اردوئے معلیٰ

Search

اب آئے مقدر میں مرے ایسی کوئی شام

اور اذنِ حرم لائے کبھی نامہ مرے نام

 

آواز و نظر دونوں ہی خم رکھنا یہاں پر

از بارگہِ رب ہوئے جاری سبھی احکام

 

آماجگہِ رنج و مصائب تھا یہ عالم

پھر ایک سحر آئے یہاں دافعِ آلام

 

میں آلِ محمد کے غلاموں کا گدا ہوں

ہے میرے مقدر میں یہ نسبت بہ صد اکرام

 

والد نے سکھائے تھے مجھے تحفے درودی

بخشش کو سرِ حشر، مرے آئے بہت کام

 

ہے نعتِ شہِ دیں مری بخشش کا حوالہ

اب اُن کے ثنا خوانوں میں آتا ہے مرا نام

 

دیں اذنِ حضوری مجھے اے شاہِ مدینہ

منظر بھی چلے باندھے ہوئے نعت کا احرام

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ