اردوئے معلیٰ

Search

آپ کے در کے سوا ہم نے کدھر جانا ہے

ریت کے ذرّوں کی مانند بکھر جانا ہے

 

اک نظر لُطف کی کافی ہے خرابوں کے لیے

آپ کے دیکھے سے بگڑوں نے سنور جانا ہے

 

ابر رحمت کا برس جائے اگر اس دل پر

زنگ دنیا کا مرے دل سے اُتر جانا ہے

 

خاکِ نعلین ستاروں سے ہے بڑھ کر ہم کو

ذرّہِ نقشِ کفِ پا کو گہر جانا ہے

 

یہ عبادت ہے عقیدت ہے عطائے رب ہے

نعتِ سرکار کو کب محض ہنر جانا ہے

 

ساتھ خوشبو کے فدا تو بھی روانہ ہو جا

بارگاہِ شہِ لولاک میں گَر جانا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ