آنس معین ، کم سن عبقری


انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے
خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور
(آنس معین)
——
29۔نومبر۔1960۔لاہور ۔۔۔۔۔ 5۔فروری۔1986۔ ملتان
——
بعض حضرات نے آنس معین کے ادبی مقام کا تعین کرتے وقت آنس معین کی کیٹس اورشکیب جلالی سے مماثلت تلاش کی ہے۔ ایسے نتیجے پر پہنچتے وقت غالبا ان کے لاشعور میں ان تینوں شعرا کی کم عمری میں المناک موت کارفرما تھی۔ حالانکہ ناگہانی موت کی یکسانیت کی بنا پر ان کے فنی مقام کا احاطہ کرنا درست نہیں ہے ۔ پھر ان کی موت بھی بظاہر یکسانیت کے باوجود اپنے محرکات اور دیگرعوامل کی وجہ سے یکساں نہیں تھی۔ کیٹس کی موت کا باعث فینی براؤنی کی محبت میں ناکامی سے پیدا ہونے والی تلخی اور اس تلخی کی وجہ سے لاحق ہونے والی تپ دق کی بیماری تھی۔اور شکیب جلالی کی خود کشی اس کے ذہنی عدم توازن (اس کے محرکات خواہ کچھ بھی ہوں) کا نتیجہ تھی اور وہ اپنے اس انتہائی اقدام کے نتائج کے ادراک سے عاری تھا۔ جب کہ آنس معین کے اندر کی آگ خواہ کتنی ہی جسم کو پگھلا دینے والی کیوں نہ ہو وہ ظاہرا بالکل نارمل اور پُرسکون تھا اور اس نے مرنے کا فیصلہ پوری سوچ بچار کے ساتھ کیا تھا۔ اس کے ذہنی قویٰ درست تھے ۔اس کا جسم کسی لاعلاج مرض کا شکارنہیں تھا۔ کیٹس تپ دق کی وجہ سے جس کا اس وقت تک کوئی علاج دریافت نہ ہوا تھا اپنے جلد ہی مرجانے کی حقیقت سے آگاہ تو تھا لیکن مرنے کا فیصلہ اس نے شعوری طور پرازخود نہیں کیا تھا۔اسی طرح شکیب جلالی کا اقدام خود کشی بھی اس کے ذہنی عارضے کی بنا پر اس کا اختیاری فعل نہیں تھا ۔لیکن آنس معین نے بقائمی ہوش وحواس موت سے ہمکنار ہونے کا فیصلہ ازخود کیا تھا۔اس تناظر میں ان کے انجام کو ایک جیسا انجام نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی ایسا کوئی مفروضہ ان کے فنی تقابل کا کوئی جواز فراہم کرتا ہے۔ اگر ایسا تقابل ضروری ہی ہو تو ایسا کرنے میں ان کے فن پر انحصار کرنا پڑے گا۔پھر ایسے تقابل کی ضرورت ہی کیا ہے جب کہ آنس معین نے کہیں بھی کیٹس یا شکیب جلالی کے ”ہم پایہ “ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ آنس کے فنی مقام کا تعین اس کے اپنے فن کے حوالے سے کرنا ہوگا۔
——
یہ بھی پڑھیں : بھارت میں آنِس معین شناسی, رفتار اور معیار ایک جائزہ
——
تخلیقی عمل میں عقل، فکراور تدبیر کی کار فرمائی سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا مگر بنیادی طور پر یہ عمل الہامی یا غیر شعوری عمل ہے۔فرائڈ اسے روز خوابی کے مماثل گردانتا ہے۔اس کے خیال میں محبت ،قوت یا دولت کی محرومی کے احساس سے فنکار اختلالِ نفس کے مریضوں کی طرح روز خوابی کا شکار ہو جاتا ہے اور آرٹ کی صورت میں اپنی ناآسودہ خؤاہشات کی تشفی کرتاہے۔بہر حال عملِ تخلیق ِ فن ایک پُراسرار کرشمہ ہے جس کے محرکات اور عوامل کا تعلق نفس کی اتھاہ گہرائیوں اورلاشعورکی نامعلوم دنیا سے ہے۔بعض لوگ پیدائشی طور پر اتنے ذہین اورحساس ہوتے ہیں اوراُن کی داخلی صلاحیت کمسنی میں ہی اتنی طاقتور اور توانا ہوتی ہے کہ وہ اپنے عصر اور ماحول سے بہت بلند ہو کر سوچنا شروع کر دیتے ہیں ۔ایسے میں ان کی زبان سے ایسی باتوں کا اظہار ہونے لگتا ہے جن کی اُن کی عمر کے حوالے سے توقع نہیں کی جا سکتی ۔ان کی حیران کن باتیں لوگوں کو چونکا کر حیرت زدہ کر دیتی ہیں ۔ فطری طور پر ایسے لوگ بہت سنجیدہ ، شرمیلےاور کم آمیز ہوتے ہیں۔ ان کی ادراکی قوت چونکہ طاقتوراور تجسس توانا ہوتا ہےاس لیے وہ تغیر پزید دنیا کے عقب میں ازلی اور ابدی حقیقتوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور ایسی کوششوں میں ناکامی اور نارسائی سے سٹپٹا کر اکثر اوقات وہ ذہنی کرب اور گرم لہو کی ہرآن بڑھتی ہوئی حرارت کی وجہ سے اس دروازے پر دستک دے بیٹھتے ہیں جوصرف موت کی دہلیز عبور کرنے کے بعد ہی کھل سکتا ہے۔ آنس معین کا تعلق بھی ایسے ہی کم سن نا بغہ لوگوں کے قبیلے سے ہے۔
آنس معین کی شاعری کا سرسری سا جائزہ لینے ہی سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ زبردست ذہنی الجھاؤ اور کمپلیکس کا شکار ہے۔ وہ موت اور زندگی کے دوراہے پر اضطرابی کیفیت میں کسی فیصلے پر پہنچنے کی الجھن میں گرفتار ہے۔ایک طرف زندگی کی بُو قلمونیاں ہیں جن سے لطف اندوز ہونے کی خواہشیں اور بچھڑنے کا غم ہے اور دوسری طرف ازلی حقیقتوں سے جلد آگہی حاصل کرنے کی تڑپ ہے مزید فرقت برداشت کرنے کی بے تابی ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی موت کا ظالمانہ پہلو بھی نگاہوں کے سامنے ہے جس کے خوف سے اس کے اندر کا سمندر متلاطم ہے۔
——
نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہیں
ابھی میں اندر کے ادمی سے ڈرا ہوا ہوں
——
میں جستجومیں ہوں آئینے کو کھرچ رہا ہوں
میں رفتہ رفتہ مٹا رہا ہوں نشان اپنا
——
میرے اپنے اندر ایک بھنور تھا جس میں
میرا سب کچھ ساتھ ہی میرے ڈوب گیا ہے
——
یہ اشعار اس کے خوف کی نشاندہی کر رہے ہیں جس نے آنس کو داخلی طور پر اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔یہ اشعاراس بات کے غماز ہیں کہ زندگی اور موت کے دوراہے پر آنس کی سوچ کے فیصلے کا جھکاؤ زندگی کی نسبت موت کی جانب زیادہ ہے۔اس کے تخلیقی وجدان کی بنیادی لہر بھی خوف کےسمندر سے اٹھ رہی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : آنِس معین غزل کا بلند قامت اور توانا شاعر
——
وہ اس خوف سے چھٹکارا حاصل کرنے اور کسی فیصلے تک پہنچنے کی تگ و دو میں پریشان دکھائی دیتا ہے۔
——
نئی سحر کی چاپ نہ جانے کب ابھرے گی
چاروں جانب رات کا گہرا سناٹا ہے
——
بہت سی آنکھوں میں تیرگی گھر بنا چکی ہے
بہت سی آنکھوں نے انتظارِ سحر کیا ہے
——
آج ذرا سی دیر کو اپنے اندر جھانک کے دیکھا تو
آج مرا اور اک وحشی کا ساتھ رہا پل دو پل کا
——
نئی سحر کی چاپ کا انتظار معروضی طور پر عام حوالے سے کسی اور مفہوم کا حامل ہو سکتا ہے لیکن آنس کے دلِ وحشی کے تقاضے آنس سے کسی اور فیصلے کے متمنی دکھائی دیتے ہیں۔ ایسا فیصلہ جو اُس پر نامعلوم کے اسرار ظاہر کردے۔
آنس معین کے تخلیقی عمل کے جائزے سے اُس کے انوکھے ، جادو اثراورمنفرد رویوں اورطاقتور اظہار کا احساس اجاگر ہوتاہے۔لفظوں میں خیال کی تجسیم کا جو انداز اپنایا ہے وہ بے حد خوبصورت اور دلآویز ہے۔اُس کے ہاں ڈر، خؤف اور اندھیرے کی تصویریں کبھی ہلکے اور کبھی گہرے رنگوں میں اتنی جاذب اوردلنشین ہیں کہ قاری ان کے سحر میں کھو جاتا ہے۔ ان کے مفاہیم بھیا نک پن کی ملا ئم لہریں قاری کے ہاں دل گرفتگی کے بجائے دل کشی کا احساس پیدا کرتی ہیں۔نوعمری کے گرم لہو اور ابلتے جذبات کے جمالیاتی تقاضوں کے برعکس اس نے زندگی کی تلخیوں کواپنی شاعری کا موضوع بنایا لیکن یہ تلخیاں ہمارے اکثر نامور شعرا کی طرح ابھر کر بالائی سطح پر نمایاں نہیں ہوئیں بلکہ اس کے طبعی دھیمے پن کی طرح بڑی نرم روی سے اس کی فکری حرارت کو قاری کے دل و دماغ میں منتقل کرتیہیں اورحیرت زدہ قاری کی سوچ اور احساس کو مہمیز کرتی ہیں۔یہ اُس کےاسلوب کا نیا اورانوکھا انداز ہے۔
ہر شاعرکے ہاں اس کی شاعری میں استعمال ہونے والی ترکیبوں ،اصلاحوں اور علامتوں سے اُس کی شعری فضا ترتیب پاتی ہے جو اسکی ذات کے سمندر میں پیدا ہونے والے مدوجزر اور اس کے رجحان کو سمجھنے میں ممد بنتی ہے۔بعض الفاظ وہ کئی بار استعمال کرتا ہے لیکن تخلیقی امکانات کی فراوانی کے حامل شاعر ان الفاظ کو ہر بار نئے مفاہیم عطا کرتے ہیں۔آنس معین کی شعری فضا کی بنت میں خانقاہ ، آسیب ،آئینہ،گھر،زمین،بھنور،وحشی، سیلاب،سمندر، پانی،سنگ،سورج،شجر،قفل،رات،دیااور دھوپ وغیرہ اساسی اہمیت کے حامل ہیں۔آنس کے ہاں یہ تمام الفاظ بطورِاکائی بھی اوراجتماعی حیثیت میں بھی ایک ایسی فضا مرتب کرتے ہیں جس سے داخلی کرب ، بے بسی، بے چینی اور ناآسودگی کی تشنہ لہریں نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہیں جن کا سفر ہستی سے نیستی کی طرف ہے۔ خانقاہ دعاؤں سے خالی ہے ۔ رات ، قفل ، آسیب ، بھنور ،وحشی،سیلاب اور سنگ آہنی الجھاؤ ،اندرونی کشمکش اور نایافت کے المیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔آئینہ شاعر کی روح اور ذات کا مظہر ہے جسے وہ کھرچ کر بے نشان کر دینا چاہتا ہے۔گھر اور زمین عدم کے راستے کی منزلیں ہیں ۔پانی،پیاس اور سمندر اضطراب کی غمازی کرتا ہے۔سورج اگرچہ زندگی ،نمو اور حرارت کا سرچشمہ ہے لیکن آنس کے نزدیک اس کی حدت اور تپش روح تک کو جھلسا دینے والی ہے۔ یہ علامتیں اس فضا کی تشکیل کرتی ہیں جس میں شاعر ٹو بی آر ناٹ ٹو بی To Be Or Not To Be کی کشمکش سے دوچار ہے۔
فخرالدین بلے صاحب کی سرگودھا میں تعیناتی کے دوران مجھے بلے صاحب اور ان کے خاندان کی رفاقت میسر رہی ہے۔ اور اُن کی صحبتوں سے فیض یاب ہوا ہوں ، ان کے گھر میں اور دیگر جگہوں پر اُن کی شراکت سے منعقد ہونے والی ادبی محفلوں میں، میں بھی شریک رہا ہوں ۔ یہ ساراخاندان بہت وضعدار، مہذب اورعلمی اور ادبی طور پر ایک ممتاز مقام کا حامل ہے ۔ باپ بیٹوں میں دوستانہ بے تکلفی کا رشتہ استوار ہے۔ وہ نجی اور ادبی مسائل پر برابری کی سطح پر گفتگو کرتے ہیں ۔ خانگی طور پر وہ آپس میں اس قدر گھلے ملے ہوئے ہیں کہ باپ بیٹا تاش کی بازی میں بھی باہم شریک ہوتے ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر ” آنس معین ” کا یوم ولادت
——
میں وقت بے وقت جب کبھی ان کے گھر گیا ہوں مجھے ان کے ہاں سے اونچی آواز سنائی نہیں دی اور نہ ہی کبھی ان کے اترے ہوئے چہرے اور شکن آلود جبینیں دیکھنے میں آئیں ۔ ان حالات سے ثابت ہوتا ہے کہ گھریلو طور پر آنس معین کو کسی پریشانی یا محرومی کی شکایت نہیں تھی ۔اس کے جان لیواانتہائی اقدام کی وجوہات کا سلسلہ اس کے گھر سے کسی طرح بھی نہیں ملتا۔
آنس اپنے سب بھائیوں میں سب سے کم آمیز اور بےحد شرمیلا تھا۔ ادبی محفلوں میں اس کا کردارخاموش سامع کا سا ہوتا تھا ۔ وہ بحث میں بہت کم حصہ لیتا تھا۔ جب کسی معاملے میں اس سے بات کرنے کا اصرار کیا جاتا تو اس کے چہرے پر کسی نو بیاہتا دلہن کی طرح کی سرخی دوڑ جاتی ۔ لیکن جب بھی وہ کچھ کہتا اس کی رائے بڑی وزنی اور جچی تُلی ہوتی۔ بلے صاحب اورعارف معین دونوں بڑے اچھے شاعرہیں میں اکثر ان سے کہہ دیتا تھا کہ آپ لوگ تو صرف مصرعے موزوں کیا کرتے ہیں شاعر تو آنس معین ہے۔ اس پر عارف اور بلے صاحب کی آنکھوں میں فکر اورمسرت کی چمک آجاتی اور آنس معین کے لبوں پر ایک ملکوتی تبسم پھیل جاتا۔ کم عمری کی وجہ سے آنس معین ابھی ادبی سطح پر پوری طرح متعارف نہیں ہوسکا تھا۔ ابھی وہ بڑے ادبی پرچوں میں چھپنا شروع ہی ہوا تھا کہ اس نے زندگی سے تعلق توڑ لیا۔اس کے باوجود اس کا شعری ترکہ اتنا گراں مایہ ہے کہ بڑے بڑے دیوانوں پر بھاری ہے۔اس کے مختصر سے ادبی اثاثہ سے محسوس ہوتا ہے کہ اس سےبچھڑ کر اردو ادب اس کی شعری ذہانتوں کے بیش بہا حیران کن امکانات سے محروم ہو گیا ہے۔ وہ بجا طور پر ایک کم سن نا بغہ ، کم سن عبقری تھا۔ سوامی رام تیرتھ نے تو بھرپور عمر بسر کرنے کے بعد ازلی حقیقتوں کے شوقِ دید کی بے تابیاں مزید برداشت نہ کر سکنے پر انتہائی قدم اٹھایا تھا لیکن آنس اور سوامی کی عمروں میں تو کئی دہائیوں کا فرق تھا۔اسے تو ابھی کچھ دیر صبر کرنا تھا۔وہ تو بہت جلد باز نکلا۔
——
یہ بھی پڑھیں : چونکا دینے والے لہجے کے شاعر آنِس معین کے ادبی سفر کی داستان
——
آنِؔس معین کی آخری غزل
——
یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور
دکھ مجھ کو ہے اور نیر بہائے گا کوئی اور
کیا پھر یوں ہی دی جائے گی اجرت پہ گواہی
کیا تیری سزا اب کے بھی پائے گا کوئی اور
انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے
خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور
تب ہوگی خبر کتنی ہے رفتار تغٌیر
جب شام ڈھلے لوٹ کے آئے گا کوئی اور
امید سحر بھی تو وراثت میں ہے شامل
شاید کہ دیا اب کے جلائے گا کوئی اور
کب بار تبسم مرے ہونٹوں سے اٹھے گا
یہ بوجھ بھی لگتا ہے اٹھائے گا کوئی اور
اس بار ہوں دشمن کی رسائی سے بہت دور
اس بار مگر زخم لگائے گا کوئی اور
شامل پس پردہ بھی ہیں اس کھیل میں کچھ لوگ
بولے گا کوئی ہونٹ ہلائے گا کوئی اور
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ