہیر کنجاہی
(پیدائش: 13 جون 1933ء — وفات: 7 دسمبر 2015ء)
——
معروف شاعر، افسانہ نگار اور نقاد زہیر کنجاہی کا اصل نام محمد صادق چغتائی اور تخلص زہیر تھا۔
زہیر کنجاہی 13 جون 1933ء کو کنجاہ، ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کنجاہ میں حاصل کی۔ ایم اے (اردو) گورڈن کالج، راولپنڈی سے امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ راولپنڈی میں تدریس سے وابستہ رہے۔
پاکستان رائٹرز گلڈ اسلام آباد/ راولپنڈی کے پانچ سال تک سیکریٹری رہے۔ شاعری میں افقر موہانی سے اصلاح لی۔ ان کی وفات کے بعد یزدانی جالندھری سے تلمذ حاصل رہا۔
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز شاعر اور نقاد نظیر صدیقی کا یوم پیدائش
——
ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:
’فکر و خیال‘، ’گل کدہ‘، ’دریچے‘، ’دیپک‘، ’محبت اور خون‘، ’ترا آئینہ ہوں میں‘۔
7 دسمبر 2015ء کو زہیر کنجاہی کا راولپنڈی میں انتقال ہو گیا۔
——
اردو ادب کا ایک معتبر حوالہ ، زہیر کنجاہی از محمد اسفر آفاقی
——
18 مئی 2010 ء کو بشیر رانجھا کے ساتھ راولپنڈی جانا ہوا ۔ واپسی پر رانجھا صاحب نے ہمارے ناتواں کندھوں پہ احسان کا بوجھ ڈال دیا وہ یہ کہ کہنے لگے میرے ایک دیرینہ مہربان زہیر کنجاہی یہاں سے چند منٹ کی مسافت پہ رہتے ہیں ان سے ضرور مل کے جانا ہے۔
میں زہیر کنجاہی صاحب کی شاعری اخبارات ، رسائل اور جرائد وغیرہ میں پڑھتا رہتا تھا ۔ بحرحال ہم زہیر کنجاہی سے ملاقات کے لیے ان کے دولت کدے پہ پہنچے ۔
ایک مختصر سی ملاقات کے بعد یہ گمان بھی نہ رہا کہ ہم آج سے پہلے اجنبی تھے ۔ یہ زہیر صاحب کی محبت اور حسنِ اخلاق کا کرشمہ ہے ۔
انہوں نے بڑی محنت سے اپنی کچھ کتب بھی مطالعہ کے لیے عنایت فرمائیں ۔
وہ محبت کے آدمی ہیں اور محبت ان کے خمیر میں شامل ہے ۔
اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ زہیر کنجاہی کی شاعری میں کون سا جذبہ اپنی ساری گہرائی اور تنوع کے ساتھ ابھرا ہے تو میں کہوں گا وہ محبت ہے ۔
اور یہ جذبہ کسی خاص طبقے کے لیے مخصوص نہیں بلکہ اس نے پوری انسانیت کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے ۔
زہیر کنجاہی کے ہاں شدتِ احساس ، شدتِ جذبات اور شدتِ اظہار کی کوئی کمی نہیں ۔
ایسا لگتا ہے کہ شاعری ان کی روح میں اتری ہوئی ہے ۔ ان کا ہر شعر وارداتِ قلبی کا نمونہ ہے ۔
——
زندگی سے یہ سبق سیکھا ہے میں نے اے زہیرؔ
جس نے سر نیچا رکھا وہ مردِ عرفاں ہو گیا
——
زہیر کنجاہی ایک سچے اور سُچے فنکار ہیں جنہیں ستائش نہ صلے کی پرواہ ہے ۔ ان کی غزل اس شدت کے ساتھ قاری کی روح میں سرایت کر جاتی ہے کہ وہ اسی میں کھو کر رہ جاتا ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : شریف کنجاہی کا یوم وفات
——
ان کے کلام میں گجینۂ معنی کے ایسے طلسم ہیں کہ ان میں ایک سے بڑھ کر ایک موتی ملتا ہے جسے وہ ساری زندگی شعروں میں پروتے رہے ۔
تجسس کا رنگ ان کے کلام میں پوری طرح جاری ہے :
——
میں گنبدِ خیال سے نکلا جو ایک شام
ایسا لگا اسیر میں اپنی انا کا تھا
——
ان کے تخیل کی پرواز ان کے تمام معاصرین میں نمایاں ہے ۔ زہیرؔ کے کلام میں ایسے بلند پایہ شعر ملتے ہیں جو قدرتِ بیان اور نزاکتِ خیال کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہیں :
——
اثر دعاؤں کا کوئی نہ التجاؤں کا
مزاج ملتا نہیں آج کے خداؤں کا
——
وہ نہایت جچے تلے الفاظ لاتے ہیں ۔ بعض دفعہ ایک ہی لفظ پورے شعر کی جان ہوتا ہے اور اس میں درد اور لطف پیدا کر دیتا ہے ۔
ان کے بعض اشعار کو سہلِ ممتنع کہنا زیبا ہے ۔ آپ کے کلام میں خطابت پسندی بھی خاص انداز سے پائی جاتی ہے ۔
کہیں محبوب سے ، کہیں خود سے اور کہیں قاری سے سادہ سادہ الفاظ میں وہ کچھ کہہ جاتے ہیں کہ دل کی گہرائیوں میں اتر جائے ۔
——
اپنی منافقت کو چھپا کر قلوب میں
رکھتے ہیں قید و بند میں مسلم کو سامراج
——
ہم نے اجالنا ہے غریبی میں اپنا گھر
لیکن کبھی نہ رکھیں گے قرضوں کا سر پہ تاج
——
زہیر کنجاہی کو نئے مضامین کی تخلیق میں یدِ طُولیٰ حاصل ہے ۔ آپ کبھی کبھی مظاہرِ فطرت کا نقشہ لفظوں میں کھینچ دیتے ہیں :
——
پہلے ہی غربت نے اپنے پاس کچھ نہ چھوڑا
لے گئے جو کچھ باقی تھا ، خونی سیلاب کے ریلے
——
ان کا کلام مترنم اور خوش آہنگ ہے ۔ قوافی کے انتخاب کی طرف خاص توجہ دیتے ہیں ۔ عربی اور فارسی ترکیبوں سے پرہیز کرتے ہیں ۔
عام بول چال کی زبان کو استعمال کرتے ہیں ، بات کو پیچ و خم نہیں دیتے ۔
خیالات میں بلندی ہے لیکن اتنے اونچے نہیں اڑتے کہ آسمان میں گم ہو جائیں ۔
معاملاتِ عاشقانہ عجیب مزے سے ادا کرتے ہیں :
——
میں نے خلوصِ قلب سے چاہا ہے آپ کو
ہاں مجھ کو اعتراف ہے اپنے قصور کا
لایا ہے مجھ کو شوقِ شہادت کشاں کشاں
ہوں آپ ہی گواہ میں اپنے قصور کا
——
سارا کلام حسن و عشق کے جذبے سے پُر لیکن نہایت درد انگیز ۔ کیونکہ محبت بھرے دل سے نکلا ہے ۔
زہیر کنجاہی کا شمار آج کے صفِ اول کے غزل گو شعرا میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے اردو شاعری کی فنی روایت کو آگے بڑھایا ہے ۔
ان کی غزل ایسا نگار خانہ ہے جو قوسِ قزاح کی مانند مطلعِ آسمان پر جگمگاتی نظر آتی ہے ۔
——
اتنا تو کہہ دے کوئی ستمگر سے جا کے آج
کب ظلم کی زمانے میں پھولی پھلی ہے شاخ
——
زہیر کنجاہی جب بارگاہِ رسالت میں لفظوں کے چراغ لے کر حاضر ہوتے ہیں تو حمد و نعت کا ایسا امتزاج پیدا کرتے ہیں کہ سننے والا اور پڑھنے والا عش عش کر اٹھے ۔
——
اُمتِ آخر میں مرا نام بھی شامل ہوا
یہ ترا مجھ پہ کرم ہے ، اے جہاں کے پروردگار
——
یہ بھی پڑھیں : راغب مراد آبادی کا یومِ وفات
——
آپ نے غور فرمایا کہ کس طرح زہیر کنجاہی صاحب نے حمد و نعت کو ایک ہی مضمون میں یکجا کر دیا ہے یعنی محب اور محبوب کا ذکر ساتھ ساتھ اور یہ بات زہیر کنجاہی کی رفعتِ تخیل کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
اصحابِ فن و ادب جانتے ہیں کہ حدیثِ دل کا اظہار اتنا سہل بھی نہیں ہوتا ۔
کسی بھی قلبی واردات کو الفاظ میں ڈھالنا کس قدر مشکل کام ہے اور زہیر کنجاہی نے یہ مشکل کام کر دکھایا ۔
آخر میں بس یہی کہوں گا کہ عہدِ حاضر کے سارے بکھیڑے ان کی شاعری میں موجود ہیں ۔
——
منتخب کلام
——
اپنوں کے زخم کھا کے میں نکلا جو شہر سے
جو اجنبی ملا وہی اپنا لگا مجھے
——
بادہ کش ہوں نہ پارسا ہوں میں
کوئی سمجھائے مجھ کو کیا ہوں میں
——
خاک کے پردوں میں یارو جب نہاں ہو جاؤں گا
ایک افسانہ بنوں گا داستاں ہو جاؤں گا
——
اک واقعہ ہے یہ کہ وہ دل میں ہے جاگزیں
اک حادثہ ہے یہ میں اسے جانتا نہیں
——
ہم سفینے کے لئے اک بوجھ ہیں
ہم اگر ڈوبے تو بیڑا پار ہے
——
رات بکھرے ہوئے ستاروں کو
دن کی باتیں سنا رہا ہوں میں
میرے دل میں ہیں غم زمانے کے
ساری دنیا کا ماجرا ہوں میں
شعر اچھے برے ہوں میرے ہیں
ذہن سے اپنے سوچتا ہوں میں
کوئی منزل نہیں مری منزل
کس دوراہے پہ آ گیا ہوں میں
یوں گرا ہوں کہ اٹھ نہیں سکتا
شاید اپنا ہی نقش پا ہوں میں
ان کا افسانہ کہتے کہتے زہیرؔ
اپنی روداد کہہ گیا ہوں میں
——
جینے کی ہے امید نہ مرنے کی آس ہے
جس شخص کو بھی دیکھیے تصویر یاس ہے
جب سے مسرتوں کی ہوئی جستجو مجھے
میں بھی اداس ہوں مرا دل بھی اداس ہے
لاشوں کا ایک ڈھیر ہے گھیرے ہوئے مجھے
آباد ایک شہر مرے آس پاس ہے
مجھ سے چھپا سکے گی نہ اپنے بدن کا کوڑھ
دنیا مری نگاہ میں یوں بے لباس ہے
یاران مے کدہ مرا انجام دیکھنا
تنہا ہوں اور سامنے خالی گلاس ہے
اب ترک آرزو کے سوا کیا کریں زہیرؔ
اس دشت آرزو کی فضا کس کو راس ہے
——
یہ بھی پڑھیں : نامور ادیب اور نقاد مولانا غلام رسول مہر کا یومِ وفات
——
شام غم یاد نہیں صبح طرب یاد نہیں
زندگی گزری ہے کس طرح یہ اب یاد نہیں
یاد ہے اتنا کہ میں ڈوب گیا پستی میں
کتنی اونچی ہوئی دیوار‌ ادب یاد نہیں
میں نے تخلیق کئے شعر و سخن کے موتی
میری تخلیق کا تھا کون سبب یاد نہیں
جن کے جلووں سے تھا آباد جہان دل و جاں
میری نظروں سے نہاں ہو گئے کب یاد نہیں
آنکھ میں اشک ہیں اشکوں میں غموں کی تلخی
کیسے ہوتے ہیں وہ نغمات طرب یاد نہیں
اتنا ہی یاد ہے مدت سے خفا ہیں وہ زہیرؔ
ان کی خفگی کا مگر کوئی سبب یاد نہیں
——
مری ذات کا ہیولیٰ تری ذات کی اکائی
کوئی ہم سفر ہے میرا کہ ہے تیری خود نمائی
میں ہوں پر سکوں ازل سے میں ہوں پر سکوں ابد تک
مگر آنکھ کہہ رہی ہے نہیں تجھ سے آشنائی
میں تو لٹ چکا زمانے! مرے پاس کیا رہا ہے
مرے ہونٹ سل چکے ہیں میں بھلا دوں کیا دہائی
یہ فرار کا ہے لمحہ کہ قرار کی ہے صورت
تری چاند سی جبیں پر نہیں داغ بے وفائی
یہی عمر بھر کا دکھ ہے یہی زندگی کا سکھ ہے
نہ کوئی فریب ہستی نہ شعور دل ربائی
میں تو کل بھی تھا سفر میں میں ہوں آج بھی سفر میں
وہی دور میری منزل وہی میری جگ ہنسائی
میں زہیرؔ سوچتا ہوں کبھی زخم نوچتا ہوں
جانے کب نصیب جاگے ملے فکر سے رہائی
——
حوالہ جات
——
تحریر : محمد اسفر آفاقی ، ایبٹ آباد
جہانِ ادب ، روزنامہ جہان اسلام آباد ، جمعرات 13 جون 2019 ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات