آپؐ کے آستاں پہ جاتے ہیں

آپؐ کے آستاں پہ جاتے ہیں

نعمتیں سب وہیں سے پاتے ہیں

 

ناتواں جاں میں جان آتی ہے

آپؐ قدموں میں جب بٹھاتے ہیں

 

آپؐ سنتے ہیں داستانِ الم

آپؐ کو حالِ دِل سناتے ہیں

 

آپؐ ہی روح و جاں کے محور ہیں

قلب میں آپؐ کو بساتے ہیں

 

پیاسے ہونٹوں سے جالیاں چھو کر

پیاس برسوں کی ہم بجھاتے ہیں

 

سامنے جب ہو گنبدِ خضریٰ

روتے عُشاق مُسکراتے ہیں

 

ہے مقامِ نزولِ نعت یہی

دِل کا ایواں ظفرؔ! سجاتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
خدا موجود ہے قریۂ جاں میں
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
نقشِ پا اُنؐ کا میرے سینے میں
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
رحمتوں کی ردا حبیبِ خداؐ
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
محبت میرے دِل میں مصطفیٰؐ کی
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی
ہے اُمت آپؐ کی خوار و زبوں و منتشر آقاؐ

اشتہارات