اردوئے معلیٰ

آغا سہیل کا یوم وفات

آج معروف نقاد, محقق اور افسانہ و ناول نگار آغا سہیل کا یوم وفات ہے

ڈاکٹر آغا سہیل(پیدائش: 6 جون، 1933ء – وفات: 26 فروری، 2009ء)
——
ڈاکٹر آغا سہیل پاکستان سے تعلق رکھنے و الے اردو کے ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار، نقاد اور محقق تھے۔
ڈاکٹر محمد آغا سہیل 6 جون 1933ء کو لکھنؤ ، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام آغا محمد صادق تھا۔
تقسیم ہند کے بعد کے بعد انہوں نے لاہور میں سکونت اختیار کی۔ انہوں نے دبستان ِ لکھنؤ کے داستانوی اَدب کا ارتقا کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ڈاکٹر آغا سہیل کے ناول کوچۂ جاناں اور کہانی عہدِ زوال کی، افسانوی مجموعے بدلتا ہے رنگ آسماں ، شہر نا پرساں ، تل برابر آسمان، اگن کنڈلی اور بوند بوند پانی کے نام سے اور خود نوشت سوانح عمری خاک کے پردے کے نام سے اشاعت پزیر ہوئی۔
ڈاکٹر آغا سہیل 26 فروری 2009ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ لاہور میں ٹاؤن شپ قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
——
تصانیف
——
کہانی عہد زوال کی
غبار کوچۂ جاناں
افق تا بہ افق
خاک کے پردے
اَدب اور عصری حسّیت
دبستان ِ لکھنؤ کے داستانوی اَدب کا ارتقا
اُردو لسانیات کا مختصر خاکہ
اگن کنڈلی
معارف سہیل
شہر ناپرساں
تل برابر آسمان
بوند بوند پانی
بدلتا ہے رنگ آسماں
——
آغا سہیل (خاکہ) از احمد جمال پاشا
——
آغا سہیل بڑے سرخ سپید، ایرانی زنانہ حسن و جمال کے مالک تھے۔ انتہائی دھان پان، پراسرار سیاہ عینک لگاتے، چیخ چیخ کر ناک میںبولتے اور اچھل اچھل کر بات بات میں ہاتھ ملاتے۔ یہ ذکر غالب کی جوانی اور ہمارے بچپن کا ہے۔ ان کے سکندر اعظم فرخ نواب عرف چیخو یعنی کاظم علی خاں کی سسرال اور ہمارے گھر کے درمیان فقط ایک دیوار کا پردہ ہے۔ آغا سہیل صاحب کی نہ سہی ان کی ہمشیرہ محترمہ کی سسرال بھی اسی جغرافیہ میں شامل ہے۔ نواب چیخو پریوں کی کہانیوں والے روایتی دیو کی طرح اکثر چیختے چلاتے نازل ہوتے۔ ایک دن انھوں نے باہر سے نعرہ لگایا:
’’اماں! زندہ ہو؟ بھائی دیکھو تو کسے ملانے لایا ہوں۔‘‘
اس زمانے میں یہ حضرت دیو سے زیادہ معشوق لگتے۔ ہر چند کہ سوٹ اور فیلٹ ہیٹ میں پاسنگ شو کا، کارٹون بنے رہتے مگر اس پر بھی اچھے لگتے اور اپنی ہونے والی سسرال کے چکر کاٹنے کے بہانے ڈھونڈنے میں ان کی ایک پناگاہ خانۂ انوری بھی تھی۔
نواب چیخو کی آواز سنتے ہی ہم کھٹ سے برآمد ہوئے تو یہ مارے خوشی کے چلائے:
’’صفدر حسین صاحب کے یہاں مجلس میں بادشاہ نواب بھی آ گئے۔ سوچا کہ تم سے بھی ملوا دوں۔ بیٹا ان کے سامنے ذرا سنبھل کر بولنا۔ رکاب گنج پار کے ہو نا۔ ابھی تمھاری زبان پکڑ لیں گے۔ بہت ہی بڑے ادیب اور افسانہ نگار ہیں۔ یہی آغا سہیل ہیں۔‘‘
ان سے نہایت تپاک سے مصافحہ کرتے ہوئے دریافت کیا۔
’’آغا حشر آپ کے ؟‘‘
’’جی ہاں! جی ہاں! میرا ہی شاگرد ہے نالائق!‘‘
ہم فوراً دھونس کھا گئے۔ فرخ ہم دونوں کو مجلس میں لے گئے پھر دیر تک وہ ہم سے کھسر پھسر کرتے رہے۔ اس کے بعد ادبی نشستوں میں سرور صاحب اور احتشام صاحب کے یہاں ملاقاتیں ہونے لگیں۔
——
یہ بھی پڑھیں :
——
بادشاہ نواب کی نوابی کا حال آگے آئے گا۔ یہ حضرت پہلے کسی سرکاری دفتر میں ملازم ہوئے۔ کسی افسر سے کہا سنی ہو گئی۔ سید کا جلال کرسی اٹھا کر اس کے سر پر دے ماری (کیونکہ ان سے میز اٹھ نہ سکی)۔ پھر دوسری چیز جو اس کے منہ پر ماری وہ ان کا استعفیٰ تھا۔ ’کاظمین‘ میں بچوں کو پڑھانے لگے۔ پھر ’شیعہ اسکول‘ میں اس زمانے میں ان کے جگری دوستوں میں فرخ نواب، ہزہولی نس، مولانا محمد طاہر جرولی، مولانا حافظ علی صابر اور ان کے مفتی گنج کے پڑوسی مولانا سید علی ظہیر ہوا کرتے تھے اور یہ خود مولوی، ترقی پسند اور ادیب کا معجونِ مرکب تھے۔
قبلہ سید الملّت مجتہد کے یہاں ہمارے نواب صاحب نے ایک ’بزم انیس‘ بھی قائم کی جس میں ہمارے دوست سید ضیاء الحسن موسوی کو استقبالیہ بھی پیش کیا گیا تھا۔ ’بزم انیس‘ میں خالص ایرانی تہذیب برتی جاتی۔ قہوے سے تواضع ہوتی۔ ہمیں بھی یہ اس کی نشستوں میں لے گئے۔ پہلے یہ ’انجمن ترقی پسند مصنّفین‘ کے جلسوں کی رپورٹ تیار کرنے میں مدد کرتے پھر یہ خود رپورٹ تیار کرنے اور بحیثیت سکریٹری کے سنانے لگے۔
یہ زمانہ بادشاہ نواب کی مالی و ذہنی پریشانی کا تھا۔ کثیر العیال، اکثر احاطہ علی خاں میں واقع ان کی حویلی پر ہم بھی حاضری دیتے۔ حویلی کا معاملہ یہ تھا کہ ہاتھی گزر چکا تھا۔ صرف اس کی دم رہ گئی تھی جو نوابی کا نوحہ تھی۔ یہ محبت کے تو بہت ہیں لیکن خود داریوں کے دور میں بڑی ناک والے تھے۔
ضرورت سے زیادہ خود اعتماد۔ ایک بات پر بلا تحقیق ہم سے بھی چڑ گئے۔ ہوا یوں کہ ہمارے عزیز دوست مرزا اسلام بیگ چنگیزی یادگار استاد رفیع احمد خاں اپنے ایک عزیز رضوان کو ہمارے حوالے کر گئے کہ اسے پڑھنے کا شوق ہے۔ آپ اسے پڑھوا دیں۔ ہم نے ہامی بھر لی۔ وہ رہنے اور پڑھنے لگے۔ یہ میرے ہم جماعت بھی تھے۔ رضوان حسین نے شاہد مہدی کو ایک دن صبح ناشتے پر بلایا۔ اس پرتکلف ناشتے میں گرم گرم جلیبیاں بھی شامل تھیں۔ بھئی پیسے کا تو کوئی ذکر نہیں لیکن ناشتہ تو اس کا تھا۔ اس دوران غضب یہ ہوا کہ بادشاہ نواب نے آواز دی۔ میں نے بہت زور دیا کہ انھیں اوپر بلا لو مگر رضوان نہ مانا اور کہنے لگا:
’’نیچے بٹھا لو۔۔۔۔۔۔۔کو!‘ یہ کڑوا کریلا یوں نیم چڑھا کہ مکھن لگے سینکے توس انڈے چائے اور گرما گرم جلیبیاں حضور نواب صاحب کے سامنے سے گزریں۔ ناشتے کے بعد ہم لوگ ہنستے ہوئے برآمد ہوئے۔ سلام دعا ہوئی۔ یہ حضرت ہم سے کچھ کھنچے کھنچے اور بجھے بجھے سے تھے۔ شاہد مہدی ملنے کی چیز تھے۔ آئی اے ایس میں تو وہ بعد میں آئے۔ مگر اس وقت بھی کسی طرح دار سے کم نہ تھے۔ یہ ان سے بھی بڑی رکھائی سے ملے۔ بات یہ تھی کہ رضوان کھاتا بہت تھا۔ اس زمانے میں کھانا اس کی کمزوری تھی۔ ناشتے پر ہم دونوں نے برائے نام کھایا۔ نواب کو شامل نہ کرنے سے میرا موڈ بگڑا ہوا تھا۔ شاہد بھی رضوان کو کھلا رہے تھے۔ خود باتیں زیادہ کر رہے تھے مگر یہ غصہ اس بات پر تھا کہ ’تم دونوں سب کھا گئے اور وہ بھوکا رہ گیا۔‘‘ غرض نواب صاحب کے جذبات کو ٹھیس پہنچ چکی تھی۔ ان حضرت کا خیال تھا کہ ’مجھے غریب سمجھ کر ناشتے میں شامل نہیں کیا گیا۔‘‘ میں بھی سید کے تیور بھانپ گیا۔
ہر چند کہ قسمت ہم دونوں پر مسکرا رہی تھی کہ نواب تم سے کتنا آگے نکل جائے گا۔ چنانچہ اب ان کی باری تھی۔ تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ اس تاریخی ناشتے کے بعد جس میں یہ نامدعو تھے، ادبی نشستوں میں ملاقات کا وہ انداز تھا کہ خلاء سا محسوس ہوتا۔ اٹھتے بیٹھتے گرم گرم جلیبیوں کا طعنہ اور ہر بار ہمارا بیان صفائی بدتر از گناہ بن کر ہمیں پسپا کر دیتا۔ یہ عجیب قدرت کا نظام ہے کہ مستقبل کے بڑے لوگ کھانے کے لیے لڑتے ہیں۔ افواہ ہے کہ لطیف صدیقی کو جب عابد سہیل نے ان کی من پسند شے نہیں کھلائی تو باوجود عابد کے منانے کے عابدوں کے اس جوڑے میں پھر نہ پٹ سکی۔ یہاں تک کہ دونوں نے مشترکہ افواہ بازی جیسے مفید مشغلے تک سے کنارہ کر لیا۔ ہر چند کہ بالائی کا کوئی ذکر نہیں مگر گرما گرم جلیبیوں کے لیے سند ضرور بن گئی۔
ہمارا ہیرو ٹاپ کر کے غربت اور بے سر و سامانی میں جب ہجرت کرنے لگا تو بے بسی میں ایک ایک عزیز دوست اور قرض خواہوں سے لپٹ لپٹ کر رویا۔ مگر ہمارے پاس اس لیے نہ آیا کہ جلیبیوں کی خلیج اس قدر گرم ہو چکی تھی کہ اسے وہ پار نہ کر سکتا تھا۔ بقول ملا نصرالدین: ’اگر ولی کے بلانے سے کوئی اس کے پاس نہ جائے تو ولی خود اس کے پاس چلا جائے۔‘‘ چنانچہ ہم خود روتے پیٹتے پہنچے۔ انھوں نے گلے تو نہ لگایا مگر رومال سے اس طرح ہمارے آنسو پونچھے کہ گویا شیرہ نکال رہے ہوں۔ یہ رخصت ہو گئے۔ کیا ان کا سامان بے سر و سامانی تھا۔ رخت سفر میں سوائے عزم کے کچھ نہ تھا۔ پشاور بے ٹکٹ پہنچ گئے۔ پشاور یونیورسٹی میں لکچرر ہو گئے اور اب کے ٹکٹ خرید کر لاہور کا رخ کیا۔ ایف سی کالج میں آسامی تھی۔ امیدواروں میں انتظار حسین بھی شامل تھے۔ ایسے جغادریوں میں بھلا ان کو کون منہ لگاتا۔ سورس سفارش نہ مال مگر صحت اب قابل رشک تھی۔ حلیہ انگریزوں سے ملتا جلتا۔ ایک چیز ان کے پاس ضرور تھی، وہ لکھنوی اردو اور ان کا اہل زبان ہونا۔ غرضیکہ اس ہفت خواں کو بھی انھوں نے زبان دانی سے پار کر لیا جیسے ریس کا گھوڑا رکاوٹوں کو پار کر لیتا ہے اور یہ ایف سی کالج میں استاد ادبیات قرار پائے۔ اس دوران ہمارے سرپھرے دوست شور صہبائی نے ’عکس لطیف‘ نکالا۔ ابھی جلیبیاں ٹھنڈی نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ ہماری تصنیف لطیف ’اندیشہ شہر‘ جس پر ہمیں بہت ناز تھا، اس کے انھوں نے چیتھڑے اڑا دیے۔ دبے لفظوں میں گرم گرم جلیبیوں کا نوحہ اسی جواب آں غزل میں شامل تھا جسے ہم اس ناشدنی ناشتے کی طرح ہضم کر گئے اور مچھلی والے کو کوس کر خاموش ہو گئے۔
زورِ بیان میں پیارے پڑھنے والو ہم بہت آگے بڑھ گئے۔ آئیے گردش ایام کے تعاقب میں پھر پیچھے کی جانب جھپٹیں۔
آغا سہیل لکھنؤ یونیورسٹی کے ہونہار طالب علم تھے تو چور ان کی خاندانی سائیکل چرا لے گئے جس کے سلسلے میں ایک مذاق بھی تھا کہ ’یہ ان کے جہیز کی آخری نشانی ہے۔‘‘ یہ روتے پیٹتے ہمارے پاس پہنچے۔ مسئلہ بڑا ٹیڑھا تھا۔ روزانہ سات میل احاطہ مرزا علی خاں سے یونیورسٹی پیدل جانا اور آنا، وہ بھی پیٹ پر پتھر باندھ کے۔ چونکہ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ نواب محمد علی خاں بادشاہ اودھ کی جائز اولادوں کے مستند سلسلے سے ہیں اور وثیقہ یاب ہیں۔ اس لیے حضور نواب صاحب دو ایک دن تو ملاحظہ کرتے ہوئے گزر گئے کہ یہ ہمارا حسین آباد کا امام باڑہ ہے۔ یہ گھنٹہ گھر خاندانی ہے۔ یہ آصف الدولہ کا امام باڑہ بزرگوں کی باقیات الصالحات میں سے ہے۔ یہ جنوں کی مسجد ہے جس میں مخالفین بیٹھ کر بزرگوں کے خلاف سفلی عمل کرتے تھے۔ یہ دریائے گومتی ہے جس کے کناروں پر کئی پشت ہم نے حکومت کی اور موجودہ پشت فاقے کر رہی ہے۔ غرض یہ خاندان دیار و امصار سے دل بہلاتے یونیورسٹی پہنچ جاتے بلکہ واپس گھر تک چلے جاتے۔ تین چار دن بعد پانو خاندانی عظمت کے آگے جواب دینے لگے۔ جب یہ پہنچے تو حسن عابد جو نہایت رقیق القلب واقع ہوا ہے ہم سے زبردستی ’نوری ہوٹل‘ میں چائے پی رہا تھا۔ جبراً اس لیے کہ جب چائے کی فرمائش پوری ہو چکی تو اس نے سلائس سنکوا کر ان پر مکھن لگوایا، آملیٹ بنوایا اور ہمیں چھونے تک نہ دیا۔ بس قہقہے لگا رہا تھا کہ پیسے تو تمھی کو دینے ہوں گے۔ اس لیے تم کھانے کے آداب سیکھو کہ کھاتے کیسے ہیں۔ حسن عابد ایک دم سنجیدہ ہو گیا۔ اس نے ان کی داستان غم قسطوں میں سنی، قسطوں میں اس لیے کہ توس آملیٹ سب کا بھونپو بنا کر اپنے منہ میں داخل کرنے کے لیے بار بار اسے پانی پینے کے لیے جانا پڑتا۔ میرا رویہ اس لیے خاصا نرم تھا کہ میرے ذہن میں آغا سہیل کی گرم گرم جلیبیاں تھیں۔ فی الحال کوئی دوسرا بیعانہ لینے پر تیار نہ تھا۔ حسن عابد نے اپنی خدمات پیش کر دیں۔ یعنی سائیکل پر انھیں گھر سے یونیورسٹی لے جایا اور گھر پہنچا جایا کریں گے۔ اول تو حسن عابد کی سائیکل کے لیے ایک پہلوان کی ضرورت تھی اور پہلوان بھی ایسا جسے سرکس میں سائیکل چلانے کا وسیع تجربہ ہو جو اس کی سائیکل کا ہینڈل پکڑ کر چلے۔ اس سائیکل پر یہ آلو کے بورے کی طرح ڈال دیے جائیں اور ساتھ ساتھ بزور بازو اسے حسن عابد بیلنس کرتے چلیں۔ دوسرے حسن عابد یونیورسٹی کے لیے اگر صبح گھر سے نکلتے اور رات کو بھی واپس گھر پہنچ جاتے تو غنیمت سمجھا جاتا۔ یہ ٹھہرے بال بچے دار۔ بیوی کے عاشق ہر سال کلینڈر بدلنے والے اس لیے ان کا آفر بادشاہ نواب نے بڑی حقارت سے ٹھکرا دیا۔ بقول حسن عابد’’اس نے خدمت کا آخری موقع بھی نہیں دیا۔‘‘
بولے: ’حسن عابد تم پہلے اپنی سائیکل کی مرمت تو کرا لو۔‘‘
حسن عابد: ’مرمت، مرمت اور اس سائیکل کی؟ اس سے کم پیسوں میں تو نئی سائیکل مل جائے گی۔
میں نے کہا: ’پھر کیا صورت ہوگی؟‘‘
بولے: ’اس سنگین مسئلے کا واحد حل صرف نئی سائیکل کا خریدا جانا ہے۔‘‘
پوچھا؛ ’سردست آپ کے پاس کتنے روپے ہیں؟‘‘
بولے: ’ایک دوست سے دست گرداں دس روپے مل سکتے ہیں۔‘‘
پوچھا: ’کون دوست؟‘‘
زور دے کر بولے: ’تم۔‘‘
پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ تینوں درویش بہت دیر تک غلطاں و پیچاں رہے۔ تھوڑی دیر بعد سر اٹھاتے، بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھتے، پھر غور و فکر کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ میرا دماغ ہر طرف گھوڑے کی طرح دوڑ رہا تھا۔ اچھا خاصا ریس کورس بنا ہوا تھا۔
میرے والد کے دوست سیٹھ بشیر احمد تھے جن کا ’پاپولر سندھ ریسٹورنٹ‘ کے پیچھے بہت بڑا ’پنجاب سائیکل ورکس تھا۔ وہ سائیکل قسطوں پر دیتے۔ انھیں لے کر ’پنجاب سائیکل ورکس‘ پہنچا۔ سیٹھ صاحب بڑی محبت سے ملے۔ لسّی پلوائی۔ ہمارا دکھڑا سننے سے پہلے انھوں نے ایک نئی سائیکل کسوا کر بادشاہ نواب کو سونپ دی۔ میں نے عرض کیا: ’چچا! ہر ماہ نواب صاحب دس روپے دے دیا کریں گے۔‘‘
سیٹھ بشیر احمد بولے: ’انشاء اللہ۔‘‘
——
یہ بھی پڑھیں : خوابوں کو حقیقت کی تعبیر دکھا دینا
——
ہم لوگ سلام کر کے ’پنجاب سائیکل ورکس‘ سے اس طرح نکلے کہ سیٹھ جی کہیں آدمی دوڑا کر سائیکل واپس نہ لے لیں۔ شرافت ملاحظہ ہو کہ فقط دس روپے میں سائیکل دے دی اور سائیکل کی نصف قیمت پیشگی جمع کرنے کی شرط سے بھی مستثنیٰ کر دیا۔ یہ تھا ایک قادیانی کے اخلاق کا عملی مظاہرہ۔
آغا سہیل اب احاطہ مرزا علی خاں سے یونیورسٹی تک اس طرح سائیکل دوڑاتے جیسے نیلی جھیل میں راج ہنس تیر رہا ہو۔ مگر جلیبیاں اب بھی ان کے دماغ کے کڑھاؤ میں ابل رہی تھیں۔ ابھی سائیکل کے ٹائر نہیں میلے ہوئے تھے کہ یہ ایک دن روتے پیٹتے فریادی ماتم کرتے پہنچے اور چلا کر کہا۔
’’جمال رات چور دیوار پھاند کر داخل ہوا۔ اندر کا دروازہ کھول کر آنگن میں تالا لگی میری سائیکل اٹھا لے گیا۔‘‘
جب یہ سائیکل کی داستانِ حیات بیان کر چکے جو فسانۂ حیات سے بھی مختصر تھی تو بہت دیر تک ہم دونوں ایک دوسرے کو بے بسی سے دیکھتے رہے۔ اچانک آغا سہیل نے میز پر گھونسا مار کر پرعزم انداز میں کہا: ’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ سائیکل کی قسطیں پابندی سے ادا کرتا رہوں گا۔ اور پیدل یونیورسٹی جایا کروں گا۔‘‘
میں نے کہا: ’مگر یار غور تو کرو ‘‘
آغا سہیل نے باوقار عربی فارسی آمیز نہایت گاڑھے نوابی لہجے میں زور دیتے ہوئے کہا :
’’ہم جو فیصلہ کر چکے اس کے پابند رہیں گے۔ یہ فیصلہ وقت اور حالات کا ہے جس سے سردست انحراف ہمارے لیے ممکن نہیں۔
اور وہ چلا آیا۔ آغا سہیل چلتا رہا۔ چلتا رہا۔ احاطہ مرزا علی خاں سے یونیورسٹی حضرت گنج، امین آباد۔ ادیبوں کے یہاں، ادبی نشستوں میں، میرے گھر اس طرح آتا جیسے کہ سائیکل پر آتا تھا۔ اس نے پریکرما کر کے بی اے کیا، ایم اے کیا اور پٹھا چل دیا۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اس گیارہ نمبر کی سواری کے بعد اس نے کبھی کسی سے سائیکل کے لیے لفٹ بھی مانگی ہو۔ پیدل چلتے چلتے ایک دن وہ ریل پر سوار ہو کر اپنے دلدّر دور کرنے کے لیے اس پار نکل گیا اور اس کے دلدّر دور ہو گئے جن میں ہم بھی شامل تھے۔
اس زمانہ میں ’انجمن ترقی پسند مصنّفین‘ کی نشستیں بڑی دھواں دھار ہوتیں۔ ایک سے ایک چیزیں پڑھی جاتیں۔ بحث ایسی گرما گرم ہوتی کہ آستینیں چڑھ جاتیں، منہ سے کف جاری ہو جاتے، لکھنے پڑھنے اور بحث میں حصہ لینے والوں میں آغا سہیل صاحب پیش پیش رہتے تھے۔ یہ تنقیدی مضامین اور افسانے سناتے۔ زیادہ تر افسانے۔
پہلی بار جب یہ سرحد پار سے لوٹے تو ان کی واپسی سے ہمیں یہ فائدہ ہوا کہ ان میں اور احراز نقوی میں کھٹ پٹ ہو چکی تھی۔ اس نے کہیں کہہ دیا کہ ’جو ٹائی آغا سہیل باندھے ہوئے ہیں وہ اس کی ہے اور اسے ٹائی تک باندھنا نہیں آتی۔‘‘ خدا کا شکر ہے کہ یہ ٹائی کے آگے جلیبیاں تک بھول چکے تھے۔ دونوں الگ الگ ایک دوسرے کا رونا روتے اور میں دونوں کو ٹھنڈا کرتا۔ مقامی پیچیدگیوں کے آگے میری ’ارتھنگ‘ بھی بے کار تھی۔ دونوں اب خوب پیٹ بھرے تھے اور خواہ مخواہ ایک دوسرے کے سینگ مار رہے تھے۔
اس دوران پھر ایک ایسا سانحہ ہو گیا کہ یہ حضرت پھر ہم سے کچھ کھنچ سے گئے۔ ہوا یہ کہ یہ سہ پہر کو قومی آواز کے شعبۂ ادارت میں پہنچے میں شفٹ پر تھا۔ یہ شفٹ انچارج کی میز پر کمال بے تکلفی سے بیٹھ گئے۔ چیف ایڈیٹر عشرت علی صدیقی قاعدے قانون، اصول اور ضابطے کے آدمی تھے۔ اگر وہ یہ خوفناک منظر دیکھ لیتے تو ہمیں حسب معمول ہفتوں دوڑاتے۔ اس لیے موصوف کے خوف سے ہم نے کرسی پر بیٹھنے کے لیے ان سے اصرار کیا اور یہ برا مان گئے۔ انھیں برابر کرنے میں برسوں لگ گئے۔
آغا سہیل نے رجب علی بیگ سرور کی ’سرور سلطانی‘ پر ڈاکٹریٹ بھی کر لی۔ ڈاکٹر آغا سہیل کی تھیسس ’مجلس ترقی ادب‘ نے بڑی دھوم دھام سے چھاپ دی۔ انھوں نے دھڑا دھڑ تنقیدی مضامین لکھنا شروع کیے۔ ابتدا میں لہجہ سخت تھا مگر رفتہ رفتہ اعتدال پر آ گئے۔ اسی کے ساتھ ان کی افسانہ نگاری نے ترقی کی منزلیں طے کرنی شروع کیں۔ ’بدلتا ہے رنگ آسماں‘ سے ارتقائی منزلیں طے کرتے ہوئے جب ان کے فن کا راکٹ شہر نا پرساں تک پہنچا تو ان کا شمار اردو کے صف اول کے افسانہ نگاروں میں ہونے لگا۔ یہ اپنی خوبصورت کتابیںبھی ہمیں پابندی سے بھیجتے رہے۔ وقت اور فاصلے نے ہماری محبتوں میں چار چاند لگا دیے۔ جب بھی معلوم ہو جاتا کہ آغا سہیل آنے والے ہیں تو ہم سیوان سے لکھنؤ پہنچ جاتے۔
جب ہم کراچی گئے تو یہ لاہور کے اخباروں میں روزانہ ہماری آمد کی خبریں چھپواتے۔ اسلام آباد میں ان کا دھمکی آمیز فون آیا۔ ’سیدھی طرح لاہور آتے ہو یا !‘‘
اسلام آباد سے جب ہم میاں بیوی فلائنگ کوچ سے تقریباً ۹ بجے دن کو لاہور پہنچے تو ہمارے استقبال کے لیے ابصار عبدالعلی کھڑے ہوئے تھے۔ آغا سہیل کو نہ دیکھ کر غصہ تو آیا مگر ابصار نے بتایا کہ ’آغا صاحب اسپتال میں ہیں۔‘‘
میں نے کہا: ’ہندوستان میں بھی یہ شخص ہر سال اسپتال میں پایا جاتا تھا۔ پاکستان میں بھی اسپتال کا پیچھا نہیں چھوڑا۔‘‘
ابصار ہنستے ہوئے بولے: ’بھابھی کے چوٹ آ گئی ہے۔ اسی سلسلے میں انھیں لے کرگئے ہیں۔‘‘
ہم نے پوچھا: ’اضافۂ آبادی کی چوٹ؟‘‘
بولے: ’اس کام سے تو دونوں کبھی کے فارغ ہو کر اب کنٹرول آبادی میںمصروف ہیں۔‘‘
غرض ابصار اپنے یہاں لے گئے اور کچھ دیر بعد آغا صاحب بھی آ گئے اور شام کو ’پاک ٹی ہاؤس‘ لے گئے جہاں سلیم اختر، انتظار حسین اور دوسرے شاعروں، ادیبوں سے خوب گپ کی۔ واپسی میں آغا صاحب مستقل ہماری قابلیت کا قصیدہ پڑھ رہے تھے۔ زندگی میں پہلی بار وہ اپنے علاوہ کسی اور سے متاثر ہوئے تھے۔ پھر انھوں نے ’جنگ‘ کا وہ تاریخی انٹرویو کرایا جس میں ہماری روح قبض کرنے کے لیے انتظار حسین اور عطاء الحق قاسمی بھی پینل میں شامل تھے۔ انٹرویو کے بعد انھوں نے ہمیں گلے لگا لیا۔ بولے: ’بہت اچھی چومکھی لڑے۔‘‘ ابصار عبدالعلی نے جو زبردست ادبی نشست کی اس میں بھی ایک ایک سے ہمیں ملایا۔ اور مجھے اندازہ ہوا کہ آغا سہیل مجھ سے کیسی ٹوٹ کر محبت کرتا ہے۔ یہاں تک راوی چین لکھتا ہے ابصار نے چپکے سے کہا کہ ’آغا صاحب کی موٹر پر سیر کرنا مگر وہ خود چلائیں۔‘‘
دوسرے دن ہم آغا صاحب سے ملنے ایف سی کالج کے شاندار کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے۔ آغا صاحب کا بنگلہ کیا کہنا بالکل عمر خیام کی رباعی ہے۔ ان کے گھر کا ماحول مریضانہ تھا۔ بھابھی واقعی بیمار پائی گئیں۔ ان کی مزاج پرسی اور لکھنؤ کی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر آغا صاحب کی دعوت شیراز سے ہم لطف اندوز ہوئے۔
آغا صاحب سے ہم نے موٹر پر سیر کرنے کی فرمائش کی تو بھڑک گئے۔ مگر ہماری بالک ہٹ پر ہنسے۔ اب ہم لوگ آغا صاحب کی موٹر پر روانہ ہوئے۔ غالباً محسن یا ان کا بھتیجا موٹر چلا رہا تھا۔ اس کے بعد ان سے موٹر چلانے کی درخواست کی گئی اور آغا سہیل نے موٹر چلائی جس کے ہم چشم دید گواہ ہیں۔ موٹر ناؤ کی طرح ڈگ مگ ڈول رہی تھی اور بالکل اس انداز سے چل رہی تھی جیسے لڑکے اکثر ہاتھ چھوڑ کر سائیکل چلاتے ہیں۔ سڑک کے اس پار بھی کوئی ہوگا تو یہ آواز دیں گے: ’بھیا سڑک چھوڑ دو۔‘‘ جواب آیا: ’فٹ پاتھ پر ہیں۔‘‘ فرمایا: ’فٹ پاتھ چھوڑ دو۔‘‘ موٹر اور زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ غرض جب تک وہ چلاتے رہے ہم سب خوفزدہ ہنسی ہنستے رہے۔ جب ہم لاہور ہوائی اڈے کو الوداع کہہ رہے تھے تو آغا سہیل کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور کہنے لگے: ’ارے ارے دل کو مضبوط رکھو۔‘‘ اور میں دل کو مضبوط کرنے کے لیے آگے بڑھ گیا۔
آغا سہیل کی لاہور بلکہ پاکستان میں بڑی دھاک ہے۔ لوگ بڑے احترام سے نام لیتے ہیں۔ یہ وہاں سند کا درجہ رکھتے ہیں۔ بڑے مقبول بلکہ ہردلعزیز ہیں اور خوشی کی بات یہ ہے کہ بہت مزے میں ہیں۔ دوستوں میں ہم کو بھی ہر موقع پر یاد رکھتے ہیں۔ فاصلہ جتنا بھی ہو مگر دلی قربت اس بات کا احساس بھی نہیں ہونے دیتی اور جب خیال آتا ہے کہ آغا سہیل موٹر چلا رہے ہوں گے تو جی خوش ہو جاتا ہے۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ