آنسو مری آنکھوں میں نہیں آئے ہوئے ہیں

 

آنسو مری آنکھوں میں نہیں آئے ہوئے ہیں

دریا تیری رحمت کے یہ لہرائے ہوئے ہیں

 

اللہ ری حیاء حشر میں اللہ کے آگے

ہم سب کے گناہوں پہ وہ شرمائے ہوئے ہیں

 

میں نے چمن خلد کے پھولوں کو بھی دیکھا

سب آگے ترے چہرے کے مرجھائے ہوئے ہیں

 

بھاتا نہیں کوئی ، نظر آتا نہیں کوئی

دل میں وہی آنکھوں میں وہی چھائے ہوئے ہیں

 

روشن ہوئے دل پر تو رخسار نبی سے

یہ ذرے اسی مہر کے چمکائے ہوئے ہیں

 

شاہوں سے وہیں کیا جو گدا ہیں ترے در کے

یہ اے شاہ خوباں تری شہ پائے ہوئے ہیں

 

آئے ہیں جو وہ بے خودی ءِ شوق کو سن کر

اس وقت امیر آپ میں ہم آئے ہوئے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

طبیعت فطرتاََ پائی سخن کے واسطے موزوں
ہے یہ میدانِ ثنا گر نہ پڑے منہ کے بل
کیفِ یادِ حبیب زیادہ ہے
(سلام) نورِ چشمِ آمنہ اے ماہِ طلعت السلام
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے
سخن کو رتبہ ملا ہے مری زباں کیلئے
مرحبا سید مکی مدنی العربی (جان قدسی)
کوئی گفتگو ہو لب پر، تیرا نام آ گیا ہے
سیرِ چمن میں ، بیٹھ لب جُو، دُرُود پڑھ

اشتہارات